ووہان کا ڈاکٹر لیو اور آخری غروب آفتاب کا نسخہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”ڈاکٹر، ۔ ۔ ۔ میں۔ ۔ ۔ اپنی زندگی کا۔ ۔ ۔ آخری۔ ۔ ۔ غروب آفتاب۔ ۔ ۔ دیکھنا۔ ۔ ۔ چاہتا ہوں۔“

ڈاکٹر کو یاد آیا کہ اس سے قبل بھی کچھ مریض اپنی خواہشات کا اظہار کر چکے ہیں، لیکن وہ ایسی نہیں تھیں کہ انھیں پورا کیا جا سکتا۔ اکثر مریض باہر طویل چہل قدمی اور بعض صرف تھوڑی دیر کے لیے ٹہلنا چاہتے، جو کسی طور ممکن نہیں تھا۔ لیکن ایک عمررسیدہ مریض کی ایسی خواہش بھی تھی جسے انھوں نے پورا کرنے کے لیے اپنی بھرپور کوشش کی لیکن ان کی تمام تر سعی رائیگاں گئی۔ وہ اپنے بیٹی اور بیٹے سے ملنے کا متمنی تھا۔ انھوں نے اجازت کے باقاعدہ حصول کے بعد لڑکی اور لڑکے کی حفاظت کے لیے تمام انتظامات کیے، لیکن انھوں نے، ہسپتال انتظامیہ کی بار بار یقین دہانیوں کے باوجود، اپنے باپ سے ملنے سے صاف انکار کر دیا کیوں کہ وہ کوئی خطرہ مول لینے کے لیے تیار نہیں تھے۔ لیکن کھانستے اور اکھڑی ہوئی سانسوں والے اس مریض کی ٹکڑوں میں اظہار کی گئی یہ خواہش۔ ۔ ۔ اور مسلمہ طور پر آخری خواہش۔ ۔ ۔ اتنی بڑی، پیچیدہ اور ناممکن نہیں جسے پورا نہ کیا جا سکے، ڈاکٹر نے سوچا۔

اس نے ہونٹ سکیڑتے ہوئے وینٹی لیٹر کے شیشے میں مقید مریض کے کھلے منھ کو دیکھا۔ وہ خود بھی سرتاپا ڈھنپا ہوا تھا۔ ۔ ۔ خلابازوں جیسا نیلی پٹیوں والا سفید لباس، ہاتھوں پر سفید دستانے، سر پر کنٹوپ جس کے سامنے والا حصہ کھلا مگر آنکھوں پر شفاف شیشے کے گاگلز اور ناک منھ پر این۔ 95 ماسک۔ اس کی نگاہوں نے مریض کے منھ سے آنکھوں تک کا سفر کیا، جن میں رچی موت کی پیش آگاہی کی سپیدی میں شدید یاس اور حسرت پھیلی ہوئی تھی۔ ڈاکٹر نے سر جھٹک کر نظریں چراتے ہوئے بستر کے ساتھ پڑی درازوں والی آہنی تپائی سے مریض کی کیس ہسٹری کی فائل نسخے میں رد و بدل کی غرض سے اٹھا لی۔

مریض کا نام آفتاب احمد تھا، جو ایک پاکستانی طالب علم تھا اور ووہان یونیورسٹی کی شاخ چائینیز اکیڈمی آف انجینئرنگ میں تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے چین میں آیا تھا۔ وہ اپنے آخری تعلیمی سال میں تھا اور جون 2020 ء میں امتحانات سے فراغت کے بعد اس کی اپنے وطن پاکستان واپسی متوقع تھی کہ یکایک دسمبر 2019 ء میں ووہان میں کورونا وائرس کی وبا پھوٹ پڑی۔ ۔ ۔ جس نے آناً فاناً عالمی وبا کی صورت اختیار کر کے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور جس کا شکار ہو کر وہ بھی دوسروں کے ساتھ دو منزلہ ہوشین شان (Huoshenshan) ہسپتال میں پہنچ گیا۔

کچھ دن قرنطینہ اور آئسولیشن میں گزارنے کے بعد اب وہ ہسپتال کے تیس آئی سی یوز میں سے ایک میں تھا جہاں ڈاکٹر لیو (Liu) کے ساتھ ساتھ دیگر ڈاکٹر اور طبی عملہ مریضوں کے علاج میں دن رات ایک کیے ہوئے تھا لیکن اس نے ان دونوں نرسوں کے ہم راہ ڈاکٹر لیو کو متواتر اپنا خاص معالج پایا تھا۔ پس، اس نے ان ہی کے سامنے اپنی خواہش کا اظہار کیا۔

ڈاکٹر لیو نے فائل کی ورق گردانی کے بعد کچھ نئی ادویات تجویز کیں اور ایک دوا کو نشان زد کرتے ہوئے ہٹ کر ایک دوسرے سے مقررہ فاصلہ رکھ کر کھڑی ہوئی دو نرسوں میں سے ایک سے مخاطب ہو کر بولا۔ ”سسٹر چینگ ینگ (Changying) ، یہ انجکشن مریض کو ابھی دے دیں۔ باقی ادویات معمول کے مطابق جاری رکھنا ہیں۔“

اس نے روانگی سے قبل مریض کی طرف کن اکھیوں سے دیکھا، جسے مریض نے فوراً تاڑ لیا کیوں کہ وہ پہلے ہی ڈاکٹر کی طرف ملتمس اور آس بھری نگاہیں جمائے ہوئے تھا۔

”ڈاکٹر، پلیز۔ یہ۔ ۔ ۔ میری آخری۔ ۔ ۔ خواہش۔ ۔ ۔ ہے۔“ وہ گڑگڑایا۔ ”دنیا بھر میں۔ ۔ ۔ کہیں بھی۔ ۔ ۔ مرتے ہوئے۔ ۔ ۔ شخص کی۔ ۔ ۔ آخری۔ ۔ ۔ خواہش۔ ۔ ۔ کبھی رد۔ ۔ ۔ نہیں کی۔ ۔ ۔ جاتی۔“

ڈاکٹر مڑا اور گہری نگاہوں سے اسے تکنے لگا۔ پھر اس کی آنکھیں یوں پرخیال ہو گئیں جیسے وہ اس کی استدعا پر غوروخوض کر رہا ہو۔ وہ تھوڑی دیر تک اسی حالت میں کھڑا اسے تکتا رہا لیکن اس کی آنکھیں غمازی تھیں کہ وہ اسے دیکھنے کے بجائے کسی گہری سوچ بچار میں کھویا ہوا ہے۔

”ڈاکٹر، ۔ ۔ ۔ خدا کے۔ ۔ ۔ لیے!“ مریض نے دوبارہ سماجت کی۔
”ہم م م م۔ ۔ !“ ڈاکٹر چونکتے ہوئے اپنی غائب دماغی کی کیفیت سے نکلا۔
”ڈاکٹر۔ ۔ ۔ ؟“

ڈاکٹر لیو نے ہاتھ اٹھا کر اسے کچھ اور کہنے سے منع کیا اور پھر بولا۔ ”مجھے تمھاری خواہش کا احترام ہے لیکن میں اپنے طور پر اسے پورا نہیں کر سکتا۔ اس کے لیے مجھے اپنے اعلیٰ حکام سے باقاعدہ اجازت لینا ہو گی۔“ اس نے سوچنے کے لیے ذرا سا تؤقف کیا تو مریض متواتر ٹکٹکی باندھے اشتیاق سے اس کے مزید بولنے کا منتظر رہا۔ تاہم اس کی آنکھوں میں نا امیدی کے سائے گہرے ہو گئے تھے کیوں کہ وہ جانتا تھا کہ ہؤشین شان ہسپتال 400 افراد کے طبی عملے کے ساتھ پیپلز لبریشن آرمی اپنے سخت نظم و نسق کے ساتھ چلا رہی ہے۔ نرس نے، جو اس دوران میں انجکشن تیار کر چکی تھی، انگوٹھے کی داب سے چھوٹا سا پہیہ گھما کر ڈرپ بند کر کے سوئی اس کی ہتھیلی کے پشت پر لگے برونولا میں داخل کی تو مریض کا دھیان ڈاکٹر کی طرف سے لمحہ بھر کے لیے بٹا۔

نرس کے سوئی نکالنے کے بعد ڈاکٹر نے ایک گہری سانس لیتے ہوئے اپنی بات کا سلسلہ جوڑا۔ ”میں معاملے کو ان کے علم میں لاؤں گا۔ مجھے قوی توقع ہے کہ تمھاری خواہش رد نہیں کی جائے گی۔“

یہ سنتے ہی مریض کی بجھی ہوئی آنکھوں میں آس کی ہلکی سی دمک موجزن ہو گئی اور نراس دم توڑتی دکھائی دینے لگی۔ اس کے چہرے پر اظہار تشکر کے جذبات کی لالی کے اثرات نمایاں تھے۔

”شکریہ۔ ۔ ۔ ڈاکٹر، ۔ ۔ ۔ بے حد۔ ۔ ۔ شکریہ۔“ مسرت کی شدت سے اس کی رندھی ہوئی آواز حسب سابق اٹکتی ہوئی نکلی۔

ڈاکٹر نے اس کی ڈبڈبائی ہوئی آنکھوں کی طرف آخری نگاہ ڈالی اور دروازے کا رخ کیا۔ پھر وہ رکا اور ماسک کے نیچے سے مڑ کر پھیکی مسکراہٹ کے ساتھ لیکن حوصلہ افزا لہجے میں بولا۔ ”میں تمھیں یقین دلاتا ہوں کہ یہ تمھاری آخری خواہش نہیں ہے۔“

لیکن اس کے لہجے میں یقین کا فقدان تھا کیوں کہ مریض کی حالت خاصی تشویش ناک تھی۔ البتہ، ایک ڈاکٹر کی حیثیت سے وہ اپنی فرض بخوبی نبھا رہا تھا کہ آخری دم تک آس نہ ٹوٹنے دے۔

اسی شام جب ڈاکٹر اپنے معمول کے دورے پر معائنے کے لیے آیا تو وہ ڈاکٹر سے مستفسار ہوا۔ ”ڈاکٹر، ۔ ۔ ۔ آج سورج۔ ۔ ۔ ڈوب گیا۔ کیا میں کل۔ ۔ ۔ سہ پہر کا سورج۔ ۔ ۔ دیکھنے کی امید رکھوں؟“

”ہاں، ضرور۔ کیوں نہیں۔ مجھے امید ہے کہ میں کل تک منظوری حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاؤں گا اور تم کل ڈوبتا ہوا سورج ضرور دیکھو گے۔“

”شکریہ، ۔ ۔ ۔ ڈاکٹر۔“ مریض نے اس بار بے حد مطمئن لہجے میں اس کا شکریہ ادا کیا اور آنکھیں موند لیں، جن میں ٹھیرے آنسو پلکوں کے دباؤ سے گالوں پر پھسل آئے۔

چوں کہ ڈرپ ختم ہونے میں ابھی وقت تھا اور مریض کو مزید کوئی دوا بھی نہیں دی جانا تھا، پس دونوں نرسیں بھی ڈاکٹر لیو کے پیچھے پیچھے روانہ ہو گئیں۔

چند منٹ کے بعد، اس نے اپنے بستر کے پاس قدموں کی مدہم آواز سن کر آنکھیں کھولیں تو ان دونوں نرسوں میں سے ایک۔ ۔ ۔ جس کا نام شیاؤہوئی (Shiaohui) تھا۔ ۔ ۔ ساتھ والی آہنی تپائی سے اس کی کیس ہسٹری والی فائل اٹھا رہی تھی۔ وہ اسے آنکھیں کھولتے دیکھ کر ماسک کے اندر مسکرائی تو اس کے گال چڑھ گئے اور آنکھوں کے کونوں پر گرد کوے کے پنجے بن گئے۔ اس نے رسانیت سے دریافت کیا۔ ”کیا تمھیں غروب آفتاب دیکھنا بہت زیادہ پسند ہے؟“

”ہاں۔“ وہ مدہم آواز میں گویا ہوا۔ ”مجھ سے کبھی۔ ۔ ۔ سوائے ان چند ایام کے۔ ۔ ۔ یہ منظر نہیں چھوٹا۔ پتا نہیں کیوں، ڈوبتا ہوا سورج، اس کی سنہری سے لال پڑتی کرنیں اور ان کرنوں میں اپنا رنگ اور روپ بدلتی اشیا۔ ۔ ۔ درخت، پودے، پھول، پہاڑ، زمین، حتٰی کہ خود سورج تک۔ ۔ ۔ مجھ پر سحر طاری کرتی ہیں اور مجھ میں اگلے روز کے غروب آفتاب کا انتظار کرنے کی توانائی کو جنم دیتی ہیں۔“ اس نے پرخیال انداز میں ٹھیر ٹھیر کر بولتے ہوئے اپنی بات مکمل کی تاکہ کھانسی چھڑے نہ ہی سانسوں کی مالا ٹوٹے اور بات کا تواتر قائم رہے۔

اس نے اثبات میں سر ہلایا اور مسکراتی ہوئی چلی گئی۔

بعض اوقات۔ ۔ ۔ کم از کم ایک مرتبہ لازماً۔ ۔ ۔ زندگی میں نگاہوں کا پالا کسی ایسے مسحور کن اور تحیر انگیز منظر سے یا کسی ایسی مغلوب کر ڈالنے والی ہستی سے ضرور پڑتا ہے، جس کے طلسم اور حیرانی سے تم زندگی بھر نہیں نکل پاتے اور نہ نکلنا چاہتے ہو بل کہ اس سے عشق ہی زندگی بن جاتا ہے۔ بعد میں جب کبھی اس کی یاد آتی ہے تو۔ ۔ ۔ اور یہ یاد اکثر آتی ہے۔ ۔ ۔ جیسے سارا منظر اپنی مکمل جزئیات سمیت ایک بار پھر نظروں کے سامنے زندہ ہو جاتا ہے، وہ شخصیت مجسم ہو کر آنکھوں میں آ بستی ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
نجم الدین احمد کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *