سید منور حسن: ایسا کہاں سے لاؤں۔۔۔۔!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دکھ ہے کہ بیان سے باہر ہے۔ وبا کے ہنگام کہ جب بے چینی اور خوف نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں دھرتی کے روشن چراغ بجھتے جاتے ہیں۔ خیر بانٹنے والے رخصت ہوئے جاتے ہیں۔ یوں کہ جیسے تسبیح کے ٹوٹنے پر دانے گرتے ہی چلے جاتے ہیں۔

ستارے روز ٹوٹ کر گرتے ہیں
غضب ہوا آج تو، آفتاب ٹوٹا ہے

تقسیم ہند سے چھ برس قبل مسلم لیگ سے وابستہ سید خاندان میں اک چراغ ”منور“ ہوا۔ کیا خبر تھی کہ متحرک لے گیخاتون اصغری بیگم کے آنگن میں پلتا بڑھتا ”منور حسن“ نامی چراغ سات دہائیوں تک اپنی حریت فکر و عمل، حق گوئی و بے باکی اور دیانت و امانت کی روشنی پھیلاتا رہے گا۔ متحرک طالب علمانہ زندگی گزارنے والا منور حسن خاندانی نظریات سے ہٹتے ہوئے کارل مارکس کے کمیونزم سے ایسا متاثر ہوا کہ ترقی پسندوں پر مشتمل بائیں بازو کی طلبہ تنظیم نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن (NSF) میں اپنی صلاحیتیں کھپانے لگا۔

کامریڈ منور حسن اپنے نظریات اور مشن سے مخلصانہ لگاؤ کی بنا پر جلد ہی این ایس ایف کراچی سرکل کے صدر چن لیے گئے۔ سنہ ساٹھ میں گریجویشن کی۔ گریجویشن کے بعد ایک برس لا کالج کی خاک چھانی۔ ماسٹرز واسطے جامعہ کراچی جا پہنچے۔ جامعہ کراچی میں مختلف طلبہ تنظیموں کے درمیان ہوتے مباحث اور لٹریچر کے تبادلے دوران سید ابو اعلیٰ مودودی کی تحریریں نظر سے گزریں۔ سید مودودی کی تحریروں نے کامریڈ منور حسن کے اشتراکی نظریات پر ایسا تیشہ چلایا کہ این ایس ایف کراچی سرکل کی صدارت تج کر اسلامی جمعیت طلبہ میں آن وارد ہوئے۔ اپنی حاضر جوابی، شستہ تقریروں اور قائدانہ صلاحیتوں کے بل بوتے پر جلد ہی اسلامی جمعیت طلبہ کے رکن سے ناظم اعلیٰ کے منصب پر جا پہنچے۔

ایوب خان کی آمریت کا سورج نصف النہار پر تھا جب منور حسن نے مجاہدانہ بانکپن کے ساتھ طلبہ تحریک کی قیادت کرتے ہوئے آمریت کو للکارا اور اسی پاداش میں جیل کی ہوا کھائی۔ مسلسل تین ادوار جمعیت کے ناظم اعلیٰ رہنے کے بعد سنہ سڑسٹھ میں جب ایوب خان کی آمریت کا جبر تمام ہونے کو تھا تب جماعت اسلامی کے قافلے کا حصہ بنے۔ سنہ ستتر کے قبل از وقت منعقد ہونے والے انتخابات میں کراچی کے علاقہ ملیر سے اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد ”پاکستان نیشنل الائنس“ (PNA) کی ٹکٹ پر حصہ لیا۔

پیپلز پارٹی کا گڑھ سمجھے جانے والے حلقہ انتخاب سے شاعر و دانشور جمیل الدین عالی کو چالیس ہزار کے مارجن سے ہرانے والے منور حسن نے ملک بھر میں سب سے زیادہ ووٹ لینے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔ بعد از الیکشن اپوزیشن جماعتوں نے دھاندلی کا غلغلہ بلند کیا۔ الیکشن میں دھاندلی کو بنیاد بنا کر بھٹو کے خلاف ملک گیر تحریک چلائی گئی۔ ”نظام مصطفی“ نامی تحریک جو شروع تو الیکشن کے دوبارہ انعقاد واسطے ہوئی تھی لیکن انجام کے طور پر اس کے بطن سے ضیا کے مارشل لا نے جنم لیا۔ شومئی قسمت کہ منور حسن انتخاب جیت کر بھی ممبر قومی اسمبلی کا حلف نہ اٹھا سکے۔

نوے کی دہائی میں پہلے جماعت اسلامی کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل پھر مرکزی سیکرٹری جنرل منتخب ہوئے۔ سادگی کے پیکر سید زادے نے منصورہ مرکز میں سترہ برس تک اپنے فرائض منصبی ایک کمرے پر مشتمل فلیٹ میں رہ کر نبھائے۔ تحریک کے مشن و مقصد سے مخلصانہ لگاؤ، بندوں کو بندوں کی غلامی سے نجات دلا کر ایک خدا کی غلامی میں لانے کی تڑپ و جستجو اور بغیر کسی لگی لپٹی کے تلخ سے تلخ بات اپنے نستعلیق لہجے میں کہہ دینے والے منور حسن سنہ دو ہزار نو میں جماعت اسلامی کے چوتھے امیر منتخب ہوئے۔

قومی و سماجی ایشوز پہ سیدی دو ٹوک رائے رکھنے والے سیاستدان تھے۔ سیاست کی مصلحتوں سے بے نیاز جس موقف کو درست سمجھتے بغیر کسی لگی لپٹی کے کہہ گزرتے۔ سنہ دو ہزار گیارہ میں سی آئی اے کے ریمنڈ ڈیوس نامی ایجنٹ نے لاہور کی شارع عام پر دو پاکستانی افراد کو گولیوں سے بھون ڈالا۔ ریمنڈ گرفتار ہوا۔ کورٹ میں مقدمہ چلا۔ امریکہ نے پاکستانی حکام پہ ریمنڈ کی رہائی واسطے دباؤ ڈالنا شروع کر دیا۔ ریمنڈ کے خلاف ملک بھر سے جو توانا آواز اٹھی وہ جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن کی تھی۔ جماعت نے ملک گیر سطح پر مظلوم مقتولین کے حق میں مظاہرے کیے۔ لیکن شومئی قسمت کہ ہمارے خفیہ اداروں کی معاونت سے دیت کی رقم دے کر ریمنڈ ڈیوس چلتا بنا۔

سیدی دنیاوی خداؤں کی قوت و طاقت سے زندگی بھر بے نیاز رہے۔ بے خوفی کی زندگی گزارنے والے سیدی طاقت کو دلیل تسلیم کرنے سے انکاری تھے۔ گاہے ریاستی اداروں کی پالیسز پر کڑی تنقید کرتے۔ ایسی کہ بہت سے انگشت بہ دنداں رہ جاتے۔ مگر کبھی پائے استقلال میں لغزش نہ آنے پائی۔ جبری گمشدگیوں کے خلاف بلوچ قبائل کی آواز میں آواز ملانے میں سب سے آگے رہے۔ ایسے وقت میں کہ جب قومی سیاسی رہنما مصلحت کی چادر تانے خاموشی کو عافیت جانتے، سیدی آگے بڑھے، بلند آہنگ کے ساتھ ریاستی اداروں کی ماورائے عدالت جبری گمشدگیوں اور وحشیانہ سزاؤں کی ڈنکے کی چوٹ پر مخالفت کی۔

نائن الیون کے سانحہ کے بعد امریکہ پھنکارتا، دھاڑتا اور چنگھاڑتا ہوا افغانستان پر چڑھ دوڑا۔ لاکھوں لوگ جس کی بربریت کا نشانہ بنے۔ وطن عزیز پر مسلط آمر مشرف امریکہ سے رہ و رسم بڑھانے واسطے جنگ میں اتحادی بن کر صف اول میں جا ٹھہرا۔ افعانیوں کے قتل عام میں ملوث امریکہ کی ہر حوالے سے سہولت کاری کی۔ امریکہ کے صف اول کے اتحادی ہونے کے سبب افغانستان پر مسلط نیٹو افواج کو سپلائی واسطے راہداری اور ہوائی اڈے مہیا کیے گئے۔

دیکھتے ہی دیکھتے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں بھی امریکی ڈرون حملے شروع ہو گئے۔ جن میں سیکڑوں معصوم پاکستانی لقمہ اجل بنتے رہے۔ ڈرون حملوں پر حکومتی موقف مرعوبیت اور مصلحت پر مبنی ہوتا۔ ڈرون حملوں کے خلاف اٹھنے والی توانا آوازوں میں سید کی آواز بھی گونجتی رہی۔ مگر نقار خانے میں طوطی کی آواز بھلا کہاں سنی جاتی ہے؟ قبائلی علاقوں میں امریکی آشیرباد سے ہونے والے فوجی آپریشنز کی بھی سیدی نے بلاخوف وخطر مخالفت کی۔ موجودہ وزیر اعظم عمران خان کے تسلسل کے ساتھ حالیہ بیانات کہ ہم نے افغانستان کے خلاف امریکہ کا اتحادی بن کر غلطی کی۔ سیدی کے موقف کی تائید ہے کہ امریکی مفادات کی تکمیل کرتی جنگ کبھی ہماری تھی ہی نہیں۔ بلکہ ہم ”کرائے کے بدمعاش“ کا کردار ادا کرتے رہے۔

سیدی عملاً اس شعر کی تجسیم تھے ‏ کہ
‏کہتا ہو‌ وہی بات سمجھتا ہوں جسے حق
نہ ابلہ مسجد ہوں، نہ تہذیب کا فرزند

سیدی کے نکتہ نظر سے اختلاف کیا جا سکتا ہے مگر ان کی دیانت و اخلاص کا اعتراف کیے بنا چارہ نہیں۔ اصولوں پر ڈٹ جانے والا یہ مرد مجاہد جب کسی کام کو سر انجام دینے کی ٹھان لیتا تو کشتیاں جلا کر اس کی تکمیل میں اپنی تمام تر صلاحیتیں صرف کر ڈالتا۔ جدوجہد سے بھر پور زندگی گزارنے والے سیدی کردار کے ایسے اجلے کہ نظریاتی و سیاسی مخالفین تک جس کا اعتراف کرتے۔ تقوی و للہیت کے مجسم پیکر کو گر دیکھنا ہو تو سیدی کو دیکھ لیجیے۔

مضبوط کردار و اعمال کی بدولت گاہے خیال گزرتا ہے کہ سیدی قرون اولی کے قافلہ سے بچھڑ کر ہمارے عہد میں آن وارد ہوئے ہیں۔ باطل کو بر سر عام للکارنے والے سیدی نے زندگی بھر ایک سو بیس گز کے مکان میں زندگی بیتائی۔ میڈیا والے پوچھتے کہ اپنے اثاثہ جات تو ڈکلیئر کیجیے۔ کہتے کہ ڈکلیئر تو تب کروں نہ جب مادی اثاثہ جات نامی کوئی شے میرے پلے ہو بھی۔ پانچ مرلے کا اک مکان ہے وہ بھی بیگم کے نام۔

خدا خوفی، تقوی و للہیت اور جماعت سے قلبی وابستگی کا یہ عالم تھا کہ دوران امارت کی جماعت اسلامی بیٹی پیا گھر سدھار گئی۔ شادی کی تقریبات میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔ دلہن کو بیش قیمت تحائف سے نوازا گیا۔ تقریب کے اختتام پر سید منور حسن نے سید زادی کو بلا بھیجا۔ پوچھا کہ تمہیں یہ تحائف تمہارے والد کی وجہ سے ملے ہیں یا جماعت اسلامی کے امیر کی بدولت؟ سید زادی بات کی گہرائی سمجھ گئی۔ کیوں نہ سمجھتی کہ جس کی تربیت ہی سید منور حسن جیسے والد نے کی ہو۔

بیٹی نے جواب دیا کہ امیر جماعت اسلامی کی وجہ سے۔ کہا کہ بیٹا پھر یہ تحائف بھی جماعت کا اثاثہ ہیں۔ ہمارا ان تحائف پر کوئی حق نہیں۔ سید زادی نے جھکی نظروں کے ساتھ سبھی تحائف بابا کی جھولی میں ڈال دیے۔ جنہیں جماعت اسلامی کے حوالے کر دیا گیا۔ کرادر کی عظمت کی ایسی مثال کیا ہمیں اپنے ارد گرد دکھائی دیتی ہے؟ جب جب سید کی زندگی کے ایسے واقعات پڑھتا ہوں یقین جانیے تب تب شدت سے احساس ہوتا ہے کہ سید قرون اولی کے حسینی قافلے کا بچھڑا ہوا فرد تھے۔ جسے ہمارے عہد نامراد میں زندگی بیتانا پڑی۔

جمعہ کے روز کارل مارکس کی غلامی سے محمد مصطفی صل اللہ علیہ وسلم کی غلامی تک کا سید منور حسن کا سفر اختتام کو پہنچا۔ رب کی بندگی میں زندگی بیتانے والا اپنے رب کے پاس پہنچ چکا۔ کم لوگ ہوتے ہیں جن سے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ ”عجب آزاد مرد تھا“ ۔ سیدی واقعتاً انہیں میں سے ایک تھے۔ خداوندسیدی کے آئندہ کے مراحل آسان کرے۔ آمین

خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *