جنرل وحید کاکڑ: جرنیل ایسے بھی ہوتے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے جرنیل پرشکوہ اور شاندار بھی ہوتے تھے بہت زیادہ مدت نہیں ہوئی پشتون جرنیل جنرل عبدالوحید کاکڑ ایسے چیف بھی ہو گذرے ہیں جو پلیٹ میں سجے اقتدار کو آنکھ اٹھا کر نہ دیکھیں اور اصرار کے باوجود مدت ملازمت میں توسیع پر بھی آمادہ نہ ہوں جو شام کے کھانوں اور سماجی تقریبات سے کوسوں دور اپنے بچوں اور احباب میں پر سکون زندگی کو ہر چیز پر ترجیح دیتے ہوں، جرنیل ایسے بھی ہوتے ہیں ۔

‎جنرل عبدالوحید کاکڑ پشتونوں کے کاکڑ قبیلے میں پیدا ہوئے جوبنیادی طورپربلوچستان کے دورافتادہ ژوب کے علاقے میں سکونت پزیر تھا۔ 23 مارچ 1937کو پشاور کے مضافات نشتر آباد میں ان کا خاندان آباد ہوا۔ ان کے چچا سردار عبدالرب نشتر پاکستان کے بانیان میں شمار ہوتے ہیں جو بعد میں گورنرپنجاب بنے اور پاکستان مسلم لیگ کے صدر کے طورپر بھی خدمات انجام دیں۔

‎1955 میں اس نوجوان نے ایڈورڈز کالج سے گریجویشن کی اور پھر فوج کا رُخ کیا۔ 1956ءمیں ممتاز فوجی درسگاہ پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول کا حصہ بن گئے۔ 1959 میں فرنٹئیر فورس ریجمنٹ کی پانچویں بٹالین یعنی ’5 ایف ایف‘ کا حصہ بن کر انہیں زمانے میں ایک نئی شناخت مل گئی۔

‎وقت نے اس نوجوان کو ایک ایسے فوجی افسر کی شخصیت کے سانچے میں ڈھال دیا جو ہمیشہ سیدھی راہ چلتا۔ پراثر شخصیت رکھنے والا یہ افسر جرات کا پیکر تھا جسے اپنے اصولوں کے لئے تن کر کھڑے ہونے کا ہنرآتا تھا۔ بری فوج کے سربراہ کے طاقتور ترین عہدے پر فائز ہونے تک اپنی پیشہ وارانہ زندگی کے ہر مرحلے میں ایسی کئی مثالیں جابجا بکھری ہوئی ہیں جب وحید کاکڑ نے لالچ اور دباو کے مقابلے میں اصولوں کو تھامے رکھا اور راہ بدلنے سے انکار کردیا۔

‎1987-89 کا ایک ایسا ہی واقعہ ان کی زندگی کے آسمان پر روشن ستارے کی مانند دمکتا نظر آتا ہے۔ وہ ایجوٹنٹ جنرل تھے۔ آرمی میڈیکل کالج میں معیار پر پورا نہ اترنے والے ایک نوجوان کو داخلہ دینے پر اصرار کیاجارہا تھا لیکن انہوں نے صاف انکار کردیا۔ بتایا گیا کہ طالب علم کے داخلے کا حکم کسی اور نے نہیں بلکہ براہ راست خود صدر جنرل ضیاءالحق نے دیا تھا اہمیت میرٹ کی تھی، وہ اسی پر قائم رہے۔

‎بری فوج کی پیشہ وارانہ زندگی کے 30 سال بعد وہ لیفٹیننٹ جنرل بنے۔ 1993 کی گرمیوں میں ان کی ریٹائرمنٹ ہونا تھی۔ لیکن قسمت کا ہیر پھیر دیکھیں کہ بری فوج کے سربراہ جنرل آصف نوازجنجوعہ کی ناگہانی موت نے نئی صورتحال پیدا کردی۔ اپنی ریٹائرمنٹ کی منصوبہ بندی میں مصروف جنرل کے لئے قدرت نے ایک نیا سفر لکھ رکھ تھا۔ اس وقت کے صدرغلام اسحاق خان نے وزیراعظم نوازشریف کی مشاورت سے وحیدکاکڑ کو بری فوج کا سربراہ بنا دیا اس پرشکوہ اور اہم عہدے پر تعینات کرکے جنرل کا کڑ سمیت سب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔

‎اوائل جوانی سے اصول کی سیدھی راہ چلتے اس فوجی نے بری فوج کے سربراہ کے طورپر بھی وہی رویہ برقرار رکھا۔ دو لیفٹیننٹ جنرلز کو جب انہوں نے ریٹائر کرکے گھر بھیج دیا تو دنیا کو معلوم ہوا کہ انہیں ’راہ مستقیم‘ سے بھٹکنے والے ہرگز پسند نہیں۔ ان میں ایک موجودہ اور دوسرے سابق ڈی جی آئی ایس آئی تھے۔یہ سب کے لئے واضح اور دوٹوک پیغام تھا کہ فوجی نظم وضبط کے برعکس کسی قسم کی غیرپیشہ وارانہ سرگرمی انہیں قطعا برداشت نہیں۔

1990  ‎کے عام انتخابات نے نوازشریف کے سر پر وزارت عظمی کا ہما بٹھادیا۔ پنجاب میں وزارت اعلی کا تجربہ ہونے کے بعد ان کی ترقی ہوگئی تھی اور وہ پہلی بار وزیراعظم بن گئے۔ طاقت اور اختیار ملتے ہی ان کی آنکھیں اور مزاج بدل گیا۔ وزیراعظم کو برطرف کرنے اور قومی وصوبائی اسمبلیوں کو تحلیل کرنے کے اختیار کا کلہاڑا صدر مملکت سے چھیننے کے لئے کوششیں شروع ہوگئیں۔ گھاٹ گھاٹ کا پانی پینے والے صدر غلام اسحاق خان نوازشریف کے ارادے پہلے ہی بھانپ چکے تھے۔ اقتدار کی غلام گردشوں کے پرانے اور ماہر کھلاڑی غلام اسحاق خان نے وقت ضائع کئے بغیر اپریل 1993 میں نوازشریف حکومت کو کرپشن کے الزامات کے تحت گھر بھیج دیا اور جولائی میں نئے انتخابات کرانے کا اعلان ہو گیا۔

‎اسی دوران عدالت عظمی نے نوازشریف کے حق میں فیصلہ دے کر انہیں پھر سے وزیراعظم کی کرسی پر بٹھا دیا۔ نوازشریف کے اعتماد اور مزاج کو عدالت عظمی کے فیصلے نے آسمان پر پہنچا دیا اور رعونت سر چڑھ کر بولنے لگی تھی۔ صدر اور وزیراعظم کے مناصب کھلم کھلا جنگ کے مورچوں میں بدل گئے اور پورے ملک میں سیاسی تماشا عروج پر پہنچ گیا۔ سیاسی دھینگا مشتی اور ایسی دھماچوکڑی مچی کہ صدر اور وزیراعظم کے مناصب کا آئینی بھرم ہی جاتا رہا۔ صدر اور وزیراعظم کھل کر ایک دوسرے کے سامنے آگئے۔ اس ملاکھڑے کی وجہ سے نوبت یہاں تک پہنچی کہ قومی سلامتی کو لاحق خطرات کی باتیں برسر عام ہونے لگیں۔ پنجاب اسمبلی پر اختیار کے نام پر رینجرز اور پولیس میں مسلح تصادم نے حالات کی سنگینی انتہا تک پہنچا دی۔

‎جولائی 1993 کے اس آئینی و قومی بحران میں جنرل وحید کاکڑ نے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ اگرچہ ان کے پاس پورا موقع تھا کہ وہ حالات کا اپنی ذات کے لئے فائدہ اٹھا لیتے, مارشل لا لگا دیتے لیکن تاریخ میں وحید کاکڑ کا کردار بڑا ہی مختلف رہا۔ وحید کاکڑ کا یہ کردار خود ان کی بری فوج کے سربراہ کے اعلی ترین منصب پر تقرری کرنے والے صدر غلام اسحاق کے لئے ایک بڑے دھچکے سے کم ثابت نہ ہوا۔ انہیں ہرگز یہ توقع نہیں تھی کہ جس شخص کو انہوں نے دوسروں پر ترجیح دے کر آرمی چیف بنایا، اس نے ان کا ساتھ نہیں دیا۔ اس سارے عمل کی خوبصورتی یہ تھی کہ جنرل کاکڑ نے کسی بریگیڈ کو حرکت دی اور نہ ہی ڈنڈا گھمایا لیکن صدر اور وزیراعظم دونوں چپ چاپ گھر بھی چلے گئے۔ یہ طرز عمل نظریہ ضرورت کے تحت اقتدار میں گھس آنے والے جرنیلوں کی مکروہ روایات کے برعکس تھا۔

‎اس سیاسی کشمکش سے ملک کو نجات دلانے میں آرمی چیف جنرل وحید نے آئینی طریقہ کار اپنایا۔ چئیرمین سینٹ وسیم سجاد نے قائمقام صدر کا عہدہ سنبھال لیا۔ معین قریشی کو بیرون ملک سے درآمد کیا گیا تاکہ وہ آزادانہ اور غیرجانبدارانہ انتخابات کو یقینی بنائیں نگران کابینہ نے ذمہ داریاں سنبھال لیں۔

‎جنرل کاکڑ نے 90 دن کی متعین آئینی مدت کے اندر انتخابات کرا دئیے۔ دلچسپ امر یہ تھا کہ جنرل وحید کاکڑ کے “ماورائے آئین” اقدامات کو کسی شخص نے عدالت میں چیلنج نہیں کیا۔ وہ اس لحاظ سے منفرد شخص ہیں کہ انہوں نے ان واقعات کے حوالے سے کوئی لب کشائی کی اور نہ ہی انٹرویوز کی زینت بنے۔ انہیں عوام اور فوج دونوں میں یکساں احترام ملا۔ انہوں نے سیاسی افراتفری کا فائدہ اٹھاکر مارشل لاء لگایا نہ ہی فوج کو کسی سنگین تنازعے میں ملوث ہونے دیا۔ نہایت دانائی سے صورتحال سے ملک کو بہتری کی طرف نکال لے گئے۔

‎جنرل وحید کاکڑ نے اپنے پیش رو جرنیلوں سے ہٹ کر کیوں رویہ اپنایا؟ اس پر بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سیاستدان نے نہایت دلچسپ تبصرہ کیا۔ ان کے مطابق جنرل کاکڑ ’سینڈھرسٹ‘ سے فارغ التحصیل جنرل نہیں جو نوآبادیاتی ذہن کی تربیت گاہ تھی۔ لورالائی کے پہاڑی سلسلے کا یہ ذہین اور روشن خیال شخص الگ تھا۔ اس نے بری فوج کی جنگ لڑنے اور پیشہ وارانہ اہلیت کو مزید سنوارا، مزید مضبوط اور طاقتور بنایا۔ سب سے بڑھ ان کی خوبی یہ تھی کہ انہوں نے سیاست کو سمجھا اور سیاسی عمل کو آگے بڑھایا۔

‎کہا جاتا ہے کہ 2010 سے پہلے ہمارے بہت سارے جنرل آفیسر ایسے تھے جنہوں نے 1965 یا 1971 کی جنگوں یا بلوچستان میں بدامنی کے خلاف آپریشن میں عملا حصہ نہیں لیا تھا۔ لیکن آج ہماری تمام سینئر فوجی قیادت نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران بدامنی کے انسداد کے لئے ہونے والی کارروائیوں میں کسی نہ کسی درجے میں حصہ لے رکھا ہے۔ جنرل وحید کاکڑ نے 5 ایف ایف رائفل کمپنی کے کماندار کے طورپر 1965 میں سیالکوٹ کے مشہور چونڈہ کے محاذ پر حصہ لیاتھا۔ 1971 کی جنگ میں سلیمانکی کے محاذ پر وحید کاکڑ نے بریگیڈ میجر کے طور پر وطن کا دفاع کیا۔ اس طرح ان دونوں بڑے معرکوں میں انہوں نے بھرپور حصہ لیا تھا۔

‎انتخابات کے نتیجے میں پاکستان پیپلزپارٹی اقتدار میں آگئی۔ محترمہ بے نظیر بھٹو شفاف انتخابات کرانے پر جنرل وحید کاکڑ کا بے حد احترام کرتی تھیں اور اکثر ان سے مشورے لیتیں۔ ستمبر1995 میں جنرل وحید کاکڑ نے جمہوریت کے لئے ایک مرتبہ پھر اس وقت اہم کردار ادا کیاتھا جب فوج کے افسران کے ایک گروہ نے بے نظیر کو قتل کر کے اقتدار پر قبضے کا منصوبہ بنایا۔ یہ سازش آئی ایس آئی اور ایم آئی نے ناکام بنا دی۔

1996‎ میں بری فوج کے سربراہ کے طورپر مدت ملازمت پوری ہوئی تو وزیراعظم بے نظیر بھٹو اور اس وقت کے صدر فاروق لغاری نے جنرل وحید کاکڑ کو مزید تین سال عہدے پر کام جاری رکھنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی لیکن وہ نہ مانے۔ انکار کے فیصلے سے قبل انہوں نے کور کمانڈرز سے بھی رائے مانگی تو ان میں سے اکثریت نے مدت ملازمت میں توسیع قبول کرنے کا مشورہ دیا۔ ان کے دو ساتھیوں کی رائے مختلف تھی۔ ان کا مشورہ تھا کہ آپ یہ توسیع نہ لیں۔ جنرل وحید کاکڑ نے اپنے ان دو ساتھیوں کی رائے پر عمل کیا۔

‎وہ راولپنڈی میں خاموش زندگی گزارتے ہیں۔ کبھی کبھار کہیں ان کی جھلک دکھائی دے جاتی ہے۔ جنرل کاکڑ ایک ایسی شاندار مثال کے طورپر آج بھی یاد کئے جاتے ہیں جنہوں نے تمام مواقع اور پیشکش کے باوجود اپنے عہدے کا ذات کے لئے فائدہ لینے سے انکار کیا۔ وہ ایک شاندار فوجی، بہترین جرنیل ایک محب وطن پاکستانی کے طورپر آج بھی نہایت احترام پاتے ہیں۔ انہوں نے اپنے طرز عمل سے وہ لکیر بھی کھینچ دی کہ آپ کے قدم کہاں رُک جانے چاہئیں۔ وطن کے سپاہی کا کوئی ذاتی ایجنڈا نہیں ہوا کرتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •