موت کو شکست دینے کی امیتابھ کی 38 سال پرانی کہانی
شوٹنگ کے کچھ دن گزر چکے تھے۔ کچھ دن بعد 24 جولائی کو امیتابھ نے ممبئی سے اپنی اہلیہ جیا بچن اور بچوں شویتا اور ابھیشک کو بھی بنگلور بلا لیا۔
امیتابھ بنگلور کے ریس کورس روڈ پر واقع برطانوی دور کے ایک پرانے اور مشہور فائیو سٹار ہوٹل ’ویسٹ اینڈ‘ میں ٹھہرے تھے۔
ہر دن کی طرح 26 جولائی کو بھی جب امیتابھ شوٹنگ کے لیے باہر آئے تو کسی کو معلوم نہیں تھا کہ آج کا دن امیتابھ بچن کی دنیا بدل دے گا۔ یہ دن ان کے لیے ایک نئی تاریخ لکھے گا۔
اس دن شوٹنگ کا سیٹ بنگلور یونیورسٹی کے گیان بھارتی کیمپس میں لگا تھا۔ امیتابھ سیٹ پر پہنچ کر قلی کے لباس میں آ گئے تھے۔ لڑائی کے ایک منظر میں فلم میں ولن کا کردار ادا کرنے والے اداکار پنیت اسّر کو امیتابھ کے پیٹ میں گھونسنا مارنا تھا۔

ریہرسل میں یہ مرحلہ بہ آسانی طے پا گیا۔ لیکن شوٹنگ کے آخری حصے میں کچھ ایسا ہوا کہ امیتابھ کے پیچھے ایک بورڈ آ گیا اور امیتابھ اس سے ٹکرا گئے اور دوسری جانب امیتابھ کے پیٹ میں پنیت اسر کا مکا اتنا تیز لگا کہ وہ درد سے تڑپ اٹھے۔
سین اوکے ہو گیا لیکن امیتابھ کو اتنا درد ہو رہا تھا کہ وہ کسی طرح جھک کر کرسی تک پہنچے۔ جب درد کم نہ ہوا تو وہ وہاں جاکر لیٹ گئے۔ اس وقت کسی کو محسوس نہیں ہوا کہ امیتابھ کے ساتھ اتنا بڑا حادثہ ہوا ہے۔
امیتابھ بچن نے اپنے بلاگ پر تین یا چار بار اس واقعہ کا مختلف طریقے سے ذکر کیا ہے۔
اگست 2009 میں بھی امیتابھ نے بلاگ پر اس کے بارے میں لکھا تھا۔ امیتابھ لکھتے ہیں: ’اس منظر کے کٹ ہوتے ہی مجھے بہت شدید درد ہوا۔ حالانکہ سکول میں باکسنگ کے دوران میں نے کئی بار گھونسے کھائے تھے اور اس کا درد کچھ دیر بعد ہی ٹھیک ہو جاتا تھا لیکن یہ درد برداشت نہیں کیا جا رہا تھا۔ جب درد ٹھیک نہیں ہوا تو پھر میں نے من جی (منموہن دیسائی) سے کہا کہ میں ٹھیک محسوس نہیں کر رہا ہوں۔ مجھے آج کے لیے رخصت دے دو۔ پھر میں وہاں سے گاڑی لے کر ہوٹل کے لیے روانہ ہوا۔ نا ہموار راستہ بھی بہت تکلیف دہ تھا۔‘

ہوٹل پہنچتے ہی میں بیڈ پر گر گیا۔ میرے اندر اتنی سکت بچ گئی تھی کہ میں جیا سے صرف یہ کہہ پایا کہ وہ میرے ذاتی معالج ڈاکٹر شاہ کو ممبئی سے فوری طور پر فون کر کے بلائیں اور بچوں کو گھر واپس بھیج دیں۔‘
امیتابھ کی خراب حالت دیکھ کر جیا بچن پریشان ہو گئیں۔ جیا نے اپنے عملے کے ہمراہ بچوں کو ممبئی بھیجا اور ممبئی میں اپنے دیور اجیتابھ کو فون پر ساری بات بتائی اور ڈاکٹر سے صبح بنگلور آنے کے لیے کہا۔
ادھر رات کے وقت منموہن دیسائی نے دو ڈاکٹروں کو بلاکر امیتابھ کو دکھایا۔ ڈاکٹر درد کی گولیاں اور انجیکشن دے کر چلے گئے کہ کوئی خاص بات نہیں ہے۔ درد ٹھیک ہو جائے گا لیکن امیتابھ رات بھر بے ہوشی کی حالت میں درد سے کراہتے رہے۔
بیماری کی تشخیص نہیں ہو پا رہی تھی
27 جولائی کی صبح اجیتابھ ممبئی سے ڈاکٹر شاہ کے ساتھ بنگلور پہنچے۔ وہ اپنے ساتھ ایک پورٹیبل ایکس رے مشین بھی لے کر آئے تھے۔ انھوں نے ایکسرے لیا۔
لیکن امیتابھ کے لیے ہلنا بھی مشکل تھا۔ پھر ڈاکٹر شاہ نے مقامی ڈاکٹر سے مشورہ کرنے کے بعد امیتابھ کو وہاں کے سینٹ فلومینا ہسپتال میں داخل کروایا۔
تب تک یہ خبر پورے ملک میں پھیل چکی تھی۔ یہ خبر پہلے ملک کے دوپہر اور شام کے اخبارات اور پھر اگلے دن تمام اخبارات میں شہ سرخیوں میں آئی اور ریڈیو پر بھی نشر ہوئی۔
فلومینا ہسپتال میں امیتابھ بچن کا علاج کرنے والے ڈاکٹر جوزف انتھونی نے ان دنوں کو یاد کرتے ہوئے سنہ 2012 میں ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا: ’میں امیتابھ کو نہیں پہچانتا تھا لیکن جب میں نے ہسپتال کے باہر ایک بڑے ہجوم کو ان کی خیریت دریافت کرنے کے لیے دیکھا تو مجھے معلوم ہوا کہ وہ ایک بڑے فلمی سٹار ہیں۔ پھر جہاں امیتابھ داخل تھے اس پوری راہداری کو ہم نے صرف امیتابھ کے لیے مخصوص کر دیا۔
یہ سب تو ہوا لیکن کسی کو امیتابھ کی بیماری پوری طرح سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ اگلے دن تک امیتابھ بچن کے حادثے کی خبر اتنی پھیل گئی کہ ان کے مداح بے چین ہو گئے۔ کوئی امیتابھ کا یہ حادثہ سن کر صدمے میں آ گیا تو کوئی زاروقطار رونے لگا۔
جولائی سنہ 1982 تک امیتابھ بچن ’فلم زنجیر، ابھیمان، چپکے چپکے، ہیرا پھیری، دیوار، شعلے، دو اجنبی، کبھی کبھی امر اکبر انتھونی، پرواریش، ڈان، ترشول، مقدر کا سکندر، لاوارث، نصیب، ستے پہ ستا اور نمک حلال جیسی بہت سی سپر ہٹ فلموں کی وجہ سے ملک کے سپر اسٹار بن چکے تھے۔
ادھر فلومینا ہسپتال میں امیتابھ کی بگڑتی حالت کو دیکھ کر سب پریشان ہو گئے۔ ہسپتال کے کمرے نمبر سات میں امیتابھ بے ہوشی کی حالت میں تکلیف میں مبتلا تھے۔ انھیں سانس لینے میں بھی دشواری ہو رہی تھی۔ ایسا لگ رہا تھا کہ کسی بھی وقت وہ کوما میں جا سکتے ہیں۔
ان کے کمرے کے باہر بیٹھی جایا، اجیتابھ اور امیتابھ کے ایک دوست حبیب ناڈیاڈ والا حیران تھے کہ اب کیا کریں؟ امیتابھ کے اس مشکل وقت میں ان کے خاندانی دوست اور فلمساز یش جوہر بھی پہنچ گئے تھے۔
اسی دوران سب نے فیصلہ کیا کہ شام کی پرواز سے امیتابھ کو ممبئی لے جایا جائے۔ اسی وقت پتا چلا کہ معروف یورولوجسٹ ڈاکٹر ہتنگڑی ششی دھر بھٹ کسی سرجری کے لیے ہسپتال آئے ہوئے ہیں۔
وہ اتنے مشہور اور معزز تھے کہ انھیں ’انڈیا کا فادر آف یورولوجی‘ بھی کہا جاتا تھا۔
بھٹ کسی دوسرے مریض کے لیے آپریشن تھیٹر جاتے اس سے پہلے جیا بچن ان کے پاس پہنچ گئيں، اور امیتابھ کو بھی دیکھنے کی التجا کی۔ وہ راضی ہوگئے۔ چوٹ کی جگہ سوجن، امیتابھ کی حالت اور ایکسرے دیکھنے کے بعد ان کی آنکھیں کھلی رہ گئیں۔
امیتابھ بچن نے ایک بار اس واقعے کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ڈاکٹر بھٹ میرے کمرے کے دروازے پر کھڑے ہوکر اونچی آواز میں بولے ‘ابھی انھیں آپریٹنگ ٹیبل پر لے آؤ نہیں تو شام کی پرواز سے آپ ان کی میت لے جائيں گے۔‘
دراصل امیتابھ کی اس پہلی سرجری کے بعد پتا چلا کہ ان کی آنت پھٹ گئی ہے، زہر پورے پیٹ میں پھیل چکا ہے اور اب وہ جسم کے دوسرے حصوں پر حملہ آور ہے۔

اس آپریشن سے اتنا ہو گیا کہ امیتابھ کے سر پر موت کا خطرہ کچھ عرصے کے لیے رک گیا۔ لیکن فلومینا کی محدود سہولیات تھیں لہٰذا ڈاکٹر بھٹ، ڈاکٹر انتھونی اور ڈاکٹر شاہ نے امیتابھ کو ممبئی کے بریچ کینڈیہ ہسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
دوسری طرف امیتابھ کی حالت کے پیش نظر ممبئی شفٹ کرنا بھی خطرناک تھا۔ اس وقت ایئر ایمبولینس کا کوئی انتظام نہیں تھا۔ چارٹرڈ ہوائی جہاز میں بھی دشواری تھی۔
اسی لیے یش جوہر اور جیا بچن نے انڈین ایئر لائنز اور حتیٰ کہ وزارت کے اعلیٰ عہدیداروں سے بات کی۔
اس کے بعد انڈین ایئر لائنز نے طیارے کے اگلے حصے سے بزنس کلاس کی نشستوں کی تین قطاریں ہٹا دیں اور وہاں منی آئی سی یو جیسے انتظامات کیے۔ پھر امیتابھ نے سٹریچر پر پڑے ہوئے سفر کیا۔
طیارے میں جیا بچن، اجیتابھ، حبیب، منموہن دیسائی اور یش جوہر کے ہمراہ ڈاکٹر شاہ اور کمانڈنگ نرس عماریہ بھی اپنی ٹیم کے ساتھ تھیں۔ جاوید اختر اور ان کی پہلی اہلیہ ہنی ایرانی بھی وہاں تھیں۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


