ریڈیو پاکستان کا اعلان آزادی … اصل حقائق کیا ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چند روز سے یو ٹیوب اور سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کی دھوم مچی ہے جس میں بیان کیا گیا ہے کہ ریڈیو پاکستان کا قیام 13 اور 14 اگست 1947ء کی درمیانی رات کو وجود میں آیا تھا۔ اس ویڈیو میں ریڈیو پاکستان کے نامور انائونسر مصطفی علی ہمدانی کی ایک ریکارڈنگ سنوائی گئی ہے جس میں وہ اعلان کرتے ہیں کہ’’السلام علیکم۔ پاکستان براڈکاسٹنگ سروس۔ ہم لاہور سے بول رہے ہیں۔ تیرہ اور چودہ اگست سن سنتالیس عیسوی کی درمیانی رات۔ بارہ بجے ہیں۔ طلوعِ صبحِ آزادی‘‘۔

یہی وہ دو سطری اعلان ہے جس پر سینٹرل پروڈکشن یونٹ ریڈیو پاکستان کے دعوے کی پوری عمارت تعمیر کی گئی۔ ایک ایسی عمارت جس کی بنیاد ہی غلط ہے۔

آیئے دیکھتے ہیں اس اعلان کے بارے میں مصطفی علی ہمدانی کے صاحبزادے صفدر ہمدانی کا مؤقف کیا ہے۔مگر اس کے لیے ہمیں تھوڑا سا ماضی میں جانا پڑے گا۔

 یہ اگست 2007ء کی بات ہے جب بی بی سی اردو کی ویب سائٹ پربرادرم وسعت اللہ خان کا ایک بلاگ شائع ہوا، جس کا عنوان تھا ’’ساٹھ برس اور حافظہ‘‘۔اس بلاگ میں کئی دوسرے انکشافات کے ساتھ ساتھ وسعت اللہ خان نے تحریر کیا تھا کہ :

’’جہاں تک یہ سوال ہے کہ ریڈیو پاکستان سے آزادی کی نصف شب سب سے پہلے کس کی آواز نشر ہوئی تو اس بارے میں تاریخی حقائق کچھ یوں ہیں کہ پاکستان کے حصے میں چودہ اور پندرہ اگست کی درمیانی شب تین باقاعدہ ریڈیو سٹیشن آئے یعنی لاہور، پشاور اور ڈھاکہ سے چودہ اگست کی رات گیارہ بجے تک آل انڈیا ریڈیو کی نشریات جاری رہیں۔

بارہ بجنے سے کچھ ساعت قبل لاہور ریڈیو سٹیشن سے پاکستان براڈ کاسٹنگ کی نئی شناختی دھن بجائی گئی اور پھر ظہور آزر نے انگریزی میں یہ اعلان کیا: ’نصف شب کو بارہ بجے کا گجر بجتے ہی پاکستان کی آزاد و خودمختار ریاست وجود میں آ جائے گی۔‘

 اسکے بعد ٹھیک بارہ بجے ظہور آزر نے انگریزی میں یہ اعلان کیا: ’ یہ پاکستان براڈ کاسٹنگ سروس لاہور ہے۔اب ہم ایک خصوصی پروگرام پیش کر رہے ہیں ’صبحِ آزادی‘۔

اس اعلان کے فوراً بعد مصطفی علی ہمدانی نے اردو میں یہی اعلان کچھ ایسے دہرایا: ’ اسلام و علیکم۔ پاکستان براڈ کاسٹنگ سروس۔ہم لاہور سے بول رہے ہیں۔ رات کے بارہ بجے ہیں۔پروگرام سنیے طلوعِ صبحِ آزادی۔‘

اور اس کے ساتھ ہی اقبال کا ترانہ ملی مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا نشر ہونا شروع ہوا۔

بالکل اسی وقت پشاور سے ٹھیک بارہ بجے پہلی اناؤنسمنٹ اردو میں آفتاب احمد بسمل نے کی جبکہ اس کے فوراً بعد پشتو میں یہی اعلان عبداللہ جان مغموم نے دھرایا۔ اور پھر احمد ندیم قاسمی کے لکھے گئے دو ملی نغمے نشر ہوئے، جبکہ ریڈیو ڈھاکہ سے بارہ بجے کا گجر بجتے ہی کلیم اللہ نے انگریزی میں قیامِ پاکستان کا اعلان کیا اور اس کے بعد بنگلہ میں اعلان دہرایا گیا۔

لیکن چند برس بعد جب یہ سوال متنازع ہوا کہ پاکستان چودہ اگست کو وجود میں آیا یا پندرہ اگست کو تو اسکے ساتھ ہی یہ بحث بھی چھڑ گئی کہ ریڈیو پر نئی مملکت کے قیام کا اعلان تیرہ یا چودہ اگست کی درمیانی شب کو ہوا تھا ،یا چودہ اور پندرہ اگست کی درمیانی شب کو۔

انیس سو پچاس میں ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر تعلقات عامہ ن م راشد نے ’تھری ایئرز آف ریڈیو پاکستان‘ کے نام سے جو کارکردگی نامہ شائع کیا اس کے مطابق اعلانِ پاکستان چودہ اور پندرہ اگست کی درمیانی شب ہوا۔ لیکن جب اسی ریڈیو پاکستان نے اپنے ہی رسالے آہنگ کا گولڈن جوبلی نمبر شائع کیا تو اس میں یہ لکھا گیا کہ اعلانِ پاکستان تیرہ اور چودہ اگست کی درمیانی شب کیا گیا۔

پالیسیاں تو ہر حکومت تبدیل کرتی ہے لیکن پاکستانی حکومتیں نہ صرف پالیسیاں بلکہ تاریخ اور حافظہ تبدیل کرنے میں بھی یکساں مہارت رکھتی ہیں۔ کون کہتا ہے کہ پاکستان جمود کا شکار ہے۔”

https://www.bbc.com/urdu/miscellaneous/story/2007/08/070814_patition_wusat_sq.shtml

وسعت اللہ خان کے اس بلاگ کی اشاعت کے بعد مصطفی علی ہمدانی کے صاحبزادے صفدر ہمدانی نے اس کا ایک طویل جواب لکھا جو ’’پاکستان میں ساٹھ برس میں طے نہیں ہو سکا‘‘ کے عنوان سے چھ اقساط میں پہلے القمر آن لائن کی ویب سائٹ پر اور پھر صفدر ہمدانی کی اپنی ویب سائٹ عالمی اردو اخبار پر شائع ہوا۔ صفدر ہمدانی صاحب نے اپنے اس طویل جواب کی چوتھی قسط میں یہ اعتراف کیا کہ وہ اپنے والد کی جس ریکارڈنگ کا حوالہ دے رہے ہیں وہ ریڈیو پاکستان کے ریکارڈ میں موجود نہیں۔ 1973ء میں جب ریڈیو پاکستان کی سلور جوبلی تقریبات منائی جارہی تھیں تو ریڈیو پاکستان کے حکام نے اس ریکارڈنگ کو تلاش کرنے کی بہت کوشش کی مگر وہ ریکارڈنگ دست یاب نہ ہوسکی۔ انھوں نے اپنے اس بلاگ کے ساتھ اپنے ذاتی آرکائیو میں محفوظ اپنے والد کے مذکورہ اعلان کی ریکارڈنگ شیئر کی اور لکھا کہ ’’اب ذرا اگر مزید تفصیل سے بیان کروں تو یہ بھی بتانا ہو گا کہ یہ ریکارڈنگ کوئی گھریلو یا ذاتی ریکارڈنگ نہیں بلکہ سرکاری طور پر ریڈیو پاکستان کے سینٹرل پروڈکشن کے ایک منصوبے‘‘تاریخ نشریات،، کے عنوان کے تحت 1973ء میں لاہور کے سینٹرل پرڈکشن اسٹوڈیوز میں ہوئی تھی جہاں اس وقت اس شعبے کے لاہور کے سربراہ چوہدری بشیر تھے اور اس کے پروڈیوسر برادرم ناصر قریشی تھے اور 30 منٹ سے زائد دورانیے کا یہ انٹرویو اس وقت کے بچوں کے پروگرام کے نہایت مقبول بھائی جان ابوالحسن نغمی (حال مقیم واشنگٹن) نے لیا تھا جس میں آزادی کی اس اولین رات کی ساری کہانی موجود تھی۔

آزادی کے لگ بھگ 26 سال بعد 1973 میں ریڈیو کو پہلی بار یہ خیال آیا کہ اس آواز اور ان الفاظ کو محفوظ کر لیا جائے اور شکر ہے کہ یہ سب کچھ ٹیپ پر محفوظ ہو گیا وگرنہ اگر اس ریکارڈنگ کی موجودی میں اس سارے عمل کو متنازع بنانے کی یہ حالت ہے تو ٹیپ موجود نہ ہونے کی صورت میں کیا ہوتی۔

یہ ایک الگ قصہ ہے کہ ‘‘تاریخِ نشریات‘‘ کے نام سے سینٹرل پروڈکشن کی شائع شدہ سرکاری فہرست میں موجود یہ ٹیپ کم ازکم تین بار بوجوہ غائب کی گئی اور اسے تین بار تلاش کیا گیا اور اب آخری خبروں تک ایک بار پھر سے یہ ٹیپ سینٹرل پروڈکشن کے کسی مرکز حتیٰ کہ اسلام آباد کے مرکزی شعبے میں موجود نہیں۔ کاش اس جانب کوئی توجہ دے‘‘۔

محترم صفدر ہمدانی نے اپنے اس طویل بلاگ میں کئی جگہ یہ دعویٰ کیا کہ ریڈیو پاکستان سے اولین اعلان آزادی ان کے والد مصطفی علی ہمدانی نے کیا تھا اور مصطفی علی ہمدانی کے اعلان سے پہلے ظہور آزر کے انگریزی میں کیے جانے والے اعلان کا دعویٰ غلط ہے (جبکہ دو تین روز قبل سینٹرل پروڈکشن یونٹ ظہور آزر کا مذکورہ اعلان بھی ایک الگ ویڈیو کی شکل میں ریلیز کرچکا ہے)۔ اس کے ساتھ سینٹرل پروڈکشن یونٹ، ریڈیو پاکستان نے مصطفی علی ہمدانی کی ریکارڈنگ پر مشتمل جو ویڈیو ریلیز کی ہے وہ اگست 1947ء کی نہیں بلکہ وہی ریکارڈنگ ہے جو 1973ء میں ریکارڈ کی گئی تھی۔ یہ انکشاف ہم نہیں کر رہے ہیں بلکہ خود مصطفی علی ہمدانی کے صاحبزادے صفدر ہمدانی نے کیا ہے۔

 ریڈیو پاکستان کے ریکارڈ کے مطابق ریڈیو پاکستان کی اولین سرکاری تاریخ Three years of Radio Pakistan کے عنوان سے 1950ء میں شائع ہوئی۔ یہ کتاب ریڈیو پاکستان کے پبلک ریلیشنز ڈائریکٹریٹ نے 1950ء میں شائع کی تھی اور اس کے مرتب مشہور شاعر ن۔ م ۔ راشد تھے جو ان دنوں اس ڈائریکٹریٹ کے سربراہ تھے۔ اس کتاب میں واضح طور پر تحریر کیا گیا ہے کہ ریڈیو پاکستان لاہور، ریڈیو پاکستان پشاور اور ریڈیو پاکستان ڈھاکا کی نشریات کا آغاز 14 اور 15 اگست 1947ء کی درمیانی شب بارہ بجے ہوا۔

سعادت حسن منٹو اور حامد جلال

اسی موضوع پرریڈیو پاکستان کے پہلے کنٹرولر نیوز حامد جلال نے پاکستان کے ڈائریکٹریٹ آف فلمز اینڈ پبلی کیشنز کے اہتمام میں شائع ہونے والے جریدے ماہ نو کے نومبر، دسمبر 1976ء کے شمارے میں ایک مضمون تحریر کیا جس کا عنوان تھا ’’پاکستان کا پہلا نشری اعلان ‘‘۔ اس مضمون میں وہ تحریر کرتے ہیں:

’’14 اور 15 اگست (1947ء) کی درمیانی رات، آدھی رات سے تقریباً دس منٹ پہلے اس اعلان کے پچاس منٹ بعد جب لاہور نے آخری مرتبہ آل انڈیا ریڈیو کی حیثیت سے اعلان کیا۔ ریڈیو پاکستان کا عارضی ابتدائی نغمہ جسے خواجہ خورشید انور نے مرتب کیا تھا نشر ہوا۔ اس کے نئے پن کا مقناطیسی اثر ہوا اور ہزاروں آدمی اپنے ریڈیو سیٹوں کے پاس بیٹھ گئے۔ وہ خوشی اور امید کے جذبات کے ساتھ اسے سنتے رہے۔ جب آدھی رات سے ایک منٹ پہلے اس کی آواز آہستہ آہستہ کم ہونے لگی تو فضا میں ایک اعلان ہوا ’’آدھی رات کے وقت پاکستان کی آزاد اور خود مختار مملکت وجود میں آئے گی‘‘۔ انگریزی میں اس کے ریڈر مسٹر ظہور آذر تھے جو 16 سال بعد ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل بنے۔ اردو میں یہ اعلان مصطفی علی ہمدانی کی جانی پہچانی آواز میں ہوا۔

اس کے بعد دیواری گھڑی کی زور سے ٹک ٹک کی آواز آئی اور جب ٹھیک آدھی رات ہوئی تو ہزاروں سامعین نے پہلے انگریزی میں اور پھر اردو میں یہ الفاظ سنے ’’یہ پاکستان براڈ کاسٹنگ سروس ہے‘‘۔ جس طرح نصف شب سے پہلے کے اعلان میں ہوا تھا اسی طرح اس اعلان میں ہندوستانی اور اردو کے نمایاں فرق نے سننے والوں کے جذبات محبت کو برانگیختہ کردیا اور بہت سے سامعین نے شکریے کے لیے فون کیے کیونکہ ان کے نزدیک ایک آزاد مسلم وطن کا یہ پہلا اظہار تھا۔

اس کے بعد مولانا زاہر القاسمی نے قرآن پاک کی سورۃ فتح کی افتتاحی آیتوں کی تلاوت کی۔ اس تلاوت کے بعد ریڈیو پاکستان کا آرکسٹرا بجایا گیا جس کی نئی ترتیب خواجہ خورشید انور نے کی تھی۔ چونکہ سامعین طربیہ پروگرام سننے کے لیے تیار ہو چکے تھے اس لیے سنتو خان اور ان کے ہم نوائوں نے قوالی میں علامہ اقبال کی ایک نظم پیش کی۔ وہ مبارک علی اور فتح علی کے زیادہ مشہور و معروف قوالی گروپ کا نعم البدل تھے جو سرحد کے قریب ہندوستان میں پھنسے ہوئے تھے کیونکہ اسٹین گنوں اور دوسرے ہتھیاروں سے لیس، سکھوں کے لوٹ مار کرنے والے جتھے مسلمانوں پر حملہ کررہے تھے۔

’’آدھی رات کو آزادی‘‘ کی یہ ٹرانسمیشن جناب حفیظ ہوشیار پوری کی جدوجہد پاکستان پر تقریر پر ختم ہوئی لیکن شادمانی کی اس لہر میں ان مسلمانوں کے بارے میں بے حد اضطراب بھی شامل تھا جو پاکستان کی طرف رواں تھے یا ایسے مقامات پناہ کی طرف بڑھ رہے تھے جہاں انہیں بتایا گیا تھا کہ وہ ایک پاکٹ سٹی بنا سکیں گے اور سفاک دشمنوں کا مقابلہ کرسکیں گے‘‘۔

حامد جلال کے اس بیان کی تائید خود سنتو خان بھی کرتے ہیں انہوں نے اپنے ایک انٹرویو (مطبوعہ آہنگ، اگست 1997ء) میں بتایا :

 ’’میں بڑی مشکل سے ریڈیو اسٹیشن پہنچا تھا جناب، ہماری پارٹی ریڈیو پر آئی… ریڈیو پر آکر اطمینان کا سانس لیا۔ ہم تقریباً چار بجے سہ پہر ریڈیو اسٹیشن پر پہنچے تھے۔ جب ہمیں کلام اقبال پڑھنے کے لیے دیا گیا تو ہمیں بہت زیادہ خوشی ہوئی تھی۔ ہم نے اللہ کا شکر ادا کیا تھا… یا اللہ تیرا شکر ہے… ہمارا یہ پاکستان وجود میں آگیا ہے… بس جی بہت مسرت ہوئی۔ ہم نے علامہ اقبال کا یہ کلام

زمانے کے انداز بدلے گئے

نیا راگ ہے ساز بدلے گئے

ریڈیو پاکستان لاہور سے لوگوں کو سنایا۔ قوالی کی طرز میں نے خود بنائی تھی۔ میرا بیٹا منظور اس وقت چھوٹا سا تھا، باقی پارٹی کے تمام افراد اللہ کو پیارے ہوگئے ہیں… میں کیا بتائوں لوگوں کا کیا جذبہ تھا۔ میری قوالی کے بعد لوگوں نے مجھے بہت مبارک باد دی تھی۔ ایک دوست نے تو یہ کہا تھا کہ سنتو خان پاکستان بننے کا پہلا دن تیرے ذمے لگ گیا ہے‘‘۔

ظہور آذر

آہنگ کے اس مضمون ’’صبح آزادی وطن‘‘ میں یہ بھی تحریر کیا گیا ہے کہ ریڈیو پاکستان کے پہلے پروگرام میں اس وقت کے مشہور لوک فن کار عبدالعزیز بھی شامل تھے جنہوں نے صحرائی گورداسپوری کا لکھا ہوا ایک پنجابی ملی نغمہ گایا تھا۔

عبدالعزیز بتاتے ہیں:

’’صحرائی گورداسپوری نے سب سے پہلے مجھے دیہاتی بھائیوں کے پروگرام کے لیے نغمہ لکھ کر دیا تھا۔ مجھ ناچیز نے وہ نغمہ گایا۔ یہ میری خوش قسمتی تھی کہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر حمید شیخ تھے۔ 14 اگست کو میں نے پہلا پنجابی نغمہ گایا تھا۔ میں سیکریٹریٹ سے پیدل روانہ ہوا تھا۔ ریڈیو اسٹیشن پر مجھے مصطفی علی ہمدانی ملے۔ انہوں نے مجھ سے کہا عبدالعزیز کیسے آئے ہو؟ میں نے جواب دیا، مجھے میرا جذبہ کھینچ لایا ہے۔ انہوں نے کہا ’’تمہارا پروگرام رات ساڑھے بارہ بجے ہو گا، اپنے ساتھیوں کو تیار کرلو۔ میں نے کہا سیکریٹریٹ سے اپنے ساتھی بلوا لیے ہیں۔ انائونسمنٹ ہونے والی تھی، جو میرا جذبہ تھا، اس کا بیان کرنا لفظوں میں مشکل ہے۔

میں نے جو نغمہ گایا تھا یہ تھا:

بسم اللہ بسم اللہ کہہ کے رب دا نام دھیاواں

فیر درود محمدؐ اتے خوشیاں نال پہنچاواں

صحرائی گورداسپوری اس ملی نغمے کے خالق ہیں‘‘۔

مصطفیٰ علی ہمدانی

صحرائی گورداسپوری کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ ان کا پنجابی ملی نغمہ صبح آزادی وطن کے پروگرا م میں شامل تھا۔ انہوں نے اپنے تاثرات یوں قلم بند کروائے ہیں:

’’میں پاکستان بننے سے پہلے ملٹری میں ملازم تھا۔ مسلم لیگ کا اس وقت بہت زور تھا۔ قائداعظم کی آواز پر میں آگے بڑھا اور ملٹری سے استعفیٰ دے کر مسلم لیگ میں شامل ہوگیا۔ یہ 1944ء کی بات ہے اس کے بعد جلسوں اور جلوسوں میں شامل ہوتا رہا۔ کچھ مدت میں نے جیل بھی کاٹی لیکن میں جیل میں بھی ملی نغمے تحریر کرتا رہا۔ پھر اللہ نے 14 اگست کو پاکستان دیا۔ میں اس وقت بھرپور جوان تھا۔ میرے جذبات اس وقت یہ تھے کہ اگر میں پاکستان کے لیے جان بھی قربان کردیتا تو بڑی بات نہ تھی۔ میں نے اپنے اشعار کے حوالے سے پاکستان کی خدمت کی ہے‘‘۔

صبح آزادی کے پروگرام میں مشہور گلوکارہ منور سلطانہ بھی شامل تھیں۔ انہوں نے بتایا:

’’شیخ حمید صاحب یہاں ہوتے تھے۔ وہ میرے پاس آئے ، گھر پر… کہنے لگے ’’منور سلطانہ آپ کو میرے ساتھ ریڈیو اسٹیشن چلنا ہے۔ میں گھبرا گئی کہ ایسے حالات میں کیسے جا سکتی ہوں۔ کرفیو بھی لگا ہوا تھا اور بلیک آئوٹ بھی۔ رات کا وقت تھا۔ شہر میں فساد کی افواہیں تھیں۔ وہ کہنے لگے کہ تم گھبرائو نہیں، میں گاڑی میں آیا ہوں، مسلح فوجی میرے ساتھ ہیں میں آپ کو حفاظت سے ریڈیو اسٹیشن لے جائوں گا۔ چھ سات فوجی ان کے ساتھ تھے۔ تو آپ میرے ساتھ چلیں۔ اس پر میرے والد صاحب کہنے لگے، دیکھو بیٹی، اپنے شوق سے تو بہت کچھ کیا تم نے… اب میری بات مانو… چلی جائو۔ ایسے مواقع تو بار بار نہیں آتے۔ یہ تو بہت اہم دن ہے۔ بہت بڑا دن ہے تمہارے لیے… ہمیں ملک ملنے والا ہے۔ آزادی ملنے والی ہے… تم ضرور جائو۔ بس میں حمید شیخ کے ساتھ ریڈیو اسٹیشن آئی اوریہ گانا یہاں آکر گایا

توحید کے ترانے کی تانیں اڑائے جا

(یہ نغمہ مولانا ظفر علی خان کا تحریر کردہ تھا) سبھی بے تابی سے اس اعلان کا انتظار کر رہے تھے۔ تو ہمیں بھی بڑی خوشی تھی۔ ایسے جذبات تھے جن کا میں لفظوں میں اظہار نہیں کر سکتی‘‘۔

آفتاب احمد بسمل

یہ تو تھی ریڈیو پاکستان لاہور کی نشریات کی صورت حال اور آئیے دیکھتے ہیں عین اسی وقت ریڈیو پاکستان پشاور میں کیا ہو رہا تھا۔

نہال احمد نے اپنی کتاب A History of Radio Pakistan میں تحریر کیا ہے کہ:

’’ ریڈیو پاکستان (پشاور) کا آل انڈیا ریڈیو کا اختتامی اعلان رات گیارہ بجے یونس سیٹھی نے کیا۔ رات ٹھیک بارہ بجے پاکستان براڈ کاسٹنگ سروس کی نشریات کا آغاز ہوا۔ پشاور سے پہلی انائونسمنٹ اردو میں آفتاب احمد بسمل نے کی جبکہ اس کے فوراً بعد پشتو میں یہی اعلان عبداللہ جان مغموم نے دہرایا۔ ان اعلانات کے بعد احمد ندیم قاسمی کے لکھے ہوئے دو ملی نغمے نشر ہوئے جن کی موسیقی سجاد سرور نیازی نے ترتیب دی تھی۔ ان میں سے پہلے نغمے کا مطلع تھا، ’’ پاکستان بنانے والے، پاکستان مبارک ہو۔‘‘

صفدر ہمدانی نہ ہی تو ظہور آزر کے انگریزی اعلان کو تسلیم کرتے ہیں اور نہ پشاور اور ڈھاکا سے قیام پاکستان کا اعلان کرنے والے انائونسرز کواپنے والد جیسی اولیت دینے کو تیار ہیں۔ ریڈیو پاکستان کے تینوں اسٹیشنز سے قیام پاکستان کا اعلان بہ یک وقت ہوا تھا مگر بار بار یہ بات کیوں بتائی جا رہی ہے کہ ریڈیو پاکستان سے پاکستان کے قیام کا اعلان صرف اور صرف مصطفی علی ہمدانی نے کیا۔

عبداللہ جان مغموم

یہاں اس بات کا ذکر بے محل نہ ہوگا کہ 15 اگست 1947ء کو پاکستان ٹائمز لاہور میں ایک خبر شائع ہوئی جس کے مطابق پاکستان براڈ کاسٹنگ سروس کے تین اسٹیشنوں کا قیام14 اور 15 اگست کی درمیانی رات موجود میں آیا۔ یہ اسٹیشنز لاہور، پشاور اور ڈھاکا میں قائم کیے گئے تھے۔ اس خبر میں یہ بھی درج تھا کہ 15 اگست 1947ء (جمعہ) کی صبح قائداعظم قوم سے خطاب کریں گے جو پاکستان براڈ کاسٹنگ سروس کے تینوں اسٹیشنز نشر کریں گے۔ خوش قسمتی سے اس خطاب کی ریکارڈنگ یو ٹیوب پرموجود ہے۔ جس میں قائداعظم نے فرمایا ہے کہ :

August 15 is the birthday of the independent and sovereign state of Pakistan. Today is Jummat-ul-Wida, last Friday of holy month of Ramazan, a day of rejoicing for all of us

 قائدِ اعظم نے فروری 1948ء میں امریکی عوام سے ریڈیو خطاب میں کہا

This Dominion which represents the fulfilment, in a certain measure, of the cherished goal of 1000 million Muslims of this sub-continent came into existence on August 15, 1947.

 یہ اقتباسات بطور گورنر جنرل قائداعظم کی تقریروں اور بیانات کی سرکاری طور پر شائع کی گئی کتاب میں سے ہیں۔ انہوں نے اس تاریخ کا چند اور جگہ بھی ذکر کیا ہے۔

نہال احمد کی کتاب ’’ہسٹری آف ریڈیو پاکستان‘‘ کو صفدر ہمدانی اس لیے مستند تسلیم نہیں کرتے کہ یہ کتاب ریڈیو پاکستان کے اہتمام میں شائع نہیں ہوئی،مگر کیا وہ ریڈیو پاکستان کے اہتمام میں شائع ہونے والی ن۔م۔ راشد کی مرتب کردہ کتاب Three years of Radio Pakistan ، حامد جلال کے مضمون ’’پاکستان کا پہلا نشری اعلان‘‘ اور ریڈیو پاکستان کے سرکاری جریدے آہنگ کے اگست 1997ء کے مندرجات کو بھی تسلیم نہیں کریں گے۔ پاکستان ٹائمز کی مذکورہ بالا خبر بھی ان کے نزدیک غلط ہوگی اور قائداعظم کی تقریر کی آڈیو کلپ کو بھی وہ مشکوک قرار دیں گے مگرایک انائونسمنٹ جو قیام پاکستان کے 26 سال بعد دوبارہ ریکارڈ کی گئی اس میں شاید یادداشت کی بنا پر ہونے والی ایک انسانی غلطی کو درست ثابت کرنے کے لیے وہ تمام معیارات کو پس پشت ڈال دیں گے۔ ناطقہ سر بگریباں ہے اسے کیا کہئے۔

سینٹرل پروڈکشن یونٹ ریڈیو پاکستان سے گزارش ہے کہ وہ یہ ثابت کرنے کے لیے کہ ریڈیو پاکستان کا قیام 14 اور 15 اگست 1947ء کی درمیانی شب کی بجائے 13 اور 14 اگست 1947ء کی درمیانی شب کو عمل میں آیا تھا۔ مصطفی علی ہمدانی کی مذکورہ بالا متنازع ریکارڈنگ کے علاوہ اس رات کی کوئی اور ریکارڈنگ بھی شیئر فرمائیں۔ اگر ریکارڈنگ موجود نہیں تو ریڈیو پاکستان کے لاہور یا پشاور اسٹیشنز کی لاگ بک تو موجود ہوگی وہی شیئر فرما دیجئے ورنہ قوم سے معذرت کیجئے کہ آپ 1947ء کے 26 سال بعد 1973 میں کی گئی ایک ریکارڈنگ کی بنیاد پر پاکستان کے یوم آزادی کی تاریخ بدلنے کے جرم کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

پاکستان ٹائمز 15 اگست 1947

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •