بدلتے حالات میں پیپلزپارٹی کا کردار۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ( 2 )

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بے نظیر بھٹو کے بعد پنجاب سے پیپلز پارٹی کی بیدخلی کی سب سے بڑی وجہ مفاہمت کی پالیسی تھی۔ اگرچہ یہ نعرہ خود محترمہ نے لگایا لیکن وہ اس کا مطلب سیاسی پسپائی نہیں لیتی تھیں۔ آصف علی زرداری کو صدر منتخب ہونے کے لئے بہت سی قوتوں سے مصالحت کرنا پڑی۔ ایسے وقت میں جب بے نظیر بھٹو دنیا سے رخصت ہو چکی تھیں آصف علی زرداری کو وہ شرائط یاد کروائی گئیں جو جنرل پرویز مشرف کی ٹیم نے رہا کرتے وقت ان سے منوائی تھیں۔

آصف علی زرداری نے ایک مشکل وقت میں پارٹی کو اقتدار دلایا لیکن ان کے اتحادیوں کی فرمائشوں نے ان کے مخالفین کو ایک بار پھر موقع دیا کہ وہ آصف علی زرداری پر کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام لگا سکیں۔ آصف علی زرداری نے کسی کو ناراض نہیں ہونے دیا۔ نواز شریف کی خواہش تھی کہ پنجاب میں پیپلز پارٹی ان کی حریف نہ رہے۔ نواز شریف کی یہ خواہش پوری ہو گئی۔ پیپلز پارٹی کے جن کارکنوں اور رہنماؤں نے برسہا برس تک ضیاء الحق اور پھر نواز شریف سے لڑائی کی تھی ان کے لئے مفاہمت کی نئی تشریح ناقابل قبول تھی۔

اسی زمانے میں بے نظیر بھٹو کے قابل اعتماد عہدیداروں کی جگہ آصف علی زرداری کے بھروسے کے لوگ پنجاب میں پارٹی عہدوں پر آ گئے۔ کہا گیا کہ یہ نئی قیادت کا حق ہے کہ وہ اپنی ٹیم منتخب کرے جیسا کہ بے نظیر بھٹو نے اپنے والد اور والدہ کی ترتیب دی گئی ٹیم کی جگہ اپنے اعتماد کے لوگوں کو اہم عہدے دیے۔ یہاں بے نظیر بھٹو، آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو کے مابین ایک تقابل کا نکتہ بھی آتا ہے۔ بے نظیر بھٹو صرف اس وجہ سے لیڈر نہیں تھیں کہ وہ ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی تھیں۔

بے نظیر کی ضیاء الحق اور ان کی باقیات کے خلاف جدوجہد میدان میں لڑی گئی جنگ کے جیسی ہے۔ انہوں نے خالصتاً سیاسی انتقام کے زخم کھائے۔ آصف زرداری اور بلاول کو ایسا موقع ملا نہیں ملا۔ اگر وہ پنجاب میں نواز شریف کے خلاف جارحانہ حکمت عملی اپناتے تو شاید کسی حد تک ان کی سیاست کو جدوجہد کا نام دیا جا سکتا۔ بلاول کئی روز تک لاہور کے بلاول ہاؤس میں بیٹھے رہے۔ پارلیمنٹ میں سنجیدہ اور اہم معاملات پر موثر انداز میں بات کر کے بلاول نے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔

وہ اپنے مورچے میں بیٹھ کر گولے پھینک رہے ہیں لیکن حکمت عملی کے اعتبار سے یہ گولے غلط ہدف کا رخ کر رہے ہیں۔ پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت ہے۔ پیپلز پارٹی اگر اس وقت اپنی سیاسی سرگرمیاں بڑھاتی ہے تو حکومت اعتراض نہیں کر سکتی۔ اب کوئی نواز یا شہباز شریف نہیں جو پی پی کارکنوں کو پولیس کے ذریعے پٹوائے۔ تحریک انصاف نے پنجاب میں جو جگہ لینا تھی وہ اسے مل چکی۔ اس وقت ن لیگ کمزور پوزیشن میں ہے۔ بلاول کواس میسر گنجائش کی طرف توجہ دینی چاہیے۔

ن لیگ اگر پی پی کا ووٹ بینک توڑ سکتی ہے تو پی پی کیوں نہیں۔ انہیں اپنی ٹیم میں اضافے کی ضرورت ہے۔ 6 کھلاڑیوں کے ساتھ آپ 11 کھلاڑیوں سے مقابلہ کیسے کریں گے۔ حال ہی میں پنجاب سے پی پی کے رکن صوبائی اسمبلی نے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار سے ملاقات کی ہے ایسی ہی ایک ملاقات پہلے ہو چکی ہے۔ پارٹی اس حد تک کمزور اور اندیشوں میں گھری ہے کہ اپنے رکن اسمبلی سے باز پرس تک نہیں کر سکتی۔ لاہور جیسے شہر میں ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے کارکن اب بھی ہیں۔

یہ کارکن بلاول بھٹو کو مل سکتے ہیں لیکن اس کے لئے ایک عہد ایسے ناراض کارکنوں کے ساتھ بھی کیا جا سکتا ہے۔ جہاں تک تبدیلی کو تبدیل کیے جانے کا مطالبہ ہے تو حکومت تبدیل ہونے کا تاحال کوئی امکان نہیں۔ پاکستان میں قبل از وقت تبدیلی امریکہ یا آئی ایم ایف کی فرمائش پر ہوتی رہی ہے۔ حکومت نے مشکل ترین معاشی بحران میں خاطر خواہ ٹیکس جمع کر کے آئی ایم ایف کی اقساط ادا کرنے کا انتظام کر لیا ہے۔ امریکہ کورونا اور ٹرمپ کی وجہ سے داخلی مسائل کا شکار ہے۔

ہاں اگر بھارت پاکستان پر حملہ کر دے تو پاکستان میں حکومت رخصت ہو سکتی ہے لیکن اس صورت میں حکمران کوئی سیاستدان نہیں ہو گا۔ ابھی تک پنجاب میں پارٹی کو فعال نہیں کیا جا سکا، گزشتہ دس سال کے دوران پیپلزپارٹی میں نوجوانوں، طالب علموں اور سماجی دانشوروں کی شمولیت نہ ہونے کے برابر ہے۔ بدلتے حالات میں پیپلزپارٹی ماضی میں جوکردار ادا کرتی رہی ہے وہ دکھائی نہیں دیتا۔ خصوصاً پارٹی کا پنجاب میں کردار کم از کم غیرفعال دکھائی دیتا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کو سب اچھا بتایا جاتا ہے، انہیں کسی نے لاہور کے وہ گوشے اب تک نہیں دکھائے جہاں جیالوں کے لہو کے چھینٹے پڑے ہیں۔ اس تاثر کو دور کرنا ضروری ہے کہ غریبوں کی ہمدرد پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ ن سے میثاق جمہوریت کر کے سرمایہ دار جمہوریت کا غلبہ تسلیم کر لیا۔ ہر جماعت میں کارکن نظر انداز ہو رہے ہیں۔ ایسے میں بلاول کارکنوں سے میثاق جمہوریت کر کے ایک نئی عوامی سیاست کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ (ختم شد)
بشکریہ روزنامہ 92۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *