نامور سنگھ: بے وفا نہیں تھا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”باسی بھات میں خدا کا ساجھا“ نامور سنگھ کا مضمون تھا، جس کی زبردست مخالفت ہوئی۔ باسی بھات مطلب اردو اور اس پر خدا کی شمولیت۔ ہندی ترقی پسند نہ صرف ناراض ہوئے بلکہ نامور سنگھ کے نام کی تختیاں بھی جلائی گئیں۔ یہ مضمون شایع کرنے سے قبل راجندر یادو نے مجھے پڑھنے کے لئے دیا تھا۔ میں نے بھی آسہمتی یعنی غصہ کا اظہار کیا اور یادو جی سے پوچھا، کیا آپ بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ اردو کا رسم الخط تبدیل ہونا چاہیے؟

اردو پر اسلام کا اثر ہے؟ اردو مسلمانوں کی زبان ہے؟ اس زمانے میں کم و بیش یہی رویہ کملیشور کا بھی تھا۔ اس مضمون سے بہت قبل عصمت چغتائی بھی رسم الخط تبدیل کیے جانے کی بات کہہ چکی تھیں۔ اردو، مسلمان، شریعت کو لے کر بھی مضامین لکھے گئے۔ ہنس میں جب نامور جی کا مضمون شایع ہوا تو اردو خیمے سے زیادہ ناراضی ہندی خیمے میں تھی۔ ترقی پسندوں نے مورچہ کھول دیا۔ یہ بات بھی سمجھنے کی ہے کہ ہندی میں سو فی صد اکثریت ترقی پسندوں کی ہے۔ جو مسلمان اور اردو کے خلاف کچھ بھی سننا پسند نہیں کرتے۔

راجندر یادو کا خیال تھا، کہ مشاعرے سے لے کر عام سیمیناروں تک میں جس طرح کا ماحول پیدا کیا گیا ہے، وہ اردو کے حق میں نہیں ہے۔ اور اردو کو مسلسل مسلمانوں سے ہی وابستہ کیا جا رہا ہے۔ کافی عرصہ بعد جب میں نامور جی سے ملا اور اس مضمون کے تعلق سے گفتگو کی تو انہوں نے بہت پیار سے کہا، ذوقی مضمون اردو والوں کی حمایت میں تھا۔ ہم اردو کو ختم ہوتے ہوئے کیسے دیکھ سکتے ہیں۔ مشاعروں میں قرآن شریف کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں۔ کیا ہمارے یہاں ایسا ہوتا ہے۔ میری ناراضگی اس بات سے ہے کہ اردو ملک کی زبان ہے، اس زبان کو اسلام اور مسلمانوں سے وابستہ نہ کیا جائے۔ کملیشور بھی یہی چاہتے تھے۔ راجندر یادو بھی۔ اور وہ تمام ہندی والے، جو آج بھی اردو کی حمایت میں آنکھیں بچھائے رہتے ہیں۔

اس زمانے میں، حقیقت میں ایسا محسوس ہو رہا تھا، جیسے اردو چند دنوں کی مہمان ہے۔ اور اردو سے محبت کرنے والے رسم الخط تبدیل کرنے کی حد تک آ گئے تھے کہ جیسے بھی ممکن ہو، اردو زبان کا تحفظ کیا جائے۔ ممکن ہے کچھ لوگوں کو میری بات سے اتفاق نہ ہو۔ وہ دور گزر چکا ہے۔ نامور جی، کملیشور، راجندر یادو اب اس دنیا میں نہیں ہیں، مگر میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ یہ لوگ اردو کے مخالفین میں سے نہیں تھے۔ یہ لوگ اردو سے محبت کا جذبہ رکھتے تھے۔

نامور جی سے سینکڑوں چھوٹی چھوٹی ملاقاتیں رہیں۔ مجھے اس بات کا شدت سے احساس ہے کہ وہ مجھے دیکھ کر ہمیشہ کھل اٹھتے تھے۔ اس لئے نہیں کہ مجھ میں سرخاب کا پر لگا تھا۔ یا وہ مجھ میں کسی سقراط یا شیکسپئر کو دیکھتے تھے۔ اصل واقعہ یہ ہے کہ وہ میرے وجود میں اردو کو دیکھتے تھے، اردو کا ایسا عاشق میں نے بہت کم دیکھا۔ یشپال، کملیشور، راجندر یادو، نامور سنگھ، کیدار ناتھ سنگھ کے ساتھ عاشقوں کا یہ کارواں بھی سمٹ رہا ہے۔

عاشق آگے بھی ہوں گے اور آئیں گے مگر نامور سنگھ عشق کرنے والوں سے بڑھ کر تھے بلکہ جنون کی حد تک عشق کرنے والوں میں شامل تھے۔ گیا کے ایک سیمینار میں اچانک میرے شانے پر پیچھے سے ہاتھ رکھ کر نامور جی نے مجھے چونکا دیا۔ میری آنکھوں میں ہلچل تھی۔ یہ تمہاری داستانیں کیا بلا ہیں ذوقی۔ حاتم طائی کے سات سوال کیوں۔ میری آنکھوں سے آنسو نکل آئے کہ ابھی اور سوال ہوتے اور یہ قصہ جاری رہتا تو دنیا کا کوئی بھی قصہ اس قصہ کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔

ایسا کئی بار ہوا۔ جب مجھے دیکھ کر ، کرتے کی جیب سے کاغذ کا ایک ٹکڑا نکال لیتے۔ پھر اچانک کوئی سوال داغ دیتے۔ چار پانچ سال پہلے کی بات ہے۔ ایک سیمینار میں انہوں نے مجھے اشارہ سے بلایا۔ پھر پوچھا۔

’آپ کے یہاں ہاسیہ وینگ ( طنز و مزاح ) کا کیا حال ہے؟‘
’بہت برا۔ مجتبیٰ حسین کی نسل کے بعد کم لوگ ہیں جو اس طرف توجہ دے رہے ہیں‘
’یہی حال ہندی میں ہے۔‘

میں نے انہیں انشائیہ نگاری کے بارے میں بتایا تو وہ کاغذ کے پرزے پر کچھ لکھنے لگے۔ پھر پوچھا۔ ہری شنکر پارسائی کے بارے میں کیا خیال ہے؟

’میں انہیں انشائیہ نگار کہہ سکتا ہوں۔‘
’یہی میرا بھی خیال ہے۔‘

نامور جی پہلے نقاد تھے، جنہوں نے اعتراف کیا کہ وقت تبدیل ہو تا ہے تو نقد کا معیار بھی بدل جاتا ہے۔ جیسے انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ نئی تنقید نیا نقاد لکھے گا۔

نامور جی 28 جنوری 6 192 کو پیدا ہوئے۔ ’کویتا کے نئے پرتیمان کے لئے انہیں ساہتیہ اکادمی اعزاز سے نوازا گیا۔ اس کتاب کے بارے میں نامور جی کا خیال تھا کہ یہ ان کی ایک بیکار سی کتاب ہے اور اس کتاب کا زمانہ بھی تبدیل ہو چکا ہے۔ یہ بیان انہوں نے فروری 2007۔ بنارس ہندو یونیورسٹی میں ہزاری پرساد دویدی سیمینار میں دیا تھا۔ اپنی ہی تحریر کو بیکار ٹھہرانے والے وہ کسی بھی زبان کے پہلے ناقد تھے۔ وہ یہ بات بخوبی سمجھتے تھے کہ وقت کی دھارا کے ساتھ زمانے کا مزاج بھی تبدیل ہوتا ہے اور ادب کو بھی اس دھارا میں ڈھلنے کا حق حاصل ہے۔

1959 میں چکیہ چندولی کے لوک سبھا حلقہ میں انہوں نے الیکشن بھی لڑا مگر ہار گئے۔ اردو، ہندی، بنگلہ اور انگریزی زبان سے واقفیت تھی مگر نامور جی سے ملتے ہوئے کبھی اس بات کا احساس نہیں ہوا کہ ان کے اندر کہیں کوئی غرور بھی پوشیدہ ہے۔ طبیعت اچھی ہوتی تو وہ کہیں بھی چلے جاتے۔ وہ ہندی ادب کی واحد شخصیت تھے، ٹویٹر پر جن کے فالوور لاکھوں کی تعداد میں تھے۔ اور اس میں شک نہیں کہ مسلسل اپنے ویژن سے وہ ہندی تنقید کا دائرہ وسیع کر رہے تھے۔

میں نے اردو میں ایسے کئی لوگوں کو سنا ہے جو تقریر میں مہارت رکھتے ہیں۔ مگر ان میں نامور جیسا کوئی نہیں۔ میں یہ بات اس لئے کہہ رہا ہوں کہ نامور جی کی ایک زندگی ان سیمیناروں سے بھی الگ تھی۔ 1997۔ 2000 کا زمانہ مجھے یاد ہے۔ جب نامور جی، راجندر یادو فسطائی طاقتوں کے خلاف جنگ لڑ رہے تھے۔ کسی کے گھر کا انتخاب کیا جاتا۔ پھر سب لوگ وہاں پہنچ جاتے۔ اس موقع پر نامور جی کی بے چینی دیکھنے کے لائق ہوتی۔ ایسا محسوس ہوتا، جیسے ان کا بس چلتا تو ان فسطائی طاقتوں کو ایک جھٹکے میں ختم کر دیتے۔

مگر ان کی مجبوری یہ تھی کہ ان کا دائرہ کار محدود تھا۔ اردو میں ایسے کتنے لوگ ہیں جو فسطائی طاقتوں کے خلاف کھڑے ہوئے۔ ؟ المیہ یہ ہے کہ اردو والے صرف لکھتے ہیں اور نامور سنگھ جیسے لوگ لکھتے ہی نہیں تھے بلکہ عوام کو بیدار کرنے کی تحریک کا حصہ بھی بنتے تھے۔ جنوری 2019 میں بک فیئر لگا تو اس موقع پر بھی ان سے ملاقات ہوئی۔ کافی کمزور ہو گئے تھے۔ رک رک کر چل رہے تھے لیکن چہرے پر وہی مسکراہٹ اور روشنی تھی، جو روشنی ان سے پہلے مجھے کبھی کسی چہرے پر نظر نہیں آئی۔

پریم چند کی طرح ان کا قد لمبا تھا۔ دور سے دیکھنے پر بھی وہ پریم چند کی طرح ہی نظر آتے تھے۔ دھوتی اور کرتا ان کی شناخت مگر ان کی بڑی بڑی آنکھوں کا جواب نہیں۔ ان آنکھوں جیسی گہرائی کہیں نہیں ملتی۔ ان میں خواب بند تھے۔ مستقبل کا ادب قید تھا۔ ان آنکھوں میں بہت کچھ تھا۔ وہ آپ سے ملتے تو ان گہری آنکھوں تک رسائی آسان نہیں ہوتی۔ یہ آنکھیں سیدھے جسم میں اتر جاتی تھیں۔ اب سوچتا ہوں تو پرانے دن یاد آ جاتے ہیں جب وہ شر پسندی اور فرقہ واریت کے خلاف جنگ کا حصہ تھے۔

ان کا جانا ایسے موقع پر ہوا، جب شر پسند طاقتوں نے ملک کے کئی ٹکڑے کر دیے ہیں۔ آزادی کے بعد ان پانچ برسوں میں مودی حکومت نے ہر محاذ پر مسلمانوں اور اقلیتوں کے خلاف نفرت کا ہر مورچہ کھول دیا ہے۔ مجھے یقین ہے، نامور جی ’انتظار‘ کی اس خوفناک سحر کو قبول نہیں کر سکتے تھے۔ اور جب ملک میں نفرت کی آندھی چل رہی تھی، وہ خاموشی سے اٹھے اور عدم آباد روانہ ہو گئے۔

وہ اپنی زندگی میں ہی امر ہو چکے تھے۔ اور مجھے اس بات کا یقین ہے کہ نامور جی جیسے لوگ مرتے کہاں ہیں۔ وہ ہمارے ساتھ رہتے ہیں۔ ہمارے ساتھ چلتے ہیں۔ خود کو ہی ریجکٹ کرتے ہیں۔ نئے نقادوں کو جگہ دیتے ہیں۔ یہ حوصلہ سب میں کہاں۔ وہ پہلے سے کہیں زیادہ طاقت کے ساتھ زندہ ہو گئے ہیں۔ میں ایک بار پھر اس مضمون کی طرف آتا ہوں۔ راجندر یادو کے رسالہ ’ہنس‘ میں ’باسی بھات میں خدا کا ساجھا‘ کو لے کر کافی شور بر پا ہوا تھا۔

میں اب بھی تسلیم کرتا ہوں کہ یہ مضمون اردو کے خلاف نہیں تھا۔ بلکہ اردو کے ایک سچے سپاہی نے اردو کے تعلق سے کچھ باتوں کو جاننا اور سمجھنا چاہا تھا۔ مجھے یاد آتا ہے کہ ایک سیمینار میں بھی انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ آپ محبت میں بھی کئی بار غلطی کر جاتے ہیں۔ یہ غلطی مجھ سے بھی ہوئی۔ باسی بھات میں خدا کا ساجھا کا موضوع اردو تھا۔ مجھے شدت سے احساس ہے کہ جب آپ کسی زبان اور تہذیب سے محبت کرتے ہیں تو آپ کے ذہن میں کچھ ایسے سوال بھی پیدا ہوتے ہیں جو بحث کو آگے بڑھاتے ہیں۔ نامور جی وہاں بھی غلط نہیں تھے۔ دراصل وہ خود سے سیکھتے تھے اور اسی لئے خود کو ریجکٹ بھی کرتے تھے۔

ان کی موت پر ہندی شاعر ومل کمار نے لکھا، اردو میں غالب کے بعد کوئی غالب نہیں آئے گا۔ ہندی میں نامور کے بعد کوئی نامور پیدا نہیں ہوگا۔ ہندی میں نامور سے پہلے بھی کوئی نامور کہاں تھا۔ مشترکہ کلچر اور وراثت کے ترجمان ایسے لوگوں سے اب ہماری یہ دنیا خالی ہوتی جا رہی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *