کیا وہ لڑکی جھوٹی تھی؟
”میں نے منع کیا تھا ناں کہ اب مجھ سے ملنے کی کوشش مت کرنا لیکن آپ نہیں مانے۔ آگئے یہاں جیسے میں تیار بیٹھی ہوں گی آپ سے ملنے کے لیے۔ بہت برا کیا آپ نے بہت برا۔ میں اس کے لیے آپ کو کبھی معاف نہیں کروں گی کبھی نہیں“۔ وہ ایک ایک لفظ پر زور دے کر بول رہی تھی۔
”آبگینہ! میری غلطی کیا ہے۔ کس بات کی سزا دے رہی ہو مجھے۔ مجھے بتاؤ تو سہی میں نے آخر کیا کیا ہے؟ “ میں شکوہ کیا۔
”غلطی؟ نہیں آپ کی تو کوئی غلطی ہی نہیں ہے۔ جب میں نے صاف صاف آپ کو بتا دیا تھا کہ میرا آپ سے کوئی واسطہ نہیں ہے تو پھر کیوں آئے ہیں یہاں۔ مجھے بدنام کرنا چاہتے ہیں۔ بڑے دعوے کرتے ہیں مجھ سے محبت کے۔ یہ محبت ہے آپ کی۔ میرے ابو میرے بارے میں کیا سوچ رہے ہوں گے۔ میری عزت آپ نے دو کوڑی کی کر کے رکھ دی ہے۔ لیکن شاعر صاحب! میں بھی کوئی عام لڑکی نہیں ہوں۔ اب میں بھی انتقام لوں گی اور دیکھتی ہوں اب آپ کیسے بچتے ہیں۔ آج کے بعد گھر سے نکلتے ہوئے سو دفعہ سوچنا، اپنی آنکھیں کھلی رکھنا کیوں کہ میرے بندے تم پر کسی بھی وقت وار کر سکتے ہیں“۔ اس نے غصے سے کہا۔
”یہ تم دھمکی دے رہی ہو یا خبردار کر رہی ہو“؟ میں نے کہا۔
”زمینداروں کی بیٹی ہوں۔ دشمن کو غفلت میں مارنا میری آن کے خلاف ہے۔ تم بچنے کی بھرپور کوشش کرو اور میں تمہیں ختم کرنے کی کوشش کروں گی۔ دیکھتے ہیں کتنی دیر تم بچ پاتے ہو، اب جاؤ ملاقات کا وقت ختم ہو گیا ہے“۔ اس نے یہ کہا اور ایک جھٹکے سے واپس مڑ گئی۔
میں کئی لمحے تک وہاں کھڑا سوچتا رہا کہ ابھی کیا بات ہوئی ہے۔ پھر ایک ملازم نے کہا۔ ”آ جائیں“۔ وہ باہر جا رہا تھا۔ میں وہاں سے چلا آیا۔
آبگینہ کے جملے ہر وقت میرے کانوں میں گونجتے رہتے تھے۔ وہ بھی جو اس نے پیار سے کہے تھے اور وہ بھی جو نفرت سے کہے تھے۔ کبھی کبھی یہ جملے آپس میں گڈ مد ہو جاتے تھے۔
’کتنا اچھا لگے گا ناں جب میں کسی کو بتاؤں گی کہ میں آبگینہ وصی ہوں‘ ۔
’میں تو آپ کے جذبات اور دل سے کھیل رہی تھی‘ ۔
’میں تو کب سے آپ کی ہو چکی ہوں‘ ۔
’آج کے بعد گھر سے نکلتے ہوئے سو دفعہ سوچنا، دیکھتی ہوں آپ بچتے کیسے ہیں‘ ۔
آوازیں اتنی گڈ مڈ ہوتیں کہ میرا سر چکرانے لگتا۔
ایسے میں ایک دن میں موٹر سائیکل پر نکلا تو کچھ دیر بعد مجھے شبہ ہوا کہ ایک گاڑی میرا پیچھا کر رہی ہے۔ میں نے اسے وہم سمجھا لیکن راستے میں ایک ویران سڑک آئی تو اچانک تعاقب کرنے والی گاڑی کی رفتار تیز ہو گئی۔ پھر میرے قریب سے گزرتے ہوئے اچانک گولی چلنے کی آواز آئی۔ اس کے ساتھ ہی مجھے ایسا لگا جیسے کسی نے میرے بازو میں گرم سلاخ گھسا دی ہو۔ موٹر سائیکل بری طرح لڑکھڑائی۔ میں نے بریک لگا کر اس پر قابو پانے کی کوشش کی پھر بھی وہ گر گئی اور میں بھی سڑک پر گر گیا۔ وہ کار آگے نکل گئی تھی۔
سڑک سے اٹھ کر میں نے دیکھا کہ بازو سے خون نکل رہا ہے۔ پیچھے سے ایک گاڑی آ گئی۔ اس میں ایک نیک دل آدمی تھا۔ وہ مجھے اسپتال لے گیا۔ میں بال بال بچا تھا۔ گولی ہڈی کو نہیں لگی تھی۔ گوشت سے ہو کر نکل گئی تھی۔ مرہم پٹی کے بعد میں گھر آ گیا۔ پولیس کو بھی میں نے ٹال دیا تھا۔ مجھے یقین نہیں آ رہا تھا کہ مجھ پر قاتلانہ حملہ بھی ہو سکتا ہے۔ آبگینہ کی باتیں یاد آ رہی تھیں۔
امی ابو بھی بہت پریشان ہوئے۔ اس کے بعد میں کئی دن تک گھر سے نہ نکل سکا۔ جب کچھ بہتر ہوا تو ’لیل و نہار‘ کے دفتر میں جانے لگا۔
میں نے ایک دو دوستوں کی ڈیوٹی لگائی تھی کہ چودھریوں کی خبریں پہنچائیں۔ خبر ملی کہ آبگینہ کی شادی ہو رہی ہے۔ ایک ایک لمحہ گزارنا مشکل تھا مگر وقت اچھا ہو یا برا گزر ہی جاتا ہے۔ وہ دن بھی گزر گئے۔ آبگینہ کی شادی ہو چکی تھی۔ میں اس کے باوجود گم سم رہتا تھا۔ میرے دوست اکثر گلہ کرتے تھے کہ میں کبھی مسکراتا نہیں۔ کبھی ان سے پہلے کی طرح باتیں نہیں کرتا۔ لیکن یہ میرے بس کی بات نہیں تھی۔ اسی طرح چھے مہینے گزر گئے۔
ایک دن میرا ایک دوست مجھ سے ملنے آیا۔
”وصی تمہیں ایک بہت ضروری بات بتانی تھی“۔ اس نے پر اسرار لہجے میں کہا۔
”کیا بتانا تھا“۔ میں نے بیزاری سے کہا۔
”کسی نے چودھری امجد کو قتل کر دیا ہے“۔ اس نے خبر دی۔
”تو مجھے کیوں بتا رہے ہو۔ میں کسی چودھری امجد کو نہیں جانتا۔ میرا چودھریوں سے کیا واسطہ“؟ میں نے لاتعلقی سے کہا۔
”بھول گئے کیا، چودھری امجد، آبگینہ کا خاوند“؟ دوست نے منہ بنا کر کہا۔
میں چونک اٹھا واقعی یہ تو اس کے خاوند کا نام تھا۔ بہرحال اس خبر سے مجھ پر کوئی خاص اثر نہ ہوا۔ نا میں نے اس دوست اس بارے میں مزید کوئی بات کرنا ضروری سمجھا۔ میرے لیے اس خبر اور اخبار میں کسی ان جان شخص کی موت کی خبر میں کوئی فرق نہیں تھا۔ میرے معمولات زندگی میں کوئی فرق نہیں آیا تھا۔ دن گزرتے جاتے تھے۔ ایک شب جب میں نیند اور بیداری کی درمیانی کیفیت میں تھا تو مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے آبگینہ میرے کمرے میں ہے۔
میں ایک مانوس سی خوشبو کو محسوس کر رہا تھا لیکن جب میری آنکھیں پوری طرح کھلیں تو میں اکیلا تھا۔ میرا خواب ریزہ ریزہ ہو بکھر چکا تھا۔ اس کے بعد میں بڑی دیر تک اس کے بارے میں سوچتا رہا۔ طبیعت اس قدر بے چین تھی کہ دل چاہتا تھا اسی وقت اٹھ کر اس سے ملنے چلا جاؤں۔ صبح ہوئی تو میں اس سے ملنے کا مصمم ارادہ کر چکا تھا۔ میں نے مختلف احباب سے رابطہ کیا۔ پتا چلا کہ آبگینہ چودھری امجد کی حویلی میں ہی رہ رہی ہے۔ میں روانہ ہو گیا۔ سہ پہر چار بجے میں اس کی حویلی کے باہر تھا۔ میں نے اپنا تعارف کروایا۔ مجھے اندر بلا لیا گیا۔ ڈرائینگ روم میں بیٹھا ہی تھا کہ دروازے سے آبگینہ نمودار ہوئی۔ اس کا سوگ وار حسن دیکھ کر دل دہل گیا۔ اس کی آنکھوں میں بڑی ویرانی تھی۔ میں اسے دیکھ کر اٹھ کھڑا ہوا۔
”چودھری امجد کا سن کر بہت افسوس ہوا“۔ میں نے آہستہ سے کہا۔
”بس یہی قسمت میں لکھا تھا، آپ بیٹھیے ناں“۔ وہ بولی۔
مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ میں کیا بات کرنے آیا ہوں۔ میں ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگا۔ اسی دوران میں چائے آ گئی مگر میرا دھیان چائے کی طرف نہیں تھا۔ چائے وہیں پڑے پڑے ٹھنڈی ہو گئی۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


