جوزف سٹالن کی بیٹی اور بھارتی راجکمار کا رومان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک ڈھلتی عمر کے چھوٹے قد والے اور صحت کے مسائل سے دوچار بھارتی راجکمارسے سوویت روس کو بھلا کیا خطرہ ہو سکتا تھا۔ یہ خیال تھا ولادیمیر سیمی شاستنی کا جو 60 کی دہائی میں کے جی بی کے سربراہ تھے۔ اگر انھیں رتی بھر بھی اندازہ ہوتا کہ اس بھارتی رئیس اور جوزف سٹالن کی بیٹی سویتلانا آلیلویوا کی وجہ سے ان کا عہدہ خطرے میں پڑ جائے گا تو شاید ان کی سوچ مختلف ہوتی۔

کریملن کی ایک رپورٹ کے مطابق سویتلانا مخصوص مقاصد کے لئے ایک بھارتی شہری سے شادی کرنا چاہتی تھیں۔ رپورٹ میں مزید لکھا تھا کہ وہ ایک غائب الذہن عورت تھیں جن میں نفسیاتی بے قاعدگیوں کے کئی آثار موجود تھے۔ دوسری طرف سویتلانا اس طرح کے تجزیوں کو سراسر مبالغہ آمیز قیاس آرائیاں ہی قرار دیتی تھیں۔

سی آئی اے کے روسی امور کے ماہر رچرڈ کرک تحقیق کرتے ہیں کہ سوویت روس میں سویتلانا ایک رومانوی کردار کی طرح مشہور تھیں۔ ان کے مطابق سویتلانا اپنے بھارتی رومان کے ذریعہ سوویت روس سے باہر نکلنے اور کیمونسٹ پارٹی سے ہمیشہ کے لئے پیچھا چھڑانے کی منصوبہ بندی بہت پہلے ہی کر چکی تھیں۔

حقائق بتاتے ہیں ایک وقت میں جوزف سٹالن کی بیٹی نے دنیا کی دو سپر طاقتوں کی خفیہ ایجنسیوں اور تین ملکوں کو چکرا دیا تھا۔ بظاہرا ایک نرم مزاج اور بے ضررخاتون کی وجہ سے امریکہ، روس اور بھارت کے باہمی تعلقات بھی شدید تناؤ کا شکار ہونے کے قریب ہو گئے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ہالی وڈ کے سکرپٹ کی مانند سویتلانا کی زندگی پر فلم بنانے کے لئے 2014 کے کانز فلمی میلے میں یہ موضوع دلچسپی کا محور بن گیا تھا۔

سویتلانا اپنی والدہ کی گود میں (1927)

وہ بہار کی ایک خوشگوارشام تھی۔ نئی دہلی میں دن بھر کی بھاگ دوڑ کے بعد زندگی تھم رہی تھی۔ شام کے دھندلکوں میں ڈوبتے سورج کے سامنے آسمان پر پرندوں کی ڈاروں سے لے کر سڑکوں پر ٹریفک کی پر ہجوم قظاروں تک سبھی اپنے اپنے مسکن کی طرف گامزن تھے۔ گلی، محلے، بازار ہر جگہ دکانیں بند ہو چکی تھیں بس اکا دکا چائے کے ڈھابے اور پان کے کھوکھے ابھی بھی کھلے تھے۔ دن کے ستائے لوگ اب گھروں میں بیٹھے تھکن سے راحت محسوس کر رہے تھے۔

سڑکوں، بازاروں میں لگے لیمپ پوسٹ جاگ چکے تھے اور اپنے اوپر جمی گرد کی دبیر تہہ کے پیچھے سے روشنی دینے کی کوشش میں تھے جبکہ ان کے اوپرمنڈلانے والی مکھیاں اور پتنگے ان کا کام مزید مشکل بنا رہے تھے۔ یہ پیر تھا۔ شہر کے امیر علاقوں میں ایک نئے ہفتہ کو خوش آمدید کہا جا رہا تھا تھا۔ راج برطانیہ کے عہدمیں بنے سفید بنگلوں کے تاحد نظر وسیع باغات میں برقی قمقوں تلے شاہانہ مشروبات و پکوان سے دوبالا ہونے کے ساتھ حالیہ انتخابات کا ذکر چل رہا تھا جس میں محترمہ اندرا گاندھی، مرارجی ڈیسائی اور انڈین نیشنل کانگریس کے مستقبل کے بارے میں گفت و شنید اور قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری تھا۔ ادھر دور درشن پر بھی ملکی سیاست ہی کا چرچا تھا۔ اس نواردچینل نے کچھ مہینے پہلے ہی اپنی ساتویں سالگرہ منائی تھی اور سٹاف میں نئی پروگرامنگ کا ولولہ ہنوز موجود تھا جبکہ شعبہ حالات حاضرہ میں ٹی وی سکرین پر خبریں پڑھنے کے حوالے سے پریتیما پوری اور سلمی سلطان جیسے ناموں کی دھوم مچل رہی تھی۔

اسی سوتی جاگتی ہلچل میں رات کے تقریباً آٹھ بجے دہلی کی ایک پیلی چھت والی کالی ایمبیسیڈرٹیکسی نے چانکیہ پوری سفارتی انکلیو میں داخل ہونے کے بعد شانتی پتھ کا راستہ پکڑا۔ سڑک پر ٹریفک نہ ہونے کے برابرتھی۔ شانتی پتھ کے دونوں جانب لگے برقی کھمبوں کی روشنی میں پیچھے ساکت کھڑے پیڑوں کے درمیان سے ہوتے ہوئے ٹیکسی امریکی سفارت خانے کے پاس رکی اور گاڑی کے پچھلے دروازے سے ایک مغربی خد و خال والی عورت باہرنکلی۔ چالیس کے لگ بھگ مناسب قد و قامت والی خاتون نے سفارتخانے پر ایک گہری نگاہ ڈالی، ٹیکسی کو جانے کا اشارہ کیا اور سفارت خانے کے مرکزی آہنی دروازے کی طرف بڑھ گئی۔ اس دوران اس نے پیچھے مڑ کر دھیان رکھا کہیں اس کا تعاقب تو نہیں کیا جا رہا۔ سڑک سنسان تھی۔

بہار کی اس شام میرین سارجنٹ ڈینیئل وال سفارت خانے کی داخلی حفاظت پرمعمور تھے اور وہ دفتری اوقات کے بعد ایک تنہا عورت کو آتا دیکھ کرچوکنے ہو گئے تھے۔

”مجھے سفیر صاحب سے ملنا ہے۔“ عورت کا لہجہ یورپئین تھا۔
”محترمہ اس وقت سفارت خانہ بند ہے آپ صبح۔ ۔ ۔ ۔ ۔“

” میرے پاس صبح تک کا وقت نہیں ہے۔ مجھے ابھی اسی وقت ان سے ملنا ہے۔“ عورت بات کاٹ کر اندر کی طرف بڑھی۔

ڈینیئل یک دم اس کے سامنے آ گئے اور ٹھنڈے لہجے میں بولے۔
” مہربانی فرما کر پیچھے ہو جایئے محترمہ۔ اس وقت اندر کوئی نہیں ہے۔ آپ سے گزارش ہے صبح تشریف لایئے۔“

عورت نے ایک نظر اس پر ڈالی اور پھر اپنے کاندھے پر لٹکے پرس کو کھول کر اس میں سے کچھ نکالنے لگی۔ یہ دیکھ کر محافظ ایک قدم پیچھے ہو گئے اور ان کا بایاں ہاتھ اپنی کمر پر لگے پستول کی طرف چلا گیا تھا۔

”کچھ بھی الٹا سیدھا کرنے کی کوشش نہ کیجئے گا محترمہ!“

عورت مسکرائی۔ ”فکر نہ کریں افسر ۔ میں تو بس اپنا پاسپورٹ یہ قلم اور ڈائری نکال رہی تھی۔“ اس نے ایک قلم اور کالے رنگ کی ڈائری حفاظت کار کو دکھائی اور ڈائری کھول کر اس میں کچھ لکھتے ہوئے بولی۔

” اور یہ اس لئے کہ جب آپ اندر بات کریں تو یہ بتا سکیں کہ میں کون ہوں اور کیا چاہتی ہوں۔“

اتنا کہہ کر اس نے ڈائری کا ورق پھاڑ کر اپنے پاسپورٹ میں رکھا اور استقبالی کاونٹر پر رکھ دیا۔ محافظ نے توقف کے بعد پاسپورٹ اٹھا کر دیکھا اور اس میں پڑا کاغذ پڑھنے لگے۔

کاغذ پڑھتے ہی ڈینئیل کے چہرے کا رنگ بدل گیا تھا۔ انھوں نے عورت کی طرف دیکھا۔

”مم۔ ۔ ۔ محترمہ آپ یہیں رکئے۔“ اتنا کہہ کر وہ تیزی سے اپنے کیبن کی طرف مڑے اور اندر جا کر افراتفری کے عالم میں فون کا ریسیور اٹھا کر ایک نمبر گھمایا۔

” کونسلر جارج ہوئے سے میری بات کروایئے۔ ابھی اسی وقت۔ ۔ ۔“
کچھ دیرکے بعد دوسری طرف سے ایک کھنکدار مردانہ آواز سنائی دی۔
”جارج ہوئے۔ ۔ ۔“
”اس وقت پریشانی کی معافی چاہتا ہوں جناب ہوئے کیا آپ استقبالیہ پر آ سکتے ہیں۔ اہم ہے۔“
” میں کس سے بات کر رہا ہوں۔“ سفارت کارنے پوچھا۔
”میرین گارڈ۔ ڈینیئل وال سر۔“
”اوکے افسر وال کیا سب کچھ ٹھیک ہے؟“

” میں معافی چاہتا ہوں جناب لیکن میں آپ کو فون پر نہیں بتا سکتا۔ معاملہ بہت سنگین اور اہم ہے۔ یہ تاریخ کو بدلنے جیسا ہی ہے۔“

”ہوں۔“ سفارت خانے کے افسر نے محافظ کے لہجے کی بے چینی اور عجلت کو بھانپتے ہوئے توقف کیا۔
” ٹھیک ہے۔ ۔ ۔ میں آ رہا ہوں۔ ۔ ۔ اور میرے پہنچنے تک سب کچھ سنبھلا رہے تو بہتر ہو گا۔“
”جی جناب ہوئے۔“

سفارت خانے کے افسر سے بات کر کے وہ اپنے کیبن سے باہر آئے تو وہ عورت کیبن کی دیوار سے ٹیک لگائے کھڑی تھی۔

” شکریہ محترمہ۔ ۔ ۔ میری بات ہو گئی ہے۔ سفارت خانے کے ایک عہدیدار جلد پہنچ جائیں گے۔ آئیے میں آپ کو اندر لے چلتا ہوں۔“

ڈینیئل نے اشارہ کیا اور وہ باوقار انداز میں آگے بڑھ گئی جبکہ وہ اس کے پیچھے چل پڑے۔

”یقینا۔ ۔ ۔ کتنی خوبصورت رات ہے نا۔ ۔ ۔ ۔ خوشگوار۔ ۔ ۔ نرم مزاج۔ ۔ ۔ بالکل کسی پیار کرنے والے کی طرح۔“ عورت چلتے چلتے بولی

” جی بالکل۔“ ڈینیئل نے اپنی گردن کو ہلکی سی جنبش دی اورایک بار پھر اپنے ہاتھ میں پکڑے اس کاغذ کے ٹکڑے کو کھول کر پڑھنے لگے۔ کاغذپر لکھا تھا۔

” میرا نام سویتلانا آلیلو یے واہے۔ میں سویت یونین کے سابق لیڈر جوزف سٹالن کی بیٹی اور کلا کنکرکے کنور برجیش سنگھ کی بیوی ہوں اور نئی دہلی کے امریکی سفارت خانے میں امریکہ کے سفیر سے ان کے ملک میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کی درخواست کرنے آئی ہوں۔“

کون جانتا تھا کہ آنے والے دنوں میں کاغذ کے اس چھوٹے سے پرزے پر لکھی گئی یہ چند سطریں دنیا کی سب سے مضبوط خفیہ ایجنسی کے جی بی کی بنیادیں لرزا کے رکھ دینے والی تھیں۔

جس وقت امریکی سفارت کار جارج ہوئے اس بے وقت کے بلاوے کے بعد کچھ پریشانی کے عالم میں اپنے دفتر کی طرف جا رہے تھے اس سے تقریباً چار سال پہلے میں ماسکو کے کریملوفکا ہسپتال کے کتب خانے میں پڑی رابندراناتھ ٹیگور کی ایک کتاب سویتلانا اور برجیش کو ایک دوسرے کے قریب لا چکی تھی۔

ماسکو کے باغوں، گلی کوچوں، پر شکوہ عمارتوں اور ان کے ارد گرد بل کھاتی وسیع سڑکوں پر سنہری خزاں کی حکومت کے دن گنے جا چکے تھے اور سفید برف کا راج واپس آنے کے لئے بے تاب تھا۔ 1963 کے یہ آخری مہینے کچھ زیادہ ہی برفیلے ثابت ہو رہے تھے۔ وسط شہر کا دریائے ماسکوا تقریباً منجمد ہو چکا تھا۔ دن کی روشنی میں دریا پر بنے پل پر چلنے والوں کو کہیں کہیں اچھلتے بہتے پانی کی پتلی لکیریں نظر آ جاتیں لیکن وہ بھی شام تک جم کر بلوری سانپ بن جاتی تھیں۔ یخ موسم کے ساتھ پانی کی ان اٹکھیلیوں سے دریا کی سطح پر چمکتی لکیروں کانقشہ سا بن جاتا جو سورج ڈوبتے ہی برفیلے دریا میں ضم ہو جاتا تھا۔

اکتوبر کی ایک ایسی ہی خنک شام میں گورکی پارک میں پیڑ اپنے پتوں کی قربانی دینے کے بعد بلند قامت شہ زوروں کی طرح برفیلے طوفانوں کا سامنا کرنے کے لئے تیار کھڑے تھے۔ سڑکوں پر چہل پہل کم تھی لیکن برفباری کے ساتھ ہی بچے اور جوان لوگ باہر نکل آئے تھے اور نرم برف کے گولوں کے ساتھ کھیلوں اور چنچل مزاجیوں کا دور شروع ہو رہا تھا۔ کچھ گھروں سے سردیوں کے خاص پکوانوں اورمشروبات کی خوشبوئیں اٹھ رہی تھیں۔ مردوں کے ہاتھوں میں واڈکا کے چھوٹے مٹکے تھے جنھیں وہ اپنے اندر انڈیل رہے تھے جبکہ عورتیں خمرعنبی سے لطف اندوز ہو رہی تھیں۔ لال چوک پر کچھ جوان مرد و زن سرور اور خوشگواری کے عالم میں نومبر میں ہونے والی انقلابی پریڈ کے بارے میں اونچی اونچی ملی ترانے گا رہے تھے اور ہر آنے جانے والے کامریڈ کو ساتھ گانے بجانے کی دعوت بھی دے رہے تھے۔

یہ سب کلاکنکر کے راجکمار کنور برجیش سنگھ کے لئے ایک انوکھا تجربہ تھا لیکن وہ مضطرب تھے۔ اتر پردیش میں الہ باد سے تقریبادو گھنٹے کی دوری پر واقع اپنے گاؤں میں رئیسی سے بیزار کنور بھارتی کیمونسٹ پارٹی میں شامل ہو گئے تھے۔ یہ کمیونزم کو سمجھنے کی لگن ہی تھی جو یورپ اور برطانیہ میں تعلیم لینے کے بعد برجیش ماسکو کے دارالاشاعت ترقی میں بطور مترجم بھرتی ہو گئے تھے۔ اشتراکی نظام میں رہتے ہوئے سوویت روس میں جاری اقتدار کی دھکم پیل اور عوام کی کسمپرسی کو اتنے قریب سے دیکھ کر برجیش دم بخود تھے۔ گو کہ جوزف سٹالن کو گزرے ایک عشرہ ہو چکا تھا لیکن سوویت روس ابھی تک سٹالن دور کی دہشت سے باہر نہیں آیا تھا۔

یہ وہ وقت تھا جب برجیش سمیت کئی غیرملکی کامریڈوں کے لئے یہ امر حیران کن تھا کہ سٹالن جیسے مقبول اور سمجھدارلیڈر نے تمام تر ملکی ذرائع صرف اپنے اقتدار کو بچانے کے لئے لاکھوں لوگوں کے قتل ایذا پر استعمال کر ڈالے تھے۔ تقریباً تین عشروں تک سوویت روس کے سیاسی افق پر ظلم کی انتہا کر دینے کے بعد فالج زدہ سٹالن بسترمرگ پر موت کی دعائیں کرتے تھے لیکن زندگی قطرہ قطرہ کر کے ان کے جسم سے نچڑتی رہی۔ اقتدار کی ہوس سٹالن کے جانے کے بعد بھی کم نہیں ہوئی تھی۔ داخلی امور کے ساتھ ساتھ خارجہ سطح پرسویت یونین سرد جنگ، مشرقی جرمنی، سی آئی اے، ایران، افغانستان، کیوبا جیسے مسائل میں دھنستا چلاجا رہا تھا۔

برجیش کو لگ رہا تھا جیسے سویت لیڈروں کی خود غرضی اور نا عاقبت اندیشی کے باعث مارکس اشتراکیت ایک سیدھے سادھے بھلے معاشرے کی بنیاد بننے کی بجائے لالچ، حرص، نظریات کے تصادم، عالمی دشمنی، نسل کشی، اور سرحدوں کو زبردستی ہڑپنے کا نظام بنتا جا رہا تھا۔ ان حالات میں ملکی سالمیت کی ناکامی اور سویت اقوام کی دنیا میں تماشا گری خارج الامکان نہیں تھی۔ ان حالات میں برجیش کے علاوہ یہ سوچ ایک اور انسان پر عیاں ہو چکی تھا اور وہ جلد ہی اس سے ملنے والے تھے۔

اپنے ذہنی خلفشار کی سوچ شکن لہروں پر بہتے پھسلتے برجیش کی ملاقات سویتلانا سے ہو گئی تھی۔ دونوں اس عمر میں تھے جہاں پسندیدگی اور پیار کے اظہار کے لئے زیادہ وقت درکار نہیں ہوتا۔ وہ ایک دوسرے کے قریب آئے اور اس قربت کو سراہتے ہوئے اکٹھے رہنے لگے۔ برجیش کو سوویت روس میں رہتے ہوئے سانس کی تکلیف ہو چکی تھی جس کے لئے انھیں کئی کئی دن ہسپتال میں رہنا پڑتا تھا۔ اس دوران سویتلانا ہسپتال میں ان کے ساتھ رہتیں اور وہ دونوں ٹیگور، ٹالسٹائی، مہاتما گاندھی، کارل مارکس سمیت دنیا بھر کے دانشوروں پر گفتگو کرتے۔ برجیش ٹیگور کی گیتانجلی اورکچھ دوسری کتب کا روسی میں ترجمہ کرنا چاہتے تھے۔ ایک دن برجیش نے سٹالن دور کی وحشت زدہ حکومت کا بھی ذکر کیا۔ وہ ملک میں سٹالن کی کھلے عام ہرزہ سرائی پر بھی حیران تھے۔ سویتلانا نے ایک لمبی سانس لی اورکھڑکی سے باہر دیکھنے لگیں۔

” آپ کو سوویت روس میں آئے زیادہ عرصہ نہیں ہوا برج۔ یہ ملک ایک دریا کی منجمد سطح کی طرح ہے جو باہر سے ٹھوس دکھائی دیتی ہے لیکن نیچے پانی رواں ہے۔ کچھ رکتا نہیں۔ کچھ ابھرتا نہیں۔“

”بالکل ٹھیک کہا آپ نے۔“ برجیش نے کمرے میں پڑے سماوار سے چائے انڈیلی۔ وہ یہ خاص چائے بھارت سے لے کر آئے تھے۔ ”اور سٹالن کا دور آپ کی اس بات کی بہترین۔۔۔“

”کیا یہ ہو سکے گا کہ ہم کامریڈ سٹالن کے ذکر سے گریز کر سکیں؟“ سویتلانا نے برجیش کی بات کاٹی۔
” جی۔ پریشانی کی معافی چاہوں گا۔“ برجیش نے چائے کا مگ سویتلانا کے آگے کر دیا۔

”آپ کے لئے میرے بارے میں کچھ جاننا ضروری ہے۔ یہ آپ کو کیسا لگے گا میں نہیں جانتی لیکن یہ ضروری ہے برج۔“ سویتلانا نے برجیش کی آ نکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔

یہ لہجہ کا خالی پن تھا یا اس میں چھپی ایک ویران حقیقت جو بھی تھا ایک بجلی سی کوندی اور برجیش خاموش ہو کر انھیں تکنے لگے۔

”کیا آپ کے لئے یہ خبر اچنبھا ہو گی اگر آ پ کو پتا چلے کہ میں کامریڈ سٹالن کی اکلوتی بیٹی ہوں۔“
برجیش نے گرم چائے کی چسکی بھری۔
”اوہ۔“

امرکی جریدہ لائف کے مطابق اس واقعہ کے بعد کلا کنکر کے راجکمار اور روسی آمر کی بیٹی کے درمیان دوبارہ اس موضوع پرکبھی بات نہیں ہوئی۔

1967 میں نئی دہلی میں تعنیات امریکی سفیر چیسٹر بولز کے لئے وہ رات ایک فلمی کہانی سے کم نہیں تھی۔ 2013 میں ورجینیا کی انجمن برائے سفارتی تربیت و مطالعہ جات کے ساتھ ایک گفتگو میں چیسٹر بولز نے حیرت انگیز انکشاف کیا کہ اس وقت سی آئی اے کو سویتلانا کے بارے میں علم نہیں تھا۔ چیسٹر کے مطابق انھیں تو جوزف سٹالن کی کسی بیٹی کے بارے میں کوئی معلومات ہی نہیں تھیں۔ یہی وجہ تھی جوسفارت خانے کے زیر زمین تہہ خانہ نما کمرے سے باہر نکلتے ہوئے سفیر چیسٹر بولز کے ہاتھ میں پکڑی فائل ان کے جسم میں طاری لرزے کے باعث کپکپا رہی تھی۔ راہدری میں تیز قدموں کے ساتھ سفیر کی طرف بڑھتے سی آئی اے کے افسر رابرٹ ریل کا چہرہ آدھی رات کو بھی زمین کے مدار میں گرتے تپتے شہاب ثاقب کی طرح دہک رہا تھا۔

”سٹالن کی بیٹی؟ جوزف سٹالن کی بیٹی۔ کیا میں نے ٹھیک سنا سفیر بولز؟“

چیسٹر بولز نے مبہوت انداز میں خالی آنکھوں کے ساتھ رابرٹ کو دیکھا اور ایک سویت پاسپورٹ رابرٹ کے سامنے کر دیا۔ خفیہ ایجنسی کے افسر نے عجلت میں پاسپورٹ کھنگالا اور اچھل پڑا۔

” کیا یہ کے جی بی کے کوئی چال تو نہیں۔ ہمیں انھیں انڈیا سے نکالنا ہو گا۔ آج ہی نکالنا ہو گا۔ ابھی نکالنا ہو گا۔ چلئے سفیر بولز آپ کو واشنگٹن رابطہ کرنا ہو گا۔ ابھی اسی وقت۔“

سفیر بولز کے مطابق انھوں نے اپنے چہرے کو رومال سے صاف کیا تھا اور اپنی ٹائی درست کرتے ہوئے رابرٹ ریل کے ساتھ سفارت خانے کے شعبہ ٹیلیگرام کی طرف چل پڑے تھے۔ اس رات سفارت خانے سے جو کیبل امریکہ بھیجی گئی اس نے خارجہ سیکریٹری ڈین رسک سمیت واشنگٹن کی ساری حکومتی مشینری کو ششدر کر کے رکھ دینا تھا۔

”آج رات بھارتی وقت کے مطابق نو بجے واشنگٹن وقت صبح کے گیارہ بجے، ایک خاتون نے، جو خود کو سٹالن کی بیٹی کہتی ہیں، امریکہ میں سیاسی پناہ کی درخواست کی ہے۔ میری تحقیقات کے مطابق وہ سٹالن ہی کی بیٹی ہیں اور اگر آ پ کی طرف سے مجھے کوئی اور ہدایات نہ ملیں تو میں آج رات انھیں ایک بجے کی فلائٹ سے روم بھیج رہا ہوں جہاں ہم مزید سوچ بچار اور پوچھ گچھ کر سکتے ہیں۔ میں نے ان سے امریکہ بھیجنے کے بارے میں کوئی وعدہ نہیں کیا ہے۔ ہم صرف انھیں بھارت سے باہر بھیجنے میں ان کی مدد کر رہے ہیں اور اس کے بعد ہم دیکھیں گے کہ انھیں امریکہ یا دنیا میں کسی اور جگہ ٹھہرا دیا جائے جہاں وہ سکون سے اپنی زندگی بسر کر سکیں۔ اگر آپ میری کسی بھی بات سے متفق نہیں ہیں تو مجھے بھارتی وقت کے مطابق آدھی رات تک آگاہ کیجئے۔“

کوہ کفکاسس کی وسعتوں کو سراہنے کے ساتھ ساتھ بحیرہ اسود کی لہروں کی میزبانی کرتے سوچی شہر کا مزاج روس کے بقیہ علاقوں سے کچھ الگ سا ہی مانا جاتا رہا ہے۔ سماریہ، ابخازیہ، منگول اور سلطنت عثمانیہ جیسی طاقتوں کے امین اس شہر میں اب سویتلانا اور برجیش کی کہانی بھی پروان چڑھنے والی تھی اوریہ رومان کے جی بی کے سربراہ ولادیمیر سیمی شاستنی کو کچھ زیادہ متاثر کرنے میں کامیاب نہیں ہو رہا تھا۔

svetlana & brajesh singh

سوچی میں برجیش اور سویتلانا کو شادی کی اجازت نہیں مل رہی تھی۔ کے جی بی ان دونوں کے ہر ایک قدم پر نظر رکھے ہوئے تھی۔ سٹالن کے جانے کے اتنے سال گزرنے کے بعد بھی سویتلانا ان کی شبیہ سے الگ نہیں ہو پا رہی تھیں۔ الیکسئی کوسیگن بھی سویتلانا کے اس فیصلے سے ناخوش تھے۔ ماسکو کی سیرافی موویچا نمبر 2 پر دریائے ماسکوا کے کنارے بنی پرشکوہ رہائشی عمارت میں الیکسئی نہ صرف سویتلانا کے ہمسائے تھے بلکہ سوویت یونین کے وزیراعظم بھی تھے۔ کریملن میں ان کا نام احترام سے لیا جاتا تھا۔ سوچی میں اپنے قیام کے دوران سویتلانا نے جب ان کے گھر کا نمبر ملایا تو دوسری طرف سویتلانا اور برجیش کی فائل الیکسئی کے سامنے ہی پڑی تھی۔

”آخر کب تک آپ مجھے ایسے ہی قیدی رکھیں گے آلیوشا؟“ سویتلانا نے شکوہ کیا۔
”دیکھئے سویتا۔ ۔ ۔ پارٹی بس آپ کی حفاظت اور سلامتی چاہتی ہے۔“
”جی بالکل جیسے میرے بھائیوں کی چاہی گئی تھی۔“
”ہم ان کی نہیں آپ کی بات کر رہے ہیں سویتا۔“ وزیر اعظم نے سویتلانا کے طنز کو مکمل نظر انداز کر دیا۔

”میں نے اور برج نے شادی کا فیصلہ کیا ہے۔ اس میں میری سلامتی کو کہاں اور کیسے خطرہ ہو سکتا ہے؟ آپ سے گزارش ہے مجھے اس شادی کا اجازت نامہ جاری کیا جائے۔“

”ہوں۔“ الیکسئی نے توقف کیا۔ ”برجیش پہلے سے شادی شدہ ہیں۔ ان کی دو بیویاں ہیں۔ اور جہاں تک مجھے معلوم ہے ہندو سماج میں ایک سے زائد بیویاں رکھنا منع ہے۔ آپ ان کی بیوی بننا چاہتی ہیں اس سماج میں جانا چاہتی ہیں۔ کیا آپ کو اس مسئلے میں کوئی مشکل نظر نہیں آتی۔“

”برج کی شادیوں کا مجھے علم ہے۔ میرے لئے بھی یہ پہلی شادی نہیں ہے۔ وہ کچھ معاملات طے کرنے اور کاغذات کے لئے بھارت جا رہے ہیں۔“

”ٹھیک ہے میں کریملن میں بات کرتا ہوں اور دیکھتا ہوں کہ میں کیا کر سکتا ہوں۔“

1964 کے اوائل میں برجیش سنگھ بھارت چلے گئے اور الیکسئی نے اگلے ڈیڑھ سال تک بھارت میں برجیش سنگھ کو روس واپسی کا ویزا دینے سے انکار کیے رکھا۔

Joseph Stalin’s daughter, Svetlana Stalin, at a press conference after her escape from Russia

یہ وہ دور تھا جب وقت اور دنیا کے حالات بہت تیزی سے بدل رہے تھے۔ کیوبا میزائل مسئلے پر سویت یونین اور امریکہ ایک تنی ہوئی رسی پر چل چکے تھے، امریکہ خلا میں مواصلاتی سیارہ بھیج چکا تھا اور روس کو یقین تھا کہ یہ سیارہ بھی ان کی جاسوسی کرنے کا حربہ تھا، ادھر بھارت اور پاکستان میں کشیدگی بڑھ رہی تھی جس میں امریکہ اور روس دونوں ہی فریق بن کر سامنے ابھر رہے تھے ایسے میں ایک ادھیڑ عمر جوڑے کے رومان کومزید ہوا دینے کی بجائے بھارت میں برجیش سنگھ کو سویت یونین کا ویزا جاری کر دیا گیا۔ اس اثنا میں برجیش کا نظام تنفس مزید کمزور ہو چکا تھا لیکن اس کے باوجود وہ روس واپس گئے جہاں سویتلانا ان کا انتظار کر رہی تھیں۔

1965 میں جب دنیا کے تمام ممالک بھارت اور پاکستان کو جنگ سے باز رہنے کی تلقین کر رہے تھے وہیں کے جی بی نے ایک بار پھر برجیش اور سویتلانا کو شادی کا خیال دل سے نکال دینے کی تنبیہ کر دی تھی۔ اس سال ان چاروں پر کسی نصیحت اوردھمکی نے کوئی اثر نہیں کیا۔ جہاں ایک طرف پاک بھارت جنگ کا طبل بجا وہیں سوچی میں برجیش اور سویتلانا کے رومان کے سر بحیرہ اسود کی ہواؤں میں جلترنگ بکھیرتے چلے گئے۔ روس کی حکومت آج تک اس شادی کو ماننے سے انکار کرتی ہے۔

شادی کے بعد یہ جوڑا ماسکو میں رہنے لگا تھا۔ برجیش کی صحت دن بدن بگڑتی جا رہی تھی۔ شادی کے ایک سال کے اندر ہی ان میں بیماری اور نقاہت کے آثار بہت نمایاں ہو گئے تھے اور انھیں علاج کے لئے واپس سوچی آنا پڑا تھا جہاں کے بہترین ہسپتال میں ان کا علاج ہو رہا تھا۔

روسی ٹی وی پروڈیوسر ایوگینی زویز دا کوف سٹالن کی بیٹی کی زندگی پر بنی سیریز ”سویتلانا“ کے ہدایتکار ہیں۔ ان کے مطابق سویتلانا کی زندگی پر ان کے والد کی بہت گہری چھاپ رہی تھی جس سے وہ بیزار ہو چکی تھیں۔ اپنی ویب سیریز کی تحقیق کے دوران ایوگینی کو اندازہ ہو چلا تھا کہ سویتلانا کسی ایسے انسان کی تلاش میں تھیں جو انھیں اس چھاپ سے نجات دلا سکتا تھا اور شاید یہی وجہ بنی جو انھیں برجیش سنگھ کے قریب لے آئی تھی۔

ایوگینی کے سیٹ پر ہسپتال کا جذباتی سین تھا جہاں سویتلانا اپنے بھارتی شوہر کی تیمار داری کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ اداکار یہ سین مہارت سے ادا کر رہے تھے۔

”مجھے معلوم ہے۔ آپ بھارت جانا چاہتے ہیں۔ میں آلیوشا سے بات کرتی ہوں۔“ سویتلانا برجیش کے ہاتھ کو سہلاتے ہوئی بولیں

”رہنے دیجئے۔ کاش ہم دونوں کلا کنکر جا سکتے۔“ برجیش بمشکل جواب دے سکے۔
”ہم جائیں گے۔ ۔ ۔ ضرور جائیں گے۔“ سویتلانا کی آواز بھرا گئی۔
برجیش نے کمزور آنکھوں سے ان کی طرف دیکھا اور مسکرانے کی کوشش کی۔
”ضرور۔“
”کٹ۔“ ایوگینی کی آواز گونجی اور سین اوکے ہو گیا۔

1963 کے اکتوبر میں برجیش سنگھ اور سویتلانا پہلی بار ملے تھے۔ سوچی میں ان کا رومان بڑھا اور مبینہ طور پر ان کی شادی بھی یہیں ہوئی تھی۔ 31 اکتوبر 1966 کی شام سوچی کے ہسپتال میں برجیش کا انتقال ہو گیا۔

نئی دہلی میں آدھی رات ہونے کو تھی اور ابھی تک سفیر چیسٹر بولز کو واشنگٹن سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا تھا۔ انھوں نے ایک بار پھر ٹیلیگرام افسر کے کاندھے پر ہاتھ رکھا جس کی نظریں مشین پر گڑی تھیں۔ افسر نے مڑ ے بغیر ہی مایوسی میں سر ہلا دیا۔ سفیر بولز نے جوابا سر ہلایا اور افسر کے کاندھے کو تھپک کر ساتھ والے مشاورتی کمرے میں آگئے جہاں ساگوان کی لکڑی سے بنی ایک لمبی میز کے ارد گرد بیٹھے سی آئی اے کے افسران کے ساتھ کچھ سفارتی عملہ بھی ان کا انتظار کر رہا تھا۔ وہ میز کے بائیں سرے پر دیوار پر لگے امریکی جھنڈے کی تصویر کے عین نیچے پڑی اپنی کرسی پر بیٹھ گئے۔

” اوکے جنٹلمین۔ واشنگٹن خاموش ہے۔ میں سمجھ سکتا ہوں۔ شاید وہ بھی ہماری طرح سکتے میں ہیں۔ اب جو کرنا ہے ہمیں ہی کرنا ہے۔ تو۔ کہاں کھڑے ہیں ہم؟“

”جناب سفیر۔“ سی آئی اے کے سوویت معاملات کے ماہر رچرڈ کرک نے اپنی فائل کھولی۔ ”اس وقت فوری طور پر ہمارے پاس چارتجاویز ہیں۔

1۔ سویتلانا کی کسی قسم کی کوئی مدد نہ کی جائے اور انھیں سویت سفارت خانے میں واپس جانے کی ترغیب دی جائے۔

2۔ سویتلانا کو شانسری یا پھر روزویلٹ بنگلہ میں رکھا جائے اور ان کے مستقبل کے بارے میں بھارتی اور سویت حکومتوں سے بات کی جائے۔

3۔ انھیں امریکہ کا ویزا جاری کر دیا جائے جس کے بعد وہ بھارت سے باہر چلی جائیں اور پھر اگلے اقدامات کے بارے میں سوچاجائے۔

4۔ انھیں ایک خفیہ آپریشن کے ذریعے بھارت سے باہر نکالا جائے اس امید کے ساتھ کہ بھارت سے ان کی روانگی میں امریکی ہاتھ کو صیغہ رازمیں رکھاجا سکے گا۔

سفارت خانے کے عملے اور سی آئی اے نے ان تجاویز کا جائزہ لینا شروع کر دیا۔ ادھر سویتلانا ایک الگ کمرے میں بیٹھی ہر صورت سوویت روس واپس نہ جانے کا فیصلہ کر چکی تھیں۔ وہ اپنے نام کے ساتھ جڑے اپنے والد جوزف سٹالن کے سیاسی فلسفہ کی قیدمیں تھک چکی تھیں اور سویت کیمونسٹ پارٹی کی ان پر بندشات، مسلسل نگرانی، قدم قدم پر روک ٹوک سے بھی حد درجہ نالاں تھیں۔ ان کے صبر کا پیمانہ تب چھلکا جب ان کی اپنے شوہر برجیش کی آ خری رسومات کو پورا کرنے کے لئے بھارت جانے کی گزارشات کو بارہا رد کیا گیا تھا۔ آخر کاران کے پرانے دوست اور ہمسائے روسی وزیراعظم الیکسئی کوسیگن کی ذاتی مداخلت کے بعد ہی انھیں بھارت جانے کی مشروط اجازت ملی تھی۔

برجیش سنگھ کی راکھ کو گنگا میں بہانے کے بعد سویتلانا نے ان کے بھتیجے دنیش سنگھ سے بھارت میں سیاسی پناہ کی بات کی۔ دنیش کانگریس کے اہم رکن تھے اور بھارت روس تعلقات کی روشنی میں سویتلانا کی اس بات سے متفق نہیں تھے۔ دنیش نے محترمہ اندرا گاندھی سے بھی بات کی لیکن وہ بھی سویتلانا کو بھارت میں سیاسی پناہ دینے کے حق میں نہیں تھیں۔ سویتلانا کے لئے یہ ان کی زندگی کے مایوس ترین لمحات تھے۔ قریب تھا کہ وہ ہار مان جاتیں لیکن یہ دنیش ہی تھے جنھوں نے ان کے دکھ اور پریشانی کو بھانپتے ہوئے انھیں ایک ”تیسرے ملک“ میں سیاسی پناہ لینے کا مشورہ دیا تھا۔

امریکی سفارت خانے میں آنے سے پہلے سویتلانا نے تہیہ کر لیا تھا کہ اگر امریکہ نے بھی انھیں سیاسی پناہ دینے سے انکارکیا تو وہ ایک عوامی پریس کانفرنس میں دنیا کو سوویت آمریت کی اصلیت کے ساتھ دو بڑے جمہوری ممالک میں انسانی بنیادوں پرسیاسی پناہ کے انکار پر سے بھی پردہ اٹھا دیں گی۔

سفیر چیسٹر بولز کا کہنا ہے کہ حیرت انگیز طور پر وہ اور ان کا عملہ بھی انھی خطوط پر سوچ بچار کر رہے تھے۔ انھیں خدشہ تھا اگر سویتلانا میڈیا کے پاس چلی گئیں تو وہ بھارت، سویت یونین اور امریکہ کے تعلقات میں رخنہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ ایک ایسی کڑوی گولی جسے بعد میں نگلنا مشکل ہو سکتا تھا۔ اسی لئے سفارتی عملے اور سی آئی اے نے وقت ضائع کیے بغیر مشترکہ طور پر تجویز نمبر 4 یعنی سویتلانا کو فوری طور پر خفیہ طریقے سے بھارت سے باہر نکالنے اور کچھ وقت ایک دوست مغربی ملک میں رکھنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ سی آئی اے کے رابرٹ ریل نے بھارت سے باہر جانے والی پروازوں کا تفصیلی چارٹ میز پر رکھ دیا۔ رات کے اس پہر میں دہلی سے آخری پرواز رات ڈیڑھ بجے روم کے لئے تھی۔ سفیر نے حامی بھری اور سی آئی اے کے افسر روانگی کا بندوبست کرنے کے لئے کمرے سے باہر نکل گئے۔

مارچ کی اس شام امریکی سفارت خانہ سیاسی پناہ کی مدد مانگنے کے چار گھنٹے سے بھی کم وقت میں سویتلانا آلیلویے وا کو امریکہ کا ویزا جاری کر دیا گیا تھا۔ کالے شیشوں اور سفارتی شناخت والی ایک خصوصی گاڑی سفارت خانے کے پیچھے متصل نسبتاً ویران جگہ پر لائی گئی۔ گاڑی میں جارج ہوئے، سارجنٹ مائکل واٹسن، اور سی آئی اے کے راجر کرک اور رابرٹ ریل پہلے سے ہی سوار تھے۔ سفارت خانے کے پیچھے والی دیوار میں ایک چھوٹا سا دروازہ کھلا اور سویتلانا کو باہر لا کے فوراً ہی گاڑی کی پچھلی سیٹ پر سوار کر دیا گیا۔

جارج کسی بھی قسم کے شک سے بچنے کے لئے سفارت خانے کے پیچھے والے دروازے سے باہر جانا چاہتے تھے۔ لیکن راجر کرک نے انھیں مرکزی دروازے سے باہر جانے کا مشورہ دیا۔ سویتلانا سے گزارش کی گئی کہ وہ کچھ دیر کے لئے اپنا سر سیٹ سے نیچے کر لیں۔ گاڑی محتاط انداز میں سفارت خانے سے باہر نکلی اور شانتی پتھ سے ہوتے ہوئے پالم ائرپورٹ کی طرف روانہ ہو گئی۔ نئی دہلی کے راستوں کے ماہرسارجنٹ مائکل گاڑی چلاتے ہوئے پوری طرح چوکنے تھے اور تعاقب کی صورت میں متبادل پلان پر عمل درامد کرنے کے لئے تیار تھے۔ اسی دوران شیشہ پر ان کی نظر پڑی توپچھلی سیٹ پر سی آئی اے کے افسر سویتلانا کو ممکنہ حالات کے بارے میں تفصیل بتا رہے تھے۔

ادھر سفارت خانے کی دوسری منزل پر سفیر چیسٹر بولز دفتر کی کھڑکی میں سے سڑک پر گاڑی کو اوجھل ہوتا دیکھ رہے تھے۔ وہ جانتے تھے انھوں نے ایک بہت بڑا خطرہ مول لے لیا تھا۔ اگر کے جی بی ان سے پہلے پالم ایئر پورٹ پر پہنچ گئی تو امریکہ اور سوویت روس کے بہتر ہوتے تعلقات پر پانی پھر جائے گا اور تاریخ انھیں اس کا ذمہ دار ٹھہرا دے گی۔ وہ دعا کر رہے تھے ہر کام بروقت ہو جائے اور سویتلانا بخیر و عافیت بھارت کی حدود سے باہر نکل جائیں۔

امریکی سفیر چیسٹر بولز کے مطابق وہ اس امر سے بالکل بے خبر تھے کہ پالم ائرپورٹ پر روم جانے والے طیارے کے ساتھ ایک غیر معمولی واقعہ پیش آنے والا تھا۔

صحافیوں اور ادیبوں کی امریکی تنظیم کی سابق صدر ٹیری مورس ان دنوں نیویارک میں آزاد صحافت سے منسلک تھیں۔ ٹیری کے مطابق 7مارچ 1967 کی صبح وہ نیویارک میں ایک میٹنگ میں تھیں جب نئی دہلی سے باوثوق امریکی سفارتی ذرائع نے انھیں سویتلانا کے بارے میں بتایا۔ اس خبر نے انھیں ششدر کر دیا تھا۔ ٹیری مورس نے اپنی تمام مصروفیات منسوخ کر دیں اور نئی دہلی میں اپنے مقامی صحافتی ذرائع سے رابطہ کر کے سویتلانا کے فرار کی کہانی کا پیچھا کرنا شروع کر دیا۔ ٹیری کے مطابق سویتلانا کے فرار میں سی آئی اے کو کچھ مقامی افراد کی مدد بھی حاصل تھی۔

نئی دہلی میں اس وقت آ دھی رات ہو چکی تھی جب امریکی سفارت خانے کی گاڑی پالم ہوائی اڈے کے مرکزی دروازے کے سامنے بیرون ملک روانگی کے روشن نشان کے نیچے آ رکی۔ سی آئی اے کے رابرٹ ریل گاڑی میں سے نکلے اور محتاط انداز میں ادھر ادھر دیکھتے ہوئے گاڑی کی ڈکی کی طرف بڑھ گئے۔ رات کے اس پہر میں ہوائی اڈہ اتنا مصروف نہیں تھا۔ رابرٹ نے ڈکی میں سے دو سوٹ کیس نکال کر باہر رکھے۔ اتنی دیر میں سویتلانا بھی گاڑی میں سے باہر آ کر رابرٹ کے پاس کھڑی ہوگئیں۔ رابرٹ نے جھک کر گاڑی کے اندر دیکھا اور ہاتھ ہلا دیا۔ گاڑی آگے بڑھ گئی۔

انھوں نے اپنے سوٹ کیس اٹھائے اور تیز قدموں کے ساتھ ہوائی اڈے کے اندر داخل ہو گئے۔ رابرٹ نے محتاط انداز میں ادھر ادھر دیکھا تو سامنے سے ایک قلی نے آ کر ان کا سامان اٹھا کر ہتھ گاڑی پر رکھ دیا اور گاڑی دھکیلی تو رابرٹ اور سویتلانا دونوں اس کے پیچھے چل پڑے۔ وہ آسٹریلیا کی ہوائی کمپنی قان ٹس کے استقبالیہ پر پہنچ کر رک گئے جہاں پرواز نمبر 751نئی دہلی۔ روم کا برقی تختہ جگمگا رہا تھا۔

رابرٹ نے قلی کو بخشیش دی تو اس نے مسکرا کر شکریہ ادا کیا اور دونوں کو سلام کر کے وہاں سے اندر چلا گیا۔ رابرٹ نے استقبالیہ سے پرواز کی دو ٹکٹیں لیں اور ایک ٹکٹ سویتلانا کو تھما دی۔ اب سویتلانا اور رابرٹ کو بھارتی کسٹم اور امیگریشن سے الگ الگ گزرنا تھا۔ سویتلانانے اپنے کاغذ سنبھالے اور خود اعتمادی سے آگے بڑھ گئیں۔

امیگریشن پر زیادہ بھیڑ نہیں تھی۔ زیادہ تر مسافر بھارتی اور یوریپئن تھے جو اپنے آپ میں ہی مگن تھے۔ کسی نے سویتلانا یا رابرٹ پر کوئی خاص غور نہیں کیا۔ ویسے بھی یہ وہ دور تھا جب واقعات، معلومات اور خبریں اتنی تیزی سے نہیں پھیلتے تھے۔

سویتلانا نے جانچ کاونٹر پر اپنے کاغذ رکھے تو امیگریشن افسر نے ان کے پاسپورٹ اور ٹکٹ کی پڑتال کرتے ہوئے ان کے چہرے کا بغور جائزہ لیا اورسر ہلا کر ان کے پاسپورٹ پر مہر لگاتے ہوئے کاغذات واپس کاونٹر پر رکھ دیے۔

سویتلانا نے اپنے کاغذات اٹھائے اور روانگی لاونج کی طرف چل پڑیں۔ قطار میں پیچھے کھڑے رابرٹ نے یہ دیکھ کر اطمینان کاسانس لیا اور اگلے کاونٹر کی طرف بڑھ گئے۔

سویتلانا لاونج میں پہنچیں تو وہاں زیادہ تر مسافر اونگھ رہے تھے۔ رابرٹ کا ابھی تک کچھ پتہ نہیں تھا اور یہ پریشانی کا بات تھی۔ انھیں لگا جیسے ہوائی اڈہ کے کچھ اہلکار تیز چلتے ہوئے لاونج کی طرف آ رہے تھے۔ ان کا ماتھا ٹھنکا۔ یہ ایک غیر معمولی پیش رفت تھی۔ انھوں نے گھوم کر دیکھا۔ رابرٹ ابھی بھی اندر نہیں آئے تھے۔ نجانے کیوں انھیں لگا جیسے کے جی بی کو ان کے بارے میں پتہ چل چکا تھا۔ اہلکار اندر آ چکے تھے اور عملہ سے بات کر رہے تھے۔ اسی دوران ایک اہلکار نے سویتلانا کی نشست کی طرف اشارہ کر دیا اور وہ تیز قدموں کے ساتھ ان کی طرف آنے لگے۔

اس رات نئی دہلی کے ہوائی اڈے پر معمول کی کارروائی جاری تھی لیکن سویتلانا اور رابرٹ کے لئے وہ لمحات مشکل اور ذہن کو تھکا دینے والے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ انھیں ہر شخص و کارروائی مشتبہ لگ رہی تھی۔ ان دونوں کے لئے وہ چند گھنٹے یقیناً کٹھن تھے۔

ہوائی اڈہ کے اہلکار بھاگتے ہوئے سویتلانا کے پاس رکے بغیر آگے نکل گئے تھے۔ اس دوران سویتلانا سانس روکے اپنی جگہ پر بیٹھی رہی تھیں۔ لاونج کے سپیکر پر روم کی پرواز میں تاخیر کا اعلان کر دیا گیا تھا جس کی وجہ تکنیکی خرابی بتائی جا رہی تھی۔ سب کچھ ٹھیک ہی چل رہا تھا۔ تھوڑی دیر بعد پرواز کی تکنیکی خرابی دور ہونے کا اعلان ہو گیا اور سویتلانا دوسرے مسافروں کے ساتھ خارجی دروازے کی طرف بڑھ گئیں۔

جہاز میں داخل ہوتے ہی سویتلانا نے فضائی میزبان کو اپنا بورڈنگ پاس دکھایا تو اس نے مسکرا کر ان کی نشست کی طرف اشارہ کیا۔ اپنی نشست پر بیٹھتے ہوئے سویتلانا نے پیچھے مڑ کر دیکھا تورابرٹ ریل بھی اندر آچکے تھے اور اپنی سیٹ پر بیٹھے حفاظتی بند باندھ رہے تھے۔ رابرٹ نے بھی انھیں دیکھ لیا تھا اور ان کاتناؤ بھرا چہرہ اب قدرے اطمینان بخش نظر آ رہا تھا۔ اتنے میں کیپٹن کی آواز گونجی۔

”خواتین و حضرات میں آپ کا کیپٹن بول رہا ہوں۔ ہم تاخیر کی معافی چاہتے ہیں اور اچھی خبر یہ ہے کہ ہم اڑان کے لئے بالکل تیار ہیں۔ نئی دہلی سے سات گھنٹے کی پرواز کے بعد ہم روم پہنچ جائیں گے۔ آپ سے گزارش ہے کہ سگریٹ نوشی سے پرہیز کریں اور حفاظتی بند باندھ لیں۔ میں امید کرتا ہوں ہمارے ساتھ آپ کا یہ سفر بہت خوشگوار گزرے گا۔ شکریہ۔“

تھکن سے چور سویتلانا نے لمبی سانس لی اور کھڑکی بند کرکے اپنی آرام دہ سیٹ کے ساتھ ٹیک لگا لی۔ جہاز رن وے پر آ چکا تھا۔ انھوں نے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔

7 مارچ ٍ1967 کو صبح کے پونے تین بجے جب قان ٹس 751 نے پالم ہوائی اڈہ سے اڑان بھری تو سویت یونین کے عظیم ہیرو اور سرد جنگ کے بانی کی بیٹی ”آہنی پردے“ سے دوسری طرف ایک نئی زندگی شروع کرنے کے لئے تیار تھی۔ 18 مارچ 1967 کو اس وقت کے سویت لیڈرلیونیڈ بریژنیف نے کے جی بی کے سربراہ ولادیمیر سیمی شاستنی کو ان کے عہدے سے برطرف کر دیا۔ سویتلانا کے فرار کو آج تک سوویت روس کی خفیہ ایجنسی کے جی بی کی سوویت روس سے باہر ایک بڑی بین الاقوامی ناکامی سمجھا جاتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •