ڈاکٹر آصف فرخی دوستوں کو جُل دے گئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گستاخی معاف ڈاکٹر صاحب، آپ نے کھیل کے آداب کی خلاف ورزی کی ہے۔ چپکے سے تالہ بندی کا تالہ توڑ کے دوستوں کے گھیرے سے نکل لئے، جو ابھی تک سمجھ نہیں پا رہے کہ یہ ہوا کیا اور اب وہ کیا کریں!

پچھلے دو ماہ سے شگفتگی اور امید کے رنگ لئے، مرصع اردو میں حالاتِ حاضرہ پہ کہی جانے والی باتوں اور دیس دیس کی کہانیوں نے ہر کسی پر ایسا جادو کیا تھا کہ بار بار سننے پہ بھی طبعیت سیر نہ ہوتی، تشنگی گھیر لیتی اور ایک وڈیو دیکھنے کے بعد اگلی کا انتظار اسی پل سے شروع ہو جاتا۔

ڈاکٹر آصف ہمارے لئے وہ مانوس اجنبی تھے جن سے کبھی بالمشافہ ملاقات نہیں ہوئی کہ دیس سے دور رہنے والوں کے نصیب میں چھتنار درختوں کا سایہ نہیں ہوا کرتا۔ لیکن ان کا نام ہمیشہ ہمارے لئے اہم رہا کہ میڈیکل کی ڈگری اور اوڑھنا بچھونا لٹریچر، ہمیں ایسے لگتا کہ وہ ہماری برادری کے سر پہ رکھا ایسا تاج ہیں جو سب ڈاکٹروں کی توقیر بڑھائے چلے جا رہا ہے۔

ہماری کم علمی اور نالائقی سمجھیے کہ اول اول اردو لٹریری فیسٹیول کے حوالے سے ہم نے ان کا نام جانا۔ کھد بد تھی کہ کس ادبی دیو قامت کی محبت نے یہ پودا لگایا ہے۔ ہر برس عہد کرتے کہ اگلے برس ان دنوں میں ہم ضرور دیس یاترا کرتے ہوئے ان سے ملاقات کا شرف پائیں گے۔ اگلے برس کسی نہ کسی بات میں ایسا الجھتے کہ نا جانے کی بے بسی میں دل مسوس کے رہ جاتے۔۔۔ ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں۔۔۔

“ہم سب” نے یہ کمال کیا کہ اجنبی سرزمینوں پہ بسنے والے ہم جیسوں کے لئے ایک ایسا روزن دیوار کھول دیا جہاں ان مایہ ناز لوگوں کی تحریروں نے ہماری پلکوں پہ شب و روز کو ہلکا کر کے ایام کی سختی جھیلنے کی ہمت عطا کر دی۔ ہمیں کچھ ناموں کا ایسے انتظار رہنے لگا جیسے برسوں کی شناسائی ہو، اور کچھ دن ملاقات کے بنا گزر جائیں تو بے چینی اعصاب کا احاطہ کر لے۔

ڈاکٹر آصف کا نام ایسا ہی ایک نام تھا، ہر بات پڑھ کے ایسے محسوس ہوتا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں تھی۔ ڈاکٹر اسلم فرخی کی رخصتی پہ “بے ہودگیوں کا مجموعہ” کے عنوان سے ان کا کالم تو بس دل کے تار چھیڑ گیا اور ہم نے سوچا کہ شاید ہمارے ابا نے بھی زندگی کے آخری برسوں میں یہی سوچا ہو۔

ان کا اپنے بچپن کی بارشوں کا ذکر اور ساتھ میں اماں کی بنائی پھلکیاں اور پودینے کی چٹنی کی یاد! بارش میں بیر بہوٹیاں ڈھونڈنے نکلنا اور کڑکتی بجلی میں پہلوٹی کے لڑکے کو اپنی پناہ میں لینا! دل پہ ہاتھ رکھ کے کہیے کس کے بچپن میں یہ سب نہیں تھا۔

ہماری آپا اور خاندان میں کچھ اور کزنز کا تعلق درس وتدریس سے تھا۔ وہ جب بھی مل بیٹھتیں، ویسی ہی گفتگو کے چٹکلے چھوڑتیں جیسے ہم نے “ماشٹرنی کے پرس” نامی کالم میں پڑھے۔ تعلیم کو روبہ انحطاط دیکھنے کا درد ان کے چچا، پھوپھی اور ابا کی باتوں میں جھلکتا تھا اور ہمیں بہت کچھ یاد دلاتا تھا۔

بدیس سے لوٹنے والی بیٹی کا “قندیل” کی شکل میں تحفہ پا کے اس کا بچپن یاد کرتے ہوئے کہنا کہ کہانی کے کرداروں نے وقت کی دوڑ میں مقام بدل لیا ہے، احساس کے سر چھیڑ دیتا تھا۔ بیٹی کو گڑیا دلانے سے لے کر کنڈل پانے تک کے سفر کا غرور ایک باپ کی آنکھوں میں جو چراغ روشن کرتا تھا، اس کی روشنی میں نئے مسافروں کے لئے اس راہ پہ نقش پا کا تعاقب کرنا سہل ٹھہرا۔

کالم ” تیرا نہ میرا گھر ” میں اپنے پرانے مکانوں کو یاد کرنا اور ان کے در و دیوار سے خود کو ہنستا مسکراتا نکلنے کی آرزو کرنا، ان کی اپنی زندگی کی کتاب کو پھر سے پڑھے جانے کی تمنا تھی جو ہماری بھولی بسری یادوں کو بھی جگاتی تھی۔

“قبرستان میں ڈبل سواری منع نہیں ہے” میں پھوپھی کی بیماری سے لے کے میت گاڑی کا ذکر اور پھوپھی کی تدفین کے بعد یہ انکشاف کہ وہ دادا کی قبر میں سانجھ کر بیٹھی ہیں، انہیں پھر ماضی میں لے جاتا جہاں دادا اپنے تخت پہ کسی کی عملداری پسند نہیں کرتے تھے۔ مگر اب وہ کچھ نہیں کہہ سکتے تھے جب آخری آرام گاہ بھی سمٹ کر آدھی رہ گئی۔ پوری زندگی کے بعد آدھا کتبہ__

دنیا میں گھومتے پھرتے ہسڑی، آرٹ اور کلچر کا رنگ اپنے سفر ناموں میں بھرتے بھرتے کبھی انہیں ابا کا سنایا ہوا “کالے صاحب کا ٹوپا ناچے” یاد آ جاتا اور کبھی ابا کی ملکہ وکٹوریہ کے منشی عبدل کریم کے خاندان کے حوالے سے آگرہ کے قصے۔ برلن میں ہٹلر کے ہاتھوں جلی ہوئی کتابوں کو یاد کرتے کرتے اپنے ابا کا ابن صفی کی شاعری پہ اظہار خیال انہیں تو یاد آتا لیکن ہمیں بھی ماضی کی گلیوں میں لوٹنے پہ مجبور کر جاتا۔

“نقش طاؤس: وہی مور نامے والا سوال “ میں وہ غالب کو یاد کرتے کرتے بچپن میں پھر سے پہنچ جاتے۔ شاید یہ علم وادب میں رچے بسے بچپن کا شاخسانہ تھا کہ ایک لمحے میں انہیں غالب کے اشعار مور کی طرح دم چنورتے، رنگ بکھیرتے مورچھل بنتے دکھائی دیتے اور ساتھ میں ہی ایک آواز “ایک جانور ایسا، جس کی دُم پر پیسہ” سنائی دیتی جو انہیں یاد دلاتی، ایک بھولی بسری یاد کہ وہ مور کے پر احتیاط اور پوری عقیدت کے ساتھ قرآن شریف کے اوراق کے درمیان رکھا کرتے تھے۔

ہم ان کی محبت بھری یادداشتوں پہ مبنی تحریریں ایک دفعہ نہیں، کئی دفعہ پڑھتے۔ ہمیں بھی اپنا گھر، ابا، بہن بھائی، کتابیں، برسات، ابا کا تصوف اور قوالی کا شوق یاد آ جاتا۔ سچ پوچھیے تو ان کے یہی کالم پڑھ پڑھ کے ہی ہمیں بھی شوق ہوا کہ ہم بھی عمر گم گشتہ کو آواز دیں اور وہ سب لکھ ڈالیں جو دن رات ہمیں آواز دے کے پیچھے دیکھنے پہ مجبور کرتا ہے اور ہم اس ڈر سے نہیں مڑتے کہ کہیں پتھر کے نہ بن جائیں۔

جس دن” ہم سب” میں ان کے کالم کے آس پاس کہیں ہم بھی موجود ہوتے، بے اختیار ایک سوچ در آتی، کیا کبھی انہوں نے ہماری تحریر پڑھی ہو گی؟ شاید نہیں، کہ نوآموز لکھنے والوں کو اساتذہ کی نظر میں آنے کے لئے ایک مدت درکار ہوا کرتی ہے۔ پھر دل خوش فہم میں ستائش کی تمنا کرتی ایک کونپل سر اٹھاتی، نام کے ساتھ ڈاکٹر دیکھ کے ہی چونکے ہوں شاید!

“ہم سب” پہ آڈیو ویڈیو کالمز ہمیں ہمیشہ خاصے کی چیز لگی۔ بہت شروع میں ہم نے تھوڑی بہت طبع آزمائی بھی کی۔ کورونا کے دنوں میں چھپنے والی وڈیو کالم سیریز” تالہ بندی کا روز نامچہ” ڈاکٹر آصف کا ایسا الوداعی تحفہ ٹھہرا جو دنیائے ادب میں بھلایا نہیں جائے گا۔

 وبا کے دنوں میں وطن میں زندگی کیسے بیت رہی ہے اور شب وروز کی جبری فرصت نے سوچ کے کیا کیا در وا کر دیے ہیں، اس کا مظہر ساٹھ دن میں ستائیس وڈیو کالمز گویا ستائیس نگینے ہیں جن کی آب و تاب سے آنکھیں چندھیاتی ہیں۔

ہم ہسپتال سے آتے، چائے کا پیالہ تھامتے اور ایک بٹن دباتے۔ کمرے میں آواز گونجتی، آج تالہ بندی کے روز نامچے میں ….

” کتنے دن ہو گئے اس تالہ بندی کو، میں نے حساب رکھنا چھوڑ دیا ہے، حساب کا کیا فائدہ؟ کیا فرق پڑتا ہے کہ انیس دن ہو گئے یا تئیس۔ سارے دن ایک جیسے ہیں، یکسانیت کے مارے ہوئے، ٹھس اکتاہٹ سے بھرے، بے نمک۔ لگ رہا ہے ایک ہی دن مسلسل چلے جا رہا ہے “

” وبا کے دنوں میں عشقیہ افسانے پڑھنے والا بڈھا! نام سے دھوکا مت کھائیے، یہ میرے اعترافات نہیں ہیں مگر ہو بھی سکتے ہیں کہ ایسا تو میں ہوں اور ایسا کرتا ہوں “

” سوچو کبھی ایسا ہو تو کیا ہو؟ باہر سے کوئی اندر نہ آ سکے، اندر سے کوئی باہر نہ جا سکے۔ ہم تم اک گلشن میں بند ہوں اور بیماری آ جائے۔ لیکن سوچنے کی گنجائش اب کہاں رہی، اب دیکھو کہ ایسا ہو رہا ہے “

“میں فیس بک کے بے نام کھلاڑی کو بتاتا ہوں، میں یہاں نہ رہتا تو پھر یہاں کیوں آتا اور یہاں اس لئے رہتا ہوں کہ جانے کے لئے میرے پاس کوئی اور جگہ نہیں ہے۔ اب کچھ بھی ہو اب میں تالہ بندی کا شہری ہوں۔ بڑی سست روی کے ساتھ صبح کی روشنی پھیل گئی ہے۔ ہر طرف سناٹا ہے ایسے لگتا ہے سناٹے کے نیلے کانچ کے پیچھے سب بند ہیں “

“جوں جوں وبا پھیل رہی ہے اور اس کی زد میں آئے ہوئے لوگوں پر سختی بڑھتی جارہی ہے، مجھے قصے کہانیاں یاد آئے چلے جا رہے ہیں۔ مصیبت کے دنوں میں شاید ایسی مشکل پڑتی ہے کہ کہانیاں یاد آنے لگتی ہیں۔ بیماری کے گھیرے سے بچ نکلنے کی تڑپ، اس کے بعد قرنطینہ کا جبر اور قیدِ تنہائی کی سی کیفیت دل و دماغ کے اندر جھانکنے کا موقع دیتی ہیں”

” تالہ بندی کے دنوں میں فرصت ہی فرصت ہے، اتنی فرصت کہ سمجھ میں نہیں آتا کیاکروں۔ اتنی فرصت میرے لئے ایک نئی بات ہے، میں اس کا عادی نہیں ہوں۔ تالہ بندی سے پہلے میں اس فرصت کے لئے ترستا تھا”

” لوگ برابر مجھ سے پوچھتے رہتے ہیں کہ اس دوران کیا پڑھیں؟ لیکن میرے پاس اس سوال کا کوئی نیا جواب نہیں۔ لوگ وہی پڑھیں جو عام دنوں میں پڑھنے کے لائق ہے “

“ان کے اکسانے کی دیر تھی میں نے بھی کتابوں کے ڈھیر کے خواب دیکھنا شروع کر دیے۔ رتن ناتھ سرشار کے فسانۂ آزاد کے پرانے افیمچی یاد آگئے جو چنڈو خانے میں بیٹھ کر دُعا مانگتے تھے، مہنگا کر آٹا سستی کر افیم۔ اے کرونا وائرس کے والی وارث، کتابیں جمع کرنے کی مہلت دے دے۔ پھر اس دُنیا کو جی بھر کر تاراج کر!”

“جب سے میں نے اداکار ٹام ہینکس کی زبانی سُن لیا ہے کہ میرے عمر کے نوجوانوں کو زیادہ خطرہ لاحق ہے، خاص طور پر اگر وہ سرطان یا ذیابیطس میں مبتلا ہوں۔ اس کے بعد سے میں اپنی طرف بڑھتی ہوئی موت کی چاپ سُن رہا ہوں”

کیا واقعی؟

تالہ بندی کے دنوں میں رنگ رنگ کی انوکھی کہانیوں سے ہمارا دھیان بٹاتے اور دل بہلاتے، کسی نئی کہانی کی تلاش میں وہ بہت دور نکل گئے اور جاتے جاتے منٹو کے “ کھول دو”کو بند کرنے کی التجا بھی کر ڈالی کہ اب کھول دو کی رسوائی سوہان روح بن چکی ہے۔

“کاش کوئی دن ایسا بھی ہو کہ میں آتی دھوپ کو دیکھ کر آنکھیں میچ لوں اور ایسا بن جاؤں کہ کوئی آتا ہے تو آئے، میں نے دیکھا ہی نہیں۔ اور جب دیکھا ہی نہیں تو مجھ پر لازم بھی نہیں آتا”

آصف فرخی اپنی خواہش پوری کرنے کے لئے آنکھیں میچ کے قبر میں لیٹ چکے اور نہیں دیکھنا چاہتے کہ تالہ بندی کے کھلنے یا بند ہونے میں کون الوداع کہنے آیا اور کون نہیں!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

One thought on “ڈاکٹر آصف فرخی دوستوں کو جُل دے گئے

  • 08/06/2020 at 12:34 am
    Permalink

    بہت صاف ستھرا اور دل گداز، میں آصف، اب تو اُسے آصف صاحب کہنا ہو گا، اُس نے دوری جو پیدا کر لی ہے ایسی دوری جو پاٹی نہیں جا سکتی۔ میں آصف صاحب کے بارے میں اس لیے پڑھتا ہوں کہ جی پر آیا ہوا غبار کچھ کم ہواور آپ نے میری مدد کی ہے، شکریہ۔
    ـ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *