’’مرشد مروا نہ دینا‘‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

5 جولائی آیا اور گزر گیا صرف پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے اس روز 43 سال قبل اس وقت کے آرمی چیف جنرل ضیاء الحق کے ہاتھوں اپنے نانا ذوالفقار علی بھٹو کا تختہ الٹنے کے دن کو پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن قرار دیا۔ بلاول بھٹو کی بات اصولی طور پر درست ہے۔ شاید سانحہ مشرقی پاکستان جسے ایک آمر فیلڈ مارشل ایوب خان کی پالیسیوں کا شاخسانہ قرار دیا جاتا ہے کے علاوہ 5 جولائی1977ء کا مارشل لا بھی سیاہ ترین دن تھا۔

اس کے بعد جو کچھ ہوا پوری قوم آج تک اس کے نتائج بھگت رہی ہے۔ جنرل ضیاء الحق نے اختلاف رائے کو کچلنے اور اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے اسلام کی من مانی تاویل کا سہارا لیا۔ اس سے بڑھ کر ستم ظریفی کیا ہو گی کہ برصغیر کے مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن تشکیل دینے والے قائداعظم کے افکار کی دھجیاں اڑائی گئیں۔

قائداعظم کی 11 اگست 1947ء کی قانون ساز اسمبلی میں وہ تقریر جس میں انھوں نے کہا تھا کہ پاکستان آزاد وفاقی جمہوریت ہو گا جس میں سب شہریوں کے حقوق برابر ہونگے، قائد نے خاص طور پر کہا کہ آپ سب آزاد ہیں اپنے مندروں میں جانے کے لیے، آپ سب آزاد ہیں اپنی مسجدوں میں جانے کے لیے اور کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کے لیے۔ اس مملکت پاکستان میں آپ کا تعلق کسی بھی مذہب، ذات یا عقیدے سے ہو، مملکت کا اس سے کوئی سروکار نہیں۔

دوسرے لفظوں میں بانیان پاکستان کے مطابق وطن عزیز کا نظام تھیوکریسی جہاں پر مذہبی لابی کو ویٹو پاور حاصل ہوپر مبنی نہیں ہو گا لیکن جنرل ضیاء الحق نے جو کچھ کیا ہم اس کے اثرات سے آج تک نبرد آزما ہو رہے ہیں۔ جنرل ضیاء الحق کا ’’انقلا ب‘‘ اپنے پیشروؤں اور بعد میں آنے والے طالع آزماؤں سے مختلف تھا۔ یہ ایک ایسی نظریاتی ڈکٹیٹر شپ تھی جس نے پاکستان میں جیو اور جینے دو اور رواداری کے کلچر کو تباہ کر کے رکھ دیا۔

ضیاء الحق نے ایک ایسے ملک میں جو جمہوری عمل کے ذریعے اور جس کے قیام کے لیے سیاسی جماعتوں نے جدوجہد کی ایک نیا نظریہ دیا کہ اسلام میں سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں کی گنجائش نہیں ہے۔ اسی فلسفے پر عمل کرتے ہوئے سیاسی جماعتیں اور سیاستدان کالعدم قرار دے دیئے گئے، اخبارات جو شدید قسم کی پابندیوں اور سنسرشپ کے تحت نکل رہے تھے ان میں سیاستدانوں کے نام اور بیانات شجر ممنوعہ قرار دئیے گئے۔

ضیاء الحق نے4 اپریل 1979کو ذوالفقار علی بھٹو کو تختہ دار پر چڑھا کر اپنی طرف سے پیپلزپارٹی کا وجود ختم کردیا لیکن اس کے باوجود بھٹو کی بیٹی بے نظیر بھٹو دو مرتبہ وزیراعظم بنیں اور ان کے بعد ان کے شوہر آصف علی زرداری صدر مملکت بنے۔ ضیاء الحق نے جسد سیاست اور صحافتی دنیا میں ایک مخصوص لابی بنالی لیکن یہ عجیب ستم ظریفی ہے کہ وہ شخص جو خود کو دنیا کے نوے کروڑ مسلمانوں کا لیڈر قرار دیتا تھا اپنی لابی کے لیے مشعل راہ ثابت نہ ہوا اور آج ضیاء الحق کے لئے توصیفی کلمات کہنے یا ان کی برسی منانے سے ان کے منہ میں گھنگنیاں پڑ جاتی ہیں اور وہ بات کرنے سے بھی شرماتے ہیں۔

جن سیاستدانوں اور صحافیوں نے ضیاء الحق کے نام پراپنی دکانیں چمکائیں اب ان کا نام لینے سے کتراتے ہیں اور ان میں سے اکثریت اب خود کو لبرل کہلانے میں فخر محسوس کرتی ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جو اس وقت کھلم کھلا دھمکیاں دیتے تھے کہ ضیاء الحق کے مخالفین کی زبانیں گدی سے کھینچ لیں گے۔

میاں نوازشریف بھی نہ صرف باقیات ضیاء ہیں بلکہ آمر مطلق کے پیدا کردہ سیاستدان ہیں۔ ضیاء الحق کے سی ون 30 طیارے کے حادثے میں جاں بحق ہونے کے بعد انھوں نے ضیاء الحق کی فیملی بالخصوص اعجازالحق سے قریباً منہ موڑ لیا اور صرف اس حد تک لفٹ کرائی کہ ان کو عام انتخابات میں ٹکٹ دے دیتے تھے۔ اب وہی میاں نوازشریف جو ایک سیاستدان کے اقتدار پر شب خون کے مالی اورسیا سی طور پر براہ راست بہرہ مند ہوئے تھے اب فوجی آمروں اور فوج کے اقتدار میں عمل دخل کے شدید مخالف ہیں اور وہ اب لبرل لابیوں سے فلرٹ کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔

یقینا نواز شریف کے نظریات میں اس تبدیلی کو مثبت قرار دیا جائے گا لیکن جن طاقتوں نے نوازشریف کو پولیٹیکل انجینئرنگ کرکے اقتدار پر بٹھایا ان کی طرف سے انہی کو مودی کا یار اور غدار کہہ کر مطعون کیا جاتا ہے۔ ایک لحاظ سے میاں نوازشریف اپنے مربیوں کی نظر میں واقعی غدار ہیں کیونکہ ہمارے جاگیر دارانہ نظام میں دشمنوں کو تو معاف کردیا جاتا ہے لیکن جو اپنے سیاسی آقاؤں کے خلاف ہو جائیں انھیں غدار قرار دے کر معاف نہیں کیا جاتا۔

فیلڈ مارشل ایوب خان ہوں، جنرل ضیاء الحق ہوں یا ان کے بعدآنے والے جنرل پرویزمشرف ان تمام میں یہ قدر مشترک تھی کہ تینوں آمروں نے پاکستان کو امریکہ کی جھولی میں پھینک دیا۔ ایوب خان نے سیٹو اور سینٹو کے ذریعے اربوں ڈالر کی اقتصادی اور فوجی امداد اینٹھی۔ ناقدین کے مطابق ضیاء الحق نے سی آئی اے کے افغان منصوبے کو افغان جہاد قرار دے کر پوری پاکستانی قوم کو اس میں جھونک دیا۔ پاکستان دنیا بھر کے جہادیوں کی آماجگاہ بن گیا۔

کلاشنکوف کلچر، ہیروئن اور جہادی تنظیموں کی بھر مار پاکستان کا مقدر بن گئی۔ جنرل پرویز مشرف نے بھی نائن الیون واقعہ کے بعد ملک کو دہشت گردی کے نام نہاد جہاد میں جھونک دیا اور خوب مال حاصل کیا، وہ ایک طرف جہادی تنظیموں کو بھی تھپکی دے رہے تھے اور دوسری طرف امریکہ کو خفیہ اڈے۔ بعد میں آنے والی فوجی اور سیاسی قیادتوں نے یہ زہر قاتل ناسور ختم کرنے کی کوشش کی لیکن دہشت گردی کا اژدھا زخمی ہونے کے باوجود آج بھی پھنکار رہا ہے۔

ضیاء الحق کے غیر جماعتی نظام کی کوکھ سے جنم لینے والی سیاست آج بھی جاگزین ہے۔ اب ارکان اسمبلی کاکام ترقیاتی فنڈز کا حصول، ملازمتیں دلوانا اور اپنی وفاداریاں تبدیل کرکے مفادات حاصل کرنا رہ گیا ہے، قانون سازی سے انھیں کوئی دلچسپی نہیں۔

ضیاء الحق نے 4 اور 5 جولائی کی درمیانی شب بھٹو کا اقتدار ختم کرنے کا منصوبہ بنایا جسے’’ آپریشن فیئر پلے‘‘ کانام دیا گیا، اس وقت ان کے دست راست ٹین کور کے کمانڈر جنرل فیض علی چشتی تھے، ان سے جنرل ضیاء الحق نے استفسار کیا مرشد مروا نہ دینا۔ چشتی صاحب نے جواب دیا کہ فکر نہ کریں سب ٹھیک ہو گا۔ 11سال کے اقتدار کے بعد ضیاء الحق فضائی حادثے میںجاں بحق ہو گئے لیکن مرشد کو کیا پتہ کہ اس وقت کے ’کو‘ کے مابعد اثرات ایسے بھیانک ہونگے جنہوں نے پاکستان میں رواداری کو ہی مار دیا اور قائداعظم کے پاکستان کی سپرٹ کو تباہ کر دیا۔

بشکریہ روزنامہ نائنٹی ٹو

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *