ظفر عمران کی افسانوی دنیا

اسکرپٹ رائٹر، ایکٹر، ڈائریکٹر، پروڈیوسر۔ ۔ ۔ اتنے بھاری بھرکم سابقے لاحقے سن کر آدمی ویسے ہی تعارف سے متاثرہو جاتا ہے۔ ہم جیسا مگر سہما سہما فاصلے پر رہتا ہے۔ اس لیے ظفرعمران سے فیس بک کی سلام دعا کے باوجود ہم ایک محتاط فاصلے پر ہی تھے، تاوقتیکہ ان کی افسانوی دنیا سے آشنائی نہ ہوئی۔ گلزار صاحب شاید پہلے فلم ڈائریکٹر تھے جنھوں نے اپنے افسانوں کی کتاب ’دستخط‘ کے نام سے چھاپی۔ ایک انٹرویو میں کسی

Read more

بلوچستان میں سیاسی تبدیلی کے امکانات؟

بلوچستان کی سیاست پر کسی نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی سیاست میں بلوچستان کو یہ اختصاص حاصل ہے کہ اس نے اپنی ڈور آج تک اسلام آباد کے ہاتھ میں نہیں دی۔ مقصود اس سے شاید یہ تھا کہ بلوچستان ہی وہ واحد صوبہ رہ گیا ہے جہاں اب تک صوبائی جماعتیں وجود رکھتی ہیں اور ایسا شخصی ووٹ بینک جو کسی بھی وفاقی جماعت میں ڈھل کر بھی اپنا رنگ نہیں جانے دیتا۔ حتیٰ کہ حتمی

Read more

سنگت پوہ زانت

اچھے لوگوں کی یادگیری بھی کیسی اچھی ہوتی ہے اور مایوس و پژمردہ انسانوں کو بھی کیسے تازہ دم کر دیتی ہے، اس کا مظاہرہ ہم نے کل کے سنگت پوہ و زانت میں دیکھا۔ جہاں ایک "مرحوم” کا تذکرہ زندہ انسانوں کی محفل کو زعفرانِ زار بناتا رہا۔ 2003 کے بعد سنگت میں آنے والے میرے معاصرین ڈاکٹر امیرالدین کو محض اپنے سینئرز اور ان کے قریبی احباب کے تذکروں سے ہی جانتے ہیں۔ کل کی مجلس مگر ان

Read more

حال حوال کی بندش: ’مت قتل کرو آوازوں کو!‘

 یہ 2009 کی بات ہے۔ میں کوئٹہ سے شائع ہونے والے قوم پرست رجحان کے حامل روزنامہ’ آساپ‘ کا ایڈیٹوریل انچارج تھا۔ یہ بلوچستان میں مزاحمتی تحریک کے ابھار اور اس کے خلاف کارروائیوں کے عروج کا زمانہ تھا۔ اسی برس فروری میں ہمارے ایڈیٹر ان چیف پر جان لیوا حملہ ہوا۔ خوش قسمتی سے محفوظ رہے۔ علاج کے لیے لندن شفٹ ہوئے اور پھر ایک طویل عرصہ وہیں گزارا۔ اس دوران کچھ ماہ بعد ایف سی نے ایک عجب

Read more