موت کو شکست دینے کی امیتابھ کی 38 سال پرانی کہانی
فوتیدار یہ بھی کہتے ہیں کہ اگلے دن اندرا جی نے جذباتی انداز میں ایک سفید کپڑے میں تعویذ، پرساد اور کچھ دیگر پوجا کی چیزیں دیں کہ یہ امیتابھ کی زندگی کے لیے ہے، اسے ہسپتال بھیج دو ورنہ راجیو تنہا ہوجائے گا۔
پنڈت ہرسکھ نے امیتابھ کے تکیے کے نیچے ان سامان کو رکھا اور دس دنوں تک امیتابھ کے لیے پوجا کی۔
دوسری طرف تیجی جی اور بچن جی بھی امیتابھ کی جان کی سلامتی کے لیے پوجا میں مصروف تھے۔ جیا بھی امیتابھ کے لیے روزانہ سدھی ونایک مندر جاتی تھیں۔ پہلے امیتابھ کا ٹھیک ہونا، پھر مکمل طور پر صحت یاب ہونا اور زندگی میں دوبارہ نئی جہت پیدا کرنا کسی معجزہ سے کم نہیں۔
امیتابھ کی ہسپتال میں حالت یہ تھی کہ ان کے جسم کے مختلف حصوں میں دسیوں نلیاں اور ٹیوب لگے تھے۔ فوڈ پائپ سے ہی انھیں کھانا دیا جارہا تھا۔ یہاں تک کہ سانس لینے کے لیے بھی ان کے گلے میں ایک ٹیوب ڈالی گئی تھی۔
آئی سی یو کے بعد امیتابھ کو بریچ کینڈی ہسپتال کے کمرے نمبر 316 میں منتقل کردیا گیا۔ آج بھی وہ کمرہ مشہور ہے کیوں کہ اس میں قیام کرکے امیتابھ نے موت پر فتح حاصل کیا تھا۔
امیتابھ 24 ستمبر کی دوپہر تک بریچ کینڈی کے اسی کمرے میں رہے۔ اسی دن وہ اپنے گھر واپس آئے جو دو مہینوں سے ان کا منتظر تھا۔
Aishwarya and Aaradhya have also tested COVID-19 positive. They will be self quarantining at home. The BMC has been updated of their situation and are doing the needful.The rest of the family including my Mother have tested negative. Thank you all for your wishes and prayers 🙏🏽
— Abhishek 𝐁𝐚𝐜𝐡𝐜𝐡𝐚𝐧 (@juniorbachchan) July 12, 2020
جب امیتابھ ہسپتال سے باہر آئے تو وہاں لوگوں کا بہت بڑا ہجوم تھا۔ راستے میں بہت سارے لوگ ان کے استقبال کے لیے کھڑے تھے۔ لیکن جب وہ گھر پہنچے تو وہاں اتنا ہجوم تھا کہ امیتابھ کے لیے گھر میں داخل ہونا مشکل ہوگیا۔
ہاتھوں میں پلے کارڈ اور پھول لے کر لوگ خوشی سے ‘لونگ لائیو امیتابھ’ اور ‘امیتابھ-امیتابھ’ کے نعرے لگا رہے تھے۔ امیتابھ نے فرط جذبات سے مغلوب ہوکر ہاتھ جوڑ کر سب کا شکریہ ادا کیا۔
گھر کے اندر داخل ہوتے ہی پہلے ان کی آرتی اتاری گئی، پھر امیتابھ آگے بڑھے اور اپنے والد کے پاؤں چھوئے۔ بچن جی نے اپنے بیٹے کو گلے لگاتے ہوئے پھوٹ پھوٹ کر رو پڑے۔
امیتابھ نے ایک بار اس کے متعلق کہا تھا: ‘وہ میری زندگی کا پہلی موقع تھا جب بابو جی کی آنکھوں میں آنسو دیکھے تھے۔’
امیتابھ کے گھر واپس آنے پر میں نے بچن جی کو خط لکھ کر مبارکباد دی تھی۔ اس کے جواب مین بچن جی نے آٹھ اکتوبر 1982 کو لکھا: ‘امیتابھ کی گھر واپسی پر مبارکباد کے لیے پورے کنبے کی طرف سے شکر گزار ہوں۔ امیتابھ آہستہ آہستہ صحتیاب ہو رہے ہیں۔ ہم بھی صحتمند ہیں۔ باقی معمول پر رہے۔ تم جو بھی اچھا کرو اس میں کامیاب رہو، ہماری دعائیں- بچن’
امیتابھ دسمبر کے آخر تک بالکل صحت مند ہو گئے۔
بیماری کے بعد امیتابھ نے سات جنوری سنہ 1983 کو ‘قلی’ کے لیے اپنی شوٹنگ کا آغاز کیا۔ اس بار ان کے لیے ممبئی کے چاندی والی اسٹوڈیو میں ‘قلی’ کا ایک سیٹ لگایا گیا۔
نہ جانے کتنے ہی فوٹوگرافر ان خوبصورت لمحوں کو گرفت میں لینے کے لیے بے چین تھے۔ جیسے ہی امیتابھ نے پہلا شاٹ دیا تمام کیمروں کی فلیش لائٹس چمک اٹھیں۔


