ڈھاڈری۔۔۔ ایک سوانحی ناول

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


اردو ادب میں سوانح نگاری اور ناول نگاری دو الگ اصناف نثر ہیں۔ سوانح ناول کی گنجائش قارئین کی دلچسپی کے عنصرکو بڑھانے کے لیے نکالی گئی لیکن کسی ناول کو سوانح قرار دینا ایسا کچھ آسان بھی نہیں جب تک متن میں ہر دو اصناف کے بنیادی اجزا دکھائی نہ دیں۔ ناول نگار کا نقطہ نظر ہی ناول کی ہیئت کا تعین کرتا ہے۔ آپ بیتی کے اسلوب میں ناول ڈرامائی فارم اختیار کرلیتا ہے تب جس زاویے سے کہانی بیان ہوتی ہے راوی کہانی کا کردار بن کر ابھرتا ہے۔

میلان کنڈیرا اپنے ناول Unbearable lightness of being میں لکھتا ہے ’ناول کسی مصنف کا اعتراف نہیں ہوتا بلکہ دنیا کے پھیلائے ہوئے جال میں گرفتار انسانی زندگی کی تحقیق اور تفتیش ہے‘ ۔ اب سوال یہاں اٹھتا ہے کہ ڈھاڈری سوانح ناول ہے یا نہیں؟ یوں تو ناول کے ابتدائی صفحے پر ایک نوٹ تحریر ہے جو ہمیں کہانی ’سراسر فکشن‘ کی تنبیہ کرتا ہے مگر مطالعہ کے بعد ثابت ہوتا ہے کہ اس ناول میں ڈھاڈر کا مقامی فرد جو کہانی کا مرکزی کردار بھی ہے، اس کے افعال، تجربات اور واقعات کا تانا بانا بن کر مصنف کہانی کی مکمل فضا کو افسانوی رنگ اور اسلوب میں ڈھالنے میں کامیاب دکھائی دیا۔

درہ بولان کے دھانے پر ایک زرخیز وادی ’ڈھاڈر‘ کے نام سے آباد ہے۔ ڈھاڈرمحمد وسیم شاہد کی جنم بھومی ہے جہاں سے ہجرت کے بعد وہ کوئٹہ چلے آئے یعنی بولان کا گرما چلتن کے سرما میں سما گیا۔ یہ متضاد آب وہوا کا کیسا کولاژ ہوگا اور پھر اس انوکھے موسم میں عشق کے پیڑ کی آبیاری بھی کچھ آسان نہ رہی ہوگی۔ دہکتے میدانوں کا سرد کہساروں سے عشق۔ ہر لمحہ ایک سو ایک ڈگری میں تپتے جسم کا یخ بدن سے ملاپ کیسا منفرد تجربہ ہوگا۔ جب میں نے یہی سوال وسیم شاہد سے کیا تو ہنس دیے اور جواب میں کچھ بھی نہ کہا اور کہہ بھی گئے، کے مصداق طویل گفتگو میں کیا کچھ یاد رکھنا تھا میری یاداشت کھو چکی ہے۔ بس اتنا یاد ہے کہ ابن انشا نے عالم ارواح سے آواز لگائی تھی ’ہم چپ رہے کچھ نہ کہا منظور تھا پردہ ترا‘ ۔ ہم دونوں بھی خاموش ہوگئے۔

ڈھاڈری کی کہانی کا آغاز ایک ادھیڑ عمر بلوچ کے طویل فلیش بیک سے ہوتا ہے اور واحد متکلم میں دائرہ مکمل کر کے اختتام دوبارہ ابتدا سے جڑ ت کرتا ہے۔ اس دائرے میں بچپن لڑکپن اور جوانی کے چنیدہ واقعات شامل ہیں جو ایک قدیم علاقے کے ذکر کا دامن تھامے آگے بڑھتے ہیں۔ ڈھاڈر میں مہر گڑھ کی تہذیب سانس لیتی ہے اور ایک ایسے قصبے کا سراغ ملتا ہے جہاں راوی کا جنم ہوا۔ وہ غربت جسے بلوچستان سے باہر بیٹھا شخص اخبار کے اشتہار کی مانند پڑھتا ہے راوی نے کلیجہ نکال کر ہتھیلی پر رکھ دیا۔

اس میں پنہاں درد وہی سمجھ سکتا ہے جس کا بچپن ننگے پاؤں گاؤں کی گلیوں میں گزرا ہو۔ کہانی کا ابتدائی حصہ ماں کے ذکر سے معطر ہے۔ ماں اپنے سب سے شرارتی بیٹے کے ہاتھوں زچ ہے اور مامتا ہے کہ اسے کھانا کھلائے بغیر چین سے سونا حرام سمجھتی ہے۔ یہ بلوچ بچہ ڈھاڈرمیں ہی نوجوانی کی دہلیز پر قدم رکھتا ہے۔ ڈھاڈر کا رند علی سکول، صحت کا نظام، کاشتکاری، لوگ باگ، کھیل، رسم و رواج وغیرہ کاتذکرہ تاریخی حوالوں کے ساتھ چلتا ہے۔

”ڈھاڈر کی وجہ تسمیہ کچھ یو ں بیان کی جاتی ہے کہ دشمنوں سے بچنے کے لیے اس شہر کے گرد فصیل تھی جس میں دس دروازے تھے، جنھیں بلوچی میں ’دہ در‘ یعنی دس دروازے کہا جاتا تھا۔ جو وقت کے ساتھ بدل کر ڈھاڈر ہو گیا لیکن آج کسی بھی سمت کسی دیوار کا کوئی نام و نشان باقی نہیں ہے۔ دوسرا غالب گمان یہ ہے کہ شہر میں داخل ہونے کو بولان کے پہاڑوں سے دس راستے نکلتے تھے یعنی ’دادر‘ جو بگڑ کر ڈھاڈر ہو گیا“ ص23

اس ناول کا عنوان ڈھاڈری کیوں ہے؟ دراصل راوی کہانی کا ہیرو ہے اور جب کہانی ڈھاڈر سے کوئٹہ سوئچ کرتی ہے تو بلوچستان کے سب سے بڑے اور جدید شہر میں بھی گاؤں کا پروردہ نوجوان اپنی شناخت اتارنے پر آمادہ نہیں ہوتا لیکن سماجی اور جغرافیائی تفاوت کے باوجود جذبات کے ہاتھوں ایسی اجنبی راہوں پر چلنا شروع کر دیتا ہے جن کی نادیدہ منزلیں اسے بلاتی ہیں اور یہیں سے کہانی تیز گام چلتی ہے۔ شہر میں نووارد ڈھاڈری نوجوان کالج جاتے ہوئے کیونکر پختہ گلیوں کے چوباروں سے جھانکتی آنکھوں کو نظر انداز کر سکتا ہے۔

کوئٹہ میں ’تھڑا بازی‘ کی روایت بہت پرانی ہے۔ بالخصوص گرما کی شاموں میں گلی محلوں بازاروں اور شاہراہوں کے کنارے من چلے جنوبی ہواؤں کے ہاتھ کیا کیا سندیس نہیں بھجواتے۔ کیا کیا فقرے نہیں اچھالتے۔ نگاہوں کی ڈور چھت پر چڑھے چاند سے الجھے یا پردے کی اوٹ سے جھانکتی رخسانہ کی کجراری آنکھوں سے لپٹ جائے۔ راوی نے پیچھے پلٹ کر نہیں دیکھا۔

’میں نے کیا ہی کیا ہے؟‘ ۔ یہ وہ واحد سوال ہے جو ناول لکھنے کا محرک بنا۔ ہم دانستہ نا دانستہ کسی کے جذبات سے کھیل جاتے ہیں۔ کسی کے دل کو ٹھیس پہنچاتے ہیں۔ کسی کے ارمانوں کا خون ہمارے کھاتے میں لکھا جا چکا ہوتا ہے اور کبھی چاہنے والوں کو یوں ٹھوکر مار کے گزر جاتے ہیں جیسے اس مٹی کے باوے میں دل نہیں دھڑکتا۔

اس ناول میں منفرد کیا ہے؟ دراصل کہانی کا بیانیہ ایسے عامیانہ واقعات کا تسلسل ہے جو کہ اب عام نہیں رہے مثلاًء07 کی دہائی میں بلوچستان کے دور افتادہ گاؤں کے سکول میں گجرات کے چودھری نیاز استاد مقررتھے۔ بلوچستان اور پنجاب کے تعلقات کی روشنی میں اب ایسی حقیقتیں خواب معلوم ہوتی ہیں۔ ایم اے جناح روڈ کوئٹہ پر غیر ملکی سیاحوں کا آزادانہ گھومنا پھرنا اور شہر واسیوں سے دوستیاں گھڑنا بھی آج کی نسل کو غیر حقیقی من گھڑت قصے معلوم ہوں گے۔ کوئٹہ کنٹونمنٹ میں انٹری پاس کے بغیر داخل ہونا بھی یاد کا حصہ ہوا۔ جب شہر کی سڑکوں پر کہیں ناکہ بندی نہیں تھی۔ جب کوئٹہ میں فقط بیس ہزار روپے میں پانچ مرلے کا مکان باآسانی مل جایا کرتا تھا۔ یہ ناول ناسٹیلجیا ہے۔

”ڈھاڈری“ کا کینوس بہت وسیع نہیں ہے۔ ناول کا راوی اپنے جوان سال بیٹے کے ساتھ کہانی کے آخر تک ماضی کے جھروکے میں کھڑا رہتا ہے۔ اس حوالے سے دو نسلوں کی کہانی مختلف حوالوں سے سامنے آتی ہے۔ نسلیں جو ایک دوسرے سے اختلافی سوچ رکھتی ہیں۔ یہ کہانی سادہ دل شدھ طبیعت ضدی اور غصیلے مگر عاشقانہ مزاج بشام کی ہے جو ڈھاڈر کی شفاف آب و ہوا کا پروردہ ہے۔ ایک روز قسمت اسے بکریوں کے ریوڑ سے مکتی دلا کر شہر لے گئی اور جنگل میں مور ناچنے لگا۔ نوجوان بشام کے معاشقے شروع ہوتے ہیں اور ناول کی ذیلی سطح میں قاری محسوس کرتا ہے جیسے ناول نگار تہذیبی رویوں کا موازنہ کرتے ہوئے بالآخر کسی ایک کے حق میں فیصلہ سنا کر پشیمانی کے ظلمت کدے میں قید ہوگیا ہے۔

رخسانہ، کنول، سنبل، مارٹینا کے بعد عروسہ پر فل سٹاپ لگتا ہے۔ یہ معاشقے دراصل محرومیوں کی دین ہیں۔ دیہی معاشرت میں جذباتی گھٹن کی نکاسی ہیں۔ شہری سماجیات میں اجنبی تعلقات سے شناسائی کا بہانہ ہیں۔ اس کے باوجود ناول نگار کا قلم نادیدہ زنجیر میں جکڑا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ وہ برہنہ گرم اجسام کا میلہ سجانے پر قادر تھا۔ جنسی تڑکے کے ساتھ قاری کے خون میں ابال لاسکتا تھا مگر چھوٹے قد کی فربہ جسم سنبل سے محبت کرنے والے بشام کو سماجی پابندیوں کے تابع رکھا جو قبائلی تربیت کا تقاضا تھی۔

ناول میں مصنف ہمیں ایک دیہاتی نوجوان کے کایا پلٹ کی داستان سناتا ہے۔ جو اپنی جڑوں سے خود کو علیحدہ کرنے کی کوشش میں بظاہر ناکام دکھائی دیتا ہے۔ اگر اس کردار کا بلوچستان کے قبائلی پس منظر میں تجزیہ کیا جائے تو حاصل جمع ماں کی زبانی یہی آئے گا کہ ’میرا بیٹا شریر ضرور ہو سکتا ہے مگر بے غیرت نہیں‘ ۔ اس کا دوسرا پہلو کچھ یوں اجاگر ہوتا ہے کہ انسان اپنی مٹی کو چھوڑ سکتا ہے مگر مٹی اس کے قدموں سے تاحیات لپٹی رہتی ہے۔ اس میں تربیت کا اضافی وصف بھی شامل کر لیجیے۔

وسیم شاہد نے کہانی کے پہلے حصے میں بالخصوص بلوچستان کی تہذیبی روایات اور سماجی زندگی کے روشن اور تاریک پہلو اجاگر کیے ہیں۔ ظاہر ہے یہ طبقاتی شعور انھیں اعلٰی تعلیم نے عطا کیا۔ انھوں نے ڈھاڈر میں قریب سے عام لوگوں کے مسائل کا مطالعہ کیا۔ دیہی تنازعات، روایت پرستی، مذہبی عقیدت مندی، خوف، جہالت، خود غرضی، معاشی بدحالی پر چنیدہ واقعات میں خوب مہارت سے قلم اٹھایا کہ ناول میں واقعات کا تنوع ہے۔ ناول نگار نے جہاں بلوچستان کے تاریخی پس منظر کو بیان کیا ہے وہیں ء07 اور ء08 کی زندگی کے بارے میں بھی معلومات فراہم کی ہیں۔ اسی طرح روزمرہ کے معاملات پر لوگوں کے خیالات سامنے آتے ہیں۔ ناول میں واقعات کی ترتیب کا فطری بہاؤ دلچپ ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ دلچسپ پلاٹ کی تشکیل کے بغیر قاری کی توجہ ناول میں زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہ سکتی۔ مذکورہ ناول میں مختلف مقامات پر قاری کی دلچسپی اور تجسس موجود ہے گویا ناول کے پلاٹ کی تشکیل ماہرانہ انداز میں کی گئی ہے۔ فنی باریکیوں کو پیش نظر رکھ کر موضوعاتی اعتبار سے کرداروں کو پیش کیا گیا ہے۔ ناول میں موجود کرداروں کے ذریعے بلوچستان کی تہذیبی زندگی کی عکاسی ملتی ہے۔

ناول کثیر کرداروں پر مشتمل ہے۔ ڈھاڈری کے تقریباً تمام کردار بلوچستان کے مخصوص ماحول اور سماج کے نمائندہ ہیں۔ پہلا اور مرکزی کردار بشام ہے جس کے علاوہ سبھی کردار ایک مخصوص ٹائم فریم میں دکھائی دیتے ہیں۔ مثلاً ماں کا کردار ناول کے اوائل میں جاندار اور موثر دکھائی دیتا ہے اس کے بعد طویل خاموشی ہے اسی طرح سنبل کا کردار خاصا اہم ہے لیکن ناول کے مکمل پلاٹ میں دکھائی نہیں دیتا۔ چند کردارکہانی کے مختلف حصوں میں وقفے وقفے سے نمودار ہو کر آخر تک ساتھ چلتے ہیں مثلاً بشام کی دوسری محبوبہ کنول کا کردار۔ جبکہ کچھ ایسے مختصراہم کردار بھی ہیں جو واقعاتی سطح پر رونما ہوتے ہیں اور پھر کہانی سے یکسر غائب ہو جاتے ہیں۔ مثلاً مارٹینا، رخسانہ، باپ، بھائی، چاچا چھپکلی، واجد اور دوست وغیرہ۔ ان میں چاچا چھپکلی اور مارٹینا (جو ایک غیر ملکی سیاح ہے ) کے خاکے دلچسپ ہیں۔

مصنف ناول کے موضوع، کرداروں اور سماجی ثقافتی پس منظر سے بخوبی آگاہ ہے چنانچہ ڈھاڈری میں جزیات نگاری بھی عمدہ ہے۔ بالخصوص گاؤں کی معاشرت کو بیان کرتے ہوئے چھوٹی اور غیر اہم باتیں بھی نظر انداز نہیں کی گئیں جن سے ہمیں مقامی رہن سہن سے مکمل آگاہی ملتی ہے۔

کامیاب منظر نگاری ناول میں چار چاند لگا دیتی ہے۔ یہ منظر نگاری ہی ہے جس سے کہانی کے زمان و مکان کا پتہ ملتا ہے۔ بالعموم کوئٹہ اور بالخصوص ڈھاڈر کا نقشہ ایسا عمدگی سے کھینچا گیا ہے کہ ایک دور افتادہ گاؤں کا فطری حسن نگاہوں میں گھوم جاتا ہے۔

”شدید گرمیوں کے دن تھے۔ رات میں ماں دو درختوں کے درمیان رسیاں باندھ کر نیچے لکڑی پھنسا کر کافی اونچا جھولا بنا لیتی پھر اس لکڑی پر کوئی دری وغیرہ ڈالتی۔ جھولے کے نیچے ہم سب بہن بھائی اپنی اپنی چارپائیاں لگاتے۔ ماں جھولے کے بیچ میں لگی لکڑی سے دوسری رسی باندھ کر زور زور سے جھلاتی۔ دری کے ہلنے سے ہوا چلنے لگتی اور ہم بہن بھائی مزے سے سوجاتے۔ ماں ساری رات پنکھا جھلتی رہتی۔ کبھی ہاتھ سے تو کبھی پاؤں سے۔ نیند کا غلبہ ہوتا تو ایک لمحے کو سو بھی جاتی۔ موقع کا فائدہ اٹھا کر مچھر ہم پر ٹوٹ پڑتے۔ کوئی بچہ اٹھ کے رونے لگتا اور ماں جاگ کے پھرسے پنکھا جھلنا شروع کر دیتی۔ اس طرح ساری گرمیاں گزرجاتیں“ ص96

”کوئٹہ کے آسمان میں کالے بادلوں نے ڈیرے ڈال رکھے تھے۔ گواڑخ، بوئے مادران اورجنگلی چنبیلی کی خوشبوؤں سے مہکتی ہوائیں شہر باسیوں کو مدہوش کر رہی تھیں۔ نصیرآباد، سبی اور جیکب آباد سے گرمیاں گزارنے آئے قلفی گولہ گنڈے اور فالسے بیچنے والے روڈ کنارے اپنی ریڑیوں پر مست سو رہے تھے۔ ٹھنڈی ہواؤں نے کوئٹہ پر جادو سا طاری کر دیا تھا۔ سکوت ایسا جیسے میں بچپن میں سنی کہانی ’سویا ہوا محل‘ کا کوئی کردار ہوں۔ ہرطرف خاموشی۔ ایسی خاموشی جیسے شہر کے سب لوگ کہیں کوچ کر گئے ہوں۔ دنیا کا ہر جاندار ابدی نیند سو گیا ہو اور میں دوسرا جنم پا کر چاند نی رات میں اکیلا مہرگڑھ کے ہزاروں سال پرانے کھنڈرات میں اپنی محبوبہ کو ڈھونڈنے واپس پلٹا ہوں۔ ہاں محبوبہ۔ ۔ ۔ مجھے ایسا محسوس ہورہا ہے جیسے مجھے عشق ہو گیا ہے“ ص651

ناول کی زبان میں مقامیت کا لہجہ غالب ہے۔ بلوچستان میں اردو کبھی بھی دہلی لکھنو کے دبستانوں سے مکمل فیضیاب نہیں ہوسکی۔ بالخصوص نثر مقامی زبانوں کے اثرات سے مبرا نہیں۔ مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ اگر بلوچستان کے ادباء نثراور شعرمیں قلم کی روانی تیزکردیں تو مستقبل قریب میں بلوچستان کا اپنا اردو دبستان تشکیل پا سکتا ہے۔

ڈھاڈری کی زبان صاف، سادہ اور رواں ہے۔ چند جگہوں پر املا کے مسائل ہیں جنہیں یقیناً اگلے ایڈیشن میں درست کر لیا جائے گا۔ مصنف نے یوں مختلف کرداروں کے لسانی فرق کو ملحوظ رکھنے کی کوشش کی ہے کہ تفصیلی انداز اور بیانیہ انداز قاری کی طبیعت پر گراں نہیں گزرتا بلکہ قاری کرداروں کی نفسیات کو زیادہ بہتر طور پر سمجھ سکتا ہے۔ مکالمہ نگاری بھی عمدہ ہے جو کرداروں کے ماحول اور احساسات کی بھرپور ترجمانی کرتی ہے۔

”اؤ خدا کی بندی! اپنا نہیں تو میرا اور اپنے باپ بھائیوں کا ہی کچھ خیال کر۔ یہ وقت ہے کسی لڑکی کا یوں گھومنے یا کسی کو ملنے آنے کا؟ اگر کسی نے دیکھ لیا تو میں جان سے جاؤں گا“ ص841

”خان صاحب اچھی بکری بنائی ہے آپ نے“ انسپکٹر صاحب نے بلیک بورڈ کی طرف دیکھتے ہوئے تعریف کی۔
”سر بکری نہیں ہم نے تو گائے بنایا ہے“ ماسٹر صاحب نے معصومیت سے جواب دیا۔ ص84

محمد وسیم شاہد نے اس ناول میں زندگی کی تمام پیچیدگیوں کو انتہائی سہل انداز میں سچائی کے ساتھ بیان کیا ہے۔ ان کا قلم سفاک نہیں ہے کہ وہ عام سادہ کرداروں کے صرف مثبت رخ ہی سامنے لائے ہیں۔ ناول میں ایسا کوئی موڑ نہیں آتا جس کے بعد قاری کو گھن محسوس ہو۔ شاید یہی سوانح ناول کا کمال ہے کہ اگر مرکزی کردار کے گرد زندگی کا پھیلاؤ شفاف تالاب کی مانند ہے تو لکھاری چاہتے ہوئے بھی پانی گدلا نہیں کر سکتا۔

ڈھاڈری کیوں لکھا گیا؟ اس کا جواب کچھ یوں سمجھ میں آتا ہے کہ وسیم شاہد بلوچستان واسیوں کی احساس محرومی کو اجاگر کرنے کے خواہاں ہیں۔ یہی محرومیاں ایک معصوم بچے کے ساتھ جوان ہوتی ہیں اور جذبات کا مثبت منفی اظہار مانگتی ہیں۔ دور افتادہ گاؤں کا مقیم شہروں کی نفسیات باآسانی سمجھ سکتا ہے نہ قبول کرتا ہے۔ نتیجتہً خود کو بند گلی میں کھڑا پاتا ہے۔ ڈھاڈری کسی مخصوص نظریے رحجان کی عکاسی نہیں کرتا۔ یہ مجموعی طورپرایک رومانی ناول ہے جس میں بولان کا مغرور شہزادہ چلتن کی دیویوں پر فدا ہے مگر ایک دیوی ایسی بھی ہے جس نے شہزادے کو بالآخر شاہ سے فقیری کی منصب پر لا بٹھایا۔

اردو ادب کے قارئین بالخصوص موجودہ نوجوان نسل کے لیے بلوچستان بارے لکھا گیا فکشن ناکافی ہے بلکہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے۔ ایسے میں وسیم شاہد کے دونوں ناول ’دیپ کی لو پہ شبنم‘ اور ’ڈھاڈری‘ ادبی لائبریری میں خوشگوار اضافہ ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
فارس مغل کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *