صاحب جی


”بیٹا نسرین یہ۔۔۔ بیٹا نسرین وہ۔۔۔“

مجھے تو نہیں اچھی لگتی یہ بیٹا بیٹا کی رٹ۔۔۔ اتنی لمبی ہو گئی ہوں کہ اب تو جب دکان پر جاتی ہوں تو سب بڑی عجیب عجیب نظروں سے دیکھتے ہیں اور کچھ تو آنکھوں سے اشارے بھی کرتے ہیں۔ صاحب تو ابھی تک بچہ سمجھے ہوئے ہیں مجھے۔۔۔ باجی کے سارے پرانے کپڑے پورے آ رہے ہیں اب تو مجھے۔ باجی کو اب کہاں آئیں گے یہ کپڑے پورے۔ ایسے ہی الماریاں بھری پڑی رہیں گی۔ اب تو جھبلے پہنیں گی۔ اسے ہنسی آ گئی۔ کیسے باجی کی اتراہٹ ختم ہو گئی۔ اللہ توبہ۔۔۔ ایسی غصے والی ہو رہی ہیں کہ دل چاہ رہا ہے کسی اور باجی کے پاس کام کرنے چلی جاؤں۔ کون کرے گا ان کے پاس کام ایسی حالت میں؟ ڈانٹیں سن کر سب ماسیاں بھاگ جائیں گی اور جویریہ بے بی تو کسی سے نہیں بہلیں گی۔ چلی تو جاؤں پر۔۔۔ صاحب کے کام کون کرے گا۔۔۔ کون سنبھالے گا ان کو۔۔۔ کون سب چیزیں حفاظت سے رکھ کر ان کو لا کر دے گا۔

جویریہ بے بی پر بھی باجی کا اثر آ گیا ہے۔ ساری ساری رات چیختی ہیں اور دن بھر ضد۔۔۔ ان کو سنبھالنا الگ مسئلہ ہے۔۔۔ باجی کو تو اب سوائے بڑ بڑ کرنے کے کوئی دوسرا کام نہیں ہے۔ اٹھتے بیٹھتے سب کو ڈانٹتی ہیں۔ خانساماں کی تو شامت ہی آئی ہوئی ہے۔۔۔ یہ نمک زیادہ۔۔۔ یہ گھی زیادہ۔۔۔ یہ مرچ زیادہ۔۔۔ وہ بے چارہ کم کر دے تو اور مصیبت۔۔۔ اور مالی غریب تو کام چھوڑ کر ہی بھاگ گیا ہے۔ میں تو نہیں جاؤں گی۔ کیسے تھکے تھکے آتے ہیں صاحب آفس سے۔

کل میں نے پوچھا تھا ”صاحب اگر درد ہو رہا ہو تو گولی لا دوں سر کے درد کی۔“

آہستہ سے بولے۔۔۔ ”نہیں۔۔۔ بس وہ ذرا خانساماں کو بلاؤ۔۔۔ مجھے دبا دے۔۔۔“ یہ بھی کوئی بات ہوئی۔۔۔ جب میں باجی کو دبا سکتی ہوں تو ان کو کیوں نہیں؟

”نسرین بیٹا۔۔۔“ صاحب کی آواز آئی۔

”پھر بیٹا۔۔۔“ عجیب آدمی ہیں صاحب بھی۔ باجی تو دوسرے کمرے میں سو رہی ہیں اور یہ مجھے بیٹا۔۔۔ بیٹا۔ سارا گھر سنبھالا ہوا ہے ان کا میں نے۔۔۔ بیٹی بھی میرے پاس ہی رہتی ہے۔ باجی تو بس نام کی بیوی رہ گئی ہیں اب۔۔۔ بلکہ اماں تو کہتی ہے کہ جس بیوی کو بچہ پیدا ہونے والا ہو وہ زیادہ نخرے دکھائے تو شوہر کا دل برا ہو جاتا ہے اور وہ گھر سے بھاگ جاتا ہے۔ صاحب تو ایسے پالتو بنے ہوئے ہیں کہ بس۔۔۔ کیوں نہیں سوچتے کوئی بات دوسرے آدمیوں کی طرح۔۔۔ ساری سوچیں شاید آفس کے لیے رکھی ہوتی ہیں۔ میں تو دیکھتی ہوں کہ سارے خانسامے اور چوکیدار ہی نہیں بلکہ صاحب لوگ بھی گاڑیوں کے شیشوں سے جھانکتے رہتے ہیں۔ کبھی سیٹی بجاتے ہیں تو کبھی۔۔۔ یا ہو۔۔۔ کرتے ہیں۔ سارے ہی بدتمیز ہیں ادھر تو۔

باجی نے تو یہ نو مہینے عذاب کر دیے اللہ توبہ۔۔۔ صاحب کیسے سوکھ کر کانٹا ہو گئے ہیں۔ جویریہ بھی بے حد چڑچڑی ہو گئی ہیں۔ اس کا تو میں بڑا خیال کرتی ہوں۔۔۔ کتنی اچھی بچی ہے۔ ماما ماما کرتی رہتی ہے۔۔۔ پر بیگم صاحبہ بس پیار کر کے مجھے واپس کر دیتی ہیں۔ ہمارے ہاں تو مائیں پورے نو مہینے کام کرتی ہیں۔ بچہ جن کر پھراگلے دن کام پر چلی جاتی ہیں۔۔۔ باجیوں کے منہ کھلے کے کھلے رہ جاتے ہیں اور ایک یہ باجی ہیں۔۔۔ ٹھیک سے سیدھی کھڑی بھی نہیں ہوئیں پورے نو مہینے۔

صاحب کو پھر بیٹی پیدا ہوئی۔۔۔ ہائے بیٹا ہی ہو جاتا۔۔۔ صاحب خوش تو ہوتے تھوڑا۔۔۔ باجی تو ہسپتال میں کم سے کم ایک ہفتہ رہیں گی۔

”نسرین۔۔۔ نسرین۔۔۔ پانی۔۔۔“

ہائے کیسی تھکی تھکی آواز ہے میرے صاحب کی۔ ”یہ لیں پانی۔۔۔“ آج آئے بھی تو کتنی دیر سے ہیں۔۔۔ پتہ نہیں کھانا کھایا ہو گا کہ نہیں۔۔۔ یا ہسپتال میں خدمتیں ہی کرتے رہے۔۔۔ جوتوں سمیت ہی سو گئے ہیں بے چارے۔

”نسرین۔۔۔“ پھر آواز آئی۔
”جی۔۔۔“
”جویریہ کہاں ہے؟“
”سو رہی ہے جی اپنے کمرے میں۔“
”اچھا۔۔۔“
”کوئی ٹیلی فون؟“
”نہیں صاحب جی۔۔۔“
”کوئی آیا۔“
”جی نہیں۔۔۔“
”جویریہ روئی تو نہیں زیادہ۔“
”جی نہیں صاحب۔“

اف اللہ کیسے بیمار بیمار لگ رہے ہیں۔ دن رات ہسپتال میں رہیں گے تو ایسا تو ہو گا نا۔ باجی کوئی اکیلی تو نہیں ہیں ہسپتال میں۔ ان کی امی بھی ساتھ ہیں۔۔۔ صاحب جی کیا کیا کریں؟ ایک جان۔۔۔ آفس میں الگ۔۔۔ ہسپتال میں الگ۔۔۔ گھر میں الگ۔۔۔ اور گھر آنے کے بعد جویریہ بے بی بھی ان سے چپکی رہتی ہیں۔۔۔ رنگ بھی کالا پڑ گیا ہے صاحب جی کا۔۔۔ کیسے اچھے تھے شروع میں۔ ایک نخرے بازبیوی کے چکر میں کیسے پریشان ہو گئے ہیں۔ خانساماں نے تو بھاگ ہی جانا ہے وہ اپنی تنخواہ کا انتظار کر رہا ہے۔ بس۔۔۔ ٹی وی بھی نہیں چلایا صاحب نے آج۔ کھانے کا کیسے پوچھوں۔۔۔ لگ تو نہیں رہا کہ کھایا ہے۔ پاؤں ہی دبا دوں ذرا۔۔۔ اللہ جوتے ہی اتار دوں۔۔۔ ان کے ہلکے ہلکے خراٹوں کی آواز کیسی اچھی لگ رہی ہے۔۔۔ ہائے کیسے معصوم لگ رہے ہیں سوتے میں۔ گھر کیسا ویران لگ رہا ہے۔۔۔ جویریہ بے بی گہری نیند سو رہی ہے۔ آج تو صاحب جی بہت اداس ہیں۔ پتہ نہیں دل میں کیا کیا سوچ رہے ہوں گے؟ مجھ سے تو برداشت ہی نہیں ہو رہا۔ صاحب جی کیسے بالکل اپنے اپنے لگ رہے ہیں۔ برداشت اور صبر والے ہیں۔ میں کمر تو دبا دوں۔۔۔ کیسی خوشبو ہے صاحب جی کے بدن میں۔۔۔ میرا بدن گرا جا رہا ہے۔۔۔

”ارے۔۔۔ ارے یہ کیا۔۔۔“ صاحب جی بوکھلا کر اٹھ بیٹھے۔۔۔
”یہ تم ہو نسرین۔۔۔ کیا کر رہی ہو یہاں۔۔۔ میرے بیڈ پر۔۔۔ نکلو دفع ہو جاؤ یہاں سے۔۔۔“

تھکے تھکے صاحب جی نے اچھل کر لائٹ جلائی۔۔۔ ”نکلو بھاگو یہاں سے۔۔۔ کچھ شرم آ رہی ہے تمہیں۔۔۔ نالائق۔۔۔ واہیات۔۔۔ دو ٹکے کی نوکرانی۔۔۔“

وہ غصے میں بھرے دھاڑ رہے تھے۔ ”دفعہ ہو جاؤ اس گھر سے۔۔۔ بہت مل جائیں گی جویریہ کو سنبھالنے والیاں۔۔۔ اور ماں باپ مر نہیں گئے ہیں اس کے۔۔۔ بدمعاش کہیں کی۔۔۔ بدنام کرنا چاہتی ہو مجھے۔۔۔ منہ کالا کرنا ہے تو کہیں اور جا کر کرو۔۔۔ اٹھاؤ اپنے کپڑے اور نکلو یہاں سے، ورنہ پولیس کو بلوا لوں گا۔ اوقات بھول گئی ہے اپنی۔“

ہائے کیسے ذلیل کر کے نکال دیا مجھے۔۔۔ ہائے اللہ۔۔۔ میں کیا کروں۔ اماں نے پوچھا۔۔۔ ”مردار کیوں روئے چلی جا رہی ہے اور اس پہراکیلی کیسے آ گئی۔۔۔“

”باجی ہسپتال میں تھی۔۔۔ وہ۔ وہ، صاحب جی۔۔۔“
”ہائے میں مر جاؤں۔۔۔“ اماں نے دو ہتڑ چھاتی پر مارے۔

”اچھا ہے بھاگ آئی۔۔۔ شکل سے کیسا شریف لگتا ہے۔۔۔ میں بھی کہوں آج کے دور میں یہ نیک آدمی کیسے ہو گیا۔۔۔ کتے ہوتے ہیں یہ سب بنگلوں والے۔۔۔ کہیں اور کام مل جائے گا میری بچی کو۔۔۔ حرام زادہ کہیں کا۔“

کیسی زہر لگ رہی ہے اماں کی شکل۔۔۔ تیل میں سنی ہوئی۔ توے سے زیادہ کالی۔ ابا نے جیسے کچھ سنا نہیں۔۔۔ کروٹ بدل کر لیٹ گیا۔۔۔ بشیر دانتوں میں ماچس کی تیلی پھنسائے بیٹھا تھا۔
میں۔۔۔ میں۔۔۔ یہاں رہوں گی۔۔۔ اس گندی۔۔۔ بدبو والی جھگی میں۔۔۔ اے سی کے بغیرنیند آئے گی مجھے۔۔۔ وہاں تو موٹی چادریں لپیٹ کر سوتے تھے سب۔۔۔ یہ کھلی چھت۔۔۔

آسمان صاف نظر آ رہا ہے۔۔۔ یہ مچھر مصیبت۔۔۔ یہ گندی رات۔۔۔ جیسے بونداباندی ہو رہی ہو۔۔۔ میں تو بھیگ رہی ہوں۔۔۔ سب کیسے مزے سے سو رہے ہیں۔۔۔ ابا کے گلے میں پھنسے یہ بلبلاتے کیکڑے۔۔۔ یہ مچھر تو کھا جائیں گے ایک ہی رات میں۔۔۔ ہائے جویریہ بے بی۔۔۔ ہائے صاحب جی۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4