ووہان کا ڈاکٹر لیو اور آخری غروب آفتاب کا نسخہ
باقاعدہ اجازت ملنے کی خبر نے اسے نچنت کر دیا۔ اس کے اندر اضطراب کا موجزن جوار بھاٹا بڑی حد تک پرسکون ہو گیا۔ اسے اب ڈاکٹر لیو کی آمد کا انتظار تھا تاکہ وہ اس کی کاوشوں کا شکریہ ادا کر سکے، لیکن اس شب ڈاکٹر لیو کے بجائے دیگر دو نوجوان ڈاکٹروں کی جماعت نے اس کا اور اس جیسے دوسرے مستقل کیفیت کے حامل مریضوں کا تفصیلی معائنہ کیا۔ فائل پر اپنے مشاہدات کا اندراج کیا اور شریک کار نرسوں کو کچھ ضروری ہدایات دیں۔ ان نرسوں میں سسٹرز چانگ ینگ اور شیاؤہوئی شامل نہیں تھیں۔
آفتاب احمد نے وہ رات بھی گزشتہ دونوں راتوں ہی کے مانند غروب آفتاب کے مختلف مناظر کے تصورات اور خوابوں میں بسر کی۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اگلے نظارے کے مناظر میں بھی کھویا رہا۔ کبھی اسے صاف شفاف آسمان پر ڈھلتا ہوا سورج اپنی بوقلمونی بکھیرتا ہوا دکھائی دیا جس میں ہسپتال کے گردونواح میں پھیلی ووہان کی فلک بوس عمارتوں میں سے کسی کا وجود نہیں تھا۔ تو کبھی اس نے اسے جھیل کے پانی میں۔ ۔ ۔ جسے وہ اپنے تخیل یا خواب میں یا دونوں کی وسطی کیفیت میں ہسپتال کے پہلو میں واقع جھیل زہی ین سمجھتا رہا تھا۔
اترے اور پھر کچھ نیچا ہونے پر ترچھی کرنوں سے ہفت رنگ سنگریزوں راستہ تشکیل دیتے دیکھا۔ اسی طرح کبھی وہ کسی میدانی علاقے میں نظارہ کر رہا تھا تو کبھی کسی پہاڑی علاقے میں تو کبھی کسی اور جگہ۔ حد یہ کہ ایک بار تو اس کا تخیل اسے صحرا میں لے گیا، غالباً جس کا سبب اس کا تجسس تھا کہ صحرا میں غروب آفتاب کا منظر کیا بہار دکھاتا ہو گا کیوں کہ اس نے وہاں کا منظر کبھی نہیں دیکھا تھا۔ یقیناً ریت کے ذرات ستارے بن کر دمکتے ہوں گے!
ہر منظر اپنی جگہ مکمل اور اتنے طویل دورانیے کا تھا کہ اسے صبح ہونے کا پتا تک نہیں چلا۔ اور اب وہ ڈاکٹر لیو کو سوالیہ نظروں سے لگاتار تکے جا رہا تھا، جس کی آنکھیں یوں متورم اور لال تھیں جیسے اس نے رات بھر پلک تک نہ جھپکی ہو اور اس کی ڈھلمل بدنی حرکات اس کے خاصا مضمحل ہونے کی غماز تھیں۔ ڈاکٹر نے پہلے اپنے فرائض نبھائے اور پھر اس کی آنکھوں کے سوال کی طرف متوجہ ہوا۔
”ہسپتال کی سطح پر ہونے والے انتظامات۔ ۔ ۔ مثلاً تمھیں باہر لے جانے سے پہلے اور واپس لانے کے بعد ہائیڈروکسی کلورو کوین و دیگر جراثیم کش ادویات کا چھڑکاؤ، غیر متعلقہ افراد سے خالی راہداری وغیرہ۔ ۔ ۔ زیادہ مسئلہ نہیں ہے۔ اصل مسئلہ آکسیجن کے سلنڈر کا ہے کیوں کہ ہسپتال میں تمام وینٹی لیٹر مستقلاً نصب شدہ ہونے کی وجہ سے ناقابل حرکت ہیں۔ ہم نے دوسرے ہسپتالوں سے رابطہ کیا ہے۔ ایک ہسپتال میں چھوٹا سلنڈر دستیاب ہے، جسے وہ بھجوا رہے ہیں۔
اس لیے، تم یقین رکھو کہ آج تم اپنے سب سے پسندیدہ منظر کے نظارے سے لطف اندوز ہونے جا رہے ہو۔ ”ڈاکٹر نے اپنی بات مکمل کی تو اس نے آفتاب احمد کے چہرے پر گہرے سکون کے تأثرات کو پھیلتے دیکھا۔ وہ روانہ ہوا، لیکن پھر مڑا اور بولا۔“ تب تک میں تھوڑی سی نیند لے کر اپنی تھکن اتار لوں اور یہ دونوں سسٹرز بھی۔ پچھلے چھتیس گھنٹے سے ہمیں آرام کا ایک لمحہ بھی میسر نہیں آیا۔ لیکن تم بے فکر رہو، تمام معاملہ طے پا چکا ہے۔ ہمیں بروقت جگا دیا جائے گا۔ ”
”شکریہ، ڈاکٹر۔“
ڈاکٹر لیو مزید کچھ کہے بغیر دونوں نرسوں کے ہم راہ روانہ ہو گیا۔
من پسند شے یا شخصیت سے ملن کے لمحات جوں جوں شمار میں کم ہوتے جائیں انتظار کے لمحات کی کربناکی مسرت بھری سنسنی کے پہلو کے غالب آنے پر دب جاتی ہے، جس کا اپنا ہی ایک لطف اور سرخوشی ہوتی ہے۔ آفتاب احمد کے بھی کچھ ایسے ہی احساسات و جذبات تھے۔ لیکن جب انتظار کے لمحات طویل ہو کر آس ختم کرنے لگیں اور دل بہلانے کو مناسب جواز نہ ملے تو تو نراس غالب آنے لگتی ہے۔ سامنے لگے دیوار گیر گھڑیال پر شام کا دھندلکا پھیلنے کا وقت دیکھ کر اس کی کیفیت میں تبدیلی کا اگلا دور شروع ہوا جس میں نا امیدی اور مایوسی کا عنصر غالب ہوتا جا رہا تھا، جسے مدہم کرنے کے لیے : سلنڈر نہیں پہنچا ہو گا، یا کسی نے ڈاکٹر لیو کو نیند سے نہیں اٹھایا ہو گا، یا مزید ایسے مریض آگئے ہوں گے جنھیں فوری توجہ کی ترجیحی بنیادوں پر زیادہ ضرورت ہو گی، جیسی طفل تسلیاں بھی ناکام ٹھیر رہی تھیں۔ اگر اس روز ڈاکٹر لیو اپنے معمول سے ہٹ کر جلد نہ آتا تو شاید آفتاب احمد کو اپنے آپ کو سہارنا مشکل ہو جاتا، جو اس کے لیے ازحد نقصان دہ ثابت ہو سکتا تھا۔ غالباً ڈاکٹر کو اس صورت حال کا بخوبی اندازہ تھا۔
”مجھے افسوس ہے کہ ہم آج غروب آفتاب کا نظارہ نہیں کر سکے، شاید کل بھی نہ کر سکیں۔ امید ہے کہ پرسوں ممکن ہو گا۔“ ڈاکٹر نے اسے سوال کا موقع دیے بغیر چھوٹتے ہی کہا۔
”کیوں، ڈاکٹر؟ کیا مزید مریض آگئے ہیں؟“
”مزید مریض تو ہر روز آرہے ہیں۔ لیکن شاید قدرت ابھی تمھاری مزید آزمائش چاہتی ہے۔ شاید یہ دیکھنا چاہتی ہے کہ تمھاری خواہش کی شدت کتنی ہے۔“ ڈاکٹر لحظہ بھر کے تؤقف کے بعد دوبارہ گویا ہوا۔ ”آسمان پر گہرے بادل چھائے ہیں اور پھوہار پڑ رہی ہے۔“
”واقعی؟ اس موسم میں؟“ اس کے منھ سے بے اختیار نکلا۔ اس کی حیرانی بجا تھی کیوں کہ اول تو ووہان میں سال بھر میں بارش اور برف باری کا تناسب کم تھا اور ثانیاً اس نے اپنے اب تک کے قیام کے دوران میں مارچ کے مہینے میں بارش پڑتی نہیں دیکھی تھی۔ ہمیشہ مطلع صاف اور خوش گوار، اور سورج خوب روشن ہوتا تھا۔
”یہ دیکھو۔“ ڈاکٹر نے سٹول کھینچ کر بیٹھتے ہوئے اپنے سیلولر فون کی سکرین اس کے سامنے کی، جہاں موسم کی پیش گوئی کرنے والی سائٹ سارے ووہان میں گھنے بادلوں اور بارش کا پتا دے رہی تھی۔ اس نے اپنے انگوٹھے کی سرے سے چھو کر سکرین کو حرکت دی اور بولا۔ ”یہ موسم کل تک برقرار رہے گا۔ البتہ پرسوں سورج معمول کے مطابق اپنی رونمائی کرے گا۔“
ڈاکٹر نے اس کا منھ اترتے دیکھ کر اس کی آنکھوں میں جھانکا اور بولا۔ ”دل چھوٹا مت کرو۔ سلنڈر آ چکا ہے۔ باقی انتظامات بھی مکمل ہیں۔ آج کا دن کم و بیش گزر ہی چکا ہے۔ کل کا بھی گزر جائے گا۔ اس وقت کو سہل طریقے سے کاٹنے کے لیے ہم ایک کام کرتے ہیں۔“ ڈاکٹر نے رسان لہجے میں بات کرتے ہوئے تجویز دی۔ ”خوش گوار یادیں اچھی چیز ہوتی ہیں۔ میرے پاس تمھارے لیے تھوڑا سا وقت ہے۔ اپنی کچھ یادیں میرے ساتھ بٹاؤ۔ تم نے یقیناً آج تک بے شمار مرتبہ سورج ڈوبتے دیکھا ہے، کیا نہیں دیکھا؟ کیا ہر روز، ہر موسم میں یکساں منظر ہوتا ہے؟ یا ہر بار ایک نیا اور مختلف؟“
آفتاب احمد کچھ دیر پرخیال نگاہوں سے ڈاکٹر کو دیکھتا رہا، پھر بولا۔ ”نہیں، ہر روز ایک اور ہی سورج ڈوب رہا ہوتا ہے، جس کا نظارہ بھی اور ہی ہوتا ہے۔ یقیناً روزانہ ایک نیا سورج طلوع اور غروب ہوتا ہے، اس طرح روزانہ نظارہ بھی گزشتہ روز سے کچھ ہٹ کے، کچھ مختلف، کچھ نیا ہوتا ہے۔“ اس کی آنکھیں خوابیدہ ہو گئیں۔ ”یہ سب محسوس تو کیا جا سکتا ہے لیکن اسے لفظوں میں بیان کرنا میرے لیے بہت دشوار ہے۔ بس یوں سمجھ لیں، آج کا سورج پچھلے روز کے سورج کی تقلید تو کرتا ہے لیکن مکمل نہیں، معمولی سے نئے پن کے ساتھ۔
آہستہ آہستہ موسم بدلنے کے ساتھ ساتھ یہ نیا پن بڑھتا جاتا ہے اور منظر بدلتے بدلتے یکسر بدل جاتا ہے۔ سرما میں وہ منظر نہیں رہتا جو گرما میں تھا، جو موسم بہار میں تھا وہ خزاں میں نہیں رہتا۔ اور جب دو موسم ہم آغوش ہو رہے ہوں۔ ۔ ۔ جیسے ابھی سرما گیا ہے، بہار آئی ہے تو ان دونوں کے عین درمیان بھی ایک موسم تھا۔ ۔ ۔ تو نظارہ کچھ اور ہوتا ہے، چاروں باقاعدہ موسموں سے بے حد مختلف۔ یہ چاروں واضح موسم اور ان کے نظارے بھی سال میں چار مرتبہ آتے ہیں، لیکن ہم نے ان موسموں کو کوئی نام ہی نہیں دیا۔
نہیں دیا نا؟ ”ڈاکٹر نے جواب دے کر اس کی محویت کو توڑنا مناسب نہیں سمجھا اور اس نے اپنی بات جاری رکھی۔“ اس کے علاوہ زمینی مناظر بھی غروب آفتاب کا نظارہ بدلتے ہیں، طلوع آفتاب کو بدلتے ہوں گے۔ میدان، پہاڑ، ریگستان، جھیل یا دریا کنارے : ہر جگہ کا منظر دوسرے مقام کے نظارے سے بالکل مختلف ہوتا ہے، ہر نظارے کا اپنا طلسم ہوتا ہے۔ ”وہ بولتے بولتے رکا۔ بہت دنوں کے بعد طویل بات کرنے کے باعث اس کا سانس پھولنے لگا تھا۔ اس سے بھی بڑھ کر وہ کورونا وائرس سے متأثرہ ایسا مریض تھا، جس کی سانسیں قابو سے باہر ہو چکی تھیں۔ اگر وہ وینٹی لیٹر پر نہ ہوتا تو شاید اس کے پھیپھڑے اب تک جواب دے چکے ہوتے۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

