چین میں بیٹے کو ترجیح دینے کا رویہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایشیا کے دیگر ممالک کی طرح چین میں بھی بیٹے کو ترجیح دی جاتی ہے۔ پاکستان میں تو لڑکے کی خواہش میں لوگ چھ سات بیٹیاں پیدا کر لیتے ہیں لیکن چین میں ایسا ممکن نہیں کیونکہ وہاں خاندانی منصوبہ بندی کی پالیسی پر حکومت کی دیگر پالیسیوں کی طرح لازمی عمل کرنا پڑتا ہے۔ چین کے شہروں میں رہنے والے خاندانی منصوبہ بندی کی پالیسی کی خلاف ورزی کے متحمل نہیں ہو سکتے کیونکہ پھر انہیں بہت سی مراعات سے ہاتھ دھونا پڑتے ہیں لیکن دیہی علاقوں میں کسان اکثر خاندانی منصوبہ بندی کی پالیسی کی خلاف ورزی کر لیتے ہیں اور جرمانہ دے دیتے ہیں۔

گلوبل جینڈر گیپ رپورٹ 2018 کے مطابق ”پیدائش میں جنسی تناسب“ کے معاملے میں 149 ممالک میں چین کا نمبر بہت نیچے ہے۔ یعنی لڑکوں کے مقابلے میں کم لڑکیاں پیدا ہوتی ہیں یا دوسرے لفظوں میں لڑکیوں کو پیدا ہی نہیں ہونے دیا جاتا۔ اس کے پیچھے بہت سے عوامل کارفرما ہیں۔ مثال کے طور پر کنفیوشن ثقافتی روایت، سماجی و اقتصادی نظام اور صنفی آئیڈیالوجی۔ روایتی پدر سری نظام کے تناظر میں خاندان کا نام لڑکے سے چلتا ہے۔ لڑکے کو والدین کے بڑھاپے کی لاٹھی سمجھا جاتا ہے۔ اس لئے والدین بیٹے کی خواہش کرتے ہیں۔

چین میں لڑکیوں کے مقابلے میں لڑکوں کے زیادہ پیدا ہونے کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کی الٹرا ساؤنڈ کی بدولت پیدائش سے پہلے بچے کی جنس پتا چل جانے پر لڑکی ہونے کی صورت میں اسقاط حمل کرا لیا جاتا ہے۔ امرتیا سین کی مشہور تحقیق گو کہ ہندوستان کے پنجاب کے بارے میں تھی مگر اس روئیے کی تصدیق کرتی تھی۔ 1986 ء کے اوائل میں چین میں ایک مقدمہ موضوع بحث بنا رہا۔ کوانگچو کے پیپلز ہاسپٹل میں پیدا ہونے والی ایک بچی کو سوا سال تک اسی ہسپتال میں رہنا پڑا کیونکہ اس کی ماں کا کہنا تھا کہ اس نے ایک لڑکے کو جنم دیا تھا۔ اس لئے عدالت کے فیصلے کے باوجود والدین نے بچی کو گھر لیجانے سے انکار کر دیا۔ اور عدالت عالیہ میں اپیل دائر کرنے کی تیاری کرنے لگے۔ اس دوران بہت سے لوگوں نے بچی کو گود لینے کی خواہش ظاہر کی مگر پھر میڈیکل ٹیسٹس سے ثابت ہو گیاکہ بچی ان ہی والدین کی تھی چنانچہ انہیں بچی کو گھر لے جانا پڑا۔

چین میں 1980 ء کے عشرے سے لڑکوں کی پیدائش میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ 1982 ء میں سو لڑکیوں کے مقابلے میں لڑکوں کی پیدائش کا تناسب ایک سو آٹھ اعشاریہ پانچ تھا۔ جب کہ 2010 ء میں سو لڑکیوں کے مقابلے میں لڑکوں کی پیدائش کا تناسب ایک سو اکیس اعشاریہ دو ہو گیا تھا۔ ہمارے جیسے ’صنف اور ترقی‘ کی ورکشاپس کرانے والے ٹرینر اس ظلم کے بارے میں بجا طور پر شور مچاتے رہے ہیں لیکن طویل مدت میں اس روئیے نے لڑکیوں کی اہمیت میں اضافہ کر دیا۔

اب آپ پوچھئے کہ کیسے؟ چین میں ہم نے خود دیکھا کہ جب یہ بچے شادی کی عمر کو پہنچے تو لڑکے زیادہ تھے اورلڑکیاں کم۔ اب یہ تو اقتصادیات کا سادہ سا اصول ہے کہ جس چیز کی سپلائی کم ہو اور طلب زیادہ تو اس کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔ یوں چینی لڑکیوں کی اہمیت، شادی کے معاملے میں مطالبے اور نخرے بڑھ گئے اور لڑکے ان کی ہر خواہش پر سر تسلیم خم کرنے پر مجبور ہو گئے۔ باقی لڑکوں کو دلہن نہیں ملتی تھی۔ دیہاتوں میں ان فاضل لڑکوں کی تعداد زیادہ ہے۔

یہ کم پڑھے لکھے ہیں، خاص کمائی بھی نہیں کرتے، کم تر سماجی مرتبے کی وجہ سے شادی کی مارکیٹ میں ان کی ویلیو اور بھی کم ہو جاتی ہے۔ لڑکیوں کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ کم خوشحال علاقوں کو چھوڑ کر زیادہ خوشحال علاقوں میں منتقل ہو جائیں۔ یوں کم خوشحال علاقوں کے لڑکے تنہا اور کنوارے رہ جاتے ہیں۔ یہ نئی صورتحال لڑکوں کو ترجیح دینے والے روئیے پر بھی اثر انداز ہوئی ہے۔ ان فاضل لڑکوں کی وجہ سے سیکس انڈسٹری کی طلب بڑھی ہے اور جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماریوں میں اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان میں مرد کنبے کا سربراہ ہوتا ہے اور بچے اسی کا نام استعمال کرتے ہیں یا دوسرے لفظوں میں انہیں باپ کا نام ورثے میں ملتا ہے۔ مگر چین میں عورت کو بھی یہی حق حاصل ہے لیکن جب حکومت نے ’فی جوڑا ایک بچہ‘ کی پالیسی اپنائی تھی تو ان سالوں میں یہ مسئلہ زیادہ اہمیت اختیار کر گیا تھا کہ بچے کو ورثے میں کس کا نام ملے۔ ماضی میں چینی عورتوں کو اپنا خاندانی نام منتقل کرنے کی اجازت نہ تھی۔ نئے چین کے آئین میں، عائلی قوانین میں اور قانون وراثت میں مرد اور عورت کے درمیان مساوات قائم کی گئی اور پرانی جاگیر دارانہ روایات کا خاتمہ کیا گیامگر کچھ خاندانوں خاص طور پر دیہاتوں میں آج بھی پرانا رویہ برقرار ہے۔

آج دنیا بھر میں عورتیں انصاف اور مساوات کے لئے لڑ رہی ہیں اور چینی عورت بھی ان جاگیر دارانہ زنجیروں کو اتار کر پھینک رہی ہے جنہوں نے اسے ہزاروں سال سے جکڑ رکھا تھا۔ اس نے معاشرے پر یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ خاندان کی سربراہ بننے کی پوری اہلیت رکھتی ہے اور اتنا پیسا کما سکتی ہے کہ اپنے بچوں اور بزرگوں کی کفالت کر سکے۔ اسے اب ورثے میں خاندان کی املاک اور کاروبار حاصل کرنے کا حق مل چکا ہے۔

نئے چین کے قیام کے بعد عورتوں نے مردوں کے دوش بدوش ہر کام کیا۔ ٹرک اور بسیں چلانے اور دفتروں اور دکانوں میں کام کرنے کے علاوہ اینٹیں بھی ڈھوئیں اور تعمیراتی کام بھی کیا لیکن اقتصادی اصلاحات کے ساتھ یہ احساس بھی پیدا ہوا کہ عورت سے بھاری کام نہیں کرائے جانے چاہئیں۔ 1986 ء میں ووہان شہر میں پتھر کوٹنے، ٹرانسپورٹ، بجلی کے تاروں اور ایسے مشقت والے کام کرنے والی عورتوں کی پچاس ٹیموں کو طبی اسباب کی بنا پر ختم کر دیا گیا۔

برسوں تک بائیں بازو کے انتہا پسندانہ نعروں کے باعث کہ عورت وہ سب کچھ کر سکتی ہے جو مرد کر سکتا ہے، عورتیں وہ کام بھی کرتی رہیں جو ان کے لئے نا موزوں تھے۔ ووہان کی ایک ٹرانسپورٹ ٹیم کی عورتیں میلوں پیدل چل کر آتی تھیں۔ سامان سے بھرے چھکڑے کھینچتی تھیں۔ اور عورتوں کے خاص ایام کے زمانے میں ان کے باپ یا بھائی ان کے بدلے یہ کام کرتے تھے۔ اس طرح سیوریج کا کام کرنے والی ایک ٹیم میں عورتیں مردوں کے ساتھ ہر روز کھدائی کرتی تھیں اور ایک میٹر گہرے گڑھے کھودتی تھیں۔

بارش کے زمانے میں وہ گھٹنوں گھٹنوں پانی میں کھڑے ہو کر کام کرتی تھیں۔ ایک بوجھ ڈھونے والی ٹیم میں ہر عورت کو روزانہ اڑتیس ہزار اینٹیں ڈھونا پڑتی تھیں۔ طبی معائنے کے بعد معلوم ہوا کہ ان عورتوں کو کسی نہ کسی قسم کا عارضہ لاحق ہو چکا تھا۔ ضرررساں میٹریل کے ساتھ کام کرنے والی عورتوں کی صحت زیادہ متاثر ہوئی تھی۔ چنانچہ پھر یہ فیصلہ کیا گیا کہ ان عورتوں کو نئی اور محفوظ ملازمتیں دی جائیں۔

چین کی معیشت کے بارے میں امسال جون میں شائع ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 1978 ء کے بعد اقتصادی اصلاحات کے نتیجے میں جو مسابقت کا ماحول پیدا ہوا ہے اس کی وجہ سے چینی کمپنیوں کو عورتوں کے خلاف ورک فورس اور تنخواہوں کے معاملے میں امتیاز روا رکھنے کا موقع مل گیا ہے۔ جب کہ امریکی، یورپی اور جاپانی کمپنیاں لیبر مارکیٹ میں صنفی تفاوت کم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اگر چین کی لیبر مارکیٹ میں صنفی عدم مساوات برقرار رہی تو وقت گزرنے کے ساتھ یہ معیشت پر بوجھ بن جائے گی۔

پیٹرسن انسٹیٹیوٹ فار انٹرنیشنل اکنامکس کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ چند عشروں میں چین کے عالمی اقتصادی طاقت بن کر ابھرنے سے چینی عورتوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مارکیٹ پر ریاست کا کنٹرول ڈھیلا پڑ گیا ہے اور پرائیویٹ کمپنیاں یہاں تک کہ سرکاری کمپنیاں بھی لیبر فورس کے حوالے سے من مانی کر رہی ہیں۔

بہرحال چینی عورتیں اس منظم صنفی عدم مساوات کے خلاف برسر پیکار ہیں۔ ان کی صلاحیتوں کی دنیا معترف ہے۔ حال ہی میں جاری ہونے والی ہوران رپورٹ کے مطابق 2020 ء میں دنیا کی امیر ترین، سیلف میڈ ارب پتی عورتوں میں اکسٹھ فی صد چینی خواتین ہیں۔ ان میں سے ٹاپ ٹین عورتوں میں سے نو چینی عورتیں ہیں۔ پہلے کے مقابلے میں اب چینی عورتیں زیادہ تعلیم یافتہ ہیں، بین ا لاقوامی تجربہ رکھتی ہیں اور انہیں ملازمت کے بہتر مواقع میسر ہیں۔

تو کیا اب بھی والدین بیٹیوں کے مقابلے میں بیٹوں کو ترجیح دیں گے؟ لیکن ہمارا ماننا ہے کہ TWO WRONGS DONOT MAKE ONE RIGHT۔ اگر پاکستان میں لڑکی کے والدین کو جہیز کے لئے زیر بار کرنا غلط ہے تو اسی طرح چین میں جہیز کے لئے لڑکے کے والدین پر بوجھ ڈالنا غلط ہے۔ شادی کے ادارے میں مساوات قائم کرنے کے لئے نوجوان جوڑوں کو اپنی قوت بازو بر بھروسا کرنا چاہیے اور بے جا اسراف اور نمود و نمائش سے بچنا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply