لاک ڈاؤن میں مسلمان عالمی سیاست کے نشانہ پر ہے

بڑی بڑی خبروں کے درمیان کچھ چھوٹی خبروں، خاص کر ہمسایہ ممالک کی خبروں کو اکثر ہم نظر انداز کر دیتے ہیں۔ سری لنکا میں مسلم مخالف فسادات کے لئے فیس بک نے معافی مانگی۔ یہ اعتراف کیا کہ مسلمانوں پر حملے کے لئے سوشل نیٹ ورکنگ کا غلط استعمال ہوا۔ ان دنوں یہی بات ٹویٹر کے لئے کہی جا رہی ہے۔ جہاں اسلامو فوبیا اور اس طرح کے کئی عنوانات سے مسلمانوں کے حوالے سے دہشت پھیلانے کا کھیل ہو رہا ہے۔ ابھی حال میں امریکی پارلیمنٹ میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے لئے ٹرمپ حکومت پر ذمہ داری ڈالی گئی۔

مسلم مخالفت کا کھیل چین اور روس میں بھی بڑے پیمانے پر ہو رہا ہے۔ یہ بات غور کرنے کی ہے کہ روز بروز بین الاقوامی سطح پر کمزور ہوتا ہوا مسلمان آخر دنیا کے نشانہ پر کیوں ہے؟ برما، سری لنکا جیسے ممالک اور سوشل ویب سائٹ پر مسلم مخالفت رویہ روز بروز بڑھتا کیوں جا رہا ہے؟ کیا ایک بڑی دنیا اب بھی مسلمانوں سے خائف ہے؟ ورلڈ ٹریڈ ٹاور پر اسامہ کے حملے کے ساتھ ہی مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی کارروائی کچھ اس سطح پر شروع کی گئی کہ دنیا میں اگر امن کا فقدان ہے تو اس کی وجہ دہشت گرد مسلمان ہیں۔ اور اس بات کو اتنی توجہ دی گئی کہ اس کا فائدہ آر ایس ایس اور دوسری تنظیموں کے ساتھ سری لنکا، برما، روس اور دیگر ممالک نے بھی اٹھایا۔ لیکن مسلمانوں کو دہشت گرد بتانے کے باوجود بیشتر عرب ممالک سے رشتوں کو بہتر بنانے کی کوششیں بھی ہوتی رہیں کیوں کہ ایک بڑا مسئلہ تیل کا بھی تھا۔ اور یہ بار بار کہا جاتا رہا ہے کہ چوتھی جنگ عظیم کی شروعات تیل کے لئے ہو گی۔ امریکہ نے تیل کے کنوؤں پر قبضہ کے لئے بیشتر عرب ممالک کو یرغمال بنا لیا۔ افغانستان، لیبیا، عراق جیسے ملک برباد کر دیے گئے۔ ترکی اور ایران کو آنکھیں دکھانے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ نفرتیں عروج پر ہیں اور ابھی بھی پوری دنیا کے مسلمانوں کے پاس اور عرب ممالک کے سلطانوں کے پاس ایسی کوئی اسٹریٹجی نہیں کہ مخالفت کے سلسلے کو بند کیا جا سکے۔ عرب ممالک کا آپسی اتحاد نمایاں کردار ادا کر سکتا تھا، جو ممکن ہوتا ہوا نظر نہیں آ رہا۔ اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ عالمی سطح پر مسلمان خوف زدہ ہیں۔

امریکہ کے لئے کام کرنے والے اسامہ نے اٹھارہ برس قبل مسلمانوں کا جو امیج قائم کیا، اس میں اضافہ ہوا ہے۔ اب یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ اسامہ امریکہ کا مہرہ تھا جس کو آسانی سے استعمال کیا گیا۔ صدام حسین اور کرنل قذافی کا قتل بھی عالمی سازش کا حصہ ہے جو اب بے نقاب ہو چکا ہے۔ صدام حسین کی معصومیت کی کتاب ان کی موت کے برسوں بعد کھولی گئی۔ امریکی اور برطانیہ کے صحافیوں نے غم کا اظہار کیا کہ صدام حسین کا قتل منصوبہ بند سازش تھی جس کے لئے امریکہ اور برطانیہ ذمہ دار ہیں۔ پچھلے بیس برسوں کی عالمی سیاست کو دیکھیں تو مسلمانوں کے ساتھ یہی رویہ کام کر رہا ہے کہ مسلمانوں کو ختم کر دو۔ کیا اس کو محض صیہونی سازش کہہ کر نظر انداز کیا جا سکتا ہے؟

اس وقت عالمی سیاست کے ساتھ ہندوستان میں مسلمانوں کے ساتھ وہی رویہ اپنایا جا رہا ہے جو ہٹلر نے جرمنی کی تاریخ میں یہودیوں کے ساتھ دہرایا۔ پوری مشینری ہٹلر کے لئے کام کرتی تھی۔ پولیس، فوج، عدالتیں، خفیہ ایجنسیاں، سب ہٹلر کی ماتحت تھیں اور ہٹلر کے الفاظ اس مشینری کے لئے خدا کے الفاظ تھے۔ ہندوستان میں سوشل ویب سائٹ کا سہارا لے کر، میڈیا کو یرغمال بنا کر نفرت کا جو کھیل کھیلا جا رہا ہے، اس میں کمی آئے گی، ایسا یقین کے ساتھ نہیں کہا جا سکتا۔ بلکہ ایسا لگتا ہے کہ وقت کے ساتھ یہ کھیل نسل کشی میں تبدیل ہو جائے گا اور اس کی شروعات ہو چکی ہے۔

جب چین سے ہو کر کورونا ہندوستان پہچا تو حکومت اور میڈیا کی بے حسی کا احساس بڑھتا گیا۔ ہندوستان حکومت نے چارآن لائن پریس کانفرنس کی۔ بیس لاکھ کروڑ کا وعدہ بھی خیالی پلاؤ سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔ میڈیا نے کورونا کو بھی مذہب کے خانے میں ڈال دیا۔ تبلیغیوں پر ہاتھ صاف کیے۔ فرضی تصویریں وائرل کی گیں۔ لاک ڈاؤن نے ہندوستان کی حقیقت سب کے سامنے رکھ دی۔ لاکھوں مزدور سڑکوں پر آ گئے۔ یہ سچ ہے کہ حکومت ابھی تک نیند میں ہے اور اس کے پاس لاک ڈاؤن کا کوئی عملی منصوبہ نہیں ہے۔

سوشل ویب سائٹس پر وہ تمام نام نہاد وطن پرست چہرے بے نقاب ہوئے، جن کی فسطائی ذہنیت کے پیچھے حکمراں طاقت کی سرپرستی سے انکار نہیں کیاجاسکتا۔ چار برس قبل عدم تحمل اور عدم برداشت کو لے کر جو تحریک سامنے آئی تھی وہ مختلف صورتوں میں اب بھی جاری ہے۔ یہ تحریک کمزور ہونے والی نہیں ہے۔ اس تحریک کا اثر تھا کہ فسطائی ذہنیت رکھنے والے ریپبلک ٹی وی کے رپورٹر کو ایک نیوز اینکر نے اپنے پروگرام سے باہر نکال دیا۔ ٹویٹر پر اگر اسلامو فوبیا کا ٹرینڈ ہے تو ملک کے تحفظ اور مسلمانوں کی حمایت میں آنے والوں کا قافلہ بھی ہے۔ بھارتی حکومت اب کھلے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔ اور حکومت کا ساتھ دینے والے چہرے، اپنے پروفائیل کے ساتھ ویب سائٹس پر موجود ہیں۔ ایسے لوگ کھلے طور پر ملک کی امن وشانتی کے ماحول اور سالمیت کو نقصان پہنچارہے ہیں۔ یہ وہی چہرے ہیں جو پورے ملک میں چھ برس سے آگ لگارہے ہیں۔ دنگے بھڑکارہے ہیں۔ اور ملک کی سالمیت کو کمزور کر رہے ہیں۔ عالمی سطح پر مسلمانوں کے خلاف جو سیاست ہو رہی ہے، ہندوستان اس سے بھی فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ لیکن کچھ باتیں ایسی بھی ہیں، جن پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

جرمن وزارت خارجہ کی ایک رپورٹ کے مطابق چین کے شمال مغربی صوبے سنکیانگ میں گزشتہ چند برسوں کے دوران انسانی حقوق کی صورتحال مزید خراب ہوگئی ہے۔ ایغور مسلمان اقلیت کے خلاف امتیازی سلوک کے واقعات میں بتدریج اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سنکیانگ میں تقریباً ایک کروڑ ایغور مسلمان آباد ہیں اور ان میں سے دس لاکھ افراد نظربند یا پھر چینی حکام کے حراستی مراکز اور کیمپوں میں قید ہیں۔ چین نے سن 2016 کے اواخر میں ایغور مسلمانوں کے لیے یہ مبینہ کیمپ تیار کیے تھے۔ ان کیمپوں میں ایغور برادری پر جنسی تشدد بھی کیا گیا اور جسمانی تشدد سے اموات بھی ہوئی ہیں۔ کورونا کی شروعات چین سے ہوئی۔ ظلم کی ہانڈی پھوٹ گئی۔ کورونا نے امریکہ میں دستک دی۔ مذہبی عبادت گاہوں کے بند ہونے کے باوجود خدا کا خوف سب کے دلوں پر طاری تھا اور اب بھی طاری ہے۔ کینیڈا کی پار لیمینٹ میں ایک مسلمان شخص کو اذان دینے کے لئے کہا گیا۔ ہمارے ملک میں کورونا کی آمد ہوئی تو تبلیغی جماعت کا سہارا لے کر کورونا کو مسلمان بتا دیا گیا۔

لاک ڈاؤن کے درمیان بھی میڈیا اپنے خطرناک کھیل میں مصروف ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ خدا، ایک ان دیکھی طاقت اس وقت حکمرانوں کے دلوں پر بھی سوار ہے۔ خدا نے دکھا دیا کہ چین ہو، امریکہ یا ہندوستان، فسطائی سازشوں کو خدا کی طاقت دیکھ رہی ہے اور خدا کے یہاں دیر ہے، اندھیر نہیں۔ لاکھوں کی تعداد میں مزدور اب بھی الگ الگ ریاستوں میں، اپنے خاندان کے ساتھ در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ یہ تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت ہے اور یہ وہی مزدور ہیں، جنہوں نے آنکھیں بند کر کے ہندو راشٹر پر مہر لگائی تھی۔

حکومت نے بیس لاکھ کروڑ کے پیکج کا اعلان تو کیا مگر ساتھ میں یہ بھی کہا کہ راشن اگست سے ملنا شروع ہوگا۔ کیا مزدوروں کے لئے تین مہینے کا انتظار کرنا آسان ہو گا؟ سائنسی نظام، حکمرانوں کی عظیم طاقت پر ایک وائرس کے حملے نے ثابت کر دیا کہ خدا کی طاقت سے بڑھ کر کوئی طاقت نہیں۔ چنگیز ہو یا ہٹلر، بندے کا درد خدا سے پوشیدہ نہیں۔ اور قدرت کے آگے انسان بے حد کمزور ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words
تبسم فاطمہ کی دیگر تحریریں