مقدس بیوہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شدید گرمی اور حبس بھرے دن کی سہ پہر اچانک تیز ہوا چلنی شروع ہو گئی اور بادل چھا گئے۔

ہوا کے پہلے جھکڑ کے ساتھ ہی بجلی بند ہو گئی، میرے چھوٹے سے آفس کے کمرے میں گھپ اندھیرا چھا گیا اور کمپیوٹر آف ہو گئے، میں نے سلائیڈ ہٹا کر باہر جھانکا اور صورتحال کا اندازہ کرتے ہی اپنے ماتحتوں کو کہا، چلو بھئی بند کرو سب کچھ، اگر بارش ہو گئی تو ہم یہیں پھنس جائیں، جی سر بس نکلتے ہیں۔ ایک بولا، وہ تینوں باری باری چلے گئے، میرا اپنا، ایک ذاتی سافٹ وئیر ہاؤس ہے، تین افراد میرے ماتحت ہیں، بلکہ ماتحت نہیں میری دوست اور کولیگز ہیں، میں ایک کم گو فطرت کا حامل فرد ہوں، مجھے زیادہ شور شرابا اور بکھیڑے پسند نہیں ہیں، نہ ہی زیادہ دولت کمانے کا شوق ہے، میرے خیال میں زندگی لطف اٹھانے کے لئے ہے، اس لیے نہیں کہ اس کو زیادہ دولت کمانے کے جنون میں، کسی عہدے کے حصول کے لئے یا انسانوں کے لئے برباد کیا جائے، سو میں اپنی محدود زندگی میں خوش و مطمئن ہوں۔

آفس کو اچھی طرح بند کرنے کے بعد میں لفٹ کے ذریعے آفس سے باہر آ گیا، پارکنگ سے اپنی بائیک نکالی اور گھر کی طرف روانہ ہو گیا، کئی ماہ کے شدید گرم موسم کے بعد خوشگوار ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں نے دل خوش کر دیا۔ آسمان پر گہرے سیاہ بادل موجود تھے، اور لگتا تھا کہ برسنے کو بے تاب ہیں لیکن ابھی حکم نہیں، اس لیے برستے نہیں صرف گرج کر شہر کے مکینوں کو خبر کرتے تھے کہ ہم برسنے والے ہیں جائے اماں ڈھونڈ لو، سڑکوں پر موجود لوگ بھی جوق در جوق اپنی اپنی منزلوں کی طرف رواں دواں تھے، اور زیر لب کچھ پڑھتے تھے، شاید دعا مانگتے تھے کہ ابھی بادل برسنا شروع نہ ہوں کیونکہ بارش شہر کا نظام درہم برہم کر دیتی تھی، زندگی جامد ہو جاتی تھی، اس لیے لوگ جلد از جلد اپنے جائے پناہ اپنے گھر پہنچنا چاہتے تھے، اکثریت میری طرح جلدی آفس سے نکلے تھے، خواتین کی بڑی تعداد بھی رکشے اور ٹیکسیوں میں لد کر گھروں کی طرف رواں دواں تھی۔ ایسے موقع پر خواتین کو ہر صورت میں آفس اور دوسری کام کرنے کی جگہوں سے چھٹی دے دی جاتی تھی، تا کہ وہ راستے میں کہیں پھنس نہ جائیں۔

جیسے ہی میں نے گھر کے سامنے پہنچ کر بائیک روکی، موٹی موٹی بوندیں آسمان سے گرنے لگیں۔

میں نے سر اٹھا کر دیکھا، سامنے والے گھر کی چھت پر مقدس موجود تھی، مقدس میری پرسکون زندگی کا ایک بے سکون باب۔

مقدس نے کپڑے دھو کر پھیلائے ہوئے تھے وہ جلدی جلدی سیڑھیاں پھلانگتی ہوئی چھت پر پہنچی اور دھلے ہوئے کپڑے اتار لائی۔

اسکے نیچے اترتے ہی بارش کی موٹی موٹی بوندیں برسنے لگیں، مقدس خوشی سے چہکی، آہا بارش شروع ہو گئی۔ وہ ہاتھوں میں تھامے کپڑے بستر پر پھینک کر دوبارہ چھت کی طرف بڑھی،

اسکی ماں نے کہا ہاں شکر ہے گرمی کا زور ٹوٹے گا لیکن تم کہاں جا رہی ہو، پہلی برسات میں نہیں نہاتے، بینائی کم زور ہوتی ہے۔

اب کیا کمزور ہو گی، ہو بھی گئی تو کیا ہوگا، وہ تیزی سے بولتے ہوئے سیڑھیاں چڑھنے لگی، ماں نے اسے گھور کر دیکھا اور سر جھٹک کر باورچی خانے میں چلی گئی۔

مقدس کے چھت پر پہنچتے ہی بارش تیز ہو گئی، ٹھنڈے پانی کی تیز بوچھاڑ نے مقدس کے جلتے ہوئے بدن کو پر سکون کر دیا، وہ تھوڑی دیر آنکھیں موند کر ہاتھ پھیلائے کھڑی رہی، پھر دوسری چھتوں سے آتے شور کو سن کر اس نے آنکھیں کھولیں اور ادھر ادھر دیکھنے لگی، محلے کی تقریباً ہر چھت پر بچے اور عورتیں موجود تھے اور بارش میں بھیگ کر خوش ہو رہے تھے، سامنے والے گھر کے مکین اظفر نے اپنے گھر کے سامنے بائیک روکی اور مقدس کی جانب دوستانہ مسکراہٹ سے دیکھا، مقدس یک دم پیچھے ہو گئی اور چھت کے دوسری جانب چلی آئی، بارش کی تیز بوچھاڑ مناظر کو دھندلا رہی تھی، مقدس چارپائی پر چت لیٹ گئی، بارش میں مانگی جانے والی دعائیں قبول ہوتی ہیں، اس کے کانوں میں اپنی ایک کالج کی سہیلی کی آواز گونجی، نہ جانے مجھے پرانی باتیں کیوں آتی رہتی ہیں اس نے سر جھٹک دیا، اور کروٹ بدل لی، بارش کا پانی کانوں میں جانے لگا وہ ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھی، کیا مصیبت ہے یہ، اس نے سر جھٹک کر بال کھول لئے، سیاہ لمبے گھنے بال جو گیلے ہو کر بوجھ لگ رہے تھے، وہ تھوڑی دیر بیٹھی رہی۔

ہنسی کی آواز پر اس نے مڑ کر دیکھا، پچھلے گھر کی چھت پر اس کے پڑوسی میاں بیوی بارش سے لطف اندوز ہو رہے تھے، مقدس نے منہ پھیر لیا، بارش کی تیزی کم ہوتے ہوتے آہستہ آہستہ بوندوں میں تبدیل ہو گئی، مقدس کو گاڑی کے ہارن کی آواز آئی، اس نے فوراً اٹھ کر نیچے جھانکا، اس کا بھائی گھر پہنچ گیا تھا، مقدس کی بھابھی نے بے تابی سے دروازہ کھولا، شکر ہے میں تو ڈر رہی تھی کہ تم راستے میں نہ پھنس جاو، مقدس نے بھائی کو مسکراتے اور بھابھی کی گردن میں بازو ڈال کر گھر کے اندر جاتے دیکھا۔

وہ دھم دھم سیڑھیاں اترتی نیچے آئی، صحن میں کوئی نہ تھا، وہ صحن میں کھڑے ہو کر چیخی، چائے نہیں بنے گی آج، ضروری ہے کہ میں ہی بناوں، کوئی اور نہیں بنا سکتا، اس کی بھابھی کمرے سے نکل آئی، چائے کا پانی چولھے پر رکھا ہوا ہے، معیز کا انتظار کر رہی تھی، وہ پکوڑے اور سموسے لے کر آئے ہیں، تم کپڑے تو بدل لو، وہ بولتی ہوئی باورچی خانے میں چلی گئی۔

مقدس کمرے میں داخل ہوئی تو ماں کو اپنے کمرے میں بیٹھا دیکھا یہاں کیا کر رہی ہیں، وہ دھاڑی۔ آرام سے بولو لڑکی، ماں نے ناگواری سے کہا، کیا تمھارے کمرے میں میرے آنے پر پابندی ہے، اور یہ بال کیوں بارش میں بھگوئے، معلوم بھی ہے، بارش کے پانی سے بال خراب ہوتے ہیں۔

مقدس کمرے کے ساتھ ملحقہ غسل خانے کی طرف بڑھتے ہوئے چلائی، ہو بھی جائیں تو کیا، مجھے کون سا کسی کو دکھانا ہے یا شیمپو کے اشتہار میں کام کرنا ہے، دھاڑ سے غسل خانے کا دروازہ بند ہوا، ماں کے چہرے پر دکھ کا سایہ لہرایا، آہ میری بچی۔

مقدس چار سال پہلے بیوہ ہو چکی تھی، اس کی شادی بہت خوشی اور چاہ سے اس کے والد نے ایک آرمی افسر سے کی تھی، مقدس کے والد فوج میں حوالدار تھے، ساری عمر حوالدار ہی رہے، لیکن بڑے بیٹے کے کیپٹن بننے کے بعد وہ خوشی سے پھولے نہ سمائے، بہت دھوم دھام سے بیٹے کی شادی کی، بیٹے کی شادی میں ہی مقدس کو میجر عامر کی ماں نے پسند کر لیا، انٹر پاس مقدس ڈاکٹر بننا چاہتی تھی، لیکن میجر اور اس کی والدہ نے کچھ اس طور سے گھر کا راستہ دیکھا کہ مقدس کے والدین کو ہاں کرتے ہی بنی، اکلوتے میجر عامر کے گھرانے میں کوئی خرابی نہ تھی جو رشتے سے انکار کیا جاتا، میجر عامر کی ایک بہن ملک سے باہر بیاہی ہوئی تھی، وہ بھی خوشی خوشی بھائی کی شادی میں شرکت کرنے آئی، میجر عامر اور اس کی بہن نے مقدس سے وعدہ کیا کہ تم کو شادی کے بعد پڑھنے کی اجازت ہوگی لیکن وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو جائے، انسان خطاوں و وعدوں کا پتلا ہے۔

مقدس شادی ہو کر میجر عامر کے گھر آ گئی، شادی کے پہلے ہی ماہ میں مقدس حاملہ ہو گئی، خوشی کی خبر کے ساتھ ساتھ دوسری خبر یہ تھی کہ میجر عامر کی پوسٹنگ ایک پہاڑی شہر میں ہو گئی۔ مقدس کو اس کی ساس نے ساتھ نہ جانے دیا کہ تمھارا پہلا تجربہ ہے، تم خود کیسے اپنا خیال رکھ سکو گی، مقدس کی ماں نے بھی یہی کہا، لیکن مقدس نے تنہائی میں میجر عامر سے ضد کی، مجھے آپ کے ساتھ چلنا ہے، میں نے صرف یہی سوچ کر شادی کی تھی کہ آپ کے ساتھ ملک کا ہر شہر دیکھوں گی اور خوب گھوموں پھروں گی، میجر عامر نے اپنی خوبصورت و کم عمر بیوی کو شرارت سے دیکھا اور کہا، صرف گھومنے کے شوق میں یعنی میں پسند نہیں آیا تھا، مقدس چڑ کر کہا، ایسی بات نہیں ہے، میرا مطلب ہے زندگی میں کچھ نیا تو ہو، میجر عامر شرارت کے موڈ میں تھا، وہ بولا نیا کام کرنے تو جا رہی ہو، اب تم اپنے بچے کے ساتھ نئے نئے کام کرنا۔

مقدس نے اسے گھور کر دیکھا وہ مسکرا رہا تھا، مقدس نے غصے سے کروٹ بدل لی۔ میجر عامر نے فرماں برداری سے دونوں ماؤں کی بات مان لی اور اسے چھوڑ کر چلا گیا۔ مقدس کو بہت الجھن ہوئی یہ کیا مصیبت ہے، جب اکیلے ہی رہنا تھا تو اپنے گھر میں ہی رہتی، وہ چڑ چڑی ہو گئی، ساس سسر نے ہر ممکن خیال رکھا لیکن مقدس کا مقدر بھی شاید چڑچڑا ہو گیا تھا، دو ماہ کے بعد میجر عامر کے شہید ہونے کی خبر آ گئی، ملک کے پہاڑی علاقے پرائی و بے مقصد جنگ کی لپیٹ میں رہتے تھے۔ میجر عامر کا تابوت آبائی شہر میں لایا گیا، تابوت دیکھ کر مقدس کا نروس بریک ڈاؤن ہو گیا، اسپتال پہنچ کر انکشاف ہوا کہ صدمے سے اسقاط ہو چکا ہے۔ کئی دن اسپتال میں رہنے کے بعد مقدس سسرال میں داخل ہوئی۔

ساس سسر شفقت سے پیش آئے، ساس نے اسے بتایا، فوج کی طرف سے انعام کے علاوہ عمرے کا انتظام بھی کیا گیا ہے، تمھاری عدت پورے ہوتے ہی عمرہ کر کے آئیں گے، مقدس نے حیرانی سے ساس کو دیکھا، آپ کو دکھ نہیں ہوا ہے، آپ کا اکلوتا بیٹا مر گیا، ساس نے تاسف سے اسے دیکھا، مرا نہیں ہے شہید ہوا ہے، میرے لئے فخر کی بات ہے کہ میں ایک شہید کی ماں ہوں، سسر نے بھی تائید کی۔ تم بھی ایک شہید کی بیوہ ہو، حوصلے سے کام لو۔ مقدس اپنی خواب گاہ میں آ گئی۔

عدت کا عرصہ گزرتے ہی مقدس کے والدین، چھوٹے بھائی اور ساس، سسر نے عمرے کا ارادہ باندھ لیا، مقدس بھی ساتھ گئی۔

عمرے سے واپسی پر مقدس نے والدین کے گھر جانا چاہا، لیکن ساس نے جانے نہ دیا، کہ میرے بیٹے کی نشانی ہے اس کو میں اپنے ساتھ رکھوں گی، مقدس والدین کی اکلوتی بیٹی تھی، وہ اس کو لے جانا چاہتے تھے لیکن ساس نے آبدیدہ ہو کر منتیں کیں تو وہ مجبوراً راضی ہو گئے۔

مقدس بہت گھبراتی تھی، دن تو کسی طور کٹ جاتا تھا، گھر کے کام کرتی رہتی، لیکن کام بھی کتنے، تین تو افراد تھے، وہ ٹی وی دیکھنا چاہتی، لیکن دل نہ لگتا، ساس سسر شوق سے ٹی وی دیکھتے رہتے، ہر تیسرے دن گھر میں رشتے دار بھی آ جاتے، جو میجر عامر کی شجاعت و بہادری کی تعریفیں اور ساس سسر کی ہمت کی داد دیتے، اس کے سسر خوش ہو کر فوج کے قصے سناتے رہتے، کیونکہ وہ بھی ایک ریٹائرڈ فوجی تھے، مقدس کبھی کبھی بہت حیران ہوتی کہ یہ کیسے والدین ہیں جن کو بیٹے کی جدائی کا غم نہیں ہے۔ وہ مہمانوں کے لئے کھانے بناتی، ڈھیروں برتن دھوتی لیکن رات کو تھکن کے باوجود سو بھی نہ پاتی کیونکہ اس کو میجر عامر کی یاد ستاتی۔ اور کبھی ڈر لگتا، اسے محسوس ہوتا کہ وہ آس پاس ہے، وہ بیٹھے بیٹھے ساری رات گزار دیتی۔

زندگی مزید بے رنگ ہو گئی تھی، مقدس دل ہی دل میں قسمت سے شکوہ کرتی، حساب لگاتی رہتی کہ وہ اور عامر کتنے کم دن ساتھ رہے، اس کو ازدواجی زندگی کی وہ چند راتیں یاد آتیں جب وہ نئے فطری جذبوں سے آشنا ہوئی تھی اور عامر کی محبت و قربت سے روشناس ہو کر اسے حیرانی بھری خوشی محسوس ہوتی تھی۔

لیکن سب کچھ ختم ہو چکا تھا، وہ سوچتی اور دہلتی رہتی کہ کب تک وہ اس طرح اکیلی رہے گی، والدین کی گھر بہن نہ ہونے کی شکایت تھی اور یہاں تو بھائی کی صورت بھی نظر نہ آتی تھی، بڑے بھائی کی دوسرے شہر میں پوسٹنگ تھی، چھوٹا والا پڑھائی اور پارٹ ٹائم نوکری میں مصروف رہتا، گو کہ اس کی ماں ہر دوسرے دن اسے فون کرتی تھی لیکن مقدس شدید رنج میں مبتلا رہتی، کاش اسقاط نہ ہوتا، بچہ یا بچی ہی میرے ساتھ ہوتا وہ یاسیت سے سوچتی۔

انہی یاسیت بھرے دنوں میں بیرون ملک سے اس کی نند شہلا کی آمد ہوئی، چند دن تو شہلا بھائی کے غم میں رہی، مقدس اور والدین کے ساتھ بھائی کو یاد کیا، ماں کے شکوے کے جواب میں کہا، میں ان کو نعش کی صورت دیکھنا نہیں چاہتی تھی، اس لیے اس وقت نہیں آئی، بس تصور میں یہی ہے کہ وہ سرحد پر موجود ہیں۔

ایک ہفتے کے بعد ایک رات شہلا مقدس کی خواب گاہ میں آ گئی، اور مقدس سے پوچھا، تم نے اپنے بارے میں کیا سوچا ہے۔ میں کیا سوچوں گی، میں کچھ سوچنے کے قابل نہیں رہ گئی ہوں۔ شہلا نے تاسف سے اسے دیکھا، بے وقوف نہ بنو، تم بہت خوبصورت و ذہین ہو، اپنی تعلیم دوبارہ شروع کرو، یونیورسٹی میں داخلہ لو، مقدس نے اس کی طرف چونک کر دیکھا، اور بولی، کیا ایسا ممکن ہے، امی ابو اجازت دیں گے، شہلا نے طویل سانس لیا، دیکھو مقدس میں صرف تمھارے لئے اس طرح اکیلے اپنے بچوں کو چھوڑ کر آئی ہوں اور تم کو صاف صاف بتانا چاہتی ہوں کہ میرے والدین نے تم کو صرف اپنی دیکھ بھال کے لئے رکھ لیا ہے، میں ان کو اپنے پاس بلانا چاہتی تھی لیکن وہ نہیں آئے، ان کو صرف اونچا اور نمایاں بننے کا شوق ہے، وہ خاندان اور دنیا کی نظروں میں خاص بننا چاہتے ہیں، اور اس کے لئے پہلے بیٹے کی قربانی دی، اب تمھاری دیں گے، مقدس خوفزدہ ہو گئی اور بولی، کیا مطلب میری کیسے؟

شہلا نے سر پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا، ارے بے وقوف تم کو اس طرح اپنے ساتھ رکھ کر، کس رشتے سے تم ان کے ساتھ رہ رہی ہو، شوہر کے انتقال کے بعد سب رشتے ختم ہو جاتے ہیں۔ مقدس سوچ میں پڑ گئی پھر بولی، لیکن ماں جی مجھ سے بہت پیار کرتی ہیں، آپ اپنی ماں کے بارے میں ایسا سوچ رہی ہیں مجھے حیرت ہو رہی ہے۔ شہلا مسکراتی ہوئی بولی۔ اولاد بھی تو اپنے والدین کو سمجھتی ہے، جس طرح والدین بچوں کو سمجھتے ہیں، یہ تم سے پیار نہیں کرتے، تمھاری مفت کی خدمت اور اس پیسے اور پلاٹ سے پیار کرتے ہیں جو عامر کے بعد تم کو دیا گیا ہے۔

مقدس کی آنکھیں حیرت سے پھٹ گئیں، وہ بیٹھی ہوئی آواز میں بولی، مجھے تو علم ہی نہیں ان معاملات کا۔ شہلا سنجیدہ ہو گئی، مجھے اندازہ تھا کہ ایسا ہی ہو گا، مقدس میں اپنی بہن سمجھ کر اور خوف خدا کرتے ہوئے تم کو یہ سب بتا رہی ہوں، مجھے تو حیرانی ہے تمھارے والد کو تو ان سارے معاملات کا معلوم ہو گا، وہ آخر کیوں تم کو یہاں چھوڑ گئے، دیکھو میں تم کو مخلصانہ مشورہ دے رہی ہوں کہ اپنی تعلیم مکمل کرو، اور شادی کرو، میری دعا ہے کہ تم کو یونیورسٹی میں کوئی اچھا لڑکا پسند کر لے۔

لیکن میں شہید کی بیوہ ہوں، میں کیسے شادی کر سکتی ہوں، مقدس نے اس کی بات کاٹ دی۔

شہلا نے اس کے سر پر ہاتھ مارا اور بولی، یہ کون سی دینی کتاب میں لکھا ہے کہ شہید کی بیوہ دوسرا نکاح نہیں کر سکتی، مذہب کی تمام جلیل القدر ہستیوں نے جنگوں و غزوات میں شہید ہونے والے ساتھیوں کی بیواؤں سے نکاح کیے، عام بیوہ و مطلقہ خواتین کو بھی سہارا دیا، ہم عامی و گنہ گار انسان ان سے زیادہ اعلی کیسے ہو گئے کہ دین کے خلاف چلیں۔ مقدس سناٹے میں رہ گئی، پچھلے کئی ماہ سے اس کو ایسی تقدیس بھری جھوٹی کہانیاں سنائی جا رہی تھیں کہ وہ دین کا اصل سبق بھول ہی گئی تھی، حالانکہ وہ مذہبی کتاب بھی ترجمے سے پڑھ چکی تھی اور کالج کی بہت اچھی قاریہ رہی تھی۔

اس کو سوچ میں ڈوبا دیکھ کر شہلا بولی۔ سوچو نہیں، جو میں کہہ رہی ہوں اس پر عمل کرو، میں اسی لئے یہاں آئی ہوں، ورنہ مجھے کیا ضرورت تھی آنے کی، اماں ابا کو تو ٹکٹ و ویزہ بھیج کر بلوا لیتی۔ یہی مہینہ ہے یونیورسٹی میں داخلے شروع ہونے کا۔ کل ہی ہم لوگ چلیں گے اور فارم فل کر کے آئیں گے، تمھارے والدین سے بھی بات کریں گے، شہلا نے اٹھتے ہوئے کہا، چلو اب سو جاؤ شاباش شب بخیر۔

مقدس دیر تک شہلا کی باتوں کو سو چتی رہی پھر سو گئی۔ صبح جب وہ ناشتہ بنا رہی تھی، تو شہلا بھی باورچی خانے میں آ گئی، اور اس کو جلدی کرنے کا کہا، ناشتہ کرتے ہوئے شہلا نے اعلان کرنے کے سے انداز میں اپنے والدین کو مطلع کیا، میرے شہید بھائی نے اپنی بیوی سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس کو تعلیم جاری رکھنے دے گا، لہذا میں اپنے شہید بھائی کے وعدے اور خواہش کا احترام کرتے ہوئے آج مقدس کو مزید تعلیم کے لئے یونیورسٹی میں داخلہ دلانے لے جا رہی ہوں۔ مقدس نے دیکھا کہ اس کے ساس سسر بھونچکے رہ گئے، تھوڑی دیر کے بعد سسر گویا ہوئے، کیسی باتیں کر رہی ہو بیٹا، یہ کہاں گرمی اور یونیورسٹی آنے جانے میں پریشان ہو گی، اتنی دور ہے یونیورسٹی ہمارے گھر سے۔

شہلا نے کہا ایسی بھی دور نہیں، مقدس اسی شہر میں پلی بڑھی ہے سارے راستے جانتی ہے، سمجھدار ہے، سب کچھ سنبھال لے گی۔

ساس تیزی سے بولی، او لڑکی تم میری بہو کو الٹی سیدھی باتیں نہ سکھا، گھر میں آرام سے رہتی ہے، والدین کی خدمت کرتی ہے، تیری طرح نہیں ہے کہ ملک سے باہر رہنے والا اپنی پسند کا لڑکا ڈھونڈ کر یہ جا وہ جا۔

شہلا ہنسی، بھاگی تو نہیں تھی، آپ لوگوں نے رخصت کیا تھا، خیر اس وقت ہم جا رہے ہیں، بعد میں بات ہو گی۔ شہلا کھانے کی میز سے اٹھتے ہوئے بولی۔ لیکن اس کا اٹھنا ممکن نہ ہوا، شہلا کے باپ نے دھکا دے کر شہلا کو کرسی پر بیٹھنے پر مجبور کر دیا، مقدس اور شہلا دونوں ہکا بکا ہو گئیں۔

شہلا کا باپ غصے سے شہلا کے سامنے کھڑا ہو گیا، دیکھ شہلا تو نے یونیورسٹی میں داخلہ لیا تھا، پھر وہاں تو نے غیر برادری، دوسری زبان کے لڑکے کے ساتھ دوستی کر کے اس کو گھر تک بلا لیا، اس سے شادی کی ضد کی، اس کے ماں باپ کو بھی ناراض کیا، ہم کو بھی ناراض کیا، پھر اسے ملک سے لے کر چلی گئی، ہم سب نے صبر کر لیا کہ چلو بچے خوش ہیں لیکن اب تو ہماری بہو کو بھی یہی راستہ دکھا رہی ہے میں تجھے اس کی اجازت بالکل نہیں دوں گا گنہ گار شیطان لڑکی، واپس چلی جا اپنے گھر۔

شہلا کے حواس بحال ہوئے، تو وہ غصے سے بولی، پڑھنا گناہ نہیں۔ نہ ہی پسند کا نکاح کرنا گناہ ہے، گناہ گار آپ لوگ ہیں جو مرحوم بیٹے کی بیوی کو گھر میں رکھ کر اس سے خدمت کروا رہے ہیں، اور اس کو سرکار کی طرف سے ملنے والے پیسے کھا رہے ہیں، شرم نہیں آتی آپ لوگوں کو، نامحرم رشتے داروں کو بلا کر دعوتیں کر رہے ہیں، ان کی خدمتیں کروا رہے ہیں اس لڑکی سے جس کا اب کوئی رشتہ نہیں رہا اس گھر اور خاندان سے۔

ماں غصے سے بولی، زبان سنبھال او بے شرم لڑکی شہید کی بیوہ ہے، سب عزت کرتے ہیں۔

شہلا چلائی، کون سی عزت، یہ عزت جس کے نتیجے میں راتوں کو جاگ جاگ کر ڈر ڈر کر اس کا چہرہ بے رنگ ہو گیا ہے، آنکھوں کے گرد حلقے پڑ گئے ہیں۔

مقدس نے حیرانی سے شہلا کو دیکھا، کیا وہ سچ کہہ رہی تھی، ساس سسر دونوں ایک ساتھ بولنے لگے، شہلا بھی دو بدو جواب دے رہی تھی، اس نے ماں باپ کو گنوار، لالچی اور نہ جانے کیا کیا کہہ ڈالا، مقدس گھبرا کر اپنے کمرے میں آ گئی، اور آئینے میں خود کو دیکھنے لگی، شہلا کی بیان کردہ صورت آئینے میں نظر آنے لگی، مقدس گھبرا کر بستر پر بیٹھ گئی، اس کا حلق خشک ہو چکا تھا۔ کافی دیر کے بعد باہر سے آنے والی آوازیں یک دم بند ہو گئیں، تھوڑی دیر کے بعد شہلا کمرے میں داخل ہوئی اور بولی دیکھ لیا تم نے، مقدس کچھ نہ بول سکی، اپنا سامان پیک کرو، اپنے والدین کو فون کرو اور اس گھر سے نکل جاو، یہ گھر میرے نام ہے میں نے اس کو بیچنے کا ارادہ کر لیا ہے، مقدس نے گھبرا کر کچھ کہنا چاہا لیکن کہہ نہ سکی، شہلا کا رویہ اس کی سمجھ سے باہر تھا۔

شہلا بستر پر بیٹھتے ہوئے بولی، یہ بات میں اپنے اور تمھارے والدین کو ڈرانے کے لئے کہوں گی اس نے آنکھیں گھمائیں۔

لیکن کیوں شہلا آپی، آپ ایسا کیوں کر رہی ہیں، سب لوگ بہت ناراض ہوں گے مقدس روہانسی ہو گئی۔

شہلا بے پروائی سے بولی، ہونے دو، تم اپنی فکر کرو، ابھی بیس سال کی بھی نہیں ہوئی ہو اور یہ سب لوگ چاہتے ہیں کہ تم اپنی زندگی ایسے ہی گزار دو۔ تم خود سوچو کب تک ایسے رہو گی، جب یہ لوگ نہیں رہیں گے تو تم کہاں جاؤ گی، اپنے والدین کے گھر، پھر وہ بھی نہیں رہیں گے پھر کیا کرو گی۔

مقدس یاسیت سے بولی، کیا معلوم پہلے میں ہی مر جاؤں۔

شہلا نے خفگی سے اسے دیکھا، تو ایسا کرو ابھی مر جاؤ تا کہ مجھے سکون مل جائے۔ مقدس کو ہنسی آ گئی، آپ کے سکون کی خاطر مر جاتی ہوں، بتائیے کیسے مرنا ہو گا وہ ہنستے ہوئے بولی۔

شہلا بھی ہنستے ہوئے بولی فضول باتیں نہ کرو، اپنی امی کو فون کرو اور اس قید خانے سے نکلو جہاں صرف دنیاوی تقدیس کا بسیرا ہے۔

مقدس تذبذب کا شکار تھی، دونوں گھرانے آپس میں لڑائی نہ کر لیں وہ پریشانی سے بولی۔

شہلا نے کہا کچھ نہیں ہو گا اور سیل فون سے مقدس کی امی کا نمبر ملانے لگی، بیل جاتے ہی اس نے فون مقدس کے کان سے لگا دیا، مقدس نے گھبرا کر پوچھا کس طرح بلاؤں ان کو۔

شہلا نے جھنجھلا کر اپنی پیشانی پر ہاتھ مارا، کہو مجھ سے ملنے آ جائیں، میرا دل گھبرا رہا ہے، دوسری طرف مقدس کی ماں نے ہیلو ہیلو کہنا شروع کر دیا، مقدس نے شہلا کی بات دوہرا دی، ماں پریشان ہو گئی لیکن آنے کے لئے تیار ہو گئی۔

شہلا اٹھتے ہوئے بولی، ہمت رکھنا، جو میں کہوں، میری ہاں میں ہاں ملانا اور سنو یاد سے اپنا زیور بھی لے جانا۔

مقدس نے صرف سر ہلا دیا اسے یقین نہیں تھا کہ وہ کہیں جا سکے گی۔
دوپہر گزر گئی، مقدس کی امی کا فون آیا کہ شام تک تمھارے ابو کے ساتھ آتی ہوں۔
مقدس نے شہلا کو بتایا، اس نے صرف اچھا کہا اور کچھ کاغذات پڑھتی رہی۔

شام ہونے پر مقدس کے والدین اور بھائی بھی آ گئے، ادھر ادھر کی باتوں کے بعد شہلا نے مقدس کے والد کو مخاطب کیا، چچا جان آپ نے مقدس کے بارے میں کیا سوچا ہے، مقدس کے والد سٹپٹا کر بولے، کیا سوچنا ہے بیٹا، مجھے تو فخر ہے کہ مقدس شہید کی بیوہ ہے، اور بہت اچھی فرماں بردار بیٹی ہے۔

شہلا ہنسی اور بولی تو آپ اتنی اچھی فرماں بردار بیٹی کی زندگی برباد کر دیں گے۔
مقدس کی ماں ایک دم بولی، ہائے خدا نہ کرے ہم کیوں کریں گے ایسا۔

لیکن آپ ایسا کر رہے ہیں، اس کو سسرال میں چھوڑ دیا بجائے اس کے کہ اس کے لئے کوئی دوسرا رشتہ ڈھونڈتے یا اپنے گھر لے جاتے، یا کم از کم اس کی صحت کا ہی خیال کر لیتے، شہلا نے مسلسل ایک گھنٹے تک مقدس کے والدین کو دینی و اخلاقی لیکچر دیا، حالانکہ اس کے ماں باپ اس کو روکنے کی کوشش کرتے رہے لیکن شہلا باز نہ آئی، جس پر مقدس کے بھائی نے خفگی سے کہا، آپ نے ہم کو یہ باتیں سنانے کے لئے بلایا ہے، ہم اس کو لے جاتے ہیں، آپ کو میری بہن بوجھ لگ رہی ہے۔

شہلا نے ہاتھ نچا کر کہا، نہیں ہم کو بوجھ کیوں لگے لگی۔ ہم کو تو مفت کی باندی ملی ہوئی ہے، بوجھ تو آپ سمجھتے ہیں جب ہی تو لے کر نہیں گئے کہ بیوہ بہن کا خیال نہ رکھا پڑے، دوبارہ شادی نہ کروانی پڑے۔

مقدس کا بھائی حیران ہو کر اس کی صورت تکنے لگا، مقدس کے باپ نے کہا، شہلا بیٹی تم ہماری بے عزتی نہ کرو، تم جانتی ہو مقدس ایک شہید کی بیوہ ہے، دونوں خاندانوں میں اس کا احترام کیا جاتا ہے، تم جانتی ہو کہ ہمارے خاندانوں میں تین چار شہداء ہیں اور سب کی بیواؤں نے عزت سے زندگی گزار دی، مقدس بھی ان کے نقش قدم پر رہے گی۔

شہلا مسکرائی نہیں مقدس ان کے نقش قدم پر نہیں چلے گی، کیونکہ وہ سب عمر دار اور بال بچوں والی تھیں، ان کے پاس بھی کئی راستے تھے لیکن انہوں نے اپنی زندگی اپنی خوشی سے گزاری ہے۔

مقدس کے پاس نہ ہی بچے ہیں اور نہ ہی دوسرے راستے، اور یہ صرف بیس سال کی ہے، آپ لوگوں کو اس پر ترس نہیں آتا، کہ یہ اپنی بقیہ زندگی کیسے گزارے گی، ایک تو اتنی کم عمری میں اس کی شادی کر دی، پھر بیوگی کے بعد قدغن بھی لگا دی کہ ساری زندگی بیوہ ہی رہو۔

مقدس کی ماں رونے لگی، مقدس چپ چاپ اپنی قسمت کا فیصلہ سن رہی تھی۔
آخر تو چاہتی کیا ہے، شہلا کا باپ شہلا سے مخاطب ہوا۔

آپ لوگ مقدس کو اس کے والدین کے ساتھ بھیج دیں، اور جو سرکاری ماہانہ خرچہ اس کو ملتا ہے، مقدس کے ہاتھ پر رکھا کریں تا کہ وہ اپنی تعلیم دوبارہ شروع کر سکے اور اپنے پیروں پر کھڑی ہو سکے، اگر دوسری شادی نہیں کروانی تو کم از کم اس کو کوئی ڈگری لینے دیں تا کہ وہ کسی کی محتاج نہ رہے، کسی اسکول میں ٹیچر ہی لگ جائے گی۔

مقدس کی ماں اور بھائی شہلا کے ہم خیال ہو گئے۔
مقدس کا والد چپ تھا۔

شہلا اٹھ کر کمرے میں گئی، اور ایک فائل لے آئی، اس میں اس پلاٹ کے کاغذات ہیں جو فوج کی طرف سے شہید کی بیوہ کو ملا ہے، شہلا کا باپ غصے سے فائل پر جھپٹا، شہلا یہ تو نے کہاں سے نکالی، اس پر شہید کے والدین کا حق ہے۔ ۔ شہلا طنزاً مسکرا کر بولی اس پلاٹ کے لئے بیٹے کو شہید کروایا تھا۔

چپ ہو جا بے حیا، میں تجھے مار ڈالوں گا، شہلا کا باپ اس پر جھپٹا، لیکن مقدس کا بھائی ایک دم ان دونوں کے بیچ میں آ کر بولا، آپس میں نہ الجھیں، چچا آپ ہی رکھیے اس پلاٹ کو۔ ہم کو کچھ نہیں چاہیے، نہ ہی ماہانہ خرچ نہ ہی پلاٹ، آپ کا شکریہ شہلا باجی، آپ نے ہماری رہنمائی کی چلو مقدس اپنے گھر چلو۔

مقدس اپنی خوابگاہ میں آ گئی اور چاروں طرف دیکھنے لگی، وہ اس آنا فانا تبدیلی پر حیران تھی۔ شہلا کمرے میں داخل ہوتے ہوئے بولی تم ابھی تک کھڑی ہوئی ہو، میں نے تم سے کہا بھی تھا کہ تم نے جانا ہو گا، شہلا نے الماری کھولتے ہوئے کہا، جاؤ سوٹ کیس لاؤ اور اپنے کپڑے رکھو، مقدس نے اس کی بات پر عمل کیا، الماری میں کتنے ہی جوڑے پیک رکھے تھے، شادی کو دن ہی کتنے ہوئے تھے، میجر عامر کے کپڑے بھی الماری میں ساتھ ہی ٹنگے تھے، شہلا بھائی کے کپڑوں کو دیکھ کر آب دیدہ ہو گئی اس نے ایک قمیض کو چھوا اور رونے لگی، مقدس بھی روتے ہوئے اپنے کپڑے اٹھانے لگی، شہلا نے اس کی مدد کروانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہی اور کمرے سے نکل گئی، مقدس اسے تسلی دینے کے قابل نہ تھی، وہ آنسو صاف کرتے ہوئے بہ مشکل کپڑے سوٹ کیس میں رکھ رہی تھی، کہ اس کی ساس چلی آئی، سارے کپڑے رکھ لے، اپنے جہیز کے بھی اور بری کے بھی، ہم کیا کریں گے بھلا۔

ساس نے آگے بڑھ کر الماری کی دراز کھولی، زیور کہاں ہے، مقدس نے ایک اور دراز کھولی، اس میں زیور کے ڈبے موجود تھے۔

ساس نے چاروں ڈبے اٹھا لئے، اور باری باری کھول کر دیکھنے لگی، مجھے تو یاد بھی نہیں تیری ماں نے کتنے سیٹ دیے تھے، مقدس نے زخمی مسکراہٹ سے اس کی طرف دیکھا، اور بولی، دو امی نے دیے تھے، دو آپ نے دیے تھے، اور یہ رہیں آپ کی دی ہوئی چوڑیاں، اس نے ایک اور دراز سے چوڑیاں نکال کر دیں۔

ساس نے چوڑیاں فوراً لے لیں، اور بولی یہ میں اپنے والے سیٹ اور چوڑیاں رکھ رہی ہوں، اپنے لئے نہیں رکھ رہی بیٹا، تو جانتی ہے، اس شہلا کی بھی تو دو بیٹیاں ہیں کل کو ان کے کام آئیں گے۔ یہ چوڑیاں میں اپنی بھانجی کو دوں گی، جانتی ہے نا تو اگلے ماہ اس کی شادی ہے، خالہ سونے کا تحفہ نہ دے تو ٹور نہیں بنتی نا۔ مقدس نے سر ہلا دیا۔ اور کپڑے رکھ کر سوٹ کیس بند کر دیا۔

مقدس اپنے والدین کے ساتھ گھر آ گئی، مقدس کے بھائی نے اس کا داخلہ یونیورسٹی میں کروانا چاہا، لیکن اس کے والد نے کہا، ایک شہید کی بیوہ نامحرموں کے ساتھ پڑھے، کچھ تو اس کے تقدس کا خیال رکھو، کسی لڑکیوں کے کالج میں بی اے میں داخلہ کروا دو، بی اے کے بعد دیکھتے ہیں۔

ایک ہفتے کے بعد شہلا پلاٹ کی فائل اور ماہانہ خرچ لے کر مقدس کے گھر آئی۔

مقدس کا بھائی اس وقت آفس میں تھا۔ والدین نے شہلا کی آؤ بھگت کی، مقدس بھی شہلا سے مل کر خوش ہوئی اور اس کا شکریہ ادا کیا، شہلا نے اسے محنت سے پڑھنے اور اپنی صحت کا خیال رکھنے کی تاکید کی اور بتایا کہ وہ واپس جا رہی ہے۔

شہلا کے جانے بعد مقدس کی ماں نے بے تابی سے خرچ کا لفافہ کھولا، جس میں خاصی معقول رقم تھی، رقم گنتے ہی ماں نے مقدس سے کہا، معیز کی شادی کے لئے زیور بنوانا ہے بس اب کمیٹی ڈال لوں گی، مقدس نے ہولے سے کہا، کالج کی فیس اور میرا جیب خرچ۔

ہاں ہاں وہ بھی ہو جائے گا ماں نے لفافہ اپنے تکیے کے نیچے رکھ لیا، مقدس کا باپ شہلا کو رخصت کر کے آیا، اور پلاٹ کی فائل دیکھتے ہوئے بولا، کل ہی معیز کے ساتھ جا کر پلاٹ کی صورتحال معلوم کرتا ہوں۔ مقدس نے ماں باپ کو دیکھا اور دوسرے کمرے میں چلی آئی۔

دن گزرتے رہے، مقدس کالج جانا شروع ہو گئی، لیکن کالج کی زندگی میں اب وہ بات نہ تھی جو پہلے ہوتی تھی، بے فکری کا دور ختم ہو چکا تھا، ساتھی لڑکیاں شوخ و چنچل تھیں، شرارتیں کرتیں، اپنے مستقبل کے منصوبوں کی، اپنے بوائے فرینڈز کی، منگیتروں کی یا ہونے والے شوہروں کی باتیں کرتیں، ایک دوسرے کا مذاق اڑاتیں، انٹر نیٹ کے افئیرز ڈسکس کرتیں۔ خوب ہنستیں اور بے فکری سے ساتھ مل کر گھومنے جاتیں، مقدس بھی خوش رہنے کی کوشش کرتی لیکن ایسا ہوتا نہیں تھا، اس کی کوئی خاص دوست بھی نہ بن سکی تھی، کیونکہ اس نے ایک لڑکی کو بتا دیا تھا، کہ وہ بیوہ ہے جس نے تقریباً سب کو ہی مطلع کر دیا تھا، لڑکیاں اس سے بات تو کرتیں لیکن کسی منصوبے میں ساتھ شامل نہ کرتیں۔ کچھ لڑکیاں وہمی بھی تھیں، اس کے ساتھ بیٹھتی تک نہ تھیں۔

مقدس نے انٹرنیٹ استعمال کرنا سیکھ لیا، اور اس طرح کچھ وقت کالج کی لائبریری میں گزار لیتی۔

جب مقدس نے تھرڈ ائر کا امتحان دیا تو میں نے اپنی والدہ کو بہ مشکل راضی کر کے مقدس کے گھر دوبارہ اپنے رشتے کے لئے بھیجا۔

جب مقدس کی شادی نہ ہوئی تھی، میرا تب بھی ارادہ تھا کہ بزنس شروع کرتے ہی اس کے لئے رشتہ بھیجوں گا، ہم لوگ اچھے پڑوسی تھے، لیکن جب رشتے کی بات ہوئی، تو مجھے حیرت کا جھٹکا لگا، میری والدہ اور بہن بھائیوں نے ان کی ذات اور زبان پر اعتراض کر دیا، بہ مشکل والدہ کو منایا، لیکن جب وہ ان کے گھر گئیں، تو مقدس کے والدین نے بھی یہی اعتراض کر دیا، اور بتایا کہ فوجی خاندان سے بھی مقدس کا رشتہ آیا ہوا ہے، اور ہمارا ارادہ وہیں کرنے کا ہے۔

میں صبر کر کے چپ ہو گیا، لیکن دوسری بار بھی رشتے سے انکار کرنا میری سمجھ سے بالاتر تھا، میری والدہ مجھ سے شدید خفا تھیں، کیونکہ ان کا کہنا تھا، کہ تم نے میری بے عزتی کروائی ہے، بجائے اس کے کہ وہ خوش ہوتے، کہ میں اپنے کنوارے بیٹے کا رشتہ ان کی بیوہ بیٹی کے لئے لائی ہوں، وہ تو غرور میں آ گئے، کہنے لگے، ہماری بیٹی شہید کی بیوہ ہے، آپ نے ایسا سوچا بھی کیسے کہ اس کا رشتہ کسی عام لڑکے کو دیں، ہم اگر دوسری شادی کریں گے بھی تو کسی فوجی سے ہی کریں گے۔ میں چپ ہو گیا۔

دن گزرتے رہے۔ مقدس نے بی اے کر لیا اور گھر بیٹھ گئی۔ اس دوران مقدس کے والدین نے گھر کی مرمت کروائی، بالائی منزل بنوائی، رنگ روغن کروایا، مقدس کے بھائی کی شادی بہت دھوم دھام سے ہوئی۔ بھائی کی شادی میں مقدس کے لئے ایک رنڈوے فوجی افسر کا رشتہ آ گیا،

لیکن مقدس نے والدین نے قبول نہ کیا، مقدس کی ماں نے مقدس کے والد سے پوچھا، آخر انکار کی وجہ کیا ہے، مقدس کا والد آہستہ سے بولا، گھر کی مرمت ہی مقدس کو ملنے والے ماہانہ خرچے سے کروائی ہے، پھر شادی کے لئے جو کمیٹیاں تم نے ڈالی ہوئی تھیں، ان کو کیسے بھریں گے۔ اگر مقدس کی شادی کر دی، تو ماہانہ خرچ بند ہو جائے گا۔

ماں نے فوراً کہا۔ پلاٹ بیچ دیتے ہیں۔

والد نے آہستہ سے کہا، پلاٹ ہی تو بیچا ہے جب ہی تو گاڑی لی ہے۔ ورنہ ہماری اوقات تھی گاڑی لینے کی۔ ساری زندگی حوالداری کی، کون سی لاکھوں تنخواہ تھی، لے دے کے یہ چھوٹا سا گھر ہی بنا پائے، بیٹے کی بھی پرائیویٹ ملازمت، وہ کہاں سے گاڑی لیتا، لیکن اس کو شوق تھا گاڑی کا، میں نے بھی سوچا کہ ایک بچے کا تو شوق پورا ہو۔

مقدس کی ماں نے شاکی لہجے میں کہا، یہ اچھا نہیں کیا، مقدس کی شادی کیسے ہو گی اب۔

باپ نے کہا، ہو جائے گی، ابھی وہ صرف چوبیس کی تو ہوئی ہے، پانچ چھے سال پیسے جمع کر لیتے ہیں۔ کوئی نہ کوئی رنڈوا یا طلاق یافتہ مل ہی جائے گا۔

ماں تیزی سے بولی، کنوارا بھی مل رہا ہے، یہ اپنے محلے کا اظفر، اس کی ماں دوبارہ آئی تھی نا، اچھے لوگ ہیں، سادگی سے نکاح کر دیتے ہیں، اپنی مجبوری بتا کر۔

نہیں مجھے پسند نہیں غیر برداری کے لوگ ہیں، میرا دل نہیں مانتا، تم فکر نہ کرو۔ ہو جائے گا کچھ نہ کچھ۔ باپ یہ کہتا ہوا اٹھ کر کمرے میں چلا گیا۔

مقدس نے یہ سب سنا اور اپنے بستر پر آ گئی۔

صبح اٹھ کر وہ گھر کے نزدیک ایک پرائیویٹ اسکول میں پہنچی اور ملازمت کے لئے درخواست دے آئی، اسکول کی پرنسپل تو جیسے موقع کے انتظار میں تھی کہ کوئی لڑکی آئے اور وہ اس کو فوراً استانی رکھ لے۔ دوسرے دن ہی اس کو کال کر کے بلا لیا، گو کہ تنخواہ بہت قلیل تھی اور محنت زیادہ لیکن مقدس کو پروا نہیں تھی، وہ گھر سے فرار چاہتی تھی، اور وہ اس کو مل رہا تھا، اس کی ماں نے سنا تو حیرت سے بولی، کیا ضرورت ہے اپنا سر کھپانے کی، مقدس نے مسکرا کر کہا، ضرورت ہے نا، میں بھی اپنی تنخواہ سے ایک کمیٹی ڈال لوں گی۔

ماں سناٹے میں آ گئی۔

کئی ماہ گزر گئے، مقدس دن میں اسکول میں بچوں کے ساتھ مگن رہتی، اور گھر آ کر انٹرنیٹ استعمال کرتی رہتی، اس نے تنخواہ کے پیسے جمع کر کے اسمارٹ سیل فون خرید لیا، اور مختلف ایپس پر اپنی پروفائل بنا لی، انٹر نیٹ سرفنگ کرتے ہوئے اس کی دوستی مختلف افراد سے ہو گئی، انٹرنیٹ پر لوگ اپنی تصاویر بھی اپ لوڈ کرتے رہتے، مقدس نے بھی ہمت کر کے ایک دن اپنی تصویر اپ لوڈ کر دی، تو اس کے پاس ڈھیروں افراد ایڈ ہو گئے، جن میں سے ایک خرم بھی تھا، آہستہ آہستہ خرم اور مقدس کی دوستی پروان چڑھنے لگی۔

میں نے مقدس کو آخری بار سمندر کے کنارے دیکھا، اکثر جب میرے آفس میں کام نہیں ہوتا تو میں سمندر کنارے پہنچ جاتا ہوں، اس دن بھی یہی ہوا، میں نے بائیک پارک کی اور نسبتاً ایک سنسان گوشہ منتخب کر کے سمندر کی لہروں کو دیکھنے لگا، جب شام سرمئی ہو گئی تو اٹھ گیا، پارکنگ میں مجھے ایک گاڑی میں مقدس کی جھلک نظر آئی، نا محسوس طور پر میں گاڑی کے قریب گیا، مقدس اور خرم گاڑی کی پچھلی سیٹ پر موجود تھے، مقدس کے سیاہ بال خرم کے شانوں پر بکھرے ہوئے تھے، تقدس کی چادر اتر چکی تھی اور تقدیس سرکاری ماہانہ خرچے کی نذر ہو گئی تھی۔

Latest posts by مطربہ شیخ (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •