بکھری ہوئی بک بک برکھا․․
ہمارے میاں بہت شریف ہیں۔ ہم نے بلبلا کر کہا، شریر چمک نے ان کی چمکتی آنکھوں کو چھوا زیر لب مسکرائے اور بولے۔ بی بی! اپنے آس پاس اتنا حسن بکھرا دیکھ کر کون آدمی کتنی دیر تک شریف رہ سکتا ہے؟ کشفی صاحب! ۔ ہم چلائے تو باجی نے پیار سے ہمیں اپنی باہوں میں سمیٹ لیا اور (مصنوعی غصے ) سے مسکراتے ہوئے کشفی صاحب کو گھرکا۔ کیوں بچی کو تنگ کر رہے ہیں، ہمایوں تو ہیرا ہیں ہیرا۔ تو اور پرتشویش لہجے میں کشفی صاحب بولے۔ یہی تو خرابی ہے ہمایوں بابو میں، مجھے تو اس کے دماغ میں خلل نظر آتا ہے، خوبصورت لڑکیاں دیکھ کر بھی راہ راست پر نہیں آتا۔ تو ہم بلبلا کر بولے۔ جی نہیں! وہ بالکل نارمل انسان ہیں، شادی سے پہلے کئی عشق کیے ہیں انہوں نے، خالص عشق، اپنے پہلے عشق کے پیچھے ہی تو پاکستان آئے تھے۔ تو کشفی صاحب، بے ساختہ مسکرا دیے اور باجی کے لبوں پر بھی ہلکی سی مسکراہٹ تیر گئی۔
جس دن ہم نے ٹی وی میں جوائننگ دی تو خوب تیار ہو کر گئے سنا تھا بہت کام کرنا پڑتا ہے، اندر، باہر کی بے تحاشا بھاگ دوڑ اور آٹھ گھنٹے ڈیوٹی کے بجائے پروڈیوسر چوبیس گھنٹے کی ڈیوٹی پر ہوتا ہے۔ احتیاطاً، پرس میں سینڈوچ بھی بنا کر رکھ لیا۔ جس طرح مونٹیسوری کے بچوں کو ماں، باپ انگلی پکڑ کر پہلے دن اسکول لے کر جاتے ہیں، ہمارے چہرے پر، خوف کے ڈونگرے برستے دیکھ کر موصوف، جوائننگ دلوانے، ساتھ گئے۔ کام کی زیادتی کا سوچ کر، ہم تیار بھی اسی حساب سے ہوئے۔
بالوں کا کس کر پونی ٹیل بنایا اور ہائی ہیل کی جگہ ٹینس شوز پہنے، موصوف نے ہمارا ہاتھ اتنی شفقت سے پکڑ رکھا تھا، جیسے بڑے بھائی، چھوٹی بہنوں کا پکڑتے ہیں۔ ایڈمن افسر، یاسین صاحب، ہمیں بھائی، بہن سمجھے۔ ان کی غلط فہمی دور کر کے ہم نے جوائننگ دی تو پتہ چلا کہ کاغذی کارروائیوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔ پھر کام کے دوران ٹریننگ شروع ہوئی اور ساتھ ہی Ragging بھی (یہ صرف یونیورسٹی اور کالجوں میں ہی نہیں ہوتی، ہر ادارے میں ہوتی ہے ) ہم ٹیپ ایشو کروا کر لائے تو ایڈیٹنگ انجینئر نے سنگین انداز میں چہرے پر تشویش کے لہراتے سایوں کے ساتھ پین کی نوک سے ٹیپ کھولی اور ہماری طرف مڑا۔ ۔ محترمہ! یہ تو آپ بالکل غلط ٹیپ ایشو کروا کر لائی ہیں، واپس وی ٹی آر لائبریری میں جائیں اور اس سے کہیں بلیک اینڈ وایٹ نہیں رنگین ٹیپ دے، جلدی جایئے وہ بڑی جھن جھن پروڈیوسر ہے، بڑے زور سے گرجتی اور برستی ہے۔ ہم بوکھلا کر واپس جانے کو مڑے تو پیچھے سے آواز آئی۔ ایک منٹ! رکیں اگر وہ وی ٹی آر والا بحث کرے تو اسے ٹیپ کھول کر دکھا دیجیے گا۔ خبیث، ہر نئے آنے والے کو غلط ٹیپ پکڑا دیتا ہے۔ پھر اس شفیق انجینئر نے بڑی محنت سے ہمیں، پین کی نوک سے ٹیپ کھولنا سکھاتے ہوئے سامنے اسکرین کی طرف اشارہ کیا جس پر کلر بار تھی، وہ رنگ برنگی پٹیاں دکھا کر بولا۔ ایسی پٹیاں ہوں گی ٹیپ پر، جایئے اورصحیح ٹیپ ایشو کروا کر لایئے۔
دل ہی دل میں اس خبیث کو کوستے ہوئے، جس نے ہمیں غلط ٹیپ دی تھی، ہم وی ٹی آر لایئبریری کی طرف بھاگے اور اندر جا کر ٹیپ اس کے سامنے میز پر پٹخی (دل تو چاہ رہا تھا منہ پر پٹخیں مگر ہاتھ روک لیا کہ ایک میاں میں اور کولیگ کے منہ میں فرق ہوتا ہے اور یہ گھر نہیں آفس ہے )۔ آپ نے اناڑی سمجھ کر بلیک اینڈ وائٹ ٹیپ ایشو کی ہے، لایئے جلدی سے کلرڈ ٹیپ ایشو کریں۔ ہم غرائے۔ کیا؟ حیرانی سے اس کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا، پھر سنبھل کر متانت سے بولا میں نے صحیح ٹیپ دی ہے جایئے میرا اور اپنا وقت برباد نہ کریں، ہم بری طرح تلملائے، جھپٹ کر میز پر سے بال پوائنٹ پین اٹھایا اور دانت پیستے ہوئے بولے۔ بیوقوف سمجھا ہے ہمیں؟
ٹیپ کھول کر آگے کی۔ دیکھیں کہاں ہے کلر بار بولیں؟ اسی وقت پیچھے سے قہقہ بلند ہوا تو پتہ چلا کہ ہمیں ممانی بنا دیا گیا ہے، اس واقعہ کی باز گشت کئی دنوں تک ٹی وی کی راہ داریوں میں گونجتی رہی اور ہم شرمندہ سے نظریں چرائے دل ہی دل میں کڑھتے اور اس انجنئیر کو کوستے رہے یہ اور بات ہے کہ بعد میں اس کے، اپنے کام میں مہارت دیکھ کر ہم نے اس سے دوستی کر لی۔
ایک شکایت جو ہمارے موصوف کو ہم سے ہمیشہ سے ہے، وہ یہ کہ بقول ان کے۔ تم تو آنکھیں، کان اور دماغ بند کر کے کسی کا نمبر ملاتی ہو اور دوسری طرف کی آواز سنے بغیرشروع ہو جاتی ہو، زبان تمہاری فل اسپیڈ سے چلتی ہے، بریک کس چڑیا کا نام ہے تم نے شاید کبھی دیکھی ہی نہیں۔ موصوف کی یہ شکایت بے جا نہیں، کیا کریں عادت سے مجبور جو ہیں۔ اس دن ہم اسپتال گئے تو ہماری ڈاکٹر (نرگس) نہیں تھیں۔ واپسی کا ارادہ کر کے ہمیں دھوپ میں کھڑا کر کے پارکنگ سے گاڑی لینے چلے گئے۔
مایوس سے ہم گیٹ پر کھڑے تھے کہ نرگس کا فون آ گیا کہ فوراً آ جائیں۔ ہم نے جھٹ موصوف کا نمبر ملایا اور شروع ہو گئے۔ نرگس، آ گئی ہے، فوراً گاڑی چھوڑ کر واپس آ جائیں۔ تو جواب میں بڑے تحمل اور تدبر سے ہمایوں کلام صاحب (یہ بڑے نفیس اور صاحب ذوق انسان ہیں اور ہماری طرح کشفی صاحب کے معتقد بھی)۔ جی کیا فرمایا؟ ہم نے کہا فرمایا نہیں کہہ رہے ہیں کہ نرگس آ گئی ہے، فوراً آ جائیں۔ بولے۔ بی بی! میں اپنے گھر میں پر ہوں اور (وہ بھی سمجھ گئے کہ یہ بے تکی حرکت کس کی ہو سکتی ہے ) آپ ہمایوں صاحب کو بلائیں، وہی آپ کے نصف بہتر ہیں۔ جیسے ہی احساس ہوا کہ ارے! فون تو ہمایوں کلام کو ملا لیا ہے، ہم پر گھڑوں پانی پڑ گیا، فوراً معذرت کی کہ۔ آپ دونوں، ہم نام ہیں، اوپر نیچے نمبر ہیں سوری! ۔ فون بند کر کے اپنے اصلی میاں یعنی، موصوف کا نمبر ملا لیا۔
کالی برکھا۔ ۔ خاندان کی بڑی بوڑھیاں اور ہماری ماما (ڈھاکے میں کام کرنے والی بوا، ماما کہلاتی ہے ) گواہ ہیں کہ سات مارچ کی ایک دودھ نہائی، اجلی صبح کو امی کی گوری گوری گود میں ایک انتہائی کالی، مریل اور انتہائی گنجی بچی، وقت سے پہلے اس دنیا میں آ کر، مٹر مٹر پلکیں جھپکا رہی تھی، اتنی زیادہ گنجی کہ بال تو بال۔ بھنویں اور پلکیں تک ندارد۔ ۔ ہائے! یہ کس پر پڑی ہے؟ (تمسخر سے ہنستے ہوئے ) اے شجو! کیا یہ تیری ہی ہے؟
اس تیری پر اتنا زور تھا کہ پاپا خوامخوہ ہی شرمندہ ہو گئے۔ سنا ہے انہوں نے کئی دنوں تک شیو نہیں بنائی کہ کہیں آئینے میں اپنے عکس پر نظر نہ پڑ جائے کیونکہ اوائل عمر سے ہی ان کے بالوں نے ان کی چاند کو چھوڑ کر امی کے گھٹاؤں جیسی گھنی زلفوں میں اپنا منہ چھپانا شروع کر دیا تھا۔ ایک پڑوسن اماں بڑی ٹھنڈی (سائبیرئین) سانس بھر کر بولیں۔ ہا! جو لڑکیاں، موئی، باپ پر جاویں ہیں، سنا ہے وہ بڑی خسمت (قسمت) والیاں ہوتی ہیں۔ پاپا، پتہ نہیں کیوں پاپا پھر شرمندہ ہوگئے۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


