دنیا ہے ماں تیرے آنچل میں
ممی آج رات نہیں آؤں گا ہاسٹل میں پڑھائی کریں گے ہم لوگ۔
بیٹے فون کردینا رات کو کہ سب کچھ ٹھیک ہے۔ ساتھ میں ایک پلاسٹک کے بیگ میں کیلے اور سیب بھی دے دیے انہوں نے میرے لیے اور دوستوں کے لیے۔
میں فون کرنا بھول گیا، رات گئے دیر سے فون کرنا مناسب نہیں سمجھا، رات بھر وہ فون کی گھنٹی کی آواز کا بے چینی سے انتظار کرتی رہیں۔ ابو سے نہیں کہا کہ ناراض ہوں گے۔ واجد آکر سوگیا تھا اسے ڈسٹرب نہیں کرنا چاہتی تھیں۔ رات بھر دل ہول کھاتا رہا۔ نہ جانے کتنی دعائیں پڑھیں، نمازیں مان لیں۔
شام کو پتہ چلا کہ صبح میرے فون آنے کے فوراً بعد انہوں نے شکرانے کا روزہ رکھ لیا تھا۔ اب میں سوچتا ہوں کہ رات بھر سوتی جاگتی رہی ہوں گی، بار بار دعائیں کرتی ہوں گی، حصار باندھتی ہوں گی میرے چاروں طرف پڑھ پڑھ کر۔ صدقے کے لیے روپے رکھ دیے ہوں گے ایک طرف۔ صبح سحری بھی نہیں کی ہوگی اورمیری حفاظت کے لیے روزہ بھی رکھ لیا ہوگا، مجھے تو اس وقت پتہ بھی نہیں تھا کہ ایک میری ماں میرے لیے پریشان ہوری ہوگی میں کینٹین میں بیٹھا ہوں، جمنازیم میں باسکٹ بال کھیل رہا ہوں دوستوں کے ساتھ سینما دیکھ رہا ہوں۔ بے پرواہ، بے فکر کیونکہ ایک پرواہ کرنے والی فکر کرنے والی دعا کرنے والی، حصار باندھنے والی تھی میری ممی کہیں پر۔
بھائی صاحب کو لڑکے کے بعد اللہ میاں نے لڑکی دی۔ کرن بھابی پھر Cope نہیں کر پارہی تھیں۔ فون پر بات ہوئی انہوں نے فوراً ہی اباجان سے مشورہ کیا، ٹکٹ کٹا کر امریکہ روانہ ہوگئی تھیں۔ جلدی جلدی میں بھی یہ نہیں بھولی تھیں کہ فریج میں کھانے پینے کی وافر چیزیں پلاسٹک کے مختلف تھیلوں میں موجود رہیں۔ میری پسند کے اسٹو، اباجان کے لیے ان کی پسند کی سبزیاں، واجد کے لیے نہاری، کھانے کا مختلف سامان، خالہ جانی گھر آگئی تھیں، ان کو سخت ہدایت کہ مجھے واجد کو کب کیا ملنا چاہیے، میرے امتحان ہورہے ہیں، میں بالکل پریشان نہ ہوں، میرا خیال رکھنا ہے۔ میرے دوستوں کا خیال رکھنا ہے فائنل ائر کا امتحان ہے ہر ضرورت پوری کرنی ہے میری۔
میرے ڈیمانڈ تو میرے دل میں ہی رہ گئے تھے۔ ممی نے وہ سارے ڈیمانڈ خود ہی پورے کرڈالے۔ امریکہ میں بھائی صاحب کو ان کی ضرورت تھی، لیکن انہوں نے ہمیں بھی بغیر ماں کے نہیں چھوڑا۔ وہاں سے بھی فون کرتی رہیں، تاکید کرتی رہیں، میری برتھ ڈے آئی تو کارڈ بھی مل گیا مجھے۔ اس کا انتظام کرکے گئی تھیں، امتحان کی شام کو عذرا آپی نے ممی کی ہدایت کے مطابق ایک دعاؤں والا کارڈ بھی پہنچایا، رات کو ان کا فون بھی آیا۔
امریکہ کے سو جھمیلوں میں بھائی صاحب اورکرن بھابی کے لیے سب کچھ کرتے ہوئے ان کے دونوں بچوں کے ڈیمانڈنگ ہونے کے باوجود وہ سب کچھ کرنا نہیں بھولی تھیں جو ہمیشہ کرتی رہیں تھیں۔ ایک فرض کی طرح افضل عبادت سمجھ کر۔
میرے امتحان ہوگئے اورٹھیک ہوگئے۔ میں سوچ رہا تھا کہ اب نتیجہ نکلے گا اور میں ڈاکٹر بن جاؤں گا تو ممی نہیں ہوں گی مگر ایسا نہیں ہوا۔ امتحان کے نتیجہ نکلنے سے ذرا پہلے چار مہینے امریکہ میں پوتوں پوتیکی خدمت کرکے وہ واپس آگئیں۔
میرا نتیجہ نکلا۔ میں ڈاکٹر بن گیا، باجی اور شازیہ کے فون آئے انہوں نے بتایا کہ ممی محض میرے نتیجے کی وجہ سے کینیڈا اورکناٹی کٹ نہیں گئیں کہ انہیں میری خوشی میں شامل ہونا ہے یہ تو میں نے سوچا بھی نہیں تھا، میرا خیال تو یہ تھا کہ بس وہ فوراً کراچی آجائیں، میری کتاب میں میرے دماغ کے کسی گوشے میں ان دو بہنوں کا کوئی خیال نہیں آیا تھا جنہیں دیکھنے کو میری ماں کا دل بہت تڑپا ہوگا، مچلا ہوگاکتنا برا لگا ہوگا دونوں کو مگر ممی نے سوچا ہوگا کہ پھر صحیح۔ ابھی تو میرا بڑا دن ہے، امتحان کے نتیجے کا دن۔ ڈاکٹر بن جانے کا دن آج سوچتا ہوں تو ایک سرد سی لہر دوڑجاتی ہے پورے جسم میں۔
پھر نہ جانے کیسے اباجان بیمار پڑگئے۔ انہیں جوڑوں کے درد کی شکایت تھی۔ ڈاکٹروں نے درد کی دوائیں دیں، کوئی خاص افاقہ نہیں ہوا۔ اپنے کسی دوست کے ساتھ ایک جعلی حکیم کے پاس چلے گئے، جنہوں نے ایک معجون اور ایک بہت مہنگا کشتہ دیا۔ دوائیں لینے کے تھوڑے دنوں کے بعد درد ختم تو نہیں ہوا مگر بہت کم ہوگیا۔ لیکن ساتھ ہی انہیں پیشاب کی تکلیف ہوگئی۔ پیروں پر ورم آگیا، جب ڈاکٹروں نے دیکھا تو پتہ چلا کہ ان کے گردے فیل ہوگئے ہیں اوراب ڈائی لے سس کے ذریعے ہی علاج ہوسکتا ہے یا کسی اور کا گردہ لگانا ہوگا۔
بڑی تیزی کے ساتھ ہنستی مسکراتی زندگی نے جیسے ایک بہت بڑی کھائی میں چھلانگ لگادی، ڈاکٹروں نے بتایا کہ جعلی حکیم کے کشتوں میں بھاری قسم کی دھات بھی شامل ہوتی ہے ساتھ میں کچھ دوسری دوائیں بھی ہوتی ہیں، درد کی شدت تو ختم ہوجاتی ہے مگر یہ دھاتی اجزا گردوں کوپیک کردیتے ہیں اورگردے ناکارہ ہوجاتے ہیں۔
اباجان کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ ان کا ڈائی لے سس ہونے لگا اور گھر میں بحث شروع ہوگئی کہ کون گردہ دے گا، بیماری کا سن کر ہر ایک ہی کراچی پہنچ گیا۔ بھائی صاحب، باجی، شازیہ۔ کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کیا جائے۔ اباجان نے کسی کا بھی گردہ لینے سے انکار کردیا، ان کا خیال تھا کہ زندگی کے جو بھی تھوڑے دن ہیں وہ ڈائی لے سس پر گزارلیں گے پھر موت تو بہرحال برحق ہے۔ دوسروں کا گردہ لینے کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہوگا۔
دونوں بہنیں گردہ دینے کو تیار تھیں، اپنے شوہروں کے سو فیصد حمایت کے بغیر۔ بھائی صاحب نے سترہ دنوں میں چلے جانا تھا، ان کے لیے تو ممکن ہی نہیں تھا کہ وہ گردہ دیں پھر کرن بھابی سے مشورہ ضروری تھا اور وہ آئی نہیں تھیں، واجد تو ابھی چھوٹا تھا، میں تیار تھا کہ فوری طور پر میرا ایک گردہ نکال لیا جائے۔
ممی نے بغیر کسی کو بتائے خاموشی سے اپنا اور اباجان کا ٹشو ٹائپنگ کرالیا اورکمال یہ ہے کہ میچ بھی ہوگیا۔ انہوں نے کہا تھا کہ تم ابھی چھوٹے ہو، تمہاری ساری زندگی تمہارے سامنے ہے۔ ہم نے تو بڑی اچھی زندگی بانٹ کر گزاری ہے اوراب گردے بھی بانٹ لیں گے تو کیا فرق پڑجائے گا۔
مگر کرنا خدا کا یہ ہوا کہ اباجان کے گردوں کو ٹرانسپلانٹ کی تیاری ہوہی رہی تھی کہ ایک روز اچانک ان کا دل بیٹھ گیا دل کا دورہ ایسا تھا کہ وہ جاں بر نہیں ہوسکے۔
ہم سب پر قیامت گزرگئی۔ ہنستا کھیلتا ہوا گھر نہ جانے کس کی نظر کھاگئی۔ سارا گھر موجود تھا، سب نے ایک دوسرے کا غم بانٹ لیا، دولت بٹتی ہے تو تکلیف ہوتی ہے، غم بٹ جائے تو آرام ملتاہے۔
پھر آہستہ آہستہ سب چلے گئے، میں مزید ٹریننگ کے سلسلے میں پلان بنارہا تھا، واجد اپنی پڑھائی میں مصروف، ممی کی تنہا زندگی دروازوں کے کواڑوں کو پکڑ کر ہمارے انتظار میں گزرتی تھی۔ پھر بھی انہوں نے ہم سے کبھی کوئی ڈیمانڈ نہیں کی۔ ہماری خوشی ان کی خوشی تھی اورہمارے اگر غم ہوں تو انہیں بانٹنا نہیں چاہتی تھیں بلکہ ان کا بس چلتا تو شاید انہیں اپنالیتیں۔ ان دنوں میں ایک دن ایسا یاد نہیں ہے مجھے جب ان کی ضرورت ہو اور وہ مجھے نہیں ملی ہوں یا ہم بھائی بہنوں کے لیے موجود نہ ہوں۔ ایک اکیلی تھیں وہ اور ہم سب ناجانے کیسے کشٹ اٹھاکر ہم سب کو مطمئن کیا تھا انہوں نے پیار بانٹا تھا سب کو برابر برابر۔ پورے انصاف کے ساتھ ہر ایک کی ضرورت کے مطابق۔
انہوں نے مجھے اور واجد کوقائل کرنا شروع کردیا کہ ہم دونوں کو امریکہ جانا چاہیے۔ ساری دنیا جارہی ہے، مستقبل وہاں ہے تم دونوں کا۔ پاکستان میں تو نہ جانے کیا ہونے جا رہا ہے۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


I always love your articles….with inner depth of my heart….Excellent work…