سلطان جمیل نسیم۔۔۔ اپنے فن کے آئینے میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


(یہ مضمون CANADA INTERNATIONAL COUNCIL OF ARTS کی AUGUST 16 TH، 2020 کی زوم میٹنگ میں پیش کیا گیا۔ میزبان تھے شعیب ناصر اور ڈاکٹر بلند اقبال)

خواتین و حضرات!

آج ہم سب سلطان جمیل نسیم کی یاد میں جمع ہوئے ہیں۔ سلطان جمیل نسیم روایت اور جدت کے سنگم پر کھڑے ایک منفرد اور ہمہ جہت افسانہ نگار تھے۔ مجھے مئی 2007 کی وہ حسیں اور خنک شام یاد ہے جب میرے فون کی گھنٹی بجی۔ میں نے فون اٹھا کر ہیلو کہا تو آواز آئی

’ خالد سہیل صاحب! میں سلطان جمیل نسیم بول رہا ہوں۔ آج کل ٹورانٹو آیا ہوا ہوں۔ آپ سے ملنا چاہتا ہوں‘

’ زہے نصیب‘ میں نے کہا ’اپنا پتہ بتا دیں۔ میں کل شام کلینک بند کرنے کے بعد آپ کی خدمت میں حاضر ہو جاؤں گا اور ہم دونوں کہیں ڈنر اور ڈائیلاگ کرنے چلے جائیں گے‘

اگلے دن ڈنر کے دوران ہم دونوں نے مختلف موضوعات اور ادبی شخصیات کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا اور انہوں نے مجھے اپنے افسانوں کا مجموعہ۔ ۔ ۔ میں آئینہ ہوں۔ ۔ ۔ تحفے کے طور پر پیش کیا۔ کتاب کا تحفہ دینے سے پہلے اس کے پہلے صفحے پر لکھا۔ ۔ ۔ خلوص اور اعتبار کے ساتھ۔ ۔ ۔ ڈاکٹر خالد سہیل کے لیے۔ ۔ ۔ 2007 کے پانچویں مہینے میں۔ ۔ ۔ اس کتاب کو پڑھنے سے مجھے پتہ چلا کہ ان کی پیدائش بھی پاکستان کی پیدائش 14 اگست 1947 سے بارہ سال پیشتر چودہ اگست 1935 تھی اور وہ تاج محل کے شہر آگرہ میں پیدا ہوئے تھے۔

سلطان جمیل نسیم ایک افسانہ نگار ہی نہیں ایک صاحب الرائے دانشور بھی تھے۔ وہ ادب کے بارے میں ایک مخصوص تصور اور نظریہ رکھتے تھے۔ وہ اپنے افسانوی مجموعے کے دیباچے میں لکھتے ہیں ’میں یہ بات نہیں کہوں گا کہ اپنے افسانوں میں زندگی کے حقائق بیان کرتا ہوں اس لیے کہ ہر افسانہ نگار اپنے موضوعات اپنے اطراف میں بکھری ہوئی زندگی کے رنگارنگ حقائق سے ہی چنتا ہے۔ میں نے کسی چھوٹے یا معمولی واقعے پر لکھا ہو یا کسی خاص اور اہم حقیقت کو موضوع بنایا ہو خدا کا شکر ہے کبھی بے معنی گنجلک پن کا شکار نہیں رہا۔ عصری تقاضوں سے غفلت نہیں برتی اور سماجی حقیقت نگاری کو ہمیشہ ترجیح دی‘ ۔ ان الفاظ سے صاف واضح ہے کہ سلطان جمیل نسیم کے لیے اپنے افسانوں کا ابلاغ اور قاری سے ایک جینوئن اور مخلص رشتہ کتنی اہمیت کے حامل تھے۔

آج چونکہ وقت کم ہے اس لیے میں صرف ایک افسانے۔ ۔ ۔ میں آئینہ ہوں۔ ۔ ۔ کے بارے میں کچھ گفتگو کرنا چاہتا ہوں۔ یہ افسانہ ان کے نمائندہ افسانوں میں سے ایک ہے اسی لیے انہوں نے اپنے مجموعے کا نام بھی اسی افسانے کے حوالے سے۔ ۔ ۔ میں آئینہ ہوں۔ ۔ ۔ رکھا تھا۔

اردو کے افسانہ نگار جانتے ہیں کہ کسی بھی افسانے کا آغاز کرنا بذات خود ایک فن ہے۔ اس افسانے میں ایک مہاجر کردار تیس سال کی جدائی کے بعد اپنے آبائی ملک لوٹتا ہے اور اس شہر پہنچتا ہے جہاں اس کا ایک پرانا دوست رہتا ہے۔ وہ اس دوست سے برسوں سے نہیں ملا۔ سلطان جمیل نسیم افسانے کا آغاز ان الفاظ سے کرتے ہیں۔

’ایر پورٹ سے ہوٹل پہنچنے تک اسے اندازہ ہو گیا کہ تیس برسوں میں شہر کا نقشہ یوں بدلا ہے جیسے اس کے چہرے پر جھریاں اور آنکھوں کے گرد حلقے پڑے ہیں۔ جیسے بیٹی نے سکول کی یونیفارم اتار کے یونیورسٹی کا گاؤن پہنا ہے اور جیسے بیٹے نے الگ کاروبار کر کے اپنا علیحدہ گھر بسایا ہے اور جس طرح آج وہ بیٹی کے لیے ٹافیاں اور کھلونے خریدنے کے لیے نہیں نکلا ہے بلکہ ہزاروں میل کا سفر طے کر کے اس کے رشتے کی بات طے کرنے آیا ہے۔ اسی طرح شہر بھی کہیں سے بوڑھا اور کہیں سے جوان دکھائی دے رہا تھا۔‘ سلطان جمیل نسیم نے کس خوبصورتی سے اس شہر کو انسانی زندگی کے مختلف زاویوں سے جوڑ کر ایک فنکارانہ انداز اپنایا ہے اور قاری کو اپنا ہمسفر بنایا ہے۔

افسانے کا کردار اپنے دوست نہار کی بستی میں پہنچتا ہے۔ اس بستی کی سلطان جمیل نسیم کے الفاظ سے تصویر کشی ملاحظہ ہو

’ نہار کا گھر جس بستی میں تھا وہ بالکل نہیں بدلی تھی۔ وہی چھوٹی چھوٹی فرش ادھڑی گلیاں‘ گلیوں میں رینگنے والی نالیاں اور کھیلنے والے بچے۔ بہت سے گھروں کے دروازوں پر اب بھی پرانی دریوں اور ٹاٹ کے پردے جھول رہے تھے۔ جس طرح بعض لوگوں پر وقت اثر انداز ہوتا ہوا نہیں لگتا اور وہ مرتے دم تک ایک ہی عمر کے نظر آتے رہتے ہیں۔ اسی طرح بہت سے محلوں اور علاقوں میں بھی ایک سا موسم رہتا ہے اور یوں لگتا ہے کہ لمحہ لمحہ بدلتے وقت کا گزر کبھی یہاں سے ہوا ہی نہیں۔ ۔ ۔ مگر یہی وہ علاقے ہوتے ہیں جو آتش فشاں کی طرح اچانک پھٹ پڑتے ہیں۔ ایک جھٹکا ساری کایا پلٹ دیتا ہے۔ یہ محلہ بھی برسوں سے اوپر کی سطح پر بالکل ساکت۔ ۔ ۔ بالکل ایک سا ہے۔ ۔ ۔ دنیا بھر میں ہوتے ہونے والی تبدیلیوں سے بے نیاز اور دبے پاؤں آنے والے انقلاب سے بے خبر ’

یہ وہ مقام ہے جہاں سلطان جمیل نسیم زندگی کی زیریں لہر اور سماجی لاشعور کو چھو لیتے ہیں اور ایک معمولی سے غیر معمولی افسانہ نگار بن جاتے ہیں۔ وہ قاری کو زندگی کی گہرائیوں میں اترنے اور غور کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔

افسانے کامرکزی کردار اپنے دوست نہار کے گھر کے قریب پہنچ کر ایک اجنبی پہلوان سے اپنے دوست کے بارے میں کئی سوال پوچھتا ہے۔ وہ اجنبی پہلوان اس کردار کو نہار کے گھر لے جاتا ہے۔ وہ کردار یہ دیکھ کر حیران ہوتا ہے کہ وہ اجنبی پہلوان بے دھڑک اس گھر میں گھس جاتا ہے۔ اس کردار پر اس اجنبی پہلوان کی شناخت اس وقت منکشف ہوتی ہے جب وہ پوچھتا ہے۔

’اب ان کے لڑکے کے لیے بھی پوچھ لو۔ ۔ ۔ وہ زندہ ہے اور وہ میں ہوں‘

سلطان جمیل نسیم افسانے میں سسپنس کی اہمیت سے واقف ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ کسی بھی کامیاب افسانے میں تجسس اور حیرت بذات خود اہم کردار ہوتے ہیں۔

افسانے کا مرکزی کردار جانتا ہے کہ اس کا دوست ایک فنکار تھا۔ اسے یہ جان کر حیرانی ہوتی ہے کہ اس کے فنکار دوست نے اپنے بیٹے کو فنکار بننے کی ترغیب نہیں دی۔ وہ اس اجنبی پہلوان سے پوچھتا ہے

’کیوں۔ ۔ ۔ کیا نہار کو تمہاری تعلیم و تربیت۔ ۔ ۔‘
’دیکھو جناب۔ ۔ ۔ میں ان کا بیٹا تھا۔ ۔ ۔ اگر تصویر ہوتا تو شاید کچھ خیال بھی رکھتے۔ ۔ ۔

اس جملے پر چونک کر اس نے پہلوان کی طرف نظر بھر کے دیکھا جس طرح اس کے لہجے میں ملال کا شائبہ تھا نہ طنز کا۔ ۔ ۔ اسی طرح چہرا بھی ہر تاثر سے بے نیاز تھا۔ ۔

’اور تمہاری ماں۔ ۔ ۔ انہوں نے بھی نہیں چاہا کہ تم مصور بن جاؤ۔ ۔ ۔‘
اب پہلوان ہنس دیا

’یہ بھی خوب رہی۔ اماں اور مجھے پینٹر بنائیں۔ ۔ ۔ جناب من ان کو تو ابا کی تصویروں سے سوکن جیسا بیر تھا۔ جب بھی ان کو ابا پر غصہ آتا وہ مجھ پر اتارتیں۔ ۔ ۔ اور جب پیار آتا تو اپنے پاس بٹھال کے سمجھاتیں کہ بیٹا سب کچھ بن جانا پینٹر مت بننا۔ ۔ ۔‘

یہاں سلطان جمیل نسیم اپنے کرداروں کی نفسیات کی گہرائیوں میں اتر جاتے ہیں اور ایک فنکار کی فنی زندگی کا اس کی ازدواجی زندگی سے تقابل کرتے ہیں۔ وہ قاری کو بتاتے ہیں کہ کس طرح ایک فنکار کے بیٹے کو یہ حسرت رہتی ہے کہ اس کا باپ اسے بھی اپنے فن پارے کی طرح عزیز رکھے لیکن ایسا نہیں ہوتا۔

فنکار کو اپنا تخلیقی بچہ اپنے جسمانی بچے سے زیادہ عزیز ہوتا ہے۔ جسمانی بچہ اپنے فنکار باپ اور روایتی ماں کے تضاد سے متاثر ہوتا ہے۔

افسانے کے اس موڑ تک پہنچتے پہنچتے میرے اندر کا ماہر نفسیات نہ صرف بیدار ہو جاتا ہے بلکہ سلطان جمیل نسیم کی انسانی نفسیات پر گرفت سے متاثر بھی ہوتا ہے۔ سلطان جمیل نسیم نے اس افسانے میں نہ صرف افسانے کے ایک کردار کی نفسیاتی تصویر کھینچی ہے بلکہ اس کردار کے حوالے سے کسی بھی ادیب اور شاعر ’فنکار اور دانشور کے نفسیاتی تضاد میں اپنی بصیرت سے بھی قاری کو روشناس کروایا ہے۔ یہی فن افسانہ نگاری کا کمال ہے کہ افسانہ نگار چند کرداروں کے مکالموں سے ہمیں انسانی زندگی کے چند رازوں سے آشنا کروائے اور انسانی نفسیات کو بہتر سمجھنے میں مدد کرے۔

جوں جوں افسانہ آگے بڑھتا ہے ہمیں افسانے کے ایک زندہ مرکزی کردار اور اس کے مرحوم فنکار دوست کے کردار کے نفسیاتی تضاد کا اندازہ ہوتا ہے۔

افسانے کے مرکزی کردار نے بچپن سے ایک خوبصورت گھر بنانے کا خواب دیکھا تھا اور جب وہ خواب شرمندہ تعبیر ہوا تو اس نے اپنے نام کی تختی اس کی پیشانی پر لگائی لیکن جب اس کا فنکار دوست اس سے ملنے آیا تو اس نے اس کے نام کی تختی اتار دی۔ سلطان جمیل نسیم لکھتے ہیں

’ اس کے ہاتھوں میں میری نیم پلیٹ جھول رہی تھی۔
’یہ۔ ۔ ۔ یہ تم نے کیا کیا۔ ۔ ۔ ؟ مجھے احساس تھا کہ میرے لہجے میں اچنبھا کم اور غصہ زیادہ ہے
’ زمین کسی کی ملکیت نہیں ہوتی اور نام سے دعویٰ ثابت نہیں کیا جا سکتا‘
’لیکن یہ میرا گھر ہے۔ ۔ ۔‘
’ہاں جب تک تم ہو۔ ۔ ۔ اور وقت تمہارے ساتھ ہے۔ پھر یہ دوسرے دعویداروں میں تقسیم ہو جائے گا‘
وہی پہلا دن تھا جب مجھے اس کی باتوں میں حسد کی بو محسوس ہوئی اور مجھ پر اس کا گھناؤناپن ظاہر ہوا

اس دن کے بعد سے میں نے اپنے نام کی تختی نہیں لگائی لیکن ہر روز آتے جاتے میرے اندر یہ احساس پیدا ہوتا کہ میرا یہ خوبصورت مکان اس کی ضد کی وجہ سے بے نام رہ گیا ہے۔ ’

افسانے کے آخر میں جب مرکزی کردار اپنے دوست کی قبر پر جاتا ہے اور اس کا کتبہ دیکھتا ہے تو وہ ایک عجیب کیفیت سے دوچار ہوتا ہے۔ اس کے ماضی کے زخم تازہ ہو جاتے ہیں اور اس کے دل میں دوست سے ایک پرانے حسد کا جذبہ بیدار ہوجاتا ہے۔

سلطان جمیل نسیم افسانے کے اختتام پر لکھتے ہیں

’خیالوں کی بھیڑ میں اچانک اسے یاد آیا کہ وہ اتنی آسانی کے ساتھ اس قبر تک کیسے پہنچ گیا۔ ۔ ۔ ؟ کچھ نشاندہی اس کے بیٹے نے کی تھی اور پھر یہ کتبہ۔ ۔ ۔ ہاں کتبہ۔ ۔ ۔ نیم پختہ سی قبر جو بیچ میں سے کہیں کہیں اندر دھنس رہی تھی۔ اس کے سرہانے ایک عام سا کتبہ لگا تھا۔

’دیکھامیرے دوست نام سے پہچان کا کیسا رشتہ ہوتا ہے۔ ۔ ۔‘

اس نے لوح مزار کی عبارت کو دوبارہ پڑھا۔ چند لمحوں تک کتبے کو دیکھتا رہا۔ پھر ذرا سا جھک کر اپنے دونوں ہاتھ کتبے پر جمائے۔ ۔ ۔ تھوڑا سا زور لگایا تو ڈیڑھ فٹ کا پتھر ہاتھوں میں آ گیا۔

وہ کچھ دیر تک اپنے دونوں ہاتھوں میں کتبہ اٹھائے کھڑا رہا

’ میں اس چھوٹے سے پتھر کو دور پھینک کر کہہ تو سکتا تھا کہ زمین کسی کی ملکیت نہیں ہوتی اور نام سے دعویٰ ثابت نہیں ہوتا۔ لیکن میں بدلہ لینا نہیں چاہتا اس لیے کہ آج میں نے اپنے گھر کی جگہ ایک نئی تعمیر دیکھی ہے اور تمہاری تصویروں کی بجائے تمہارے بیٹے کو دیکھا ہے۔ ۔ ۔ میری سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ بے نام رہ جانے والوں میں کس کو شمار کروں۔ ۔ ۔‘

اس نے کتبہ دوبارہ لگا دیا ’

ان الفاظ سے افسانہ اختتام پذیر ہوتا ہے۔ یہ اس افسانے کی کامیابی ہے کہ وہ قاری کے ذہن میں وقت اور موت۔ ۔ ۔ دوستی اور حسد۔ ۔ ۔ خوش نامی اور گمنامی اور انسانی کرداروں کی نفسیات کے بارے میں بہت سے سوال چھوڑ جاتا ہے۔ ایسے سوال جن کا جواب تلاش کرتے کرتے قاری چاہے وہ روایتی انسان ہے یا غیر روایتی فنکار اپنی ذات کی گہرائیوں میں جھانکتے ہوئے چند غیر مانوس گوشوں سے متعارف ہوتا ہے۔ اس افسانے کو پڑھنے کے بعد وہ آئندہ جب بھی کسی فنکار کی بیوی یا بیٹے کو دیکھتا ہے تو اسے سلطان جمیل نسیم کا افسانہ۔ ۔ ۔ میں آئینہ ہوں۔ ۔ ۔ یاد آ جاتا ہے اور وہ دل ہی دل میں مسکرانے لگتا ہے۔

میں سلطان جمل نسیم کو اردو کا ایک کامیاب افسانہ نگار سمجھتا ہوں۔ یہ میری خوش بختی کہ میری ان سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے اپنے افسانوں کا مجموعہ بڑے خلوص اور محبت سے مجھے عنایت کیا۔ میں بخوبی جانتا ہوں کہ مستقبل میں جب کوئی ادیب یا نقاد اردو افسانے کی اینتھالوجی مرتب کرے گا تو اس کا مجموعہ سلطان جمیل نسیم کے افسانے کے بغیر نامکمل رہے گا۔ یہ میری خوش قسمتی کہ میں آج اس ادبی محفل میں ادب کے ایک طالب علم کی حیثیت سے شریک ہوا تا کہ سلطان جمیل نسیم کو یاد کر سکوں اور آپ سب کو اپنے خیالات میں شریک کر سکوں۔ ۔ ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 379 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail