دنیا ہے ماں تیرے آنچل میں


میں نے امریکن امتحان دیا، اچھے نمبر آئے اور میرا امریکہ میں ٹریننگ پروگرام میں میچ ہوگیا۔ پنسلوانیا میں میری ٹریننگ شروع ہوئی یہاں ہی میں نے دل کی بیماریوں کے بارے میں سیکھا، بورڈ کا امتحان پاس کیا۔ ٹریننگ کے دوران ہی ممی نے میری شادی طے کرائی، میں کراچی سے لبنیٰ کو دلہن بنا کر امریکہ لے آیا اور اس کے تھوڑے دنوں کے بعد ہی ممی اور واجد بھی میرے پاس امریکہ آگئے۔

واجد کو جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں داخلہ مل گیا، جس کے بعد اس نے پنسلوانیا میں ہی نوکری تلاش کرکے میرے قریب ہی رہنا شروع کردیا۔ باجی نے اس کی شادی اپنے ایک سہیلی کی بہن سے کرادی۔ دونوں خو ش باش مزے سے زندگی گزاررہے تھے۔

ممی زیادہ تر میرے ساتھ رہیں مگر ان کا آنا جانا لگا رہتا تھا، کبھی بھائی صاحب کے پاس، کبھی باجی کے یہاں، تو کبھی شازیہ کو ان کی ضرورت تھی۔ انہوں نے کبھی کچھ لیا نہیں تھا ہم لوگوں کو سے ہمیشہ دیتی رہیں اورہم لوگ ہمیشہ لیتے رہے۔ پھر بڑھاپا بغیر دستک کے چپ چاپ آگیا، چپ چاپ تو نہیں آیا، آیا تو اپنے وقت پر ہی تھا لیکن ہم لوگوں کو فرصت نہیں تھی وقت نہیں تھا اس کی چاپ سننے کا۔ اس آواز کو نوٹس نہیں کیا تھا ہم نے۔

ہماری ہر بات کو نوٹس کیا انہوں، نے دانت نکلنے سے چشمے کی ضرورت تک۔ اسکول کی وردی سے نکسیر کے پھٹنے تک۔ معمولی سردرد سے قمیض کے بٹنوں تک۔ پسند کی قمیض سے لے کر شادی بیاہ اور بچوں کے چونچلوں تک۔ لیکن ہم سب مل کر بھی ان کے بڑھاپے کی چاپ نہیں سن سکے۔ آہستہ آہستہ ان کے لیے چلنا پھرنا مشکل ہوگیا، مگر ذہنی طور پر وہ ایسے ہی الرٹ تھیں جیسے کراچی میں ہوں۔

وہ بھی امریکی شہری ہوگئی تھیں جس کے بڑے فوائد تھے۔ پانچ سو ڈالر ماہانہ ان کا وظیفہ تھا، ہر ماہ اسی ڈالر کے انہیں کھانے کے کوپن ملتے تھے اور ان کی مدد کے لیے سوشل سروس کے محکمے سے ایک عورت آتی تھی جو صبح آٹھ بجے سے شام پانچ بجے تک ان کا خیال رکھتی تھی۔ انہیں نہلانا، ٹوائلٹ لانا لے جانا، ان کی دواؤں کا خیال رکھنا، یہ سب اس کی ذمہ داری تھی۔ ان کا علاج معالجہ فری تھا۔ میں نے محسوس کیا کہ وہ اپنی تکلیف کا اظہار اس وقت تک نہیں کرتیں جب تک تکلیف برداشت سے باہر ہوجائے۔ ممی ہی نہیں ساری مائیں ایسی ہوتی ہیں میں سوچتا رہتا۔

باتوں باتوں میں ایک دن انہوں نے مجھ سے کہا تھا کہ بیٹا جب تک میں ہوش و حواس میں ہوں مجھے کسی نرسنگ ہوم میں نہ ڈالنا۔ یہ بات میرے دماغ میں اٹک کر رہ گئی، میں نے دل میں یہی فیصلہ کیا کہ ایسا ہی ہوگا، ممی ایسا ہی ہوگا۔ اتنا تو میں کرسکتا ہوں کیا ہوا اگر بڑھاپے کی آواز مجھے نہیں آئی، آپ کی حفاظت کے لیے حصار نہیں باندھے میں نے صدقہ نہیں اتارا آپ کے لیے راتوں کو جاگ جاگ کر انتظار نہیں کیا آ پ کا، آپ کی تکلیف کے لیے روزہ نہیں رکھا میں نے لیکن یہ تو کرسکتا ہوں کہ آپ کے ساتھ رہوں آخر تک نرسنگ ہوم کے بغیر۔

تمام تر احتیاط اور دواؤں وغیرہ کی پابندی کے باوجود ان پرفالج کا ایک دورہ پڑگیا، اس فالج نے ان کا چلنا پھرنا اوربولنا چھین لیا۔ وہ سمجھتی سب تھیں مگر کچھ کہہ نہیں سکتی تھیں۔ صرف آنکھوں کی زبان تھی جس سے مجھے اندازہ ہوتا کہ وہ کیا چاہتی ہیں۔ کبھی بھی کوئی مطالبہ نہیں تھا ان کی آنکھوں میں۔ نہ جانے کیسی مٹی سے بنائی جاتی ہیں مائیں خود تکلیف اٹھاتی رہیں اور کچھ کہتی نہیں۔ میں ہسپتال سے واپس آتا تو مجھے پتہ لگ جاتا کہ ان کی آنکھیں پوچھ رہی ہیں ٹھیک ہونا بیٹا۔

اس وقت تک کچھ کھاتی نہیں تھیں جب تک مجھے کھاتا ہوا دیکھتی نہیں۔ اپنے بستر سے ان کی آنکھیں میرے اور میرے بچوں کاتعاقب کرتی رہتی تھیں۔ مجھے چھینک آجائے تو وہ پریشان میرے چہرے پر مسکراہٹ نہ ہو تو انہیں تردود، مجھے اب احساس ہوا تھا کہ ایسی تو وہ ہمیشہ سے تھیں جب میں چھوٹا تھا تو بھی جب میں اسکول کالج میں تھا تب بھی۔ جب میں ڈاکٹر بنا جب بھی اور اب وہ بستر پر ہیں تو ان کی چلتی پھرتی آنکھیں میرے اوپر سایہ کیے ہوئے ہیں۔ بیماری میں بھی، بڑھاپے کے ساتھ بھی ابا جان کے نہ ہوتے ہوئے بھی ہم میں سے کسی سے بھی کسی قسم کا کوئی مطالبہ نہیں کیا تھا انہوں نے۔

جب سے وہ فالج کا شکار ہوئی تھیں بھائی صاحب کا خیال تھا کہ ان کو نرسنگ ہوم شفٹ کردینا چاہیے۔ اس دن فون پر بات کرنے کے دو ہفتوں کے بعد وہ ہم لوگوں سے ملنے بھی آگئے تھے۔ بلکہ سبھی لوگ چلے آئے، کینیڈا سے باجی کناٹی کٹ سے شازیہ اور میں اورواجد تو تھے ہی پنسلوانیا میں۔ ہمارا فیملی ری یونین ہوگیا تھا۔

زیادہ تر وقت ہم لوگ ان کے سامنے بیٹھ کر پرانی باتیں کرتے رہے، کراچی کی باتیں، اباجان کی باتیں، ممی کے پرانے قصے، اپنی بچپن کی باتیں، اسکول کالج کے لطیفے، خالہ اور چچا کے حالات، ان کے بچوں اور ان کے خاندانوں کے بارے میں باتیں۔ امریکہ کے مسائل اور امریکہ کی کہانیاں ہم سب نے انہیں خوب ہنسایا ان کی آنکھیں قمقمے کی طرح چمکتی رہیں، جلتی رہیں کاش ہمیشہ ایسا ہی ہوتا رہے۔ پورا ہفتہ اتوار بڑی تیزی سے گزرگیا، سب لوگ چلے گئے، بھائی صاحب نے دودن اورٹھہرنا تھا۔

پیر کی شام کو باتوں باتوں میں انہوں نے نرسنگ ہوم کا ذکر چھیڑدیا، ان کا خیال تھا کہ میں اور لبنیٰ ممی کی دیکھ بھال کرکر کے بالکل ایکس ہاسٹ ہوگئے ہیں اور اگر ممی کو نرسنگ ہوم بھیجنا پڑے تو اس میں کوئی مذائقہ نہیں ہوگا۔

انہوں نے پھر یہ بھی کہا کہ اس عمر میں لوگ ڈیمانڈنگ ہوجاتے ہیں اورامریکہ میں پرائریٹی کی سمجھ ہونی چاہیے۔ آگے بڑھنے کے لیے چھوٹی موٹی قربانی تو دینی ہوتی ہے۔

منگل کی شام میں انہیں ائرپورٹ چھوڑ کر آگیا۔ واپس آکر میں ممی کو دیکھنے گیا، وہ مجھے دیکھ کر مسکرائیں، میں نے دھیرے سے ان کے ماتھے کو چوما، ان کا ہاتھ پکڑا، اور وہیں بیٹھ گیا، وہ اسی طرح سے مجھے دیکھتے دیکھتے سوگئیں، اطمینان کے ساتھ۔

میرے دل میں آیا کہ میں بھائی صاحب کو فون کرکے بتاؤں کہ یہ جو عورت ہے ہم سب کی ممی اس کی زندگی کی بھی تو کوئی پرائریٹی ہوگی اس کے بھی تو کوئی ڈیمانڈ ہوں گے، کچھ بھی نہیں تھے کچھ بھی نہیں۔ اس نے ساری زندگی ہمیں پرائریٹی دی اور ساری عمر ہمارے ڈیمانڈ پوری کرتی رہی۔ اس کا اٹھنا بیٹھنا چلنا پھرنا سونا جاگنا سب کچھ ہمارے لیے تھا۔ ہم نے صرف مطالبے کیے۔ ناراض ہوئے، یہاں تک کہ جذباتی بلیک میل کا شکار بھی ہمیں نے بنایا اور اب سب کچھ میرے پاس ہے ان کی وجہ سے ان کے شوہر کی وجہ سے تو میں انہیں کیسے نرسنگ ہوم بھیج دوں۔ کچھ بھی حالات ہوں، نرسنگ ہوم پانچ ستاروں والے سات ستاروں والے ہوٹلوں سے بھی اچھا ہو تو میں انہیں وہاں نہیں جانے دوں گا۔ یہ میرے باپ کی بیوی ہیں میری ممی ہیں میری ماں۔

ان کے چہرے پر فرشتوں جیسی معصومیت تھی۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3

One thought on “دنیا ہے ماں تیرے آنچل میں”

  • 15/05/2020 at 11:16 صبح
    Permalink

    I always love your articles….with inner depth of my heart….Excellent work…

Comments are closed.