میرا شاگرد حیات بلوچ اور اگست کا جشن ماتم


چھ یا سات سال پہلے تربت کے ایک نجی اسکول میں دوران تدریس شہید حیات بلوچ سے واقفیت ہو گئی تھی۔ اپنے کئی سال کے تدریسی تجربہ کی بنیاد پر کہتا ہوں کہ یہ ہم بلوچوں کی خوش قسمتی ہے (بد قسمتی بھی کہہ لیں ) کہ ہمارے بچوں کی اکثریت اپنی ذمہ داریوں اور حالات سے واقف ہے، اس لئے جسمانی بلوغت سے کچھ پہلے ہی ذہنی طور پر بالغ ہو جاتے ہیں۔ ایسے ہی ذمہ دار اور ذہنی طور پر بالغ طالب علموں میں سے ایک شہید محمد حیات بلوچ تھا۔

شہید حیات ان چند طالب علموں میں سے تھا جس سے ایک انسیت سی ہو گی تھی۔ شاید اس کی ایک وجہ تعلیم سے بے حد لگاؤ اور غربت کے باوجود خوشی سے بھرپور ہونا تھا۔ جبکہ دوسری وجہ یہ ہے کہ میں حیات بلوچ کے خاندانی پس منظر اور حالات سے واقف تھا۔ کیونکہ ہم دونوں تربت شہر سے منسلک ایک ہی گاؤں میں رہتے ہیں۔ مجھے یہ معلوم تھا حیات کے والدین انتہائی غریب اور مشکل حالات کے باوجود اپنے بچوں کی تعلیم پر کمر بستہ ہیں اور یہ بیٹا بھی ان کے توقعات پر پورا اترنے میں دل و جان سے مصروف تھا۔

شہید حیات کا والد ہر صبح سائیکل لے کر گلیوں میں مچھلیاں فروخت کرتا تھا، اور اب کھیتوں میں محنت مزدور کرتا ہے۔ کھجوروں کے موسم میں وہ شراکت داری کی بنیاد پر کھجور کے باغات میں سخت محنت طلب کام کرتا ہے اور اس غربت زدہ اور پر مشقت زندگی کی کشتی کو پار لگانے کے لئے حیات کی والدہ ہر طرح سے اپنے شوہر کی مددگار بنی ہوئی ہے۔ ان دونوں کو امید ہے کہ اپنی شب و روز مشقت سے وہ ایسا کچھ کریں گے کہ ان کے بچوں کا مستقبل ان کے حال سے یکسر مختلف اور بہت بہتر ہو۔ یہ صرف تعلیم سے ہی ممکن ہے۔ حیات کی والدین کا مقصد حیات یہی تھا۔

شدید غربت کے باوجود انہوں نے اپنے بیٹے کو پرائیویٹ اسکول میں داخل کروایا تھا اور اپنا پیٹ کاٹ کر حیات کو مزید تعلیم کے لئے کراچی بھیج دیا تھا۔ حیات کراچی یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھا کہ کرونا وبا کے باعث تعلیمی اداروں کی بندش کی وجہ سے اسے واپس تربت آنا پڑا۔ شہید حیات کے ایک دوست نے بتایا کہ اس نے حیات کو کراچی میں رکنے کے لئے کہا تھا مگر حیات نے ہنستے ہوئے جواب دیا کہ ”مجھے یہاں ( کرونا سے ) بے وقت نہیں مرنا ہے“ مگر اسے کیا خبر تھا کہ تربت میں موت اس کی منتظر ہے اور زمینی خداؤں نے 13 اگست کے دن حیات کو حیات سے محروم کر دیا۔

اس واقعہ کی تمام تفصیلات سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا میں آ چکی ہیں کہ کس طرح ایف سی اہلکاروں کی گزرتی گاڑی کے پاس ایک دھماکہ ہوا اور تمام اہلکار محفوظ رہے۔ مگر اہلکار طیش میں آ کر کھجور کے باغات میں جا گھسے اور شہید حیات جو اپنے والدین کے ساتھ کام میں مصروف تھا اس پر تشدد کیا اور ہاتھ باندھ کر اور آنکھوں پر پٹی باندھ کر گھسیٹتے ہوئے سڑک پر لے آئے، حیات اور اس کے بوڑھے ماں باپ کی منت و سماجت، یقین دہانیوں اور آہ و زاری کے باوجود آٹھ گولیاں حیات کی جسم میں پیوست کر کے اسے شہید کر دیا۔

اس وحشیانہ عمل کی تصویر سوشل میڈیا میں وائرل ہے جس میں اپنے آنسو پونچھتے ہوئے بوڑھے والد کے جھکے ہوئے کاندھے اور عرش کی جانب دونوں ہاتھ اٹھاتی ماتم کناں ایک مظلوم ماں اور زمین پر پڑا خون سے لت پت جوان بیٹے کی لاش۔ اس تصویر کے سامنے تمام الفاظ بے معنی ہو جاتے ہیں۔ بے بسی اور مظلومیت کا یہ عکس حکمرانوں، با اختیار پالیسی سازوں اور اہل سیاست سمیت انسانی ضمیر پر بھاری ہے۔ بشرطیکہ جن میں انسانیت اور ضمیر ہو! مگر افسوس کہ ملکی خارجہ پالیسی و داخلہ پالیسی، نام نہاد ففتھ جنریشن وار، سرکاری بیانیہ اور خودساختہ حب الوطنی کے نام پر خود غرضی کے نیچے اس ملک کے حکمرانوں اور میڈیا (خاص کر الیکٹرانک میڈیا) کا ضمیر دب کر مر چکا ہے۔ اور دوسری جانب ملکی مفاد کے نام پر ملک کی جڑیں کاٹی جا رہی ہیں۔

سعادت حسن منٹو کا یہ جملہ قابل غور ہے کہ ”نیم کے پتے کڑوے ہی سہی، مگر خون تو صاف کرتے ہیں“ ، اسی طرح کچھ حقائق انتہائی تلخ ہی سہی، مگر خود احتسابی اور اصلاح کے لئے انتہائی کار آمد ہیں۔ بشرطیکہ انھیں قابل غور سمجھا جائے۔

ویسے پاکستان کی تاریخ اگست 1947 کے خون خرابے سے ہی آلودہ ہے۔ مگر 13 اگست 2020 کو بے گناہ شہید حیات بلوچ کا سفاکانہ قتل جیسے اہل بلوچستان کے لئے جشن آزادی کا پیشگی تحفہ تھا۔ گزشتہ دو دہائیوں سے بلوچوں کو اگست راس نہیں آ رہا۔ اور 26 اگست 2006 میں نواب اکبر خان بگٹی کی شہادت کے بعد اگست کا مہینہ بلوچوں کے لئے زیادہ سفاک اور خونخوار ہو گیا ہے۔ اب اگست کا نام سن کر ہم سہم جاتے ہیں کہ اس بار کس کی کوکھ اور کس کا گھر اجڑیں گے۔

مگر افسوس کہ اس حوالے سے اگست بہت ہی کشادہ دل ثابت ہوا ہے۔ یہ بلوچوں کو کبھی مایوس نہیں کرتا ہے اور کچھ نہ کچھ مزید زخم دے کر ہی جاتا ہے۔ کبھی نہ بھرنے والے ان زخموں میں ایک 8 اگست 2016 کا وہ ناسور زخم بھی شامل ہے کہ یکمشت کئی وکلا لقمۂ اجل بن گئے۔ 2006 سے لے کر تاحال، صرف اگست کے مہینے میں بلوچستان میں ہونے والے دلخراش واقعات کے اعداد و شمار کو جمع کیا جائے تو اگست کا ہر دن ”جشن ماتم“ ہے اور ”یوم سوگ“ منانے کے لئے یہ 31 دن کم پڑ جاتے ہیں۔

اس دفعہ 13 اگست کو ہی کوئٹہ میں نسبتاً کم شدت کے بم دھماکے کی زد میں آئے ایک راہگیر والد اور اس کی معصوم بچی کا واقعہ اور پھر بے گناہ نوجوان حیات بلوچ کا ظالمانہ قتل کا المناک واقعہ۔ تا حال اگست حسب اپنی سابقہ کشادہ دلانہ روش پر قائم ہے اور ابھی اگست کے اختتام میں چند دن باقی ہیں۔ ملک کے باقی حصوں میں اگست میں صرف ایک جشن منائی جاتی ہے مگر بلوچستان میں پورے مہینہ ”جشن ماتم“ میں گزر جا تا ہے۔ معلوم نہیں اگست کو بلوچوں سے کیا دشمنی ہے۔ کبھی کبھی دل میں آتا ہے کہ کاش! اگست کا مہینہ ڈیلیٹ کیا جا سکتا! فریقین کی کارروائیاں وہ ہی جانیں، البتہ بس اتنی التجا ہے کہ گناہگار اور بے گناہ میں تمیز کرنا لازم ہے۔

تربت میں حیات بلوچ کے بہیمانہ قتل کے واقعہ کے بعد بلوچستان میں پہلی دفعہ آئی جی ایف سی تربت ( ساؤتھ ) نے واقعہ کا نوٹس لیا ہے۔ اس واقعہ کی ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور ایک اہلکار پولیس کی تحویل میں ہے۔ اس کے علاوہ ( بحوالہ متاثرہ خاندان ) آئی جی ایف سی نے متاثرین خاندان سے ملاقات کر کے انتہائی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”آپ کے نقصان کا ازالہ ممکن نہیں، کیونکہ ہم آپ کے بچے کو تو واپس نہیں لا سکتے مگر یہ عہد کرتے ہیں کہ متاثرہ خاندان کو انصاف ضرور فراہم کریں گے“ ۔ آئی جی ایف سی کی باتیں مثبت اور حوصلہ افزا ہیں۔ مگر کیا اس ملک میں کسی بے گناہ عام شہری کے قتل پر آج تک کسی اہلکار کو سزا ہوئی ہے اور متاثرین کو کبھی انصاف ملا ہے؟ کیا تربت کا واقعہ ایک فرد کا ذاتی عمل ہے؟

کراچی میں 2011 کو بے گناہ نوجوان سرفراز کے بہیمانہ قتل سے لے کر 2018 کو پشتون نوجوان نقیب اللہ اور پھر 2019 میں پنجاب کے شہر ساہیوال میں معصوم بچوں کے سامنے والدین کا ماورائے قانون قتل کے واقعات کا انجام سب کے سامنے ہے۔ پھر ایک بلوچ کی کیا حیثیت ہے! اگر مذکورہ واقعات کے متاثرین کو انصاف مل جاتا تو شاید آج حیات بلوچ کے قتل کا واقعہ پیش نہ آتا، اس ملک کے عوام اس طرح ملکی نظام انصاف اور اداروں سے بدظن نہ ہوتے۔

کہتے ہیں کہ دنیا امید پر قائم ہے۔ جو پہلے نہیں ہوا ہے کاش! وہ اب ہو جائے۔ ہو سکتا ہے کہ شہید حیات بلوچ کا بہیمانہ قتل حکام کا ضمیر جھنجھوڑ دے۔ وہ اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کریں اور اس واقعہ سے ایک نئی روایت کا آغاز کریں۔ انصاف دیت و مصلحت کے بجائے منصفانہ قانونی تقاضوں سے مکمل ہم آہنگ ہو اور متاثرہ خاندان کے علاوہ تمام عوام بھی مطمئن ہوں کہ واقعی انصاف ہوا ہے۔ خدا کرے کہ آئی جی ایف سی کی تمام یقین دہانیاں سچ ثابت ہوں، تاکہ آئندہ کوئی بے گناہ حیات اس طرح حیات سے محروم نہ ہو۔

Facebook Comments HS