میرا جی: جنسی مریض یا جینئس؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دو ہزار دس فیض صدی تھی، دو ہزار گیارہ راشد صدی، دو ہزار بارہ منٹو صدی۔ اس دوران اردو کے ان کوہ قامت نابغوں پر درجنوں تحقیقی و تنقیدی کتابیں چھاپی گئیں، پر مغز سیمینار اور کانفرنسیں منعقد کی گئیں، الیکٹرانک میڈیا نے خصوصی پروگرام ترتیب دیے، ادبی رسالوں نے خاص نمبر چھاپے۔

لیکن اس تمام ہاؤ ہو میں کسی کو ایک نام یاد ہی نہ رہا، یا اگر یاد بھی رہا تو محض سر سے بوجھ اتارنے کی مانند۔ وہ نام جس نے اردو میں جدیدیت کی داغ بیل ڈالی۔ جس نے کہنہ روایات کی برف کو توڑ کر راستا بنایا، جس نے جدید شاعروں کی ایک نسل کی آبیاری کی۔ یہ میرا جی ہیں، وہ میرا جی جو راشد سے زیادہ رواں، مجید امجد سے زیادہ جدید اور فیض سے زیادہ متنوع ہیں۔

اس سال کو منٹو صدی کے ساتھ ساتھ میرا جی صدی کےطور پر بھی منایا جانا چاہیے تھا کیوں کہ میرا جی اور سعادت حسن منٹو نہ صرف ایک ہی سال (1912) بلکہ ایک ہی مہینے (مئی) میں پیدا ہوئے تھے۔ لیکن سوائے جرمنی سے شائع ہونے والے ایک رسالے کے میرا جی نمبر، اور کراچی میں اردو کانفرنس کے ایک اجلاس کے علاوہ کہیں کچھ دیکھنے سننے یا پڑھنے میں نہیں آیا۔

اس کی وجہ کیا ہے؟ کیا میرا جی کا فن اختر شیرانی کی طرح وہ خوش نظر بیل تھی جو دو دن بہارِ جاں فزا دکھلا گئی لیکن اس کے اندر دوام کے بیج نہیں تھے؟

لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے۔ میرا جی بہ ہر طور راشد، فیض اور مجید امجد کے ساتھ ساتھ جدید اردو شاعری کے ارکانِ اربعہ میں شمار ہوتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ بہت سے جدید شعرا کی جڑیں بھی میرا جی کے چھتنار کے اندر تلاش کی جا سکتی ہیں۔

میرا جی پر جنسی کج روئی، بے راہ روی اور مریضانہ شخصیت کے ایسے ایسے اشتہاری پوسٹر چسپاں کر دیے گئے کہ اصل میرا جی کے نقش و نگار کہیں چھپ کر رہ گئے۔ میرا جی کے نادان دوستوں اور بدخواہ حریفوں نے ان کی ذہنی و جسمانی غلاظتوں کے وہ خاکے اڑائے کہ انھیں عام انسانوں کی دنیا سے الگ تھلگ کوئی جناتی مخلوق بنا کر رکھ دیا۔ شہر کے لوگ تو ظالم تھے ہی، خود میرا جی کو بھی مرنے کا کچھ ایسا شوق تھا کہ وہ اپنے آپ کو اپنے گرد لپیٹے ہوئے خول کے اندر ہی محفوظ سمجھتے تھے۔ ان کا کہنا ہے:

’لوگ مجھ سے میرا جی کو نکالنا چاہتے ہیں، مگر میں ایسا نہیں ہونے دوں گا۔ یہ نکل گیا تو میں کیسے لکھوں گا، یہ کمپلیکس ہی میری تحریریں ہیں۔‘

چند نصابی تحریروں سے قطع نظر اگر کسی نقاد نے میرا جی پر جم کے لکھا تو وہ وزیر آغا ہیں۔ لیکن انھوں نے میرا جی کو قدیم یونان کے کردار کی طرح ’دھرتی پوجا‘ کی چارپائی پر یوں لٹا دیا کہ اگر پاؤں لمبے پڑ گئے تو انھیں قطع کر دیا اور اگر چارپائی لمبی ہو گئی تو شاعر کو کھینچ کر لمبا کر دیا۔ گویا میٹھا میٹھا ہپ ہپ، کڑوا کڑوا تھو تھو۔

میرا جی پر سب سے بڑا الزام ابہام کا لگا۔ اس شاعری کو الجھی ہوئی شخصیت کا مظہر قرار دے کر اس پر انتشار اور پراگندگی کا ٹھپا تو لگا دیا گیا لیکن یہ سوچا ہی نہ گیا کہ ابہام تو اچھی شاعری کی روح ہوتا ہے۔ سیدھی سادی بات سے بڑا فن تخلیق نہیں کیا جا سکتا۔ غالب کہہ گئے ہیں کہ بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر۔ ویسے بھی بقول مشتاق یوسفی: جو شعر بیک وقت دو ہزار سامعینِ مشاعرہ کی سمجھ میں آ جائے وہ بڑا شعر نہیں ہو سکتا۔

چاہے خاکہ نگار کچھ بھی کہیں، شواہد بتاتے ہیں کہ میرا جی بے حد سلجھی ہوئی اور منظم شخصیت کے مالک تھے۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ صرف 37 برس کی عمر میں وہ ایک نسل کے برابر کام چھوڑ گئے ہیں۔ ذرا اس’نفسیاتی مریض‘ کے کام پر ایک نظر دوڑائیے:

223 نظمیں، 136 گیت، 17 غزلیں، 23 مختلف زبانوں کے شعرا کے تراجم پر مبنی 225 نظمیں اور متفرق چیزیں

تین برس ریڈیو پاکستان کی باقاعدہ ملازمت

اپنے دور کے معروف ادبی رسالے ادبی دنیا کے نائب مدیر

ماہنامہ خیال کے مدیر

اردو تنقید میں پہلی بار نظموں کے تجزیوں کی کتاب ’اس نظم میں‘۔

حلقۂ اربابِ ذوق کی آبیاری، جلسوں میں بڑھ چڑھ کر شرکت اور جدید نظم نگاروں کی ایک نسل کی قیادت

کیا یہ کام کوئی الجھا ہوا شخص کر سکتا ہے؟

میرا جی اپنے گیتوں، غزلوں، تراجم اور خاص کر تنقیدی مضامین میں کہیں بھی الجھے ہوئے نہیں لگتے۔ جاننے والے جانتے ہیں کہ منظوم تراجم سے زیادہ کوئی اور صنف ڈسپلن اور ضبطِ نفسی کی متقاضی نہیں ہوتی۔ میرا جی نے قدیم یونانی اور سنسکرت شعرا کے علاوہ بے حد مشکل علامت پسند فرانسیسی شعرا کے بھی کامیابی سے تراجم کیے ہیں۔ انھوں نے عمر خیام کی رباعیات کو جس سلیقے سے ہندوستانی چولا پہنچایا ہے وہ کسی اور کے بس کی بات نہیں تھی۔

پھر نظموں پر تنقید میں میرا جی جس قدر منطقی انداز میں خشت خشت اپنا استدلال قائم کرتے اور اپنا تھیسس قائم کرتے چلے جاتے ہیں وہ کسی پراگندہ ذہن کا کام نہیں ہو سکتا۔

تو پھر کیا بات ہے کہ وہ شخص جو اپنی غزلوں، گیتوں، مضامین اور منظوم تراجم میں بے حد یکسو ہے، اس کی نظمیں اس قدر منتشر ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں ہم میرا جی کے نظریۂ شعر ہی کو سمجھنے کی غلطی کر رہے ہیں؟

میرا جی کے اسلوب کی سب سے ظاہری پرت ان کی زبان ہے۔ جہاں راشد اور فیض جدید ہوتے ہوئے بھی قدیم زبان اوراسالیب کی خوشہ چینی سے دامن نہ بچا سکے، وہیں میرا جی نے پوری دلجمعی سے سادہ اور سلیس پیرایہ اختیار کیا۔ اہم بات یہ ہے کہ جدید نظم کا جو چشمہ پھوٹ کر آگے چل کر دریا بنا، اس نے راشد و فیض کو ترک کر کے میرا جی ہی کی زبان اختیار کی۔

میرا جی مغربی ادب کے ذہین اور مشتاق قاری تھے۔ انھوں نے وہاں سے ایک چیز جو بطورِ خاص برآمد کی وہ شعور کی رو کی تکنیک ہے۔ شعور کی رو انیسویں صدی کے یورپ میں وضع کی جانے والی وہ تکنیک ہے جس میں مصنف قاری کو اپنے ذہن تک براہِ راست رسائی کا موقع دے کر تخلیقی عمل میں شریک کر لیتا ہے۔ اس میں خیالات کی گاڑی کبھی بھی معنی کے انجن کے پیچھے پیچھے افق میں گم ہوتی ہوئی سیدھی پٹری پر نہیں چلتی بلکہ ڈبے ایک دوسرے کو ٹکر مارتے، الٹتے، گرتے ہیں، اور ٹیڑھی میڑھی پٹریاں ہاتھوں کی لکیروں کی طرح ایک دوسری کو کاٹتی، اوورٹیک کرتی ہوئی، یا گراموفون کی اٹکی سوئی کی طرح اپنے آپ کو دہرائے چلی جاتی ہیں۔

میرا جی نے یقیناً ٹی ایس ایلیٹ اور جیمز جوئس وغیرہ کے ہاں شعور کی رو کے تجربات دیکھے ہوں گے۔ بلکہ انہوں نے اسی تکنیک میں لکھی گئی ایلیٹ کے شہرۂ آفاق نظم ’لَو سانگ آف جے الفرڈ پروفراک‘ سے کسی حد تک متاثر ہو کر اپنی نظم ’ کلرک کا نغمۂ محبت‘ لکھی تھی۔

میرا جی کی اکثر’الجھی‘ ہوئی نظمیں شعور کی رو کی تکنیک میں لکھی ہوئی ہیں، جس میں ادیب قاری کو اپنے ذہن تک رسائی دیتا ہے۔ لیکن کیسا ذہن؟ میرا جی کا ذہن؟ اسی میرا جی کا ذہن جو کج روی، کج مزاجی، انتشار اور پراگندگی کا منہ بولتا اشتہار ہے؟

میرا جی کا نام آتے وقت ذہن میں ان کی ایک تصویر آتی ہے: جٹادھاری زلفیں، کانوں میں بڑے بڑے بالے، نوکیلی گھنی مونچھیں، اور دور کہیں گھورتی ہوئی آنکھیں۔ لیکن ستم یہ ہے کہ یہ تصویر بھی اصل میرا جی کی نہیں ہے بلکہ انھوں نے ایک فلم میں سادھو کا کردار ادا کیا تھا، یہ اس کردار کی تصویر ہے۔

کہیں ایسا تو نہیں کہ میرا جی اپنی اصل زندگی میں بھی کوئی کردار ادا کر رہے تھے؟

اردو کے سب سے بڑے نقاد محمد حسن عسکری میرا جی کے میرا سین سے عشق کے بارے میں لکھتے ہیں کہ جب میرا جی کے دوستوں نے انھیں افسانہ بنانا چاہا تو بے تامل بن گئے۔ اس کے بعد ان کی زندگی اس افسانے کو نبھاتے گزری۔

اس سے یہی تاثر ملتا ہے کہ میراجی نے اپنی ظاہری شخصیت پر ملمع چڑھایا ہوا تھا۔ صرف ان کے بہت قریبی گنے چنے دوست ہی ان تہوں کو کاٹ کر ان کی شخصیت تک رسائی حاصل کر سکتے تھے۔ یہی ملمع ان کی نظموں میں بھی ملتا ہے، جو بظاہر بے ربط، منتشر اور پراگندہ نظر آتی ہیں، لیکن اگر کوئی تہوں کو چیر کو اندر جھانکے تو اسے اصل نظم اپنا منہ دکھائے گی۔ ان کی نظمیں دانستہ یا نادانستہ طور پر ایسا تاثر دیتی ہیں جیسے ان میں ربط کی کمی ہے، لیکن وہ اصل میں زیریں سطح پر بے حد چست اور گٹھی ہوئی ہوتی ہیں۔

جیسے میراجی اپنی ہیئت کذائی کی وجہ سے ہر کس و ناکس کو اپنے قریب پھٹکنے نہیں دیتے تھے، ویسے ہی کہا جا سکتا ہے کہ ان کی نظم بھی توجہ، محبت، اور احتیاط کے بغیر کسی کو اپنا دامن پکڑنے نہیں دیتی۔

اپنی موت کے 71 سال بعد بھی میرا جی کی شاعری کو اس نقاد کی تلاش ہے جو آہنی گولوں، فوجی کوٹوں، جٹادھاری زلفوں اور رنگ برنگی مالاؤں کو ہٹا کر اصل میراجی کو سامنے لا سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *