خبرناک اور مجید امجد


۔ مجید امجد کے مماثل کردار (ڈمی) کو ان کی شخصیت کے مطابق خاموش، سنجیدہ اور متفکر دکھایا گیا، جیسے کہ وہ تھے۔ ۔ ۔ تا کہ ان سے ناواقف نوجوانوں کے ذہن میں ان کی شخصیت اور فن کا راست عکس قائم ہو سکے۔ گزارش ہے کہ مماثل کردار کو مجید امجد کی توہین کہنے والے اپنے ذہن کے بجھے روزن سے منظر دیکھنے کی کوشش نہ کریں بلکہ کشادہ دلی کے ساتھ چیزوں کے بدلتے معیار اور جدید سہولیات سے مزین فن پاروں کو دیکھ کر اپنے دماغوں کو منور کریں۔

3۔ سوشل میڈیا پر اس مطالبے کی تسبیح بار بار کی گئی، کہ جیو انتظامیہ، پروڈکشن ٹیم اور خبرناک کے تمام آرٹسٹ معافی مانگیں۔ ۔ ۔

ریڈیو، ٹیلی وژن پر چھوٹی موٹی غلطی کوئی بڑی بات نہیں، نشاندہی ہونے پر اس کی معذرت کرنے کا بھی چلن ہے۔ مگر معافی کے طلبگاروں نے یہ نہیں بتایا کہ آخر کون سی ایسی غلطی سرزد ہوئی ہے۔ غلطی کی نشاندہی کا کہا جائے تو اس قسم کے جملے سننے کو ملتے ہیں :

مجید امجد اور تمام ادبا و شعرا کی توہین برداشت نہیں کی جائے گی۔ ۔ ۔ ہم ادیب برادری کے تحفظ کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دیں گے۔ ۔ ۔ اگر آج تحفظ نہ کیا گیا تو پھر کسی ادیب کی عزت نہیں بچے گی۔ ۔ ۔ مجید امجد ہمارا سرمایہ ہیں، ان کی عزت کے تحفظ کے لیے سب ایک ہیں۔ مگر معافی کس چیز کی مانگنی ہے، یہ کہیں ذکر نہیں۔ ۔ ۔ البتہ معترضین میں سے پڑھے لکھے ایک صاحب، طارق ہاشمی، جو شاید کسی ادارے سے منسلک ہیں، انھوں نے ایک تحریر بعنوان ”اردو ادب کے کلاسیک، ہیرو کا تصور اور پاکستانی میڈیا“ سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی ہے، خبرناک میں مجید امجد والے سیگمنٹ پر اعتراضات کا خلاصہ انھی کے الفاظ میں دیکھیے :

”ٹی وی کے نجی چینل پر مجید امجد کی تعریف و تحسین کی کوشش میں ان کی جو تضحیک ہوئی، وہ نہایت افسوس ناک ہے۔ خصوصاً ً مجید امجد کا جو ڈمی کردار بنایا گیا، اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔“

ایک اور صاحب نے بھی لکھا کہ ڈمی سے کوئی بات نہ کروا کر مجید امجد کو گونگا ثابت کر نے کی کوشش کی گئی۔ ۔ ۔ بات یہ ہے کہ ہم میں سے کسی نے مجید امجد کو نہیں دیکھا، لہذا مماثل کردار بناتے وقت معلوم اشاروں سے استفادہ کیا گیا۔ ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا نے امجد صاحب کو بہت قریب سے دیکھا تھا، ان کے الفاظ میں مجید امجد کا حلیہ ملاحظہ ہو:

” مجید امجد نہ تو خوش شکل تھے اور نہ ہی خوش گفتار۔ انتہائی لمبا قد، جسم بے حد دبلا پتلا، بینائی جوانی میں ہی کمزور ہو گئی تھی۔ ۔ ۔ لیکن اس بیمار اور غیر دلکش ظاہر کے حامل شخص کا باطن انتہائی خوبصورت تھا۔“

سوچیے! گفتار کی اس صراحت کے بعد بھی کیا ڈمی سے بات کروانا مناسب ہوتا؟ ڈمی سے مجید امجد کی عمومی خاموشی اور متانت کو نمایاں کر کے مجید امجد کی توقیر کی گئی یا توہین، اہل علم بخوبی جان سکتے ہیں۔ اور مماثل کردار (ڈمی) کی ضرورت، اہمیت و افادیت کے مثبت پہلوؤں پر تو درج بالا سطور میں بات ہو چکی ہے۔ اور جہاں تک مجید امجد کی بحالی عزت کے لیے پتلے جلانے اور جلسے جلوس نکالنے کے عزائم کا تعلق ہے، تو پوچھنا یہ ہے کہ پھر مقبوضہ کشمیر کی ٓزادی کے لیے احتجاج کا کون سا نیا طریقہ اختیار کیا جائے گا؟

4۔ اکادمی ادبیات پاکستان کے حال ہی میں تعینات ہونے والے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر جناب یوسف خشک سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ادیب برادری سے محبت اور ان کی حرمت کی پاسبانی کا علم بلند کریں اور تھانہ، کچہری کا سہارا لیتے ہوئے جیو چینل کو فوری قانونی نوٹس بھجوائیں۔ تاکہ عوام کے مقبول پروگرام خبرناک کو بند کروایا جاسکے۔ ۔ ۔ ایک دن بعد ہی یہ مطالبہ دھمکی میں بدل دیا گیا، کہ یوسف خشک خبرناک کے ذمہ داران کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں یا فوری اپنی کرسی چھوڑ دیں۔

کبھی چیئرمین صاحب کو فیصلہ کرنے کی مہلت دی جا رہی ہے۔ ۔ ۔ اور انتہائی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس سارے معاملے کو جھوٹ، سطحی تنقید اور غلیظ زبان سے ہوا دینے والا ایک شخص ڈاکٹر یوسف خشک سے ان کی اکادمی ادبیات سے کمٹمنٹ کے اظہار کا بھونڈا مطالبہ کر رہا ہے۔ جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ شخص ان کے علمی و ادبی مقام و مرتبے سے قطعی نا واقف ہے۔ پرانی بات ہے، میں نے ڈاکٹر یوسف خشک کا تذکرہ کراچی میں استاذی پروفیسر ڈاکٹر معین الدین عقیل سے سنا، جب وہ ان کی زیر ادارت نکلنے والے تازہ تحقیقی مجلے ”الماس“ کے ورق الٹتے ہوئے تحسین کے ایسے الفاظ بول رہے تھے کہ مجھے غائبانہ ڈاکٹر یوسف خشک کے علمی مقام پر رشک آنے لگا۔

ملنے کا اشتیاق ہوا، ڈاکٹر صاحب ایک ادبی سیمینار میں شرکت کے لیے لاہور تشریف لائے تو ان کو سننے اور ملنے کے بعد ان کی نفیس و متین شخصیت کا نقش اور گہرا ہو گیا۔ ۔ ۔ اب تین چار لوگ سوشل میڈیا پر ادب دوستی کا ناٹک رچا کر اور ادیب برادری کے متفقہ فیصلے کی مضحکہ خیز اصطلاح استعمال کر کے ڈاکٹر یوسف خشک کو بورڈ آف گورنرز کا اجلاس بلانے اور کبھی قانونی نوٹس بھجوانے کے لیے بلیک میلنگ کا سہارا لے رہے ہیں۔ ۔ ۔ مجھے اکادمی ادبیات کے دائرہ کار کا مکمل علم نہیں ورنہ میں چیئرمین صاحب سے یہ دو جائز مطالبات ضرور کرتا:

1۔ گلی محلوں میں تخلیق، فروغ اور تحفظ ادب کے نام سے بنی فرضی تنظیموں کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ان کی کارکردگی طلب کی جائے۔ کسی بھی ادبی تنظیم کے ذمہ داروں کی ادبی حیثیت اکادمی کے ریکارڈ کا حصہ ہونی چاہیے، تاکہ ادیب، شاعروں کے بہروپ میں ادبی لٹھ برداروں کا بطریق احسن صفایا ہو سکے۔

2۔ اکادمی، اپنے آپ کو لکھاری کہنے والے کسی شخص کو غلیظ اللسان اور ادبی گمراہی پھیلانے کا مرتکب پائے تو سرکاری سطح پر اس کا ذہنی علاج کروانے کا فوری بندوبست کرے۔

اصل مسئلہ کیا ہے؟

مجید امجد کی آڑ میں توہین اور تحفظ کا جو ڈھونگ رچایا گیا، اس کا مقصد سستی شہرت، ذاتی تشہیر کے علاوہ وی لاگز کے ذریعے واچ ٹائم کا حصول ہے۔ اس نان ایشو پر سب سے زیادہ شور کر نے والے دو افراد ”من ترا حاجی بگویم“ کے مصداق ایک دوسرے کی خرافات کو سوشل میڈیا پر سراہتے نظر آتے ہیں۔ اور لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونک کر اپنے واچ ٹائم اور ویوز کو بڑھانے کی فکر میں ہیں۔ ان میں سے ایک تو اپنے دوستوں سے سبسکرپشن اور ویوز کے لیے منت سماجت کے بعد مطلوبہ نتائج نہ پا کر اپنی ناراضی کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔

آخر میں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ ان لوگوں نے دروغ گوئی سے کام لیتے ہوئے ایک دو متین لوگوں کو خبر ناک کے پروڈیوسر ذیشان حسین کے خلاف برانگیختہ کر کے مرضی کی رائے حاصل کی۔ جن میں معروف صحافی سجاد میر بھی شامل ہیں۔ ان کو ذیشان حسین کا وی لاگ دکھایا گیا، جس میں وہ غیر علمی شعبدہ بازوں اور سخن سے نا بلد شاعروں کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ کاش! یہ لوگ دیانت داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے سجاد میر کو اپنا بنایا ہوا وہ وی لاگ بھی دکھا دیتے، جس کے جواب میں پروڈیوسر صاحب نے وی لاگ کیا تھا، تاکہ میر صاحب کو پتا چل جاتا کہ ذیشان صاحب کے مخاطب پورے ملک کے ادیب نہیں بلکہ یہی دو چار لوگ ہیں جنھوں نے ذاتی مفاد کے لیے چائے کی پیالی میں طوفان اٹھانے کی بلاجواز پست حرکت کی، لکھتے ہوئے شرم آتی ہے کہ ان لوگوں کے بنائے ہوئے وی لاگ میں انتہائی غلیظ زبان استعمال کی گئی، ننگی گالیاں بکی گئیں، طنز و تشنیع کی تمام حدیں پار کرتے ہوئے دھمکیاں تک دی گئیں، ایسے میں پروڈیوسر صاحب کا رد عمل فطری تھا، لیکن خبرناک ٹیم کے تمام آرٹسٹ یہ سب ہزلیات سننے کے باوجود محض اس لیے خاموش رہے، کہ بقول عرفی شیرازی:

عرفی تو میندیش زغوغائے رقیباں
آواز سگاں کم نہ کنند، رزق گدارا

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3