لواطت اور ہماری سماجی ذمہ داریاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


2013 کے موسم گرما کے ایک حبس زدہ شام معمول کے مطابق میں ایئرفون کانوں میں ٹھونسے ریت کے ٹیلوں کو پھلانگتا، دور ایک ٹیلے کی طرف جا رہا تھا، تاکہ وہاں سے اردگرد کے گھروں سے دور بیٹھ کر ریڈیو سے لطف اندوز ہوں۔ کانپتے ہانپتے ٹیلے پر پہونچا، اور سستانے لگا کہ جس اونچے ٹیلے پر میں بیٹھا تھا، اس کے بائیں سائیڈ میں اس سے قدرے چھوٹا ریت کا ٹیلہ تھا، جس پر ایک کیکر کا درخت تھا اس درخت کے نیچے میں جو منظر دیکھ رہا تھا وہ حیران کن تھا، بدحواسی میں میری تھوک بھی حلق سے آرپار نہیں ہو رہی تھی۔

کیکر تلے بوسوں اور بلوجاب کا کھیل روانی سے جاری تھا اور حیرت میں ڈالنے والی بات یہ تھی کہ دونوں لڑکے تھے۔ میں بوکھلاہٹ میں اپنے معمول کے رستے اور وقت سے ہٹ کر پھر اسی رستے سے واپس گھر کی طرف روانہ ہوا۔ خوف کے مارے میں نے پیچھے بھی نہیں دیکھا، 25 سالہ نوجوان کو میں کہی دفعہ دیکھ چکا تھا مگر 13 14 سالہ لڑکا میرے لئے آج بھی اجنبی ٹھرا۔ لیکن یہ واقعہ آج بھی میرے لئے چونکا دینے والا ہے۔

اس کے بعد اس طرح کے لاتعداد واقعات سننے اور کچھ دیکھنے کا ان گناہ گار آنکھوں کو نوبت پیش آئی۔ لیکن سوال ہمیشہ ایک ہی رہا کہ فطرت کے خلاف یہ کھلی بغاوت، آخر کیوں؟ اسرائیلی محقق یووال نوح ہراری کہتے ہیں کہ جو چیز ہو سکتی ہے، ممکن ہے، وہ فطری ہے۔ وہ غیر فطری ہو نہیں سکتی لیکن اگر باریکی سے دیکھا جائے، تو جانوروں اور پاکیزہ رشتوں کے ساتھ بھی اس جیسے ناپاک رشتے قائم کیے جا سکتے ہیں لیکن بائیولوجی کی یہ منطق اخلاقیات کا جہنم ہے، اور انسانیت کی موت ہے۔

تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ اس بغاوت کی ابتدا قوم لوط نے کی تھی جو اس کی سزا کی مستحق بھی ٹھہری۔ پھر یہ ہر دور میں موجودہ پیمانے پر ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ آج کے یورپ میں اسے قانونی حثیت بھی حاصل ہوگئی ہے لیکن پچھلے مہینے پولینڈ کے وزیراعظم کا ووٹ کمپیئن ہم جنسیت اور لواطت کے خلاف تھا اور مزید دلچسپ یہ کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق وہ اسی وجہ سے جیت بھی سکتے ہیں۔ اس قانون سے اصل بیزاری کی وجہ لڑکوں کی لڑکیوں سے بیزاری اور جنسی امراض میں مبتلا ہونا بتایا گیا۔

اسلامی ملکوں میں ایران وہ ملک ہے جہاں لواطت پرستی کی خاصی تاریخ ہے۔ بلکہ علی حسن بروجردی نے اس کے بارے میں 1980 کی دہائی میں ایک کتاب بھی لکھی تھی جو اردو میں بھی ترجمہ ہوئی تھی۔ مصنف نے اس موضوع پر اپنے تجربات لکھے تھے۔ بلوچستان میں بدقسمتی سے مکران میں لواطت پرستی بہ نسبت دوسرے علاقوں کے زیادہ ہے۔ یورپ میں اکثر جنیاتی کمزوریوں اور جنس کے تعین میں پیچیدگی کی وجہ سے یہ عام ہے لیکن ہمارے یہاں اس کے دوسرے اسباب ہیں۔ اول تو جنسی گھٹن کی زیادتی ہے۔ چونکہ جنسی خواہشات کی سیرابی کے لئے شادی کا ادارہ قائم کیا گیا ہے جس کے بعض مقاصد میں ایک جنسی آسودگی ہے لیکن معاشرتی پیچیدگیوں، کیریر کی فکر اور روایات نے شادی کو مشکل بنا دیا ہے جس سے بقول فرائیڈ جنسی خواہشات اپنا دھارا بدل کر کہیں اور بہہ نکلتی ہیں۔

ہمارا معاشرہ چونکہ غربت زدہ ہے تو لواطت پرست، پیسہ، موٹر سائیکل، موبائل اور سب سے زیادہ بٹیر کے جال میں پھنسا کر بچوں کو خراب کرتے ہیں۔ ٹین ایجر کے اتاؤلے پن سے فائدہ اٹھا کر یہ شکاری ان کا شکار کرتے ہیں۔ چوں کہ خواہشات اندھی ہوتی ہے اس لیے اس میں پیشے اور رتبے کی قید نہیں۔ محترم پیشوں سے تعلق رکھنے والے بھی اس میں مبتلا ہیں۔

اب ذمہ داری تین طبقوں پہ عائد ہوتی ہے، اول والدین پر کہ اپنے بچوں کو صحیح تربیت دیں، ان کی جلد شادیاں کرائیں، بچوں پہ گہری نظر رکھیں، دوئم استاتذہ کی کہ بچوں کو اس متعلق سمجھائیں، چھوٹے شہروں کے لوگ ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔ بچوں کو غلط لوگوں کے بارے میں متنبہ کریں۔ تیسری ذمہ داری ہمارے عالموں کی ہے کہ، اپنے مواعظ میں ان باتوں پہ کھل کر بات کریں۔ معاشرے کو ایجوکیٹ کریں۔ شادی کے رستے میں حائل روایتوں کی مذمت کریں ان کے خاتمے کے لئے اقدامات کریں۔ تاکہ معاشرہ اجتماعی عذاب اور ذہنی پراگندگی سے محفوظ رہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •