بکھری ہوئی بک بک برکھا․․
ہماری کلاس میں ایک خاموش سا لڑکا، ہماری طرح کی میلی رنگت والا ہماری ساتھ والی سیٹ پر بیٹھتا تھا۔ جب ہمیں جامعہ کراچی کے سلور جوبلی، تحریری مقابلے میں، اس اعتراف پر کہ۔ ہم سب گدھے ہیں۔ گولڈ میڈل ملاتو مختلف اخباروں، رسائل میں ہمارے انٹرویوز چھپے، تو دوسرے یا تیسرے دن اس نے ہمیں اشارے سے ایک طرف بلایا اور اپنے یونیورسٹی کے آئی ڈی کارڈ کا فلیپ کھول کر دکھایا، ایک طرف اس کی تصویر تھی تو دوسری طرف، اخبار سے کاٹ کر اس نے ہماری تصویر چپکائی ہوئی تھی۔
ہم زور سے چیخے۔ یہ تصویر تم نے کیوں لگائی ہے؟ وہ بری طرح سٹپٹا گیا اورادھر، ادھر دیکھا کہ کوئی سن تو نہیں رہا۔ ہم نے دانت پیس کر جما جما کر کہا۔ ارے! اس میں تو نہ ہماری آنکھیں نظر آ رہی ہیں، نہ ناک، نہ منہ۔ ہم تمہیں اپنی ایک اچھی سی تصویر دیں گے وہ لگانا۔ اس دن کے بعد سے وہ لڑکا، ہماری ساتھ والی سیٹ پر نہیں بیٹھا۔ پھر ایک دن برساتی مینڈک کی طرح غائب ہو گیا۔
اگر آپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ موصوف سے ہماری شادی میں کیوپڈ کا کوئی خفیہ ہاتھ تھا تو بالکل غلط۔ نارمل، سفید پوش اور وضعدار ماؤں کی طرح امی نے بھی مختلف لوگوں سے کہا ہوا تھا کہ کوئی اچھا لڑکا ہو تو بتاناکہ ایک دن جاوید بھائی (سکندر مہدی) کا فون آیا کہ چچی ایک بہت اچھا خاندانی لڑکا ہے، لیکچرار، مگر بنگالی ہے۔ ہمیں کوئی خبر نہیں تھی کہ اندر ہی اندر کیا کھچڑی پک رہی ہے ہم تو دیوانوں کی طرح فیکلٹی کی پہلی پوزیشن کے لیے فائٹ کر رہے تھے کیونکہ تین سالوں میں ستائس پیپر ز میں ہمارے سارے گریڈز A یا A+ تھے اورایک ایک نمبر ہمارے لیے ہیروں کی طرح قیمتی تھا۔ ہماری پولیٹیکل سائنس کی سب سے پاپولر میڈم، تنویر خالد، میٹرنٹی لیو پر تھیں۔ ان کی جگہ موصوف نے کچھ کلاسیں لیں۔ میڈم کی غیرموجودگی میں موصوف نے ہمیں پڑھایا۔ میڈم نے ہمیں، ساڑھے ستاسی فیصد نمبر دیے تھے جنہیں موصوف نے ہمارے قد کی طرح گھٹا کر ساڑھے تراسی فیصد کر دیے۔ بلبلا کر ہم ان کے پاس پہنچے اور انتہائی تلخ لہجے میں انہیں بتایا کیا بلکہ جتایا کہ نمبر غلط لکھے ہیں آپ نے۔ اپنے مخصوص نرم اوردھیمے لہجے میں ہماری بدتمیزی سے نظریں چراتے ہوئے انہوں نے کہا۔ نہیں! نمبر اتنے ہی ہیں۔ ہم بھڑک اٹھے۔ آپ میڈم کی الماری سے میری کاپی نکال کر خود دیکھ لیں۔ اپنی شرافت اور ضبط کا دامن مضبوطی سے تھامے اسی دھیمے انداز میں بولے۔ سوری! میں، میڈم کی absence میں ان کی الماری نہیں کھول سکتا، ویسے بھی رزلٹ فائنل ہو کر جا چکا ہے۔ ہم سر سے پاؤں تک کھول گئے، جی چاہا دونوں ہاتھوں سے ان کا گلہ دبا دیں یا ناخنوں سے ان کا منہ نوچ لیں۔ دل ہی دل میں کلستے، بلکتے اور خون کے آنسو بہاتے ہم باہر آئے، روبی اور نائلہ بے تابی سے انتظار کر رہی تھیں۔ کیا ہوا مانے؟
ان خبیث بنگالیوں نے ہمیں وہاں بھی تنگ کیا اور اب یہاں آ کر بھی ستا رہے ہیں۔ ۔ ہمارے ملک میں آ کر بدلہ لے رہے ہیں ہم لوگوں سے۔ ہم نے رجسٹر ذمین پر پٹخ دیا اور سر گھٹنوں میں چھپا کر سسکنے لگے۔ ۔ اب ہمیں کیا پتہ تھا کہ کیوپڈ بیچارہ، اپنے تیر کمان کے ساتھ، ہمارے لیے کسی اچھے شکار کے انتظار میں کھڑا رہ جائے گا اور ہم موصوف کے پلے سے ہی زندگی بھر کے لیے باندھ دیے جائیں گے۔ حالانکہ ہمارا ٹانکا کہیں اور جڑنے جا رہا تھا۔ عبوری دور میں لڑکا، ہمیں جوہری کی آنکھ سے آنک رہا تھا، ادھر موصوف کی محبت کی چرخی بھی کہیں اور گھوم رہی تھی۔ مگر ہمارے والے نے ہمیں رد کر دیا۔ ان کی والی نے انہیں ٹھکرا دیا۔ ۔ موصوف بڑے دل گرفتہ تھے کہ آسمان سے ان کے سہرے کی کلیاں برس کے ہی نہیں دے رہی تھیں، لوہا گرم دیکھ کر جاوید بھائی نے کاری ضرب لگائی کیونکہ کافی دنوں سے وہ اسی سنہرے موقع کی تلاش میں تھے۔ دراصل امی سے موصوف کا ذکر کرنے کے بعد کچھ تو لڑکی والوں کی آنا کانی، اس پر سے خاندان والوں سے صلاح مشورے اور مبینہ لڑکے کی چھان بین، کسی تگڑے ضامن کی تلاش (کیونکہ لڑکا بنگالی جو تھا)۔ اس پر سے امی کے طویل استخاروں کے سلسلے نے کافی ٹائم کھا لیا۔ جان (جاوید بھائی) نے موصوف سے کہا۔ وحید قیصر ندوی کی بیٹی یہاں فلاسفی ڈپارٹمنٹ میں پڑھتی ہے، جا کر اسے بھی دیکھ لو۔
موصوف کا سانس، عشق کی سیڑھیاں چڑھتے چڑھتے تقریباً پھول چکا تھا۔ لہذا وہ چپکے سے ہمارے ڈپارٹمنٹ آئے اور دشمن کو سامنے پا کر پہلے تو بھونچکا سے رہ گئے بوکھلا کر پلٹنے لگے تو اپنی مادری زبان کی سریلی تانوں نے ان کے قدم روک لیے۔ اس دن فیئر ویل پارٹی تھی اور ہم آنکھیں بند کیے لہک لہک کر بنگلہ گانا گا رہے تھے۔ ۔ بس شاید یہی وہ فیصلہ کن لمحہ تھا جب ہم، انہیں بڑے اپنے اپنے سے لگے اور انہوں نے ہمیں اپنی زندگی کی ڈولتی کشتی میں سوار کرنے کا فیصلہ کیا (جبکہ عرفان بھائی جان کا خیال تھا کہ اللہ میاں نے ہمیں تیار کر کے دنیا میں اتارا تھا، اسی لیے بنگالنوں جیسی شکل بنائی تھی اور خصلتیں بھی)
شادی کی رات جب موصوف نے اپنے عشق کی پوٹلی کھولی تو ہم بھی اپنا پٹارہ کھول کر بیٹھ گئے۔ ۔ سسکیاں لیتے ہوئے، دلخراش، دریائے عشق میں غوطہ کھاتے ہوئے، آبدیدہ سے ہو کر موصوف اور ہم نے ایک دوسرے سے وعدہ کیا کہ ہم دونوں بڑی ایمانداری سے اپنے اپنے ہونے والے عشق ایک دوسرے سے شیئر کریں گے اور زندگی بھر اس وعدے کو نبھائیں گے کہ ایک دوسرے کو کبھی دھوکا نہیں دیں گے اوربہت ایمانداری سے ایک دوسرے کی انگلی پکڑ کرشاہراہ زندگی کے آخری نکڑ تک جائیں گے۔ اگر راستے میں کسی کی انگلی چھوٹ گئی تو چاہے، جنت میں ملاقات ہو یا جہنم میں، چاہے حوریں انہیں کتنا ہی رجھائیں، یہ آنکھ اٹھا کر انہیں، نہیں دیکھیں گے اور ہم بھی کسی غلمان کے پٹانے سے نہیں پٹیں گے بلکہ پاؤں سے جوتی اتار کر اسے پیٹیں گے۔ مگر یہ وعدہ کرتے ہوئے موصوف بھول گئے کہ وہ کتنے بھلکڑ ہیں اور راستے بھولنے کے معاملے میں ہم کتنے ایکسپرٹ ہیں۔
شادی سے پہلے جاوید بھائی نے کہا تھا لڑکا فل برائٹ اسکالرشپ پر کینیڈا جا رہا ہے، مگر وہ تو ماموں کانجن تک نہ گیا۔ ہنی مون کیا ہوتا ہے ہمیں نہیں پتا، کیونکہ جناب، پی ایچ ڈی کر رہے تھے۔ پھر ہم، علی، مریم کو لے کر پہلی بار اپنے سسرال (بنگلہ دیش) گئے۔ اس کے بعد موصوف امریکہ گئے اور امریکہ یاترا کے بعد ان کا سوئڈن سے بلاوا آ گیا۔ انہوں نے اپنا سامان باندھا اور ایک مہینے کے لیے سوئیڈن چلے گئے۔ جب دس پندرہ روز گزر گئے اور موصوف کا نہ تو کوئی خط آیا نہ کوئی فون، دل میں طرح طرح کے وسوسے آ رہے تھے حالانکہ یہی حرکت وہ پہلے بھی فرما چکے تھے جب امریکہ گئے تھے مگر دل تھا کہ ہولا جا رہا تھا۔ بلکہ ڈوبا جا رہا تھا، اسی وقت، کشفی صاحب اور باجی آ گئے (دونوں گھروں کے درمیان کی ہیج میں مشترکہ راستہ تھا جو دلوں کی طرح کھلا ہوا تھا، ہمارے ڈرامہ سیریل خالہ خیرن کی آؤٹ ڈور، انہی دونوں گھروں میں ہوئی تھی) ہم نے اپنی گھبراہٹ کا ذکر کیا تو باتیں کرتے کرتے، کشفی صاحب بڑے پر تشویش انداز میں بولے۔ سنا ہے سوئیڈش لڑکیاں اتنی حسین ہوتی ہیں کہ حوریں شرما جائیں۔ لیکن!
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


