منگیتر سے زبردستی، رومان، ہراسانی یا گناہ؟ قسط نمبر 9۔
” فائزہ یار۔ ۔ ۔ مگر یہ گناہ ہے“
”بیٹا جی رشوت لینے سے لے کر قتل تک کون سا گناہ ہے جو آج کل نہیں ہورہا؟ تمہارے پاپا نے کبھی رشوت نہیں لی؟ تم نے کبھی جھوٹ نہیں بولا؟ تمہاری امی نے کبھی کسی کی غیبت نہیں کی؟ اگر ان سب گناہوں پہ ہم رشتے نبھانے کے لیے کمپرومائز کر لیتے ہیں تو کم از کم باسط بھائی کو اپنا موقف بتانے کا موقع تو دو۔ باقی شادی سے انکار کرنا تمہارا شرعی حق ہے تمہیں لگے کہ تم ایسے بندے کے ساتھ نہیں رہ پاؤ گی تو منع کردینا۔“
فائزہ کی بات سن کر بسمہ سوچ میں پڑ گئی۔
”شادی سے انکار تو ممکن ہی نہیں، تمہیں پتا تو ہے۔ جو شادی مجھ سے پوچھے بغیر طے کی گئی ہے اس سے میں ایک مہینے پہلے انکار کیسے کر سکتی ہوں۔ مجھے اس کا اختیار ہی کب ہے؟“
”اچھا رکو میں امی کو بلا کر لاتی ہوں تمہارے مسئلے بھی نرالے ہیں۔“
بسمہ نے سر ہلا دیا
تھوڑی دیر میں ہی فائزہ، نفیس آنٹی کو لے کر آ گئی۔ مختصر الفاظ میں فائزہ نے انہیں سب بتا بھی دیا اپنے مشورے سمیت۔
کچھ دیر آنٹی خاموش رہیں جیسے کچھ سوچ رہی ہوں۔
”بسمہ بیٹا مسئلہ اس سے زیادہ سنجیدہ ہے جتنا فائزہ سمجھ رہی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ تمہاری فیملی سمیت اسے کوئی مسئلہ سمجھے گا نہیں۔ اگر اسے غلطی سمجھیں گے تو تمہیں بھی اس میں شریک سمجھا جائے گا یا پھر سرے سے اسے کوئی برائی ہی نہیں سمجھیں گے۔ جبکہ میرے حساب سے یہ ہراسانی ہے۔ سیدھا سیدھا جرم“
جرم کا نام سن کر بسمہ کے جسم میں سرد سی لہر دوڑ گئی۔ وہ جو اسے اب تک صرف اپنا گناہ سمجھ رہی تھی کہ تھوڑی بہت توبہ تلا سے معاملہ نمٹ جائے اسے اندازہ ہی نہیں تھا کہ باسط کا یہ عمل مجرمانہ نوعیت رکھتا ہوگا۔ اس نے اس پہلو سے سوچا ہی کب تھا وہ تو کب سے خود کو مورد الزام ٹھہرا رہی تھی۔
”امی اتنی سی بات پہ بھی سزا ہوتی ہے کیا“
” فائزہ بات تو خیر اتنی سی نہیں ہے دیکھا جائے تو بڑی بات ہے۔ بسمہ کم عمر ہے مگر باسط ناتجربہ کار یا بچہ نہیں ہے کہ اسے لگا کہ منگیتر ہے تو بلا اجازت کچھ بھی کر لیا جائے۔ اور باسط کی اتنی ہمت بڑھانے میں اس کے اور بسمہ کے گھر والوں دونوں کا ایک جتنا ہاتھ ہے۔ بسمہ نے اپنے عمر کے حساب سے کافی بہادری اور عقلمندی کا ثبوت دیا کہ ناصرف باسط کو وہیں روک دیا بلکہ خاموشی سے سب چھپانے کی کوشش نہیں کی۔“
”آنٹی وہ تو میں خود پریشان بہت تھی تبھی فائزہ سے بات کرنے آ گئی۔ ورنہ گھر میں تو کسی کو بتانے کی میری ہمت ہی نہیں ہے۔“ بسمہ نے شرمندہ سے لہجے میں کہا۔
”بسمہ بیٹا تم نے ٹھیک کیا۔ تم جتنا چھپاؤ گی باسط کو اتنا ہی موقع ملے گا تمہاری خاموشی کا غلط فائدہ اٹھانے کا۔ جیسے نامناسب میسجز بھی اس نے ہی کیے اور انہی کی وجہ سے وہ یہ بھی سمجھا کہ تم شادی سے پہلے بھی کسی بھی قسم کا ریلیشن رکھنے کے لیے تیار ہوں گی۔“
”مگر امی وہ صرف محبت کا اظہار بھی تو ہو سکتا ہے نا“
”فائزہ زبردستی محبت کا اظہار، محبت کا اظہار نہیں ہوتا اپنی طاقت کا غلط استعمال ہوتا ہے۔“
”آنٹی اب میں کیا کروں؟“
”یہ واقعی مشکل بات ہے جتنا میں تمہاری فیملی کو جانتی ہوں میرا نہیں خیال کہ اس کو بنیاد بنا کر وہ لوگ رشتہ ختم کریں گے یا کم از کم باسط سے کوئی بازپرس کریں گے۔ ساری غلطی بسمہ کی کہی جائے گی جبکہ اس میں اس کی کوئی غلطی نہیں یہ جس حد تک درست کر سکتی تھی اس نے کیا۔“
نفیس آنٹی سے بات کر کے بسمہ کا احساس گناہ بہت حد تک کم ہوگیا تھا مگر رشتہ ختم کرنے کی بات یا پھر باسط سے پوچھ تاچھ کی بات اسے عجیب لگ رہی تھی۔ باسط سے رشتہ توڑنا تو وہ خود بھی نہیں چاہتی تھی پچھلے دس ماہ سے یہ تعلق تھا۔ دن بھر اس سے باتیں کی تھیں۔ مستقبل کی منصوبے بنائے تھی چھوٹی چھوٹی باتیں شئیر کی تھیں۔ ایک مہینے کے بعد اس کی شادی تھی صرف ایک اس بات کو بنیاد بنا کر یہ سب کیسے ختم کیا جاسکتا تھا۔ اول تو اس کی ہمت ہی نہیں تھی کہ وہ کسی کو یہ بتا سکے کہ اس دن کمرے میں کیا ہوا تھا۔ اسے خود احساس گناہ نہ ہوتا تو وہ کبھی فائزہ کو بھی نہیں بتاتی۔
کچھ سوچ کر آنٹی بولیں
”تم ایسا کرو ایک دفعہ اچھی طرح سوچو کہ تم خود کیا کرنا چاہتی ہو۔ ویسے تو یہ جرم ہے مگر اپنی زندگی کے بارے میں سوچنے کا، فیصلہ کرنے کا حق تمہیں ہے اچھی طرح سوچ سمجھ کر فیصلہ کرو۔ تم ذہین اور معاملہ فہم لڑکی ہو۔ مجھے امید ہے کہ جس حد تک تمہارے ہاتھ میں ہوا تم صحیح فیصلہ کرو گی۔ بہتر ہوگا تم ایک بار گھر میں کسی بڑے سے یا اپنی کسی بہن سے بھی مشورہ کرلو۔“
آنٹی کی بات سے لگ رہا تھا کہ انہیں بھی اندازہ ہے کہ بسمہ جتنی ہی عقلمند کیوں نہ ہو گھر والوں کے آگے کچھ نہیں کرپائے گی۔
گھر آکر بسمہ کو اتنی تھکن محسوس ہونے لگی کہ وہ فوراً ہی سونے لیٹ گئی۔ اور کئی گھنٹے سوتی رہی۔ جب اٹھی تو اسے اپنا آپ کافی ہلکا اور تازہ دم لگا۔ ذہن پہ کافی دن کا رکھا بوجھ کم محسوس ہورہا تھا۔ اسے احساس ہوا کہ سارا تناؤ احساس گناہ اور شرمندگی کا تھا۔ مگر بہرحال اس حقیقت کا ادراک کرکے کہ باسط کا اقدام مجرمانہ نوعیت کا تھا وہ سنجیدگی سے اس معاملے کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ وہ دیکھنا چاہتی تھی کہ نفیس آنٹی کا تجزیہ اس کے گھر والوں کے حوالے سے ٹھیک ہے یا نہیں۔
ایک طرف اس کی عزت نفس چاہتی تھی کہ اس کے گھر والے نفیس آنٹی کے خیالات کو غلط ثابت کردیں اور دوسری طرف اس کے جذبات چاہتے تھے کہ معاملہ بڑھے بغیر ہی ختم ہو جائے۔ وہ اپنی زندگی باسط کے ساتھ گزارنا چاہتی تھی۔ پھر اس نے آخر کار اسماء آپی سے بات کرنے کا فیصلہ کر ہی لیا۔ اسے پتا تھا کہ گھر میں امی کی چلتی ہے اور امی ہر کام اسماء آپی کی رائے کے مطابق کرتی ہیں۔ اس نے کئی دن سے الماری میں پڑے پرس میں سے موبائل نکالا۔ اس پہ باسط کے کوئی بیس پچیس میسجز اور کئی مس کالز آئی ہوئی تھیں۔ ان سب کو نظر انداز کر کے اس نے اسماء آپی کا نمبر ملایا۔
”ہیلو آپی کیسی ہیں“
”بسمہ کیا حال ہیں بھئی امی بتا رہی تھیں تم منگل کو شاپنگ پہ گئی تھیں، کیسا سوٹ لیا؟ میں نے فون اسی لیے نہیں کیا، اسی دن سے آنے کی کوشش کر رہی ہوں۔ شہیر کو جو موشن آنے شروع ہوئے تو سچ ہلکان ہوگیا میرا بچہ، ساتھ ساتھ میں بھی۔ اب بچہ بیمار ہو تو ماں بھی ساتھ ہی آدھی ہو جاتی ہے۔ سب دیکھتی جاؤ اگلے سال تم بھی ہماری طرح انہی کاموں میں لگی ہوگی“
انہوں نے اس سے فون کرنے کی وجہ پوچھنے کی بجائے اپنی ہی بات کہنی شروع کردی۔ پہلے بسمہ کے دل میں آیا کہ بس ادھر ادھر کی بات کرکے فون رکھ دے مگر پھر سوچا کہ ایک دفعہ فیصلہ کر لیا تو کر لیا اب بات کر ہی لینی چاہیے۔
”ہاں آپی سوٹ بھی لیا تھا اور فرنیچر بھی میرے ساتھ ہی لیا۔ پھر گھر بھی دکھانے لے گئے تھے۔“
”ارے واہ اپنا روم دیکھا؟ کیسا ہے؟ اور سن باسط سے اکیلے میں بات کا موقع ملا۔ اتنا رومینٹک ہے وہ یہ موقع تو نہیں چھوڑا ہوگا شادی سے پہلے منگیتر سے ملنے کا جو رومانس ہے نا سچ بس کیا بتاؤں۔ کتنی لکی ہے تو بسمہ“ بسمہ کو لگا شاید آپی صرف بات ہی کرنے کی بات کر رہی ہیں اسی لیے اس نے سوچا تھوڑا بات کلیئر کرے۔
”آپی موقع تو ملا مگر باسط بہت زیادہ کلوز ہورہے تھے۔ میں گھبرا کر نکل آئی تھی روم سے“
”لو یہ کیا بات ہوئی ایسا کیا کردیا بچارے نے“
”آپی۔ ۔ ۔ انہوں نے“ وہ لمحہ بھر کو رکی ”انہوں نے مجھے کس کیا“
”اوہوووو مجھے پتا تھا تمہارا منگیتر کبھی بھی شاندار موقع نہیں چھوڑے گا۔ بس بھیا کو نہ بتانا وہ فضول اس سے جھگڑنے پہنچ جائیں گے۔ تو بھی عجیب ہے موقع انجوائے کرنا چاہیے تھا نا۔ چل یہ بھی ٹھیک ہی ہے تھوڑا بھرم بھی تو پڑے ہونے والے میاں پہ کہ اتنی آسانی سے ہاتھ آنے والی چیز نہیں۔“ بسمہ اتنی شدید دل برداشتہ ہوئی اس نے فوراً ہی کام کا بہانا کر کے کال کاٹ دی۔ اتنا تو اسے پتا تھا کہ بھیا کو غصہ بھی اس بات پہ آتا ہے جس پہ گھر والے شہ دیں۔ ورنہ انہیں فکر نہیں ہوتی کہ گھر میں کیا چل رہا ہے۔ اس نے تھکے تھکے ہاتھوں سے باسط کو میسج ٹائپ کیا
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

