کیا وہ لڑکی جھوٹی تھی؟


”جی شاعر صاحب! کیسے ہیں آپ؟ بہت غصہ آ رہا ہے ناں مجھ پر، آپ کو بہت انتظار کروایا میں نے“؟ وہ خوش گوار لہجے میں بولی۔

مجھے اطمینان ہوا کہ سب ٹھیک ہے۔ اس کے والدین مان گئے ہوں گے۔
”غصہ تو بہت زیادہ ہے۔ چار گھنٹے سے یہاں پاگلوں کی طرح تمہارا انتظار کر رہا تھا۔ بار بار ویٹر عجیب نظروں سے دیکھتے تھے۔ آٹھ کپ چائے کے پی چکا ہوں۔ کہاں رہ گئی تھیں تم“؟

”ہائے بڑا مزہ آ رہا ہے۔ آپ کو اس طرح تڑپتے دیکھ کر۔ آپ مجھ سے بہت پیار کرنے لگے ہیں ناں۔ اب تو میرے بغیر آپ کے لیے ایک منٹ گزارنا مشکل ہو گا“؟ اس نے عجیب سے لہجے میں کہا۔

”کیا کہہ رہی ہو تم، میں اتنا پریشان ہوں اور تمہیں مذاق سوجھ رہا ہے“؟!
”مذاق نہیں وصی جی! سچ کہہ رہی ہوں۔ آپ مجھ سے بہت زیادہ محبت کرنے لگے ہیں۔ یہی تو میں دیکھنا چاہتی تھی۔ دیکھنا چاہتی تھی کہ ایک شاعر جب محبت میں تڑپتا ہے تو کیسی شاعری کرتا ہے۔ اب تو آپ نے عمر بھر تڑپنا ہی ہے“۔

”آبگینہ تم ہوش میں تو ہو، کیا کہہ رہی ہو۔ خدا کے لیے سیدھی بات کرو۔ تمہاری اپنی امی سے بات ہوئی؟ کیا کہا انہوں نے“؟ میں نے بے چین ہو کر کہا۔

”ہائے کیا بے قراری ہے۔ آپ یہی چاہتے ہیں ناں کہ میں جلدی سے دُلھن بن کر آپ کے پاس آ جاؤں؟ “
”پہیلیاں کیوں بجھوا رہی ہو؟ صاف صاف بتا کیوں نہیں دیتی“؟

”اچھا صاف صاف بات کرتی ہوں“ آبگینہ نے سنجیدہ ہوتے ہوئے کہا۔
”بات یہ ہے وصی کہ میں آپ سے کوئی پیار ویار نہیں کرتی۔ میں آپ کے جذبات اور آپ کے دل کے ساتھ کھیل رہی تھی۔ میں تو صرف یہ دیکھنا چاہتی تھی کہ آپ جیسا شاعر میری محبت میں مبتلا ہو سکتا ہے یا نہیں۔ اب مقصد پورا ہوا تو مجھے آپ کو چھوڑنا ہو گا۔ میں اپنی امی سے کیوں بات کرتی، میری شادی تو ایک زمیندار سے طے ہو چکی ہے اور میں اسی کی بیوی بنوں گی۔ ہاں آپ کو میرا احسان مند ہونا چاہیے کہ میں نے آپ کو درد کی دولت سے نواز دیا۔ آپ مجھے بھلا تو کبھی نہیں سکیں گے۔ لکھتے رہیے گا میری بے وفائی کے قصے، میرے ہجر میں مبتلا ہو کر آپ جو غزلیں، نظمیں لکھیں گے بڑے پر اثر ہوں گے۔ اچھا اب میں چلتی ہوں۔ میں نے سوچا آج اپنا اصل روپ دکھا ہی دوں۔ ہاں میری شادی بہت جلد ہونے والی ہے تو آج کے بعد میں نہیں ملوں گی۔ پلیز میرے ساتھ رابطہ کرنے کی کوشش نہ کیجیے گا میرے ہونے والے خاوند کو بہت برا لگے گا اور مجھے بھی“۔

وہ بول رہی تھی اور میرے کانوں میں جسے کوئی پگھلا ہوا سیسہ ڈال رہا تھا۔ مجھے بالکل یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ آبگینہ ہے۔ وہ کوئی اور ہی تھی۔ دل کو جیسے کوئی مسل رہا تھا۔ آندھیاں سی چل رہی تھیں۔ وہ چلی گئی۔ مجھے کچھ خبر نہیں کہ میں وہاں سے کیسے نکلا اور گھر تک کیسے پہنچا۔ بس اتنا یاد ہے کہ اس رات میں ایک پل نہیں سو سکا تھا۔ صبح جسم کا جوڑ جوڑ دکھ رہا تھا۔ آنکھیں خون کی طرح سرخ تھیں اور کمرہ سگریٹوں کے دھوئیں سے بھرا تھا۔ مجھے ’لیل و نہار‘ کے دفتر بھی جانا تھا لیکن میری ایسی حالت ہی نہیں تھی کہ کہیں جا سکتا۔ لینڈ لائن پر اسد صاحب کے متعدد فون آئے لیکن میں نے فون اٹینڈ نہ کیا۔ امی نے کئی بار کہا کہ فون اٹینڈ کر لو، میں نے ان کو بھی منع کیا ہوا تھا کہ کوئی فون اٹینڈ نہ کریں۔

بہر حال اگلے دن طبیعت سنبھلی تو شام کو میں اسد صاحب کے گھر گیا۔ ڈر رہا تھا کہ وہ بہت برا بھلا کہیں گے۔ میں ان کے ڈرائنگ روم میں داخل ہوا اور سلام کر کے چپ چاپ صوفے پر بیٹھ گیا۔

”مل گئی فرصت؟ “ اسد صاحب نے آنکھیں نکالیں۔
”سر! میری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی۔ آپ حکم کیجیے۔ ہاں کل پرچا بھی چھپنا ہے۔ آپ فکر نہ کریں۔ سارا کام تیار ہے۔ باقی جو رہتا ہے میں ابھی کر کے جاؤں گا خواہ رات کے تین بج جائیں“۔ میں نے سنجیدگی سے کہا۔

اسد صاحب غور سے چند لمحے مجھے دیکھتے رہے پھر بولے، ”وصی اٹھو“۔
”جی“؟ میں نے حیرت سے کہا۔
”یار اٹھو ناں“۔ اسد صاحب نے مجھے گلے لگا لیا۔ میری آنکھیں بھیگنے لگیں۔ میں پوری کوشش کر رہا تھا کہ وہ میرے آنسو دیکھ نہ پائیں۔

”ہوتا ہے، اسی طرح ہوتا ہے، کیا ہوا جو تمہارے ساتھ ہو گیا۔ میں نے تمہیں کام کے لیے نہیں بلایا۔ آج میں تمہارے ساتھ کھانا کھانا چاہتا ہوں۔ آج انکار نہیں سنوں گا“۔ اسد صاحب نے محبت بھرے لہجے میں کہا۔

میرے حلق میں گولا سا پھنس گیا۔ ”جی ضرور“۔

دو تین دن گزر گئے۔ پھر میرے جذبات میں زبردست ہلچل پیدا ہو گئی۔ میں آبگینہ سے ملنا چاہتا تھا۔ کبھی مجھے لگتا تھا کہ وہ مجھے آزما رہی ہے۔ مجھے رہ رہ کر اس کی باتیں یاد آتی تھیں۔ اس کی آنکھوں کی چمک اور لبوں کی مسکراہٹ یاد آتی تھی۔ مجھے یقین ہی نہیں آتا تھا کہ وہ مجھ سے دھوکا کر سکتی ہے۔ میں تصور میں دیکھتا تھا کہ میں آبگینہ کے پاس گیا ہوں اور وہ ہنستے ہوئے کہہ رہی ہے۔ دیکھا ڈرا دیا ناں، میں تو آپ سے بہت پیار کرتی ہوں، بہت زیادہ۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ایک خوفناک خیال بھی آتا کہ آبگینہ قہقہے لگا رہی ہے۔ اور چیخ چیخ کر طنزیہ لہجے میں کہہ رہی ہے، ’ہاں جی شاعر صاحب، کر لی محبت؟ پا لیا صلہ؟ اب تو خوش ہیں آپ؟ جائیے میں نہیں کرتی آپ سے محبت، مانتے ہیں مجھے، کیسے الو بنایا آپ کو؟

میری ایسی کیفیت تھی، جیسے مجھے بہت تیز بخار ہو۔ لیکن مجھ سے رہا نہیں گیا۔ میں اپنی موٹر سائیکل پر اس کی حویلی کی طرف روانہ ہو گیا۔ اس کے ملازموں سے بات کی۔ وہ اندر جانے نہیں دے رہے تھے۔ میں نے اصرار کیا کہ چودھری صاحب سے ملنا چاہتا ہوں۔ ایک ملازم اندر گیا پھر اس نے آ کر بتایا کہ چودھری صاحب کہتے ہیں کہ وہ مجھ سے نہیں ملنا چاہتے۔ عجیب الجھن میں پڑ گیا تھا۔ میں وہیں حویلی کے باہر رک گیا۔ سگریٹ سلگایا اور سوچنے لگا۔ دس پندرہ منٹ بعد ایک ملازم آیا۔
”آئیے چودھری صاحب آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں“

بالآخر بلا لیا گیا ہے۔ اب بات کروں گا۔ لیکن میں بات کیا کروں گا۔ یہی سوچتے سوچتے ڈرائنگ روم تک پہنچ گیا۔ صوفے پر بیٹھ گیا۔ چند لمحوں بعد پردہ ہلا۔ میں سوچ رہا تھا ابھی یہاں بڑی بڑی مونچھوں والا کوئی آدمی آئے گا۔ لیکن پردہ ہلا اور خوشبو کا جھونکا آیا۔ وہ تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ میرے سامنے تھی۔ ایک بار خوشی کی لہر بجلی کی طرح کوندی مگر فوراً معدوم ہو گئی۔ آج وہ بہت غصے میں دکھائی دیتی تھی۔ اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5