غازی ارطغرل اور پاکستانی معاشرہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”جب تک ہم اللہ کے راستے پر چلیں گے کوئی بھی ہمیں شکست نہیں دے سکتا“ غازی ارطغرل۔ مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیا، ساؤتھ امریکہ اور ساؤتھ افریقہ میں 60 سے زیادہ ملکوں میں دیکھا جانے والا مشہور ڈرامہ غازی ارطغرل، اب وزیراعظم عمران خان کے کہنے پر پاکستان کے قومی ٹیلی ویژن پی ٹی وی پر دکھایا جا رہا ہے۔ یہ ڈرامہ سلطنت عثمانیہ (جو کہ مسلمانوں کی دنیا پر چھے سو سال تک حکومت کا باعث بنی) کے وجود کی داستان بیان کرتا ہے جس میں اسلامی تاریخ، ثقافت و روایات دکھائی گئی ہیں۔

تاریخ میں ایسا کوئی سیریل نہیں ملتا جو مسلمانوں کی تاریخ پر مبنی ہو اور جسے اتنی پذیرائی ملی ہو، پاکستان میں بھی یہ ڈرامہ نشر ہوتے ساتھ ہی بلندیوں کو چھونے لگا ہے۔ سوشل میڈیا ہو یا پھر کوئی محفل، عوام کی زبان پر ارطغرل چھا رہا ہے، لوگ ڈرامے اور اس کے کرداروں کی تصاویرنا صرف اپنی پروفائل پر لگا رہے ہیں بلکہ ان سے متاثر بھی ہو رہے ہیں۔ وہ وقت دور نہیں جب ہمیں مارکیٹ میں ترکی لباس اور ڈیکوریشن کا سامان عام ملا کرے گا، عین ممکن ہے کہ ترکی کے حسین زیورات اور لباس مارکیٹ میں اسی طرح اثر انداز ہوں جیسے کسی زمانے میں پاکستانی مارکیٹ پر سٹار پلس کے لوازمات کا اثر تھا۔

دنیا میں سامعین دو طرح کے ہوتے ہیں، ایک تو وہ جو کوئی بھی فلم یا ڈرامہ صرف لطف اندوزہونے کے لئے دیکھتے ہیں اور دیکھ کر پھر سے اپنی روزمرہ کی زندگی میں مشغول ہو جاتے ہیں، دوسرے وہ جو اگر کوئی بھی فلم یا ڈرامہ دیکھیں تو اس میں سبق اور مقصد کی تلاش کرتے ہیں اور یہ تلاش صرف تلاش کی حد تک محدود نہیں رکھتے بلکہ اس سے حاصل شدہ سبق کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیتے ہیں۔ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو ترقی کی رہ پر گامزن ہیں اور اگر موازنہ کیا جائے تو وہ ممالک جو ترقی پذیر ہیں ان کی کامیابی کا راز صرف قومی سوچ، ایماندار لوگ، اچھے سماجی و معاشی تعلقات اورغربت کا خاتمہ نہیں بلکہ خود شناسی، آبا و اجداد کی تعلیم و تربیت اور محنت اور اپنے تاریخی اقدار، روایات، ثقافت، اصول، عقیدہ اور قانون و انصاف پر بھی مبنی ہے۔

یہ تمام چیزیں صرف اور صرف اپنی قومی اور مذہبی تاریخ سے سیکھی جا سکتی ہیں اور تاریخ پڑھنے کے کئی طریقے ہیں، جن میں کتابیں اور متاثر کن آپ بیتی پڑھنا، میوزم جانا، تاریخی مقامات کا دورہ کرنا، ثقافتی تقریبات میں شرکت کرنا، اپنے آبا و اجداد کی تاریخ کا مطالعہ کرنا اورتاریخ پر مبنی فلمیں دیکھناشامل ہیں۔ موجودہ ٹک ٹاک کے دور میں جہاں ہم صرف لطف اندوزی کی زندگی جی رہے ہیں اور حقیقت کی دنیا کو بھول رہے ہیں وہی ہم اپنی قومی اور مذہبی تاریخ کو بہت دور چھوڑ آئیں ہیں جس کی وجہ سے آج نا صرف مسلمانوں پر بلکہ پاکستان پر بھی کالے بادلوں کا سایا ہے۔

اب دیکھنا یہ کہ اس ڈرامے غازی ارطغرل سے بھی ہم صرف لطف اٹھاتے ہیں جیسے ہالی ووڈ یا بالی ووڈ کی فلموں اور ڈراموں سے تفریح حاصل کرتے ہیں یا پھر ہمیں اس کا مقصد یا سبق سمجھ میں آئے گا اور اگر کوئی سبق ملتا ہے تو اس کا ہماری زندگی پر کیا اثر ہو گا۔ اس ڈرامے کو جہاں بہت زیادہ شہرت حاصل ہو رہی ہے وہیں یہ تنقید کا نشانہ بھی بن رہا ہے، عربی ممالک سمیت کئی دوسرے ممالک نے اس ڈرامے کے نشریات پر پابندی عائد کر دی ہے، یہاں تک کہ مصر کی فتویٰ یونین نے اس ڈرا مے کو نا دیکھنے کا فتویٰ جاری کر دیا ہے۔

پاکستان میں بھی کئی لوگ اسے تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ اگر تاریخ پڑھنی ہے تو کتابوں کا سہارا لیا جائے اور ڈرامے کو صرف ڈرامہ سمجھ کر دیکھا جائے۔ ہمیں یہاں پر اس بات کے سمجھنے کی ضرورت بھی ہے کہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں ستر فیصد آبادی کتابوں کو ہاتھ تک نہیں لگاتی، یہاں لوگ دینی کتب بھی نہیں پڑھتے تو اسلامی تاریخ کی کتب پڑھنا دور کی بات ہے۔ موجودہ دور میں جہاں دن رات ہالی ووڈاور بالی ووڈ کی فلمیں اور سیریز دیکھی جاتی ہیں، کیا یہ بہتر نہیں کہ ہم اپنی اسلامی تاریخ پر مبنی فلمیں یا سیریز دیکھیں؟

جہاں بچوں کے ذہنوں میں ہیرو ایونجرز، بیٹ مین یا سپائڈرمین ہوتے ہیں، اگر ان کے ہیروز ٹیپو سلطان، طارق بن زیاد، محمدبن قاسم، غازی ارطغرل یا عثمان بن ارطغرل بن جائیں تو کیا یہ ٹھیک نہیں؟ کیا معلوم یہی ڈرامے دیکھ کر لوگوں کے اندر اسلامی تاریخ جاننے اور پڑھنے کی خواہش پیدا ہو جائے اور عین ممکن ہے کہ بھولی ہوئی تاریخی ثقافت و روایات پھر سے جاگ اٹھیں۔ کافی ڈرامے دیکھے ہیں لیکن جس طرح ترکی کے ڈراموں میں اسلامی اقدار کی بات کی گئی ہے کبھی پاکستان کے ڈراموں میں نہیں دیکھا، غازی ارطغرل کے بعد ایک اور ترکش ڈرامہ بھی پاکستان ٹیلی ویژن کی زینت بنے گا جس کا نام ’درویش یونس‘ ہے ؛ درویش یونس ترکی کے مشہور صوفی شاعر تھے۔

ان ڈراموں کے نشر کرنے کا مقصد اس کے علاوہ کچھ اور نہیں ہے کہ پاکستانی عوام کو مسلمانوں کی تاریخی جستجو اور محنت کی یاد دلائی جائے۔ آخرمیں ڈرامے کے کچھ مشہور مکالمے : ’زمین میں سب سے طاقتور فاتح انصاف ہے، ہم سب خدا کی طرف سے آئے ہیں اور ہمیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے، جو لوگ حق کی راہ کی طرف ہیں اللہ انہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے‘ غازی ارطغرل۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
عطا الرحمن جنجوعہ کی دیگر تحریریں

Leave a Reply