ٹھیکے دار کی بیٹی کا متبادل بیانیہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حاجی الیاس پٹیل کی واٹس اپ پر مس کال آئی تو ہم نے عشا کی نماز سے فارغ ہوکر کال بیک کیا۔ وہ اُن میمن بوڑھوں میں سے ہیں جو ایمبولنس اور فائر بریگیڈ کو بھی مس کال مارتے ہیں۔

ہمارے بڑے قیام پاکستان کے وقت جب ممبئی ایرپورٹ سے کراچی کا سفر کرتے تھے، حاجی الیاس کے بڑے بزرگ فلم” دل لگی“ میں ثریا اور شیام کا گیت ’تو میرا چاند میں تیری چاندنی‘ گاتے ہوئے رم پی کر جھومتے جھامتے جنوبی افریقہ، انگلینڈ اور امریکہ سدھار گئے۔ ان سب گجراتی میمن بڈھوں کا آپس میں جناح صاحب سے تال میل تھا۔ ولبھ بھائی پٹیل اور مرارجی بھائی ڈیسائی سے بھی یارانے تھے۔ ہم نے حاجی الیاس سے پوچھا کہ انگلستان امریکہ کیوں؟ کہنے لگا ابھی جناح کے ملک میں بھی انگلس اردو جبردستی بولنی پڑے تو اچھا ہے کہ ادھر جاﺅ، جدھر انگلس بولنے میں دو پیسے کا فائدہ تو ہو۔

حاجی الیاس پٹیل بتا رہے تھے کہ ان کا بھانجا اور داماد جواد انٹر ایکٹو میڈیا  Interactive Media (ابلاغ باہمی روابط)  کے شعبے Narrative Counter (متبادل بیانیے) پر اسائنمنٹ کر رہا ہے۔ ہماری مدد کا طلب گار ہے۔ تم لوگ کی طرف ایک بڑا ٹوئیٹر ٹرینڈ چل رہا ہے، تو متبادل بیانیہ کیا بنے گا۔

ہم نے اصرار کیا کہ جواد سے کہو کہ خود بات کرے۔ جاہل کو سمجھانا بہرے کو لطیفہ سنانے کے برابر ہوتا ہے۔ ہم سے تیرے جیسے سب ہیومن لیول پر اس کی وضاحت نہیں ہو پائے گی۔

جواد کا کہنا تھا کہ اس وقت ” ٹھیکے دار کی بیٹی“ کے ہیش ٹیگ کے ساتھ ایک لاکھ اٹھارہ ہزار ٹوئیٹ اور ری ٹوئیٹ ہوچکے ہیں۔ اس نے بتایا کہ وہ تجزیہ کررہا ہے اور سوفٹ ویر میٹرکس حساب سے ان ٹویٹس کا جائزہ لے رہا ہے تو ان میں سے قابل عمل (Actionable) یعنی ایسے اوریجنل ٹوئیٹ جو مباحثے کو حل یا سزا کسی جانب لے جائیں، ان کو ایک طرف کر دیں تو ان کی تعداد بمشکل پندرہ سے بیس بنتی ہے۔ باقی تو غوغائے سگاں ہے۔ گالم گلوچ اور اپنے وجود ناکافی کی تلافی۔ انگریزی میں اس کا جملہ تھا

More of the same shit. Piled high and dry.

ہم نے کہا الیاس تیرا ماموں لائن پر آئے گا تو تیری اس لائن کو پتہ ہے میں کیسے بتاﺅں گا۔ جب میمن گجراتی بچے کاروبار سے منہ موڑ کر پڑھائی پر اصرار کرتے ہیں اور اپنے بڑوں کو کہتے ہیں کہ وہ ایم۔ ایس اور پی ایچ ڈی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو تیرے ماموں اور سسر جیسے لوگ ایم ایس اور پی ایچ ڈی کی تشریح یوں کرتے ہیں

M.S=More of the same shit. PhD=Piled high and dry.

ہم نے کہا ہمارے اپنے خالو کہا کرتے تھے کہ پاکستان میں میمنوں، فوج اور طوائفوں میں اعلی تعلیم ایک بوجھ سمجھی جاتی ہے۔ اوریکل کا مالک لیری ایلسن بھی زیادہ تعلیم کو تخلیق اور کاروبار کادشمن مانتا ہے۔ اس نے تو یل یونیورسٹی کے سن 2000 کانوکیشن میں ڈگری کے اہل گریجویٹس کو ایک ہال میں موجود لوزرز کا سب سے بڑا اجتماع کہا تھا۔

جواد ہماری باتوں سے کچھ بے لطف ہوچلا تھا۔ زبردستی ہمیں موضوع کی طرف کھینچ لایا۔ کہنے لگا میں اگر تجزیہ کروں تو ایسا لگتا ہے کہ اس خبر کو ٹرینڈ بنانے والا ایک غیر منظم ٹولہ ہے جو خبر کا بھوکا ہے۔ اس واقعے کے قانونی اور اخلاقی پہلوﺅں سے زیادہ اس کے ردعمل میں ساڑھے چار نکات بہت نمایاں ہیں۔

 اول ملزم خواتین کی بے پناہ دولت سے حسد۔۔ دوم مضروب اداکاراﺅں کی ویڈیو میں بے بسی دیکھ کر گھر بیٹھے سب کو محمد بن قاسم بننے کا شوق۔ سوئم۔ پولیس اور قانون کے بارے میں ایک عمومی نفرت جس کے تاریخی شواہد موجود ہیں۔ چہارم:پتی پتنی اور وہ کی ہمیشہ کی جان لیوا رومانٹک مثلث۔ یہ بہت ہی دل چسپ موضوع ہے۔ نصف کیا ہے۔ وہ کہنے لگا نصف ایک عجب نفسیاتی ٹرینڈ ہے کہ جب کسی کی کوئی بری ویڈیو سامنے آتی ہے تو وہ اداکارہ اینکر یکایک اس قدر پاکیزہ بن جاتی ہے کہ آپ محلے کی میلاد والی باجی کو بدکار سمجھنے لگتے ہیں اور ا س اداکارہ یا اینکر کو پاکیزہ بناسپتی میں تلا ہوا آب زم زم سے دھلے ہوئے آلوﺅں کا سموسہ۔

ہم نے دو اضافے کیے۔ اُسے اچھے لگے۔

پہلا تو یہ تھا کہ اس کے گھرانے کی بڑے لوگوں تک رسائی ، خود کو محفوظ رکھنے کی صلاحیت اور شاہ عالم ثانی جیسے مجبور کارپوریٹ میڈیا کی آنکھیں غلام قادر روہیلا کی طرح اپنے اشتہاراتی خنجر سے نکالنے کا ایک تابناک ماضی ہے۔ مین اسٹریم میڈیا دیکھو کیسے مینا کماری کی فلم ’میں چپ رہوں گی ‘ کا ٹریلر بنا ہے

اس گھرانے کو حالات کی کسوٹی پر پرکھیں تو کورونا کے باب میں تازہ شہرت یافتہ اصطلاح گروہی مدافعت (Herd Immunity)  ایک اور ہی معنی پکڑ لیتی ہے۔ ان کا کچھ نہیں بگڑنا۔ پاکستان میں ہر بڑا آدمی اور اس کی اولاد حادثے میں مر سکتی ہے، برباد ہوسکتی ہے۔ عدالت اور قانون اس کے سامنے ڈور میٹ کی طرح بچھ جاتا ہے۔ پاکستان میں فیصلہ ساز افراد کا ایک مستقل کلب ہے جس کی تعداد ہمہ وقت ستر اسی ہوتی ہے۔ کسی کی گردن کہیں پھنس جائے تو ان میں سے دس بارہ فیصلہ سازوں کو کسی اہم معاملے میں جو وائرس کی طرح ایکٹو ہوتے ہیں باآسانی دو سے ڈیڑھ ارب روپے کی سرمایہ کاری سے اپنے مطلب کے فیصلے کے لیے خریدا جاسکتا ہے۔ رہے نام اللہ۔

وہ اپنے متبادل بیانیے (Counter-Narrative) کی طرف لوٹ گیا۔ ہم نے ضد کی کہ ویڈیو موجود ہے تو اسے جھٹلانا ممکن نہ ہو گا۔  وہ کہنے لگا میں اسے نفسیاتی تجزیے کے خانے میں ڈال کر بتاﺅں گا کہ پاکستان میں مقدمہ درج بھی ہو جائے تو کراچی میں سرفراز شاہ کا رینجرز کے ہاتوں قتل، ماڈل ٹاﺅن لاہور، بلدیہ فیکٹری فائر، ساہیوال میں بچوں کے سامنے والدین کا قتل۔ جج ارشد کی ویڈیو۔ ان مقدمات کی پاکستان میں کوئی وقعت اور اہمیت نہیں۔ یہ سب موضوعات پرائم ٹائم نیوز بلاکس ہیں۔ شام سات سے رات گیارہ بجے تک پاکستان کا گھریلو مرد ماں اور بیوی کی گالیوں کے علاوہ بھی کچھ دیکھنا سننا چاہتا ہے۔ اسے دماغی جگالی کے لیے یہ چارہ کھانے کی عادت ہے۔

دل چسپی اس بات میں ہے کہ بیگم حملہ آور اور عثمان آپس میں میاں بیوی ہیں ، مالدار کزن ہیں، مالک المملکت، سو طلاق بھی چائے کی پیالی میں طوفان سے زیادہ کچھ اور نہ ہوگی۔

اس کی ضد تھی کہ کیا ان مالدار بی بیوں کا قانون ہات میں لینا درست تھا۔ ہم نے سمجھایا کہ ہر شریف شادی شدہ عورت کا غصہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ یہ Crime of Passion ہے۔

عظمی اور اس کی بہن ہما کو پھینٹی لگانے کے معاملے میں آمنہ اور امبر ملک قانوناً غلط مگر اخلاقاً حق پر  تھیں۔ کم مارا۔

انجلینا جولی نے بھی بریڈ پٹ اوراداکارہ میرین کے اوپر بھی اسی قسم کے غصے کا اظہار کیا تھا۔ دس سال کی رفاقت تھی، ایک سال کی شادی اور تین بچے۔ ایک خفیہ ایجنسی نے جولی کو بتایا تھا کہ معاملات اچھے نہیں۔ میرین کا اور کچھ اور عورتوں کا جس میں بچوں کی آیا بھی شامل ہے تیرے میاں سے چکر ہے۔ جس عورت کا گھر ٹوٹے، اس کا انتقام جائز ہوتا ہے۔

ہم نے دوسرا متبادل بیانیہ برپا کیا۔ چلیں یہ تو میاں بیوی کا معاملہ تھا۔ منیشا کوڑیالہ کے گھر میں تو وزیر اعظموں کی بہتات تھی۔ دادا چچا سبھی وزیر اعظم تھے۔ نانا پاٹیکر سے عشق ہوا تو وہ بھی پہلے سے شادی شدہ تھے۔ منیشا کی اپنی زندگی بھی مردوں سے عبارت تھی۔ ایک مسلمان ایرانی ڈرمر سے پیار کے لمحات کی تو ویڈیو بھی لیک ہوئی تھی۔

جب منیشا کو پتہ چلا کہ اداکارہ ایشا جھولکیا اور نانا پاٹے کر ایک جگہ کچھ زیادہ ہی بے تکلف حالت میں پائے جاتے ہیں تو وزیر اعظم کی پوتی اور کمال کی اداکارہ لڑنے مرنے پہنچ گئی۔

جواد کہنے لگا تھینک یو انکل میں یہ سب بھی ٹوئیٹ کرکے متبادل بیانیے کا ٹیسٹ لیتا ہوں۔ چیک کرتا ہوں کہ ہمارے ٹائمر کے حساب سے اس کے سامنے آنے کے بعد پرو عظمی ٹوئیٹ میں کتنی کمی آتی ہے۔

اپنی بات نبھانے کے ساتھ میں یہ بھی لکھ دیتا ہوں کہ آمنہ ملک اور اس کے والد کو عدالت گدھے پر بٹھا کر دسمبر میں سیاچن پر ٹریک سوٹ میں بھیج دیں تو سارا پاکستان ان کی لوٹ مار کے حوالے سے اس اقدام کو درست مانے گا۔ عظمی اور ہما کو کٹ لگانے کے معاملے میں آمنہ قانونا ًغلط مگر اخلاقاً حق پر تھی۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ عظمی اسی چاند رات کو اعتکاف سے برآمد ہوئی تھی۔

پوچھنے لگا انکل آپ کے پاس آمنہ ملک کا نمبر ہے۔ اس کو بھی لوپ میں لے لوں۔ ہم نے کہا نہیں وہ بلال بھائی کے پاس ہے اور تم ویڈیو میں سنو، وہ فون نہیں اٹھا رہے۔

 

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اقبال دیوان

محمد اقبال دیوان نے جوناگڑھ سے آنے والے ایک میمن گھرانے میں آنکھ کھولی۔ نام کی سخن سازی اور کار سرکار سے وابستگی کا دوگونہ بھرم رکھنے کے لیے محمد اقبال نے شہر کے سنگ و خشت سے تعلق جوڑا۔ کچھ طبیعتیں سرکاری منصب کے بوجھ سے گراں بار ہو جاتی ہیں۔ اقبال دیوان نےاس تہمت کا جشن منایا کہ ساری ملازمت رقص بسمل میں گزاری۔ اس سیاحی میں جو کنکر موتی ہاتھ آئے، انہیں چار کتابوں میں سمو دیا۔ افسانوں کا ایک مجموعہ زیر طبع ہے۔ زندگی کو گلے لگا کر جئیے اور رنگ و بو پہ ایک نگہ، جو بظاہر نگاہ سے کم ہے، رکھی۔ تحریر انگریزی اور اردو ادب کا ایک سموچا ہوا لطف دیتی ہے۔ نثر میں رچی ہوئی شوخی کی لٹک ایسی کارگر ہے کہ پڑھنے والا کشاں کشاں محمد اقبال دیوان کی دنیا میں کھنچا چلا جاتا ہے۔

iqbal-diwan has 23 posts and counting.See all posts by iqbal-diwan

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *