بکھری ہوئی بک بک برکھا․․
عرفان بھائی جان اکثر کہا کرتے تھے کہ تم ہماری سگی بہن تھوڑی ہو، تمہیں تو پاپا نے جمعدار کی ٹوکری سے اٹھایا تھا بلکہ پیسے دے کر خریدا تھا کیونکہ ہمارے ہاں صرف لڑکے ہی لڑکے پیدا ہو رہے تھے، پاپا کی بھی کوئی بہن نہیں تھی، ایک دن غصے میں پھر یہی بات دوہرائی تو بس پھر کیا تھا، ہم لحاف، گدوں کے تھاک پر چڑھ کر بیٹھ گئے اور بھاں بھاں رونے لگے اور زور زور سے امی سے تقاضا کرتے رہے کہ ہمیں ہمارے اصل ماں، باپ کے پاس پہنچا دیں، ہم یہاں ہرگز ظالم، سوتیلے بھائیوں بہنوں کے ساتھ نہیں رہیں گے۔ امی، پہلے تو سنتی رہیں، ہمیں سمجھاتی رہیں مگر جب ہمیں یقین نہیں آیا تو انہوں نے چپل اتار لی۔ اس کے آگے آپ خود سمجھ جائیں کہ کیا ہوا ہو گا۔ ۔ ؟
ہمیں اپنا جمشید روڈ والا گھر بہت یاد آتا ہے جس کے بڑے سے صحن میں کئی، مہندیاں، بلکہ شادیاں تک نمٹائی گئیں، کبھی محلے کی کسی لڑکی کی شادی تو کبھی خاندان کی کوئی برات آکر ٹھہر گئی۔ عجیب اتفاق ہے ڈھاکے کے بنگلے کا نمبر 27 /C اور جمشید روڈ والے گھر کا نمبر، 27 / 1 تھا اور دونوں کارنر کے تھے بس ڈھاکے والا جدید اور یہ قدیم انداز کا تھا، چبوترہ، دروازے کے آگے ڈیوڑھی، تاکہ بے پردگی نہ ہو۔ کم از کم دو ڈھائی سو لوگ ہمارے صحن میں آرام سے آ جاتے تھے (بہت یاد آتا ہے اب بھی)۔ ننھی کی شادی کی تاریخ اچانک ہبڑ دبڑ میں ٹھہر گئی، حتی کہ اس کے شاندار تعلیمی کیرئر کا خیال بھی نہ آیا کسی کو (اس نے بی اے بھی شادی کے بعد مکمل کیا) اس کی شادی پر بڑی چچی جان بھی اسلام آباد سے آئی ہوئی تھیں، وہ روٹیاں پکا رہی تھیں اور ہم جلدی جلدی پیڑے بنا رہے تھے، ہمیں غور سے دیکھ کر بڑے پیار سے بولیں۔ ۔ منی (ہم) کی شادی میں ہم کم از کم دو، تین ہفتے پہلے سے آ جائیں گے۔ ان کے بے بہا پیار سے، نہال سے ہو کر ہم نے کہا۔ اچھا؟
چچی جان! سچی؟ ہاں بالکل سچ کیونکہ ہم آ کر تمہیں خوب ابٹن لگائیں گے تاکہ تمہارا رنگ نکھر کر سامنے آ جائے۔ ہماری خوشی، پھٹے ہوئے جوتے پہن کر بھاگ گئی۔ ملول سے ہو کر رات کو ہم نے نانی اماں (امی کی اسٹیپ مدر) سے پوچھا۔ نانی اماں کیا ہم بہت کالے ہیں؟ انہوں نے پیار سے ہماری پیشانی سے پریشان بال سنوارے اور مسکرا کر بڑے خلوص اور یقین سے بولیں۔ نہیں تو! گندمی ہے، ہاں بس ذرا سوختہ ہے۔ گویا انہوں نے بھی ہماری خوش گمانی کے تابوت میں آخری کیل ٹھوک دی۔
اسی جمشید روڈ والے مکان میں بھائی صاحب (نظر بھائی، ماموں میاں کے اکلوتے بیٹے ) کی بارات، کمالیے (پنجاب) سے آ کر ٹھہری ہوئی تھی۔ سب کے حصے کے کام بٹے ہوئے تھے۔ ہماری نالائقی اور گھر کے کاموں میں کور ے پنے اور کنوار پنے کو دیکھ کر ہماری ڈیوٹی، صفائی کی لگائی گئی کیونکہ میرڈ، لڑکیوں کی لائن میں ہم ہی ہاتھ میں چھلنی لیے کھڑے تھے جس میں سے عقل کب کی چھن کر جا چکی تھی اس لیے ہماری کور عقلی کو سامنے رکھتے ہوئے گھریلو سیاست اور ایسے پیچیدہ کاموں سے ہمیں دور رکھا گیا جن میں عقل استعمال ہوتی تھی۔
ہم نے بھی اس چیلینج کو کھلے دل سے قبول کیا اور اپنی تمام تر خفتہ صلاحیتیں ثابت کرنے کا عزم کر کے، سب سے گھسا ہوا جوڑا نکالا اور کس کر لمبے بالوں کا جوڑا باندھا، ہاتھ میں جھاڑو اور کوڑا اٹھانے کی ٹرے لی اور جہاں کسی بچے نے کچھ گرایا یا کچھ کیا۔ یا کہیں کوڑا نظر آیا، فٹافٹ جھاڑو پھیری اور کوڑے دان کی طرف لپکے۔ ایک خاتون (ہماری دور کی رشتہ دار، جو شادی میں، کسی اور شہر سے، پہلی بار ہمارے ہاں آئی تھیں ) بڑے غور سے ہمیں دیکھ رہی تھیں۔
امی کسی کام سے باہر، صحن میں آئیں تو بڑے میٹھے لہجے میں گویا ہوئیں۔ ۔ اے شجو! یہ لڑکی تجھے کہاں سے ملی؟ ایسی اگر ایک اور ہو تو مجھے دلوا دے، گھر کے بکھرے کاموں نے پریشان کر رکھا ہے۔ یہ سنتی ہوئی طاہرہ بھابھی آ گئیں، انہوں نے خون بار نظروں سے ان خاتون کو دیکھا جیسے کچا ہی چبا جائیں گی پھر جھپٹ کر ہماری کلائی پکڑی اور تقریباً کھینچتی ہوئی ہمیں اپنے کمرے میں لے گئیں۔ غصے سے بھبھوکا، لال چہرہ لیے، انہوں نے اپنی الماری کھولی اور دانت کچکچا کر بولیں۔ تمہارے ان کپڑوں کا پوچا بنایا جا سکتا ہے۔ خبردار! جو اس قسم کے اول فول کپڑے پہن کر سامنے آئیں، جاؤ! جا کر کپڑے بدلو۔ ایک اچھا سا جوڑا، ہمارے ہاتھ میں تھما کر انہوں نے ہمیں اسٹور میں دھکیل دیا۔ اس کے بعد وہ جھاڑو، ڈسٹر اور کوڑے کی ٹرے ہمارے ہاتھ سے چھین لی گئی۔


