موت کو شکست دینے کی امیتابھ کی 38 سال پرانی کہانی
امیتابھ کی صحت کے لیے ملک بھر میں دعائیں
جب طیارہ 31 جولائی کی رات ایک بجے پرواز کر کے تقریبا تین بجے ممبئی پہنچا تو وہاں تیز بارش ہو رہی تھی لیکن اس کے باوجود لوگ امیتابھ کی ایک جھلک کے لیے وہاں کھڑے تھے۔
ایئرپورٹ پر ہجوم کے پیش نظر امیتابھ بچن کے اسٹریچر فوڈ سروس کے کیریئر میں ڈال کر خاموشی سے باہر لے جایا گیا۔ پھر ایک ایمبولینس صبح تڑکے امیتابھ کو لے کر بریچ کینڈی ہسپتال پہنچی۔
امیتابھ بچن کی علالت کے دنوں میں پورے ملک میں سوگ کا ماحول تھا۔ میں نے اس دور کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ اس وقت بہت سے لوگوں سے امیتابھ کے بارے میں بات کی ہے۔
جو لوگ جانتے تھے کہ میں بچن خاندان کو اچھی طرح جانتا ہوں، ان سے رابطہ میں ہوں تو ان میں سے کچھ مجھے کارڈ دیتا، کبھی کوئی پھول یا کوئی تعویذ دیتا کہ اسے امیتابھ جی یا ان کے والد کو پہنچا دیں، امیت جی ٹھیک ہو جائیں گے۔
مجھے یاد ہے کہ ایک دن محلے کے چار بچے روتے ہوئے میرے پاس آئے اور کہا: ’ہمیں سچ بتاؤ، امیتابھ انکل ٹھیک ہوجائیں گے نا۔۔۔‘
جب میں نے ایک دن بچن جی کو فون پر بتایا کہ دہلی، اتر پردیش، ہریانہ، راجستھان، پنجاب، ہماچل سب جگہ امیتابھ کی صحت یابی کے لیے مستقل پوجا اور دعا ہو رہی ہے تو وہ جذباتی ہو گئے۔
انھوں نے کہا: ’ہمارے گھر روزانہ سیکڑوں خطوط آ رہے ہیں۔ ہر کوئی ان کے لیے دعاگو ہے۔ یہاں تک کہ ’پرتیکشا‘ کے باہر بھی اور ہسپتال میں بھی لوگ پھول، دھاگے، تعویذ باندھ کر چلے جاتے ہیں۔
اس وقت کی صورتحال پر ہفتہ روزہ انڈیا ٹوڈے نے اپنے 31 اگست 1982 کے شمارے میں لکھا تھا: ’پورا ممبئی ایسے پوسٹروں اور بینروں سے بھر گیا تھا جس میں امیتابھ کے ساتھ نیک خواہشات کا اظہار کیا جا رہا تھا۔ یہاں تک کہ لوگ اخبارات میں جلد صحت کے اشتہار دے رہے تھے۔ کتنے ہی لوگ آئے دن سدھی ونائیک مندر جاکر امیتابھ کے لیے پوجا کرتے۔
بریچ کینڈی میں بھی موت منڈلا رہی تھی
امیتابھ کے بریچ کینڈی پہنچنے پر ان کی والدہ تیجی بچن اور والد ہریونش رائے بچن بھی اپنے ‘منّا’ کو دیکھنے گھبراتے ہوئے ہسپتال پہنچے۔
ساتھ ہی یش چوپڑا، پرکاش مہرہ، رمیش سیپی، موسیقار کلیان جیتو امیتابھ کو دیکھنے کے لیے مستقل ہسپتال میں ہی رہے۔ جبکہ منموہن دیسائی اور یش جوہر بنگلور سے بھی ان کے پاس جاتے رہے۔ یہاں تک کہ بہت سارے ستارے انھیں دیکھنے ہسپتال پہنچے۔
امیتابھ آئی سی یو میں انتہائی تشویشناک حالت میں تھے۔ ایسی صورتحال میں تیجی بچن بہت سارے لوگوں کی مسلسل آمد سے ایک بار اس قدر ناراض ہوگئیں کہ انھوں نے دلیپ کمار تک سے کہہ دیا کہ ‘ساری، ان کو دیکھنے کے لیے اندر نہ جائيں۔’ اس کے بعد وزیرٹرز وہاں کم ہوئے۔
بہر حال ہسپتال کے ان دنوں کو یاد کرتے ہوئے امیتابھ کو وہاں ملنے والے اپنے دو تحائف ہمیشہ یاد رہتے ہیں۔ ایک ایم ایف حسین نے ان کے لیے ایک پینٹنگ تیار کی تھی جس میں ہنومان جی سنجیونی بوٹی لا رہے ہیں۔ دوسری بالاصاحب ٹھاکرے کا کارٹون جس میں امیتابھ یمراج کو پیٹ رہے ہیں۔
دوسری طرف بنگلور میں امیتابھ کی جو سرجری کی گئی تھی اس جگہ سے خون رس رہا تھا۔ اس کے بعد بریچ کینڈی میں ڈاکٹر ایف. اُڑوادیا اور ان کی ٹیم نے امیتابھ کی ایک اور سرجری کی۔ لیکن امیتابھ کے آنتوں سے خون بہنے کا عمل جاری رہا، جس کی وجہ سے ان کے جسم میں خون کی بے حد کمی ہو گئی تھی۔
صورتحال ایسی ہوگئی کہ بریچ کینڈی میں داخل ہوتے وقت انھیں تقریبا 60 یونٹ خون دیا گیا۔
دوسری جانب ڈاکٹروں کی بہترین کوششوں کے باوجود دو اگست کو امیتابھ کا بی پی اور پلس صفر ہوگیا۔
یہ دیکھ کر ڈاکٹروں نے امید چھوڑ دی۔ یہاں تک کہ جیا سے کہا کہ ‘اب کوئی امید نہیں ہے۔ آخری بار امیتابھ کو جاکر دیکھ لیں۔’
دیکھتے دیکھتے وہ ‘طبی طور پر مردہ’ ہو گئے تھے۔ یہ دیکھ کر افراتفری پھیل گئی۔ لیکن پھر ڈاکٹر اُڑواڈیا نے امیتابھ کو آخری امید کے طور پر ادویات کے زیادہ مقدار کی شکل میں چند انجیکشن دیئے۔
کچھ دیر بعد جیا نے امیتابھ کے پیر میں کچھ ہوتا ہوا دیکھا۔ وہ یہ دیکھ کر خوشی سے چیخ اٹھی۔ اس کے ساتھ ہی ڈاکٹروں کی پوری ٹیم جوش میں آگئی۔
امیتابھ کو ہوش میں لانے کے لیے سب زور زور سے چیخنے لگے۔ چند لمحوں کے بعد امیتابھ نے آنکھیں کھولیں۔ وہ حیرت سے سب کی طرف دیکھنے لگے۔ اس سے سب کے مرجھائے اور روتے ہوئے چہرے کھل اٹھے۔
دو اگست کا وہ یادگار دن
اس دن یعنی دو اگست کو تقریبا 11 منٹ تک ‘طبی طور پر مردہ’ رہنے کے بعد امیتابھ کی سانس دوبارہ لوٹ آئیں۔ اس کے بعد سے ان دن کو امیتابھ کے دوسرے جنم کا دن کہا جاتا ہے۔
اگرچہ دو اگست کو امیتابھ کی زندگی واپس آگئی لیکن اس کے زخم سے خون کا ہلکا سا رساو باقی رہا۔
یہ دیکھ کر یش جوہر لندن گئے اور وہاں ایک مشہور سرجن ڈاکٹر پیٹر کاٹن کو اپنے ساتھ ممبئی لے آئے جنھون نے امیتابھ کی ایک چھوٹی سی سرجری کروائی اور ایک نئی تکنیک سے ان کے خون کے رساؤ کو روک دیا۔

اس وقت اندرا گاندھی بھی گھبرا گئیں تھیں
بڑی بات یہ بھی تھی کہ امیتابھ بچن کی فکر پورے ملک کے ساتھ اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی اور ان کے بیٹے راجیو گاندھی اور بہو سونیا گاندھی کو بھی تھی۔
یہ اتفاق تھا کہ جب امیتابھ کے حادثے کی خبر آئی اس وقت تک اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی امریکہ کے سرکاری دورے پر روانہ ہو گئے تھے۔ لیکن راجیو نے اپنا سفر بیچ میں ہی چھوڑ دیا، اور چار اگست کو وہ اپنے بچپن کے دوست امیتابھ سے ملنے ممبئی پہنچے۔
اس کے بعد آٹھ اگست کو جب اندرا گاندھی وطن واپس آئیں تو وہ سونیا گاندھی کے ساتھ ائیرپورٹ سے براہ راست ممبئی کے بریچ کینڈی ہسپتال پہنچ گئیں۔ امیتابھ انھیں دیکھ کر رو پڑے۔ اس کے بعد اندرا گاندھی نے امیتابھ سے کہا ‘بیٹا فکر نہ کریں آپ ٹھیک ہو جائیں گے۔’
اس واقعے کا ذکر اندرا گاندھی کے قریبی رہنما ماکھن لال فوتیدار نے بھی اپنی کتاب ‘دی چنار لیوز- اے پولیٹیکل میموائر’ میں کیا ہے۔ ‘اندرا گاندھی نے بیرون سے واپسی کے بعد ہی مجھ سے کہا تھا کہ پنڈت ہرسکھ کو ہسپتال بھیجو۔ امیتابھ کی صحت کے لیے پوجا کرانی ہے۔’
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


