زرتاج گل بمقابلہ فواد چوہدری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


یہ دور سوشل میڈیا کا ہے اور اس بارے میں کوئی حتمی رائے یا اندازہ قائم کرنا قطعی ممکن نہیں کہ کب تک سوشل میڈیا کی حکمرانی انسانی اقدار اور اقوام کی سوچ پر حاوی رہے گی، البتہ یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ کم از کم مستقبل قریب میں اس کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔

حقیقتاً بہت پرانے گم ہوئے روابط اسی سوشل میڈیا کی مرہون منت بحال ہوئے۔ بچپن کے ساتھی پچپن برس میں دوبارہ سے ایک دوسرے کے ساتھ آ کھڑے ہوئے۔ جو بات بیان کرنے کے لئے پہلے کئی کئی دن لگ جاتے تھے اب چند منٹوں میں وہ ہر ایک کی آواز بن جاتی ہے، حقیقتاً اب یہ قول سمجھ آیا کہ ”زبان خلق نقارہ خدا“ کیسے بنتی ہے۔ ۔ ۔

سوشل میڈیا جہاں معاشرے کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرنے میں ایک کلیدی کردار ادا کرتا نظر آتا ہے وہیں یہ بہت سے پنہاں اسرار و رموز کی پردہ فشانی بھی کرتا ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت بن چکا ہے کہ جس سے انکار اب ممکن نہیں، نہ چاہتے ہوئے بھی جبلت انسانی بنی آدم کو اس گرداب میں کھینچے چلی جارہی ہے۔ ۔ ۔

عملآ جہاں سوشل میڈیا معلومات عامہ کا سستا ترین اور سہل ذریعہ بن چکا ہے وہیں بسا اوقات یہ انتہائی ذاتی نوعیت کے موضوعات کی آماجگاہ بھی بنا نظر آتا ہے۔ ۔ ۔ گھر میں پکے سالن سے لے کر اولاد کی اپنے ماں اور باپ کے لئے دلی محبت اور ہر قسم کے ازدواجی جذبات اور تعلقات کی سر عام تشہیر، امیر کی شاہ خرچیاں اور غریب کی ٹوٹی ہوئی جوتی، کیا ہے جو آپ اس سوشل میڈیا پر نہیں دیکھ پاتے اور اس سے محظوظ نہیں ہوتے۔ ۔ حد تو یہ ہے کی خبر جتنی سنسنی خیز مواد پر مشتمل ہوگی ہم اتنا ہی زیادہ اس خبر کی نہ صرف خود تشہیر کا باعث بنتے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دینا اپنا دینی اور آئینی فریضہ سمجھتے ہیں۔ ۔ ۔

اس بات سے ذرہ برابر اختلاف نہیں کہ عوامی نمائندے عوامی ترجمان ہوتے ہیں اور بلاشبہ ان کا کہا گیا ہر لفظ ایک خاص اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے ہر ایک نگاہ ان کی جانب اٹھی رہتی ہے، ہر سماعت انہی کی جانب مبزول ہوتی ہے۔ قطع نظر اس کے کہ یہ عوامی نمائندے بھی اسی بنی نوع انسان میں سے ہیں اور دوسرے لوگوں کی طرح یہ بھی خطاؤں کے مرتکب ہوتے رہتے ہیں، ان عوامی نمائندوں کے پاس غلطی کی گنجائش نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔

اور اس گنجائش کے نہ ہونے کے ذمہ دار کوئی اور نہیں بلکہ یہ نمائندے خود اور ان کے عوام سے کیے گئے وہ وعدے اور قول و اقرار ہوتے ہیں جو وہ اپنی الیکشن مہم میں دانستہ اور غیر دانستہ طور پر عوام سے کر بیٹھے ہوتے ہیں۔ ۔ ۔ اس وقت یہ اپنی جیت اور بظاہر ہر لمحہ قریب ہوتی ہوئی سرکاری کرسی کے سحر میں اتنے کھو چکے ہوتے ہیں کہ انہیں خیال نہیں رہتا کہ اب وقت بدل چکا ہے۔ ۔ ۔ اب ان کے عوام سے کیے گئے وعدے بھولی بسری یادیں نہیں بلکہ اک عذاب مسلسل کی صورت میں تواتر سے ان پر وقتاً فوقتاً برستے رہیں گے۔ ۔ ۔

سیاستدانوں کو اب اس بات کا ادراک کرلینا چاہیے کہ عوام کی بے صبری اب بہت بڑھ چکی ہے، یہ احتساب کے لئے 5 سال کے انتظار کے بالکل بھی روادار نہیں۔ یہاں آپ نے کچھ کہا نہیں اور وہیں اگلے چند منٹوں میں یہ اپنی عدالت لگا کر آپ کو سمن بھیج دیتی ہے۔ لہازا اب ان عوامی نمائندوں کے پاس ”غلطی جی گنجائش کونہ“ ۔ ۔ ۔

یہاں کسی کو استثنا حاصل نہیں کیا وزیراعظم، سفیر اعظم، سینیٹرز، پارلیمینٹیرئنز، بیوروکریسی، جج حضرات اور خیر سے اب تو افواج اور دوسرے سویلین ادارے سب ہی اس کٹہرے میں کھڑے اپنے اپنے مقدمات کا دفاع کرتے نظر آتے ہیں۔ کچھ تو اس عدالت سے سرخرو ہو جاتے ہیں اور کچھ مختلف نوعیت کی سزائیں اپنے دامن میں سمیٹے کبھی شرمندہ اور کبھی ہزیمت کا سامنا کرتے نظر آتے ہیں۔۔۔ انہی سزا یافتہ مجرموں میں چند ایسے بھی ہوتے ہیں جو انہی سزاؤں سے شہرت سمیٹنے کا گر بھی جانتے ہیں۔ ۔ ۔ کیونکہ وہ اس یقین کامل کے ساتھ ہر سزا کو خوشدلی سے نہ صرف قبول کرتے ہیں بلکہ اپنے سینے پر ایسے سجائے پھرتے ہیں جیسے تمغہ شجاعت حاصل کر لیا ہو، اور کچھ تو باقاعدگی سے اس طرح کے جرائم کے جان بوجھ کر مرتکب ہوتے رہتے ہیں کہ یوں وہ اپنے ہونے کا احساس دلاتے رہنا چاہتے ہیں۔ ۔ ۔

انہی میں سرفہرست ہیں وزیر سائنس اور ٹیکنالوجی جناب فواد چوہدری صاحب۔ ۔ ۔ موصوف چونکہ خود بھی صحافت کے میدان کے منجھے ہوئے کھلاڑیوں میں سے ہیں، لہذا کا خوب سمجھتے رکھتے ہیں کہ وہ کیسے تازہ ترین خبروں کی زینت بنے رہیں اور موضوع سخن ان کی ذات رہے، چونکہ وہ وکیل بھی ہیں۔ لہذا انتہائی سمجھداری سے اپنے اوپر قائم کیے گئے مقدمات کا سوشل میڈیا پر نہ صرف دفاع کرتے نظر آتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اپنے حریفوں کو اپنا حلیف بنانا بھی خوب جانتے ہیں۔

مزید برآں وہ ان جرائم کو اپنی ذاتی تشہیر کا بہت بڑا ذریعہ بھی سمجھتے ہیں۔ فواد صاحب کا حال اس چور جیسا ہے جو عوام پر صرف اپنی دھاک بٹھانے کی غرض سے علاقے کے ہر قسم کے جرائم اپنے سر لے لیتا ہے اور دوسری طرف پولیس کے تشدد سے اپنے آپ کو بچانے کے لئے اقرار جرم اور آخر میں عدالت عظمیٰ کے سامنے ہر قسم کے اپنے دیے گئے بیان سے منحرف ہونا بھی بخوبی جانتا ہے۔ ۔ ۔ یوں وہ نہ صرف ایک نفیس مجرم بلکہ ”آگاتھا کرسٹی“ کے ناولز کا ایک جیتا جاگتا، چلتا پھرتا کردار بھی نظر آتا ہے۔ ۔ ۔

بات چاند کی ہو یا سورج کی، مخالف مفتی منیب ہوں یا مفتی پوپلزئی، حد تو یہ کہ فواد چودری صاحب اپنے پارٹی قائد کو بھی اپنی لچھے دار باتوں کے ذریعے وقتاً فوقتاً لبھانے کا گر رکھتے ہیں۔ یہاں میں جسارت کرتے ہوئے انہیں سیاستدانوں کی ”میرا جی“ کے لقب سے نوازنا چاہوں گا، امید ہے فواد چوہدری صاحب اسے بھی اپنے لئے ایک اعزاز سمجھیں گے۔ ۔ ۔

پچھلے چند روز سے سوشل میڈیا میں زرتاج گل صاحبہ کے ایک بیان کا چرچا ہے، جس میں انہوں نے کرونا وائرس سے متعلق کچھ ایسی بات کہہ ڈالی کہ اب اس کا طوفان سمیٹے نہیں سمٹتا۔ اب یہ آپ زرتاج گل صاحبہ کی کم علمی کہ لیں یا پھر لاپرواہی کہ ان سے ایک ایسی بات ہوگئی جس نے ہرکس و ناکس کو ان کے بیان سے متعلق کچھ نیا کہتے، سنتے اور لکھتے دیکھا۔ روزانہ کی بنیاد پر ایک سے بڑھ کر ایک سوشل میڈیا پوسٹس تیار ہو رہی ہیں جو کہ اپنے اندر لوگوں کی تفریح کا سامان لئے ہوئے ہیں۔

بدقسمتی سے اب ہماری پاکستانی قوم کی واحد تفریح صرف یہی رہ گئی ہے، جس میں ہم اجتمائی طور پر یک زبان ہو کر کسی ایک فرد واحد کے گرد ہو جاتے ہیں اور اپنا گھیرا اتنا تنگ کردیتے ہیں کہ مخالف کو سانس لینا بھی دشوار ہوجاتا ہے، نتیجتاً یا تو وہ اپنی ہار تسلیم کرتے ہوئے ہمآری جیت کا اعلان کردیتا ہے یا پھر ہم سے علانیہ معافی کا طلبگار ہوتا ہے۔۔۔ جہاں یہ سب کچھ ہمیں ایک خاص خوشی کا احساس دلاتا ہے وہیں یہ اس بات کا بھی اقرار ہے کہ اب ہم صرف ایک ایسی قوم بن کر رہ گئے ہیں جس کا پسندیدہ مشغلہ ”جگت بازی“ ہے۔

ویسے بھی من حیث القوم ہم مختلف قسم کی عناد میں گھرے ہوئے ہیں اور اسی عناد پسندی کی وجہ سے دوسروں پر کیچڑ اچھالنا نہ صرف اپنا قومی کھیل بنا چکے ہیں بلکہ اسے باقاعدہ ایک فریضہ کے طور پر نبھاتے نظر آتے ہیں۔ کبھی یہ کیچڑ گاڑی والا موٹر سائیکل سوار پر اچھالتا نظر آتا ہے تو کبھی کسی کے منہ سے نکلی ہوئی پان کی پچکاری کسی کے کپڑوں کو داغدار بناتی چلی جاتی ہے، کبھی کسی کی نمازیں ہمیں بے سود نظر آتی ہیں تو کبھی کسی کا کسی دوسرے کی مدد کرنا صرف ایک دکھلاوہ، کبھی ہمیں ہر دوسرا شخص بے ایمان نظر آتا ہے تو کبھی ہمیں اپنی بھوک مٹانے کے لئے ایک روٹی چوری کرنے والا جہنمی۔ ۔ ۔ غرض ایک ختم نہ ہونے والی الزامات کی فہرست ہے جسے بنیاد بنا کر ہم ہر دوسرے شخص کو چور اور مجرم کے طور پر کٹہرے میں کھڑا کر دیتے ہیں۔۔۔۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *