ایلان کردی عیاد خان کے روپ میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نیلو فردیمر ایک ترک صحافی اور فوٹو گرافر بورڈیم ترکی میں رہتی اور ڈوگن نیوز ایجنسی کے لیے کام کرتی تھی۔ 2015 ء میں جب شام میں جنگی بحران تباہی کا باعث بنا ہوا تھا تو نیلوفر نے موسم گرما میں یورپین ہجرت کرنے والے لوگوں کے انقلابی بحران کی تصویر کشی کی تھی۔ اسی دوران اس نے ایک تین سالہ شامی بچے ایلان کردی کی تصویر اپنے کیمرے میں محفوظ کی۔ وہ ننھا بچہ ساحل سمند ر پر اوندھے منھ کچھ یوں پڑا ہوا تھا کہ لگتا تھا سورہا ہے شاید۔

۔ ۔ لیکن وہ ننھا فرشتہ سمندر کی بے رحم موجوں کے تھپیڑے سہہ نہیں سکا اور مر گیا تھا۔ اس فوٹوگرافر نے سوچا کہ وہ صرف اس تصویر کے ذریعے سے ہی اس کی خاموش لاش کی چیخ پوری دنیا میں پہنچا سکتی ہے۔ اس تصویر نے واقع ہی ہر اخبار اور میگزین میں جگہ تو بنائی کی لیکن ظلم ختم نہ ہوا۔ چند دن پہلے کشمیر کی تحصیل بارہ مولا کے ایک قصبے سوپورجو سری نگر سے 45 کلومیٹر دور ہے میں ایک اور ننھا معصوم تین سالہ فرشتہ ظلم کا نشانہ بنا۔

لگتا ہے وہی شامی بچہ ایلان کردی دوبارہ عیاد کی شکل میں درندگی کا مکروہ چہرہ دنیا کو دکھانے آ گیا ہے۔ ننھے عیاد کے 65 سالہ نانا بشیر احمد خان سودا سلف لینے گھر سے نکلے تو شاید عیاد کو سیر کروانے کا ر میں ساتھ لے گئے۔ بھارتی فوجیوں نے جعلی آپریشن کے بہانے انھیں کار سے نکال کر تین سالہ نواسے عیاد کے سامنے گولیوں سے بھون کے رکھ دیا۔ وہ ننھا فرشتہ ہراساں ہوگیا شاید بھارتی فوجیوں نے اسے تصویر کشی کے لیے نانا کی لاش کے سینے پہ بیٹھادیا۔

پھر اس تین سالہ بچے کو اس کے گھر پہنچایا جا رہا تھاتو ویڈیو میں اس کی جل تھل روتی ہوئی موٹی موٹی سی پیاری آنکھیں بے اختیار چوم لینے کو جی چاہتا ہے۔ وہ معصوم آنکھیں جن میں ظلم کا ایک منظر تھم سا گیا ہے رو رو کر دہائی دے رہی ہیں اے دنیا والوکب جاگو گے؟ اور کتنا ظلم ہوگا دنیا پہ؟ اے دنیا کے مسلمانو! کب ہمارے حق میں آواز اٹھاؤ گے؟ تین سالہ معصوم فرشتے عیاد کی ایک اور ویڈیو وائرل ہوتی ہے جس میں وہ نہا دھو کر پیاری سی نیلے رنگ کی ٹی شرٹ پہنے ہوئے ہے۔

اس ویڈیو میں ایک خاتون کی آواز آتی ہے، صبح آپ کے ساتھ بڑے ابا تھے ان کو کیا ہوا؟ جواب میں عیاد خان کہتا ہے وہ مرگیا تھا۔ خاتون نے پوچھا کس نے مارا؟ جس کے جواب میں واضح طور پر ننھا عیاد کہتا ہے پولیس والے نے گولیاں ماریں اور پھر اپنے منھ سے گولیاں چلنے کی آواز نکالی کہ انھوں نے ٹھک ٹھک کر کے بڑے ابا کو مار دیا۔ ناحق مارے جانے والے معصوم بزرگ بشیر احمد کے بیٹے نے بھی بھارتی ظلم و بربریت کی داستان سناتے ہوئے بتایا کہ ا ن کے نہتے ادھیڑ عمر والد کو تو مار دیا گیا لیکن دوسری طرف لداخ میں یہ بھارتی فوج بزدلی کی انتہا کو پہنچتے ہوئے دم دبا کر بھاگ جاتی ہے۔

ننھے عیاد کے اس واقعے کے بعد کشمیری بھارتی فوج کے اس ظالمانہ اور بزدلانہ اقدام کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ بھارت کی کشمیر پر جاری و ساری ظلم و ستم کی داستان کو لگ بھگ 80 سال ہونے کو آئے۔ 1986 ء میں بلال نامی نوجوان کو جھنڈا لہرانے پہ گولیوں سے بھون دیا گیا۔ 2016 ء میں برہان وانی کو آزادی کے حق میں آواز اٹھانے پہ ماردیا گیا۔ یوں لگتا ہے پورے کشمیر کی مقبوضہ وادی میں کشمیریوں کے شکستہ خواب بکھرے پڑے ہیں۔

لیکن بھارتی افواج اور حکومت یہ نہیں جانتی کہ کشمیری اپنی آزادی کے اس خواب کو کبھی ٹوٹنے نہیں دیں گے۔ وہ اپنے دل کی بھٹی میں ہر روز اپنے خوابوں کو جلاتے ہیں۔ اے دنیا کے خداؤ! تم جانتے ہوکیوں تاکہ کہیں ظلم کا میل ان پر جم نہ جائے اور وہ اپنا مقصد بھلا نہ بیٹھیں۔ ان کی خندقیں ظلم کے شعلوں سے اٹ گئیں۔ کتنے سچے، بہادر، سجیلے اور جیالے ہیں ان کے دل جو بہت جلد ایک دن اپنی آزادی حاصل کر کے رہیں گے۔ کشمیری ایک جنگ جو اور ناقابل تسخیر قوم ہے۔

وادیٔ کشمیر کے بہتے جھرنوں اور چشموں کی ٹھنڈی ہواؤں کی باس میں بارود اور بربریت کا دھواں شامل ہونے کے باوجود کمانداروں کی طرح ابھرتے جذبوں والے نوجوان آزادی حاصل کر کے رہیں گے۔ آج دنیا اتنی بے حس ہوچکی ہے کہ کتنے غموں کی شکنیں اس کے لبادے پہ پڑ چکی ہیں لیکن پھر بھی اس کو ان شکنوں کی چبھن محسوس ہی نہیں ہوتی۔ 1949 ء سے کشمیر کے حق خود ارادیت کا مقدمہ اقوام متحدہ کی فائلوں میں پڑا ہوا ہے۔ اس دوران اتنے برسوں میں بھارت کی ہرزہ سرائی ہر گرزتے لمحے کے ساتھ بڑھتی چلی گئی۔

ننھے عیاد اور اس کے مقتول نانا کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پہ کشمیر کی آزادی کا ہیش ٹیگ بن گیا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اس واقعے کا نوٹس تو لے لیا ہے اور کہا جار ہا ہے اس قتل میں ملوث افراد کا احتساب کیا جائے گا۔ دنیا میں ہر جگہ لوگوں کو احتجاج کا حق حاصل ہے لیکن نہیں ہے تو کشمیریوں کو نہیں۔ کشمیریوں کی جائیداد، اراضی وغیرہ بھی خطرے میں ہیں۔ محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ بھارت اور مودی کو کشمیر چاہیے لیکن کشمیری نہیں۔

اقوام متحدہ آخر کب تک صرف نوٹس ہی لیتی رہے گی۔ اس معصوم فرشتے کی آہ و بکا اور ٹپ ٹپ آنکھوں سے گرتے آنسو دیکھ کر ہر سو اداسی پھیل گئی۔ مگر لگتا ہے سلامتی کونسل کبھی کشمیریوں کے ناحق خون اور قتل عام کو روکنے کے لیے متحرک نہیں ہوگی۔ آخر کو اقوام متحدہ بنائی کیوں کر تھی اگر انسانی حقوق یونہی لٹتے رہیں گے۔ پہاڑوں کے یہ بیٹے کب تک مرتے اور کٹتے رہیں گے۔ کشمیر کی وادی میں بے مہر موسم جیسے آکر رک سا گیا ہے۔

جھرنوں کے میٹھے شفاف پانیوں میں جدائیوں کے درد بہنے لگے ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ نے کوئی تین مرتبہ پاکستان اور انڈیا کے بیچ مسئلہ کشمیر پہ ثالثی کی پیش کش کی کہ دونوں ملکوں کی کشیدگی کم ہو سکے لیکن لگتا ہے یہ صر ف بیان ریکارڈ کرانے کی حد تک ہے۔ بے گناہ کشمیریوں کو قتل کرتے کرتے ان کے اپنے ضمیر بھی قتل ہوچکے ہیں۔ دنیا کے ان خداؤں کے سینوں میں دل نہیں بلکہ کالے پتھر ہیں جو اتنا ظلم دیکھنے کے بعد بھی اپنی جگہ سے سرکتے نہیں۔

فاشسٹ مودی نے پہلے وادیٔ کشمیر پہ کرفیو لگایا، کشمیریوں کو گھروں میں قید کیا اور بعد ازاں بھارتی شہریوں کو وہاں کے ڈومی سائل جاری کرنے شروع کیے۔ پاکستان نے جب کشمیر کے حق میں جمعہ کے دن احتجاج کرنا شروع کیا تو پہلے اپنوں نے ہی مذاق اڑایا پھر مولانا فضل الرحمن کنٹینر لے کر پہنچ گئے اور یوں میڈیا کے ذریعے اس مسئلے سے توجہ ہٹا دی گئی۔ امریکہ، روس، برطانیہ، فرانس، نیوزی لینڈ اور جرمنی سمیت تمام یورپی ممالک کی خاموشی اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ مظلوم نہیں بلکہ ظالم کے ساتھ ہیں۔

کشمیری لاکھ فولادی دل رکھتے ہوں لیکن ہیں تو آخر انسان ہی ناں! ان کے جذبوں اور رشتوں سے آخر کب تک یہ کھلواڑ ہوتا رہے گا؟ اس معصوم فرشتے عیاد خان کی آنکھوں میں یہ منظر جم چکا ہے۔ کیسے مٹے گا؟ اپنے پیار کرنے والے نانا کی دلدوز موت وہ کیسے بھلاپائے گا؟ مٹھی برابر اس کا ننھا سا دل کیسے خاکستر ہوگیا۔ ہے کسی کو اس کا اندازہ؟ وہ تو نانا کے ساتھ گاڑی پہ جھولا لینے گیا ہوگا۔ ہائے! ہمارے دکھ و الم کے شکوے، دل ناکام کے نالے کون سنے گا؟ کیا اقوام متحدہ میں اتنا دم ہے کہ وہ اس ننھے فرشتے کے ماتھے پہ لکھی تکلیف کی اس ریکھا کو مٹا سکے تاکہ کوئی اور عیاد آہیں بھر بھر کے اپنی خوب صورت آنکھوں سے آئندہ کبھی نہ روئے۔ کشمیر کو حق خود ارادیت دیا جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply