حیات بلوچ کی اندوہ ناک موت کا نوحہ
کیسا روح فرسا، دل شکن اور جگر پاش و دلدوز منظر ہے۔ تپتی مظلوم زمین پر جوان بیٹے کا لہو لہو لاشہ پڑا ہے۔ جس کے ناتواں جسم میں آٹھ گولیاں پیوست کر دی گئی ہیں۔ حرماں نصیب باپ غم و اندوہ کی تصویر بنا بیٹھا ہے۔ ماں کی مامتا کی نظریں سوئے آسمان ہیں اور ہاتھ اللہ کے حضور اٹھے ہوئے ہیں اور سراپا سوال بنی زبان حال سے فریاد کناں ہے کہ
اسے کس جرم میں مارا گیا ہے
بلکتی ماں خدا سے پوچھتی ہے
ایف سی اہلکار کی گولیوں سے چھلنی یہ جوان لاشہ کراچی یونیورسٹی سے فزیالوجی میں ایم ایس کرنے والے غریب نوجوان حیات بلوچ کا ہے جو ایران سے متصل بلوچستان کے سرحدی علاقے ضلع کیچ سے تعلق رکھتا تھا۔ اس جواں مرگ کو جشن آزادی سے محض ایک روز قبل زندگی کی قید سے آزاد کر دیا گیا تھا۔ اس بلوچ نوجوان کی آنکھوں میں بھی مستقبل کے سہانے خواب جگمگا رہے تھے۔ یہ بھی پڑھ لکھ کر ایک کامیاب انسان بننا چاہتا تھا۔ اپنے والدین، بہن بھائیوں، خاندان، برادری اور علاقے کے لیے کچھ کرنا چاہتا تھا۔ بلوچ اور بلوچی سرزمین پر رہنے والوں کی تقدیر بدلنا چاہتا تھا مگر بد قسمتی سے یہ بھی بہت سے دوسرے بلوچ نوجوانوں کی طرح سرکار کی اندھی گولیوں کا نشانہ بن گیا اور اس کا خون بھی خون خاک نشیناں ثابت ہوا۔
سر زمین بلوچستان پر بلوچی نوجوان کے خون نا حق کا یہ پہلا سانحہ نہیں ہوا بلکہ وہاں کی زمین ان نوجوانوں کے لیے مقتل بن چکی ہے۔ ماورائے عدالت قتل و غارت گری کا سلسلہ تھمنے میں نہیں آ رہا۔ بوڑھے بلوچ والدین اپنے نوجوان بیٹوں کی لاشیں اٹھا اٹھا کے تھک چکے ہیں۔ لاپتہ نوجوانوں کی جوان بہنیں حکومت، عدلیہ اور سکیورٹی اداروں سے مایوس ہو کر خود سوزیاں کر رہی ہیں۔ عمر رسیدہ مائیں اپنے بچوں کے انتظار میں دہلیز پر بیٹھے بیٹھے پتھر بن چکی ہیں مگر ماں جیسی ریاست کو رحم نہیں آ رہا۔
ابھی کچھ عرصہ قبل ہی قائد اعظم یونیورسٹی سے فارغ التحصیل شہداد بلوچ اور احسان بلوچ کو گھر پہنچتے ہی بے بس والدین کے سامنے گولیوں سے بھون دیا جاتا ہے۔
کبھی زندگی کی حرارت اور جرات سے بھرپور و معمور محنتی طالب علم محسن علی کی مسخ شدہ اور کٹی پھٹی لاش پہاڑوں کے دامن سے ملتی ہے اور قانون کی عمل داری کا منہ چڑاتی ہے۔
31 جولائی کو پہلے سے ڈیرہ بگٹی سے لاپتہ کیے جانے والے بگٹی قبیلے کے پانچ افراد کی بدن دریدہ لاشیں راجن پور کے علاقے سے ملتی ہیں تو پوری فضا سوگوار ہو جاتی ہے۔ انہوں دنوں بگٹی قبیلے ہی کے خان محمد کو ‘نامعلوم افراد’ گھر سے اغوا کر کے لے جاتے ہیں اور تین دن بعد اس کے گھر والے اور اہل علاقہ اس کی لاش پر بھی نوحہ خوانی کر رہے ہوتے ہیں۔
بلوچ نوجوان عامر احسن کو کون بھول سکتا ہے جو اپنی آنکھوں میں کامیاب مستقبل کے سپنے سجائے ریاستی اہلکاروں کی اندھی گولیوں کا نشانہ بن جاتا ہے اور بوڑھے والدین دائمی سوگ میں ڈوب جاتے ہیں۔ بلوچ سر زمین تو ہماری بہنوں کے خون ناحق سے بھی رنگین ہو رہی ہے۔ ڈیتھ سکواڈ کے ہاتھوں ملک ناز اور کلثوم نامی نوجوان لڑکیاں رزق خاک ہو جاتی ہیں اور ریاست کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔
ہماری ”آزاد“ عدالتوں کی مجبوری تو کسی حد تک سمجھ میں آتی ہے مگر ”آزاد“ میڈیا بھی طاقتوروں کی رکھیل بن کر رہ گیا ہے۔ اس دور ابتلا میں اگر سوشل میڈیا اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کرے تو قوم حیات بلوچ جیسے نوجوانوں کی اندوہ ناک موت جیسے جگر پاش سانحات سے بے خبر رہے۔
اگر کچھ سر پھرے نوجوان ریاست کے خلاف مسلح کارروائیوں کے گھناؤنے جرم میں ملوث ہیں تو ملک کے آئین و قانون کے مطابق ان پر ضرور مقدمات چلائیں۔ انہیں عدالت میں پیش کریں۔ ان پر فرد جرم عائد کریں۔ ثبوت اور گواہ پیش کریں۔ انہیں صفائی کا پورا موقع دیں اور جرم ثابت ہونے پر قانون کے مطابق انہیں سزا دیں مگر خدارا! اپنے ملک کی سرزمین کو بے گناہ نوجوانوں کے لیے مقتل نہ بننے دیں۔



