معاشرے میں رضاکار / رضاکاریت کی افادیت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھے جائیں تو عالم انسانیت کے آغاز سے لے کر آج تک معاشرے میں رضاکار یا رضاکاریت کا عنصر ہمیں اسی آب و تاب سے نظر آئے گا جیسا ہمیں آج معاشرے میں نظر آتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ معاشرے میں رضاکار اور رضاکاریت نے وقت کے تقاضوں کے مطابق اپنی ہیئت، فطرت، حیثیت، حتیٰ کے نام تک بدلا ہے لیکن مقصد ہمیشہ سے بلاغرض اور بلامعاوضہ انسانیت کی خدمت ہی رہی ہے۔ باقاعدہ طور پر رضاکاریت کی ابتداء ہمیں برطانیہ میں 12 ویں اور 13 ویں صدی میں قرون وسطیٰ کے زمانے سے ملتی ہیں تاریخ بتاتی ہے اس وقت برطانیہ میں کم ازکم 5 سو ہسپتال قائم کیے گئے جو رضاکارانہ طور پر بیماروں کی خدمت کرتے تھے۔

بنیامین فرینکلن نے 1736 میں امریکہ میں رضاکاریت کی بنیاد رکھی اور دنیا کا پہلا رضاکار فائر ہاؤس تیار کروایا۔ بنیا مین فرینکلن کے سوچ کی طوالت میں آج بھی امریکہ میں تقریباً 70 فیصد فائرفائٹرز رضاکارانہ طور پر ہنگامی صورتحال میں خدمات سرانجام دیتے ہیں۔ وقت گزرتا گیا اورعالمی ممالک میں ایک دوسرے پر فوقیت حاصل کرنے کا جنون پروان چڑھتا رہا اور مختلف ممالک کے مابین جنگیں ہوتی رہیں او رلاکھوں نفوس لقمہ اجل بنتی رہیں۔

پہلی جنگ عظیم اور دوسری جنگ عظیم کے دوران جب کروڑوں کی تعداد میں فوجی اور غیر فوجی نفوس (سویلینز) موت کا شکار ہوئیں تو اس وقت مرنے والوں کی لاشوں کی تدفین وغیرہ کے لئے رضاکاروں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعدرضارتنظیموں کی اہمیت بڑھ گئی اور رضاکاریت کے جذبے کی پذیرائی دنیا کے ہر ملک میں دیکھنے میں آئی۔ اسی دوران جنیوا میں ایک تنظیم کا سنگ بنیاد رکھا گیا جس کا دائرہ اختیار ابتداء سول آبادی اور عمارات کی حفاظت تک محدود رکھا گیا وقت کے ساتھ ساتھ اس تنظیم کے دستورالعمل میں ترامیم ہوتی گئی اور یہ تنظیم پہلے جنیوا زون، پھر بین الاقوامی تنظیم برائے شہری آبادی وتاریخی عمارات اور موجودہ دور میں بین الاقوامی تنظیم شہری دفاع کے نام سے جانی جاتی ہے۔ آج یہ تنظیم پاکستان سمیت کئی ممالک میں باقاعدہ ایک محکمہ کی شکل اختیار کرچکی ہے جبکہ کئی ممالک میں تاحال صرف رضاکارانہ تنظیم کے طور پر ہی انتہائی منظم طریقے سے خدمات سرانجام دے رہی ہے۔ آج دنیا بھر میں تنظیم شہری دفاع کے ہزاروں رضاکار رضاکارانہ خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

فلسفہ رضاکاریت دراصل فلسفہ انسانیت ہے رضاکار معاشرہ کے وہ طبقہ ہے جو بغیر کسی غرض کے انسانی خدمت میں اپنی تمام ترجیحات کو نظر انداز کرکے خدمت خلق کے لئے خود کو پیش کرتا ہے اس کا درس ہر مذہب، فرقے ا ور معاشرے میں ملتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ دنیا کے ہر ملک میں رضاکاروں کی مختلف تنظیمیں بنتی رہیں اور رضاکاریت کے رجحان کو فروغ ملتا رہا اور آج پوری دنیا میں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے رضاکار کسی صورتحال کو کنٹرول کرنے میں اپنے دائرہ اختیار اور مہارت کے مطابق سرکاری مشینری کے ساتھ معاونت کرتے ہیں۔

دنیا بھر کی طرح ہمارے ملک میں رضاکار تنظیموں کو فروغ ملا اور کچھ تنظیموں نے دنیا بھر میں ناصرف اپنی تنظیم بلکہ ملک کا نام بھی روشن کیا جن میں ایدھی، چیپا، الخدمت فاؤنڈیشن وغیرہ شامل ہیں۔ یہ قومی سطح کی تنظیمیں ہیں جو پورے ملک میں اتنی فعال ہیں کہ چھوٹے چھوٹے گاؤں تک ان تنظیموں کے رضاکار اپنی خدمات سرانجام دیتے ہیں۔ ہمارے ملک کی سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے بھی سالار، جیالے، ٹائیگرز وغیرہ کے نام دے کر اپنی جماعت میں رضاکار ونگز تشکیل دیے ہوئے ہیں اور ہر تنظیم کے رضاکار جلسے، جلوس اور سیاسی تقریبات میں رضاکارانہ طور پر ڈیوٹی سرانجام دیتے ہیں اور انتظامیہ سے معاونت کرتے ہیں۔ میرا مقصد ہرگز کسی بھی سیاسی جماعت پر تنقیدیا ان کی تائید نہیں بلکہ رضاکاریت کے فلسفے کے فروغ اور اس کی افادیت پر روشنی ڈالنا ہے۔

ترقی پذیر ممالک میں رضاکاریت کی افادیت یقیناً ترقی یافتہ ممالک سے زیادہ ہے قومی سطح پر دیکھیں تو چند رضاکارانہ تنظیمیں ایسی بھی ہیں جو مخیر حضرات کی مالی معاونت اور غیر سیاسی ہونے کی وجہ سے ہر دور میں حکومتی تعاون کی وجہ سے اتنی فعال ہوچکی ہیں کہ ان کے رضاکاروں کی تعداد آج ہزاروں میں ہے اسی طرح ان تنظیموں کی خدمات میں حادثات، قدرتی آفات، زخمیوں کی ہسپتال منتقلی، میتوں کی ایک شہر سے دوسرے شہر منتقلی اور لاوارث میتوں کی تجہیز و تدفین شامل ہیں۔

ملک میں چند بڑی رضاکارتنظیمیں ایسی بھی ہیں جو اپنے رضاکاروں کو ماہانہ وظیفہ بھی دیتی ہیں اور ان ہزاروں رضاکاروں کے ریکارڈ کو سنبھالنے کے لئے سیکڑوں کی تعداد میں ملازم بھی بھرتی کر رکھے ہیں۔ ان کے علاوہ ہمارے ملک میں ہر شہر، ہر قصبے، ہر گاؤں میں یونین کونسل، یہاں تک کہ گلی محلہ کی سطح پر رضاکار تنظیمیں ہیں اور جن کے ممبرز ماہانہ چندہ دیتے ہیں۔ حاصل شدہ رقم سے تنظیم کے انتظامی امور چلائے جاتے ہیں اکثر تنظیموں نے تو اپنے دفاتر بھی بنائے ہوئے ہیں اور اس قدر فعال ہیں کہ وہاں علاقے کی چھوٹے بڑے مسائل حل کیے جاتے ہیں اور حل طلب مسائل کو حکومتی سطح تک پہنچانے کے لئے بلاشبہ تنظیم سازی بہت مددگار ثابت ہوتی ہے۔

ان تنظیموں کے رضاکار اپنے علاقے کی سطح پر فلاحی کاموں میں بھی حصہ لیتے ہیں مثلاً حادثے کی صورت میں سرکاری اداروں کی آمد سے قبل ابتدائی طبی امداد، ریسکیو اداروں کے ساتھ مل کر زخمیوں کو ایمبولینس اور پھر ہسپتال تک پہنچانے میں مدد کرتی ہیں۔ رمضان المبارک، عیدین کے موقع پر مستحقین میں راشن اور امدادی پیکیجز بھی تقسیم کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح مساجد، امام بارگاہوں اور غیر مسلم عبادت گاہوں کی رضاکار تنظیمیں ہیں جو عمارت کی صفائی ستھرائی، سیکورٹی اور مذہبی اجتماعات کے دوران انتظامی امور وغیرہ کی ڈیوٹی بلامعاوضہ سرانجام دیتی ہیں۔

رواں سال کورونا وائرس جیسے وبائی مرض نے جہاں پوری دنیا کے نظام کو متاثر کیا ہے وہی دنیا بھر میں رضاکار تنظیموں کی ضرورت کو بھی شدت سے محسوس کیا جانے لگا ہے۔ ماہ فروری میں جب اس وبا نے ہمارے ملک پر اپنے وار شروع کیے تو حکومتی مشینری کو اس کی سنگینی کا ادراک تھا اور جہاں حکومتی سطح پر اس کی روک تھام اور اس کے اثرات سے نمٹنے کی تیاری شروع کردی گئی وہیں رضاکاروں کی اہمیت کو جانتے ہوئے صوبائی حکومتوں نے محکمہ شہری دفاع کو اپنے رضاکاروں کی تعداد میں اضافے اور ان کی تربیت فوری طور پر کروانے کے احکامات صادر کیے ۔

متاثرین کی تعداد میں اضافے کو دیکھتے ہوئے اس کو ناکافی سمجھا تو حکومت بلوچستان نے پورٹل کے ذریعے صوبے بھر سے رضاکاروں کو شامل ہونے کے لئے اشتہارات جاری کیے اور پورٹل کا اجراء کر دیا گیا جس میں ہزاروں کی تعداد میں غیور شہریوں نے ممبر شپ حاصل کی اور شہری دفاع، ڈاکٹرز، نرسنگ، انتظامی امور، آئی ٹی، الیکٹریشن، ڈرائیونگ وغیرہ جیسے شعبہ جات میں مہارت رکھنے والے افراد نے پورٹل کے ذریعے اپنی اپنی مہارت درج کرائی۔

اس کے بعد وفاقی سطح پر ملک بھر سے رضاکاروں کی بھرتی کے لئے پورٹل کا اجراء کیا گیا جس میں لاکھوں کی تعداد میں نوجوانوں نے خود کو رجسٹرڈ کرایا اور پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے مطابق یہ رضاکار مختلف امدادی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ بھی لے رہے ہیں۔ اس طرح حکومت کو ہر شہر، گاؤں، قصبے اور گلی محلے سے رضاکاروں کی نمائندگی ملی جس سے وبائی مرض سے متاثرین کے کوائف، لاک ڈاؤن سے متاثرین کے کوائف حاصل کرنا قدرے آسان ہوا ہے۔

مذکورہ بالا نقاط کی روشنی میں ہم آسانی سے فیصلہ کر سکتے ہیں کہ معاشرے کے لئے رضاکار کتنی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں اگر 22 کروڑ کی آبادی میں 5 کروڑ افراد چاہے وہ سرکاری ملازم ہوں، کاروباری ہوں، یا طالب علم ہوں خود کو بطور قومی رضاکار پیش کریں اور ان کی رجسٹریشن کا کوئی مستند نظام جیسا کہ نادرا کا ہے وضع کیا جائے تو شاید پورے ملک کی آبادی کی نمائندگی کر سکتے ہیں اور کوئی مسئلہ حل ہوئے بغیر نہیں بچے گا اور موجودہ بحرانی صورتحال میں اور خدانخواستہ مستقبل میں اس قسم کی کسی صورتحال میں مستحقین اور بے روزگار ہونے والے افراد کی نشاندہی سہل ہو جائے گی حکومتی امداد اور مخیر حضرات کی جانب سے دی جانے والی امداد مستحقین تک پہنچنا ممکن ہو سکے گا اور یہ ابہام باقی نہیں رہے گا کہ امداد مستحقین تک پہنچی ہے یا نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply