کچھ پڑھنے کے بارے میں


William James

 ’مکمل سرگرمی‘ کا مطلب ہے کہ مذکورہ دوجذبی میلان یا بے دماغی، خواہ وقتی طور پر ہی سہی، باقی نہ رہے۔ جب ”پڑھنا“ ایک مکمل سرگرمی بننے میں کامیاب ہوتا ہے تو ہم ”وحدت“ کا تجربہ کرتے ہیں۔ جس اوّلین وحدت کی یاد ہمیں اکثر آتی ہے اور جو ہمیں محبت سے لے کر خدا، قوم پرستی، جنگلوں، صحراؤں میں لیے پھرتی ہے، اس سے مماثل وحدت کا تجربہ ہم پڑھنے کے دوران میں کرتے ہیں۔ اوّلین وحدت۔ اپنی ماں اور فطرت سے۔ تو کبھی نہیں لوٹ سکتی؛ آدمی اس جنت میں واپس نہیں جاسکتا، جسے اس نے چھوڑ دیا یا جہاں سے اسے نکال دیا گیا۔ آپ شعور یازیادہ صحیح لفظوں میں آشوب آگہی سے گزرنے کے بعد قبل شعورکی حالت میں نہیں جاسکتے، خواہ آپ کے اندر واپس جانے کی آرز وکتنی ہی شدید اور سچی ہو۔ آدمی کو جنت گم گشتہ ملتی ہے اورنہ قوموں کو عظمت رفتہ۔ ہاں کسی نئی جنت اور نئی عظمت کا امکان ہوسکتا ہے۔ منیر نیازی نے اس کی ایک سطح بیان کی ہے :

واپس نہ جا وہاں کہ تیرے شہر میں منیر

جو جس جگہ پہ تھا وہ وہاں پہ نہیں رہا

لیکن اس سے ملتی جلتی وحدت کا مختلف انداز میں تجربہ (پڑھنے کے ذریعے ) نہ صرف ہم کرسکتے ہیں، بلکہ وہ ہماری نجات کے لیے از بس ضروری ہے۔ سیاسی، نفسیاتی اور روحانی نجات۔

پڑھنے کے عمل کے تین مراحل ہیں۔ آغاز ایک دنیا سے رخصت ہے ؛ اس کا وسط دوسری دنیا میں داخل ہوناہے ؛ اور انجام دونوں دنیاؤں کو معرض استفہام میں لانا ہے۔ جیسے ہی آپ پڑھنا شروع کرتے ہیں، جانی پہچانی، معمول کی دنیا سے رخصت ہوکر آپ کسی اور کی ساختہ دنیا میں داخل ہوتے ہیں۔ رخصت ہونا اور داخل ہونا۔۔۔ اگر اپنی تمام تر نفسی حالت کے ساتھ رونما نہ ہوں تو پڑھنے کا عمل واقع نہیں ہوتا؛ آپ محض صفحے پلٹتے ہیں، جماہی لیتے ہیں اور کتاب ایک طرف پھینک کر سیل فون یا کسی دوسرے کام میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ رخصت ہونے کا مطلب، چھوڑنا، علیحدگی اورفراموشی ہے، جب کہ داخل ہونے کا مطلب ایک عالم حیرت کے ساتھ قبولیت اورنیم باز آنکھوں کے ساتھ سپردگی ہے۔ اگر چھوڑی ہوئی جگہ، یا وہ حالت جس سے آپ علیحدہ ہوئے ہیں، وہ آپ کی یادداشت میں پور ی طرح جگہ بنائے ہوئے ہوں، آپ مڑ مڑ کر دیکھتے ہوں، ٹھوکر کھاتے ہوں تو اسے رخصت نہیں کہا جاسکتا۔ اگر ایک دنیا سے رخصت مکمل نہیں تو نئی دنیا میں داخلے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ جو شخص اپنی معمول کی دنیا(اس میں انا کو بھی شامل کر لیجیے ) کو معطل اور ترک کرسکتا ہے، وہی خود کو کسی اور کے سپرد کرسکتا ہے۔ نشان خاطر رہے کہ سپردگی کا تجربہ سرشاری کا ہے۔

کسی تحریر کو پڑھنے کی سرگرمی کا عروج، وہ حالت ہے جب آپ خود کو کسی اور کی تحریر کے سپرد کردیتے ہیں، اس تحریر کو موقع دیتے ہیں کہ وہ اپنے اسرار کی بارش آپ پر برسائے، مگر ایک رو مسلسل رواں رہنی چاہیے جو یاد دلاتی ر ہے کہ آپ ایک انسان ساختہ متن میں کھوئے ہوئے ہیں۔ اسے بریخت نے ”بیگانگی کا اثر“ یعنی Alienation effectکہا تھا۔ اس نے یہ اصطلاح ڈرامے کے لیے استعمال کی تھی۔ اس کا مقصود ایک ایسی تیکنیک تھی جو ناظر کو تھیٹر کے مصنوعی ہونے کی حقیقت یاد دلاتی رہے۔ مابعد جدید فکشن میں بھی اسی سے ملتا جلتا اہتمام کیا جاتا ہے ؛ قاری کو برابر یاد دلایاجاتا ہے کہ وہ ایک خاص فرضی کردارکی زبانی قصہ سن رہا ہے۔ اگر مذکورہ رو کا سرا، سپردگی کے دوران میں ہاتھ سے کھوجائے تو آپ سرشاری یا پڑھنے کا کیف تو حاصل کریں گے، مگر کچھ کھوبھی دیں گے۔ (اور یہ ”کچھ“ معمولی نہیں ہے )۔ وصل بھی د وطرفہ کیف کا تجربہ ہے ؛ اگر یک طرفہ ہو تو اس میں سادیت یا مساکیت سے ملنے والی منفی سرشاری ہوتی ہے۔ کچھ یہی صورت متن کے مطالعے میں بھی دہرائی جاسکتی ہے۔ جو لوگ متن سے محض سرشاری حاصل کرنے کو اپنے مطالعاتی سرگرمی کی معراج خیال کرتے ہیں، ان کی شخصیت میں مساکیت کامیلان ہوسکتا ہے۔ یعنی تشدد آمیز سرشاری حاصل کرنے کا میلان۔ آدمی کے تشدد کو بھلایا جاسکتا ہے، مگر متن کا تشدد ذہن ودل میں دورتک پہنچتا ہے اور آدمی کے تصور دنیا پر شدت سے اثرانداز ہوسکتا ہے۔ آدمی متن میں ظاہر کیے گئے تصور دنیا کو چپ چاپ، خوشی کے ساتھ جذب کرلیتا ہے اور پھر دنیا سے وہ خود، آزادانہ معاملہ نہیں کرتا، اس متن کا معنی اس کے ذہن ودل میں مقتدر حیثیت اختیار کرلیتا ہے۔ نیز مساکیت سے ملنے والی تشدد آمیز مسرت اس کی شخصیت کا مستقل حصہ بننے کا امکان رکھتی ہے۔ بیدی کے ”لاجونتی“ کی لاجو کی مانند۔ وہ سندر لال کے ستم سہہ کر جو خوشی محسوس کرتی ہے، اسی میں اپنے ہونے کا مفہوم پاتی ہے۔ فسادات میں تقدیر اسے کسی اور کے پاس لے جاتی ہے۔ واپس آتی ہے تو سندر لال اس سے نرمی سے پیش آتاہے۔ اسے لگتا ہے، اس کے ہونے کا مفہوم باقی نہیں رہا۔

بریخت یہ ذمہ داری مصنف پر ڈالتا ہے کہ وہ ناظر( قاری) کو خبردار رکھے۔ مصنف اپنی تحریر میں ”اجنبیت“ کا احساس پیدا کرے تاکہ قاری سوال اٹھائے کہ کون ساکردار کس طور سماج کی سچائی کی نمائندگی کرتا ہے۔ مابعد جدید فکشن بھی قاری کو ہوشیار رکھنے کی سعی کرتا ہے تاکہ وہ فکشن اور حقیقت کے پیچیدہ تعلق کو سمجھ سکے ؛ فکشن کا ہر کردار ایک اختراع ہے اور اس کے ذریعے پیش کی جانے والی دنیا بھی اختراع ہے۔ ایسا ادب قاری کو ہوشیار رکھنے کی سعی کرتا ہے۔ اردو میں مرزا اطہر بیگ نے ایسا فکشن تخلیق کیا ہے۔ مقبول عام ادب اس کے برعکس اہتمام کرتا ہے۔ وہ ”فکشن“ ہی کو حتمی سچ سمجھنے کا دھوکہ پیدا کرتا ہے۔

سپردگی میں ہوشیاری، متن کے مطالعے کا اساسی اصول کہا جاسکتا ہے۔ تاہم ایک دوسری انتہا بھی ممکن ہے۔ کچھ لوگ سرے سے سپردگی کا تجربہ ہی نہیں کرتے۔ متن کا مطالعہ کرتے ہوئے، وہ فقط ہوشیاری کو بروے کار لاتے ہیں۔ وہ حسیات پر ادر اک کو، وجدان پر تعقل کو ترجیح دیتے ہیں۔ چناں چہ یہ لوگ خود کو متن کے سپرد کرنے سے زیادہ، اس پر حاکم ہونا پسند کرتے ہیں۔ انھیں غالباً خوف ہوتا ہے کہ کسی اور کا ساختہ متن انھیں نگل لے گا؛ وہ پسپا ہوجائیں گے ؛ وہ اگر حقیقت میں بالشتیے ہیں تو وہ خود کو ننگی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔ یہ لوگ اس لمحے کو رونما ہی نہیں ہونے دیتے جہاں متن اپنی حسیات سے چنگاریاں پیدا کرتا ہے اور جو قاری کی حسی دنیا میں ہلچل سی پیدا کرتی ہیں۔ اوّل ان کا سروکار متن کے محض معانی سے ہوتا ہے، دوم وہ متن کے معنی ’دریافت‘ نہیں کرتے، بلکہ استبدادی انداز میں متن کے معانی ’متعین‘ کرتے ہیں۔ نفسی طور پر یہ لوگ سادیت پسند ہوتے ہیں ؛ انھیں متن کو مسخ کرکے، متن پر تشدد کرکے مسرت ملتی ہے۔ متن کو خود بولنے کا موقع دیے بغیریعنی متن کے بارے میں متن ہی سے، ا س کے اصلی سیاق کے ساتھ حوالہ لائے بغیر اس کی نمائندگی تحکم کے ساتھ خود کرنا متن پر تشدد ہے۔ تحکم ہی تشدد کی زبان ہے۔ وہ اپنے نگلے جانے کے خوف کا اظہار، دوسروں کو متشددانہ انداز میں نگل لینے کی صورت میں کرتے ہیں۔ یہ بات ان کی نظر سے اوجھل رہتی ہے کہ متن کے معانی دریافت کرنے کے لیے، حاکمانہ طرز عمل نہیں، وہ انکسار چاہیے جو ایک طرف حقیقی جستجو کا پیدا کردہ ہے اور دوسری طرف اپنی انا کو جھکانے اور متن کے آگے تسلیم بجا لینے کا زائیدہ ہے۔ جب کہ ان لوگوں کی انا اتنی بڑی ہوتی ہے کہ وہ اس امکان ہی کو ردّ کرتی ہے کہ معنی کا کوئی دوسرا سرچشمہ ہوسکتا ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3