صاحب جی
صاحب کو باجی سے کبھی جھگڑتے نہیں دیکھا۔ کوئی شکایت ہی نہیں کرتے کبھی۔ سب کی باجیاں اور بھائی صاحب نوکروں کا خیال کیے بغیر خوب خوب ایک دوسرے سے لڑتے ہیں۔ گالیاں نکالتے ہیں گندی سے بھی گندی اور ان کی ساسیں بھی لڑتی ہیں۔ عورتیں تو خیر سب ہی آپس میں لڑتی ہی ہیں پر ان سے بھی زیادہ میاں بیوی لڑتے ہیں۔ پہلے جہاں چار پانچ دن میں برتن دھونے گئی تھی وہاں پر ایک دن صاحب نے باجی کو ایسا جھانپڑ مارا کہ باجی ٹرالی پر رکھے ہوئے ٹی وی کے اوپر گریں اور ان کا سر پھٹ گیا۔۔۔ اتنی زور سے چیخیں اور صاحب کو خوب گالیاں دیں۔۔۔ میں تو بابا ڈر کر باہر بھاگ گئی اور ماں کو صاف صاف بول دیا کہ میں ان کے گھر میں کام نہیں کروں گی۔
اور دوسری سب لڑکیاں اپنی اپنی باجیوں کی باتیں بتاتی ہیں۔ کئی باجیاں تواپنے صاحبوں سے ناراض ہو کر اتنے زور سے بچوں کو مارتی ہیں کہ بچے پورا پورا دن روتے رہتے ہیں اور ایک باجی جو ڈاکٹر تھیں ان کے میاں تو اتنی گندی گندی گالیاں دیتے تھے کہ اللہ توبہ۔۔۔ ابا تو کیا اماں بھی اتنی گالیاں نہیں نکالتی۔ سب کہتی ہیں کہ سب کے میاں گالیاں دیتے ہیں۔۔۔ سگریٹ پیتے ہیں اور کمرہ بند کر کے شراب بھی پیتے ہیں اور مارتے بھی ہیں۔ بھلے روز نہ ماریں پر مارتے ضرور ہیں اور ان کی بیویاں بھی زور زور سے ٹیلی فون پہ اپنی سہیلیوں سے باتیں کرتی ہیں اور اپنے میاؤں کو گالیاں نکالتی ہیں اور اپنی ساسوں کو تو بہت ہی برا برا کہتی ہیں۔ ایسے دنوں میں تو سب نوکروں کی شامت آتی ہے۔ کچھ تو بھاگ ہی جاتے ہیں۔ تنخواہ مانگنے بھی ہفتے کے بعد آتے ہیں۔ سب ڈرتے ہیں ایسے دنوں میں تو۔
پر بھئی۔۔۔ میری باجی اور صاحب تو ایسے مزے سے رہتے ہیں۔ گانے سنتے رہتے ہیں۔ ہوٹلوں میں جاتے ہیں۔ ایک دوسر ے کے پاس پاس۔۔۔ کبھی گالوں کے پاس، کبھی ہونٹوں کے پاس۔۔۔ مجھے تو بڑی شرم آتی ہے۔ تھوڑا سا مزہ بھی آتا ہے۔۔۔ جویریہ بے بی بھی ان کو دیکھ کر خوب ہاتھ ہلاتی ہیں۔ دونوں سے چمٹ جاتی ہیں۔۔۔ دونوں بڑا بھینچ بھینچ کر پیار کرتے ہیں ان کو اور وہ بھی انہیں دیکھ کرخوش ہوتی اور تالیاں بجاتی ہیں۔ میں جب پچھلی پہلی کو گھر گئی تھی تو میں نے اپنی سہیلی کو یہ سب بتایا تھا۔۔۔ وہ بولی۔۔۔
”پاگل ہے کیا۔۔۔ سب لڑتے ہیں اور یہ بنگلوں والے۔۔۔ سب ایک دوسرے سے نفرت کرتے ہیں، جب ان کا جھگڑا ہو نہ تب سنا کر کیسی کیسی باتیں نکالتے ہیں اگلی پچھلی۔۔۔ اوپر سے گالیاں بھی یہ موٹی موٹی۔۔۔“
میں نے اسے بولا کہ۔۔۔ ”بھئی میرے باجی اور بھائی تو الگ سے دکھتے ہیں۔۔۔ گیارہ مہینے سے بھی اوپر ہو گئے ہیں مجھے۔۔۔ بالکل ذرا سی تھیں جویریہ بے بی۔۔۔ اتنے سارے مہینوں میں تو صاحب اور باجی کبھی نہیں لڑے۔ پتہ نہیں پہلی کو لڑتے ہوں۔ میں تو سارا دن نہیں ہوتی ہوں۔۔۔ اونہوں۔۔۔ لگتا تو نہیں ہے۔
یہ جو میری باجی ہیں۔۔۔ آتا جاتا کچھ نہیں ان کو۔۔۔ بس خالی اپنی گوری شکل پہ زیادہ اتراتی ہیں اور فٹنگ والے کپڑوں میں اپنی پتلی سی کمر کو شیشے میں دیکھتی رہتی ہیں۔ استری کرنا ان کو نہیں آتا کپڑوں پر۔ کھانا بنا نہیں سکتیں۔۔۔ کبھی زیور یہاں پھینک دیتی ہیں تو کبھی وہاں۔۔۔ کبھی انگوٹھی اٹھا اٹھا کر دیتی ہوں کبھی ٹاپس۔ ایک بار حیدرآباد گئی تھیں ڈبیا میں زیور لے کر۔۔۔ کہہ رہی تھیں دس انگوٹھیاں۔۔۔ تین لاکٹ اور لونگ اور ٹاپس تھے اور اللہ جانے کیا کیا۔۔۔ پتہ نہیں کہاں کھو دیے۔۔۔ اورڈھونڈ ڈھونڈ کر بے حال ہو گئیں تو بلک بلک کر رونے لگیں۔۔۔ تب میں نے پہلی بار صاحب کو غصے میں دیکھا تھا اور سوچا تھا۔ آج تو ڈانٹ پڑے گی باجی کو۔۔۔ ساٹھ ستر ہزار روپے کی چیزیں کیا کم ہوتی ہیں۔ بھلے صاحب کتنا بھی کماتے ہوں پر آسان تھوڑا ہی ہوتا ہے اتنا پیسہ جمع کرنا۔۔۔ میں تو پوری زندگی جویریہ کی آیا بنی رہوں تب بھی اتنے پیسے جمع نہیں کر سکوں گی۔ بیگم صاحبہ صاحب سے لپٹ لپٹ کر رو رہی تھیں اور صاحب۔۔۔ صاحب تو باتیں ہی الٹی کرنا شروع ہو گئے۔۔۔ لعنت بھیجو۔۔۔ گولی مارو بھئی۔۔۔ میں تمہیں ہر چیز ڈبل لا کر دوں گا۔۔۔ ابھی کرو فون سنار کو۔۔۔ اور آرڈر دو سب چیزوں کا۔۔۔ باجی پھک پھک روئے چلی جا رہی تھیں۔ آخر بھائی نے بولا۔۔۔
”کیا قیامت آ گئی ہے۔ کیا مصیبت آ گئی ہے۔ اتنے معمولی زیوروں کے لیے تم نے روگ لگا لیا ہے۔۔۔ میں تمہیں ہزاروں چیزیں لا دوں گا۔ بند کرو یہ رونا دھونا۔“
”معمولی زیور؟“ میں تو مر گئی۔ اتنے سارے زیور۔ اگر ہمارے پاس کسی سے ایک انگوٹھی بھی گواچی ہوتی نا، تو ابھی طلاق دے ڈالتا میاں۔ پتہ نہیں شہروں میں غیرت کیوں نہیں آتی لوگوں کو اور پھر تو بھئی باجی کو پتہ نہیں کتنے کے۔۔۔ کیا کیا زیور لا کر دیے۔۔۔ باجی کو نئے کنگن بھی تو ان ہی دنوں لا کر دیے تھے۔ بھائی نے۔۔۔ ہزاروں کے پتہ نہیں۔۔۔ لاکھوں کے ہیرے جڑے ہوئے تھے ان میں۔۔۔ باجی نے خود ہی بتایا تھا مجھے۔ ساری سالگرہوں پر صاحب کبھی گلے کا نیکلس، کبھی چین، کبھی انگوٹھی، کبھی گھڑی تحفے میں دیتے تو باجی اترا اترا کر سب کو دکھاتی رہتی تھیں لیکن اب۔۔۔
اب کچھ دنوں سے ماحول تھوڑا گڑبڑ چل رہا ہے۔ پر میرا نہیں خیال کہ صاحب کچھ بولیں باجی کو۔ ان کو تو برداشت کرنے کی عادت پڑ چکی ہے۔ باجی ہر وقت غصے میں بھری رہتی ہیں۔۔۔ اور صاحب ہر وقت کہتے رہتے ہیں۔ کام ڈؤن۔۔۔ کام ڈؤن (Calm Down) باورچی کو کہتی ہیں ہری مرچیں تلو۔ ڈرائیور سے روزانہ انار منگواتی ہیں۔ ناریل کا پانی روز پیتی ہیں اور باقی ٹائم لیٹی رہتی ہیں۔۔۔ فون پر بھی کسی سے بات نہیں کرتیں اور بھائی کے ساتھ تو بالکل موڈ خراب۔ حالانکہ صاحب۔۔۔ اوہو۔۔۔ بھائی۔ ۔ آفس سے آتے ہوئے، کبھی پھول، کبھی فروٹ ضرور لے کر آتے ہیں۔ پیزا بھی زیادہ زیادہ آنے لگا ہے گھر میں۔ میرے تو مزے آ گئے ہیں۔۔۔ پر باجی کے چڑچڑے پن نے جان عذاب میں ڈال رکھی ہے۔ کئی بار تو جویریہ بے بی کو بھی زور زور سے ڈانٹا ہے۔ پہلے دن کو ایک بار دبواتی تھیں۔ اب دو دو تین تین بارمجھے بلاتی ہیں۔ کافی دفعہ تو صاحب بھی دباتے ہیں ان کو۔
اچھا یہ بات ہے۔۔۔ اب سمجھی۔ یعنی کہ جویریہ بے بی کا بھائی یا بہن آنے والا ہے۔ اب تو دوسرے تیسرے دن ڈاکٹرنی کے ہاں جاتے ہیں صاحب اور باجی۔۔۔ ان کی امی اور بھائی بھابھیوں کے فون اب زیادہ آنے لگ گئے ہیں۔ سب ہر وقت طبیعت کا پوچھتے رہتے ہیں اور دیکھتے دیکھتے دبلی پتلی شام کو مشین پر ورزش کرنے والی باجی جگہ جگہ سے پھول گئیں۔۔۔ پتہ نہیں جویریہ بے بی والے ٹائم پر ایسی ہوئی تھیں کہ نہیں۔۔۔ اللہ باجی تو کیسی خراب ہوتی جا رہی تھیں۔ پورے منہ پر کالے کالے چٹاخ پڑ گئے تھے اور پیٹ کے اوپر نیچے بھی جیسے بڑے بڑے گیند جھول رہے ہوں۔ کیسے نخرے دکھاتی تھیں۔ تنگ تنگ کپڑے پہن کر۔۔۔ اور کسی موٹی عورت کو دیکھ کر تو خوب ہی ہنستی تھیں۔۔۔ اب خود کیسی بھدی ہو گئی ہیں، ہانپتی کانپتی رہتی ہیں سارا دن، اٹھنا بیٹھا بھی مشکل ہو گیا ہے، صاحب نے ایک کھلی سی کرسی رکھوا دی ہے۔ باتھ روم میں بھی اس پر نہاتی ہیں۔۔۔ پتہ نہیں بھائی ہو گا کہ بہن۔۔۔ ؟
کل جب صاحب اور باجی ”واک“ کرنے جا رہے تھے تب میں نے آئینہ دیکھا تھا۔ میں تو باجی سے بہت زیادہ اچھی لگ رہی تھی۔ اگر ہونٹوں پر لپ اسٹک لگا لیتی تب تو پتہ نہیں کتنی اچھی لگتی۔ باجی کے سفید منہ پر یہ کالے کالے داغ اور میرا منہ بالکل صاف تھا اور میں کتنی دبلی لگ رہی تھی۔ باجی نے جو اپنے پرانے کپڑے مجھے دیے تھے۔ اس میں میری کمر تو باجی کی پرانی کمر سے بھی چھوٹی لگ رہی تھی۔ شاید باجی مجھے دیکھ کر جل جاتی ہیں۔ اس لیے آج کل ڈانٹتی رہتی ہیں۔ صاحب بھی تو تھوڑے تھوڑے چڑچڑے ہو گئے ہیں۔۔۔ آخر کتنا صبر کریں۔ اب تو جھگڑے ضرور ہوں گے۔۔۔ کتنا برداشت کرے گا کوئی۔۔۔ ایسے نخرے تو ماں باپ برداشت نہیں کرتے یہ تو اگلوں کا گھر ہے۔۔۔
صاحب رات کو دیر تک میرے ساتھ جویریہ بے بی کو سنبھالتے اور باجی کمرہ بند کیے گانے سنا کرتیں۔ صاحب صبح آفس جاتے ہیں تب بھی منہ سر لپیٹ کر پڑی رہتی ہیں۔ ان کے کپڑوں، موزوں اور ناشتے سب چیزوں کا دھیان میں ہی رکھتی ہوں۔۔۔ صاحب بے چارے بھی اب تو لگتا ہے عادی ہو گئے ہیں۔ نسرین یہ۔۔۔ نسرین وہ۔۔۔ نسرین پانی۔۔۔ نسرین جوتے۔۔۔ لگ تو ایسا رہا ہے کہ صاحب باجی کو آواز دینا بھی بھول رہے ہیں۔ آفس سے آنے کے بعد پانی۔۔۔ کھانا سب میرے ہی ذمے ہے۔۔۔ میں ہی بیگ جگہ پر رکھتی ہوں اور گھر میں پہننے والے کپڑے باتھ روم میں لٹکاتی ہوں۔۔۔ صاحب چپ چاپ سے کھانا کھا کر اپنے کمرے میں چلے جاتے ہیں۔ میں پھر جویریہ بے بی اور باجی کے کاموں میں لگ جاتی ہوں۔
آج جب میں باجی کی کمر دبا رہی تھی تو ایسی کھلی کھلی کمر لگ رہی تھی کہ بس۔۔۔ ٹانگوں کا گوشت باہر پڑا تھا۔۔۔ کیسی بھدی ہو رہی ہیں۔۔۔ کیسی بری لگ رہی ہیں۔۔۔ اس دن گاڑی میں جب میں نے کہا تھا کہ صاحب پڑوس والے سب بولتے ہیں کہ جویریہ بے بی بہت خوبصورت ہیں بلکہ اپنی امی پہ گئی ہیں تو صاحب ہنس کر فوراً بولے تھے۔۔۔
”اور نسرین تمہیں کوئی خوبصورت کہتا ہے۔۔۔ ؟“
”مجھے کوئی کیوں بولے گا بھائی۔۔۔ ؟“ میں شرما کر رہ گئی۔
”کیوں تم خوبصورت نہیں ہو کیا؟“ پتہ نہیں بھئی مجھے تو بہت شرم آ رہی تھی۔ بلکہ مجھے تو ایسا لگا تھا کہ صاحب شیشے میں سے میری طرف جھانک رہے ہوں۔ اللہ رے باجی نے تو جیسے کچھ سنا ہی نہیں۔۔۔ اب تو باجی نہ مذاق کرتی ہیں نہ دوسری باتوں میں دھیان دیتی ہیں۔ ان کا دھیان تو صاحب سے بھی ہٹ گیا ہے تبھی تو صاحب نے ایسی بات مجھ سے پوچھی۔ نہیں۔۔۔ ہو سکتا ہے مذاق کیا ہو۔۔۔ لگتا تو نہیں ہے۔ ویسے مذاق کی عادت تو ہے صاحب کی۔۔۔ پرایسا کوئی مذاق ہوتا ہے؟ ۔ ۔ اگر مذاق نہ ہوتا تو بیگم صاحبہ۔۔۔ مطلب۔۔۔ باجی کے سامنے کیسے کرتے؟ ۔ ۔ اکیلے میں بھی تو پوچھ سکتے تھے۔ اکیلے میں تو صاحب یا تو کتاب پکڑے بیٹھے رہتے ہیں یا پھر ٹی وی کے سامنے۔۔۔ صرف کام کے وقت ہی بلاتے ہیں۔ پانی یا چائے وغیرہ۔۔۔ یا جویریہ بے بی کو اٹھاؤ، کھلاؤ، بہلاؤ۔۔۔ اور آج کل تو بات بے بات۔۔۔

