مطیع اللہ جان کے کارنامے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

(برادر صحافی اسلم خان صاحب نے یہ تحریر آج صبح “ہم سب” کو ارسال کی تھی۔ یہ تحریر موصول ہونے کے بعد مطیع اللہ جان کے اغوا کی خبر آئی اور اس تحریر نے ایک نیا پس منظر اختیار کر لیا۔ “ادارہ ہم سب” کا اس تحریر کے سب مندرجات سے اتفاق ضروری نہیں لیکن ایک محترم صحافی کی یہ امانت پڑھنے والوں تک پہنچانا ہمارا فرض ہے۔ مدیر )

اصول، سچائی اور انصاف کے لئے ڈٹ کر کھڑے ہونے کی فوجی تربیت پانے والا مطیع اللہ جان اعلی ترین عدالت کے کٹہرے میں ایک بار پھر کھڑا ہے، سب سے سوال پوچھنے والے اس ’آئین کے حافظ اور محافظ‘ کو توہین عدالت کا ملزم قرار دیا جا رہا ہے۔ ہرکس و ناکس نہیں، اپنے ہی ہم کار ساتھیوں کا گریبان پکڑنے کی جرات رندانہ رکھنے والے مطیع کے اپنے گریبان کی باری ہے لیکن ملزم کا ایک ہی تقاضا اور اصرار ہے کہ اس کی بات سنی جائے، کامل 25 برس عدالتوں کی رپورٹنگ کر کے نیک نامی کمانے والے اس ”بدنام“ رپورٹر ہی کے بارے میں شاید اقبال نے کہا تھا کہ

 کہتا ہوں وہی بات سمجھتا ہوں جسے حق

نے آبلہ مسجد ہوں نہ تہذیب کا فرزند

اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں بیگانے بھی ناخوش

میں زہر ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند

جج قاضی فائز عیسی مقدمے کے ”تابکاری اثرات“ مطیع اللہ جان پر آن پڑے ہیں۔ سپریم کورٹ کے عزت مآب چیف جسٹس گلزاراحمد، جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس مظہرعالم خان میاں خیل نے 22 جولائی کو اٹارنی جنرل کے علاوہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر کو بھی معاونین کے طور پر طلب کر لیا ہے۔

شوریدہ سرمطیع اللہ جان پر ایک توہین آمیز جملہ جج صاحبان پر اچھالنے کا الزام ہے جو اس نے دس جولائی کو ٹویٹ کیا جس میں بظاہر معزز جج صاحبان کے بارے میں تکلیف دہ اور نازیبا الفاظ درج تھے۔

“مطیع اللہ جان کسی کا دوست نہیں اس کا بھی کوئی دوست نہیں۔“ کہ وہ مثالیت پسند کتابی آدمی ہے اب تک کی اس کی زندگی اور طرز عمل اس کا کھلا ثبوت ہے۔ اس نے ”گریبان“ کے نام سے پروگرام شروع کیا جو ”اپنا گریبان ہوا“ اور پھر ”اپنا اپنا گریبان ہو گیا۔“

ہمارے بیشتر ہم پیشہ احباب بھی نہیں جانتے کہ اس کالم نگار کا مطیع اللہ جان سے گہرا تعلق خاطر رہا ہے کہ مطیع نے سفر کا آغاز ہی ہمارے ساتھ کیا تھا۔ مطیع اللہ جان سے اس کالم نگار کا تعارف یوں ہوا کہ وہ اپنے والد کرنل عبدالرزاق عباسی کی پریس ریلیز لے کر آیا کرتا تھا اور اس سے پتا چلا کہ یہ اور اس کے والد آئین کے بہت بڑے ماہر ہیں، آئین پرستی پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کے والد کی خبریں چھاپنا شروع کر دیں۔

کرنل صاحب کو عام انتخاب میں چند ہزار ووٹ مل سکے۔ ان کی پارٹی کا نام غالباً چاند تارا پارٹی تھا اور چاند تارا ہی شاید ان کا انتخابی نشان بھی تھا۔ مطیع اللہ نے صحافت بھی ہمارے ساتھ شروع کی اور بڑے بڑے سنگین واقعات کا محور بن گیا۔ مطیع اللہ جان اوٹ پٹانگ خبر لے آئے کہ ایم آئی نے آئی ایس آئی اور کے بلاک پر قبضہ کر کے ریکارڈ پر قبضہ کر لیا ہے۔ اسے کہا کہ یہ خبریں جن کا کوئی ثبوت نہیں ہوتا، نہیں چھپ سکتیں۔ آپ اس میں سارے حساس ادارے شامل کر رہے ہو، کچھ خدا کا خوف کرو۔ ان دنوں حافظ عبدالخالق مرحوم اور منفرد اسلوب کے حامل جاوید قریشی حاجی رزاق کی دعوت پر دوبئی گئے ہوئے تھے اور  یہاں یہ کالم نگار اکیلا مدار المہام تھا۔ نوجوان مطیع اللہ جوش جوانی میں میرے پیچھے پڑ گیا کہ میری یہ خبر ہر حال میں چلوا دیں۔

ایک شگاکو ویب اخبار تھا “پاکستان لنک”۔ میں نے تنگ آ کر جان چھڑانے کے لئے یہ بے سروپا خبر اسے بھجوا دی جو مطیع اللہ جان کی بائے لائن تھی۔ یہ خبر چونکہ این این آئی کے ایڈریس سے گئی تھی، فیض الرحمن صاحب نے بڑے طمطراق سے شائع کردی۔ خالد حسن صاحب ان دنوں واشنگٹن میں دی نیشن کے بیورو چیف ہوتے تھی۔ انہوں نے یہ خبر این این آئی اور مطیع کو کریڈٹ دیتے ہوئے واپس نیشن میں بھجوا دی۔ خالد حسن ذوالفقار علی بھٹو کے پریس سیکریڑی رہے تھے۔ انگریزی اور اردو میں اعلی پایے کے نثرنگار شاہد ملک اور فواد حسن فواد کے کزن ہوتے تھے۔ نیشن میں یہ خبر صف اوّل پر 8 کالم میں شائع ہوئی۔ صبح سویرے اس خبر اس شان وشوکت سے جلوہ گر دیکھ کر میں حواس باختہ ہوگیا۔ اسی وقت مطیع اللہ کو فون کیا۔ “مطیع آج سپریم کورٹ میں تجھ کوئی نہیں پہچانے گا۔” اس نے کہا کیا ہوا سر؟ میں نے کہا، تجھے میں خود لے کر آوں گا۔ اس کے لیے حیرانی کا دن تھا۔ اس کے ساتھی رپورٹر اس سے آنکھ ملانے کو تیار نہیں تھے۔ خبر ان کی فرنٹ پیج باٹم میں چھپ چکی تھی۔ اب دعا تھی کہ جان چھوٹ جائے، خلاصی ہو جائے اور پھر انتظار کرنے لگا کہ کب بلاوا آئے اور پوری فوجی وردی میں میجر صاحب آ گئے۔ میں نے معافی تلافی کر کے جان چھڑائی کہ بس یہ گڑبڑ ہوگئی، میں ذمہ دار ہوں، معاف کر دیں تو وہ بھی سمجھ گئے کہ اس میں کوئی دیدہ دانستہ واردات نہیں کی گئی ۔

لیفٹنٹ کرنل (ر) رزاق عباسی – مطیع اللہ جان کے والد محترم

مطیع اللہ جان اور پنگے بازی سے باز آجائے۔ ایک بار رجسٹرار سپریم کورٹ فاروقی صاحب سے ملنے کے لیے گیا۔ اشفاق گوندل باہر کھڑے تھے۔ میں نے پوچھا چچا آپ کو کیا ہو گیا ہے۔ کہنے لگے مطیع اللہ کو ہمارے گلے ڈال دیا۔ میں نے پوچھا،  کیا ہوا؟ انہوں نے کہا مطیع اللہ پی ٹی وی میں کام کر رہا ہے۔ عدلیہ کی سالانہ کارکردگی رپورٹ میں جان بوجھ کر اس نے یہ فقرہ بھی ڈال دیا کہ اتنے لاکھ کیس زیرالتوا ہیں تو رجسٹرار نے کہا کہ یہ کیا بکواس ہے۔ اور ہم یہاں بلائے گئے ہیں۔

مطیع اللہ کی وارداتیں کہاں ختم ہوئیں۔ لغاری مرحوم کی نگران حکومت تھی اپنے فخرو بھائی وزیر قانون تھے۔ انہوں نے ایک وکیل فخرالدین جی ابراہیم کی اجازت کے بغیر خود ہی لگا دیا۔ مطیع کو پتہ چل گیا۔ اس نے فخرو بھائی پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میں استعفیٰ دے دوں گا۔ فخرالدین نے صدر کو کہا کہ یہ آپ نے کیا کیا؟ میں جا رہا ہوں اور وہ مستعفی ہو گئے ۔

مطیع اللہ جان نے ایسی ہی کچھ باتیں کر دیں کہ جسٹس شوکت صدیقی نے توہین عدالت میں بلا لیا اور رمیزہ بی بی کو بھی بلایا تھا۔ مجھے صبح سات بجے اٹھنا پڑا کہ مطیع اللہ جان کوئی اور چن نہ چڑھا دے۔ شوکت صدیقی کی عدالت میں کھڑے ہو کر اس کالم نگار نے معافی تلافی کرائی۔ شوکت صدیقی کہنے لگے، “یہ نوائے وقت کا نام اور رمیزہ بی بی بیٹھی ہیں، درگزر کر رہا ہوں۔ میں نے عرض کی آپ مطیع اللہ کو چھوڑیں، مجھے معاف کردیں۔ اس طرح غیر مشروط معافی مِانگ کر گلو خلاصی کرائی۔

(جسٹس (ر) شوکت صدیقی سے کوئی پوچھے کہ پاکستان کی تاریخ میں نوائے وقت کا کیا کردار ہے؟ اور رمیزہ نامی اس خاتون کا صحافت میں کا کیا مقام ہے جس کے نام پر انہوں نے مطیع اللہ جان سے درگزر کا اعلان فرمایا۔ و مسعود)

 مطیع اللہ جان کا سوال جس قدر سادہ ہوتا ہے، اس کی تلخی اور زہرناکی اسی قدر زیادہ ہوتی ہے۔ اس نے ”اپنا گریبان“ میں میڈیا کے بڑے بڑے اینکر، کالم نگار اور صحافی چوک میں کھڑے کردئیے۔ کسی نے سرکاری حج یا عمرہ کیا تو اس کی بھی خبر لی اور کسی نے سرکاری رہائش گاہ سر چھپانے کو حاصل کی تو اسے بھی سر بازار لا کھڑا کیا۔ اس کی سرشت میں ٹیڑھے سوال گندھے ہوئے ہیں وہ جب سوال پوچھتا ہے تو بھول جاتا ہے کہ سامنے کون کھڑا ہے۔ قانون، اصول، آئین ہی اس کے دوست ہیں۔ نہ وہ کسی کی سنتا ہے اور نہ ہی کسی کی مانتا ہے۔

دوسروں کی خبر لینے والا خود بھی کئی بار ’خبر‘ بن چکا ہے۔ بے ترتیب بال، کھانے پینے سے بے نیازی، خبروں کی حقیقت کی ٹوہ میں لگا رہنے والا یہ بے قرار مطیع اللہ جان اپنے ساتھیوں میں بھی اسی افتاد طبع کے لئے معروف ہے۔ گلے میں تھیلا ڈالے، اسے یہ بھی پرواہ نہیں رہی کہ اس کا کالم کہیں شائع ہوگا یا نہیں، کوئی ٹی وی اس کی خبر نشر کرے گا یا نہیں، اپنی دُھن میں مست مستانہ دیوانہ، چلا جاتا ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی مطیع اللہ کی شکایت پہنچی۔ عالی جناب جسٹس اطہر من اللہ کی عدالت میں جس فرد کی شکایت کی گئی، وہ اسے خود بطور وکیل ’بھگت‘ چکے ہیں لیکن ان کی رائے بڑی ہی دانائی وحکمت پر مبنی تھی کہ ایسے تبصروں سے جج صاحبان کی عزت و وقار متاثر نہیں ہوتے۔ انہوں نے شکایت لے جانے والے وکیل سے کہا کہ جو معاملہ سوشل میڈیا کے ایک گوشے تک محدود تھا، آپ نے پٹیشن کر کے اسے عام کردیا جو مناسب نہیں تھا۔

توہین عدالت کے اس نوٹس سے سوال جواب کی ایک نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔ سوال ہو رہا ہے کہ توہین عدالت کا قانون کیا ہے؟ توہین کیا ہے؟ مشہور زمانہ ججز کیس میں عدالت عظمی نے آزادی اظہار کو واضح کر دیا ہے اور عدالتی فیصلوں پر رائے زنی کی بھی اجازت دی تھی۔

ایک مطیع اللہ اور اتنی شکایات، آنکھوں میں سچائی کی چمک اب بھی ویسی ہی ہے جیسا کہ اس کے اوائل جوانی میں تھی۔ اس کے بالوں میں اب چاندی اتر آئی ہے۔ مطیع اللہ کے خیالات سے کسی کو اختلاف ہوسکتا ہے، اس کے انداز پر تنقید ہوسکتی ہے، وہ جس ”سفاکی“، ”بے رحمی“ اور ”بدلحاظی“ سے سوال داغ دیتا ہے، اس کا قلق اپنی جگہ لیکن اس میں کوئی کلام نہیں کہ وہ دیانتدار اور دلیر شخص ہے۔ سوال اٹھانا صحافی کا فرض ہے۔ اسے اسی کام کی تربیت دی جاتی ہے۔ یہ رائے بھی ظاہر کی جا رہی ہے کہ یہ مقدمہ سماعت کے مراحل طے نہیں کرپائے گا۔ اور فرد جرم عائد ہو گئی تو پھر انصاف کے ایوانوں میں بھونچال  آ جائے گا۔

مطیع اللہ جان کو سب جانتے ہیں۔ اس کی استاد شیریں مزاری تو خوب جانتی ہیں۔ اپنے اس شاگرد سے انہیں بہت ڈر لگتا تھا کہ نجانے کیا سوال پوچھ لے گا؟ مطیع اللہ جان کوئی عام صحافی بھی نہیں، نہ ہی کسی عام گھرانے سے اس کا تعلق ہے۔ اس کی ذہانت اسے ”شیوننگ سکالرشپ“ ملنے سے ظاہر ہوتی ہے۔ براڈ کاسٹ صحافت کی تعلیم اس نے لندن سے حاصل کی ہے۔ قائداعظم یونیورسٹی سے ڈیفنس اینڈ سٹرٹیجک سٹڈیز میں سند امیتاز پائی ہے۔

ملتان بار میں موصوف کو مدعو کیا گیا۔ واپسی پر بار والوں نے مہمان کے لئے گاڑی میں ’آم‘ کی پیٹی رکھوا دی جس پر یہ آگ بگولہ ہوگیا۔ توہین کی حد تک اس روایت شکن کو آم واپس کر کے ہی چین آیا۔ گذشتہ مہینوں میں اس کی بیروزگاری کا احساس کرتے ہوئے امیر کبیر کسی وکیل دوست نے مدد کی ٹھانی لیکن کسی میں ہمت نہ ہوئی کہ مطیع اللہ جان سے بات کر سکے۔

مطیع اللہ کے آئیڈیل اس کے والد کرنل عبدالرزاق عباسی ہیں۔ اس کے بھائی میجر ریٹائر ہوئے ہیں۔ اس کا خاندان فوجیوں سے بھرا ہوا ہے۔ مطیع کا کہنا ہے کہ اس کے والد نے اسے سچائی، انصاف اور حق بات کے لئے ڈٹ کر کھڑے ہونے کی تربیت دی۔ خود مطیع اللہ جان ملٹری اکیڈمی کاکول میں ساڑھے تین سال رہا۔ اس کا ماننا ہے کہ سویلینز سے زیادہ کھل کر راست گوئی سے سوال پوچھنا اور سچ بولنا اسے فوج نے ہی سکھایا ہے۔ سوال پوچھنے کی دلیری مجھے فوج نے سکھائی ہے، اکیڈیمی سے اس کے اخراج کے بارے میں ناگفتہ بہ کہانیاں زبان زد عام ہیں ۔

ایک صحافی نے اس سے سوال پوچھا کہ آپ اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہیں؟ تواس کا جواب تھا کہ ”یہ تو کسی پر بھی لیبل چپکا دینے والی بات ہے۔ مجھے میرے والد نے اعتماد دیا۔ فوج نے اعتماد دیا۔ فوج کا تجربہ میرے کام آیا۔ یہی وہ اعتماد ہے شاید جس کی وجہ سے میں جس حوصلے سے بات کرتا ہوں، وہ دوسرے نہیں کرپاتے۔ میں فوج مخالف نہیں ہوں۔ فوج اور اس کی یونیفارم سے بہت پیار ہے۔ میرے والد یہ یونیفارم پہنتے تھے۔ لیکن کچھ غلط ہو رہا ہو تو اس پر کھل کر بات کرنا میرے والد نے ہی مجھے سکھایا ہے۔“

مطیع اللہ کہتا ہے کہ ”مجھے امید ہے کہ عدالت قانون کے تقاضے پورے کرے گی۔ 25 برس سے سپریم کورٹ کی رپورٹنگ کرتا آیا ہوں۔ امید ہے میری بات سنی جائے گی۔ ایک صحافی اور کورٹ رپورٹر کو سننا چاہئے۔ آئین اور قانون کی تشریح ہونی چاہئے۔ فیصلے سنانے چاہیئں، احکامات اور ہدایات نہیں ہونی چاہئیں۔“

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

One thought on “مطیع اللہ جان کے کارنامے

  • 22/07/2020 at 8:53 am
    Permalink

    The problem with Mateehullah is his taunting tone with which he asks questions which can be asked in a polite way. However, I have no doubt about his integrity and love for Pakistan it’s institutions, particularly the armed forces.
    I shall certainly advise Mateeh that being a journalist you don’t get a licence to insult any with your tone. You are not the judge not an executor but a journalist who must be balanced in his attitude and reporting.

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *