نام میں کیا رکھا ہے؟
ایلف شفق ایک ترک ناول نگار ہیں۔ وہ اپنے ناول ’دی فورٹی رولز آف لو‘ میں ایک مکالمہ تحریر کرتی ہیں : ’شمس تبریز کی جب ایک بھکاری حسن سے ملاقات ہوتی ہے تو وہ اپنا تعارف کروانے کے بعد اس کا نام دریافت کرتے ہیں۔ اس پر بھکاری قہقہہ لگاتے ہوئے گویا ہوتا ہے کہ مجھ جیسے انسان کے لیے بھلا نام کی کیا ضرورت ہے؟ شمس تبریز جواب دیتے ہیں کہ ہر کسی کا کوئی نام ہوتا ہے۔ خدا کے بھی تو ان گنت نام ہیں ؛ ہم تو صرف ننانوے جانتے ہیں۔ اگر خدا کے اتنے نام ہو سکتے ہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک انسان جو کہ خدا کا اظہار ہے وہ بغیر کسی نام کے ہو؟‘
ماہرین زبان کا یہ ماننا ہے کہ زبان کا ایک اہم استعمال چیزوں، لوگوں، جگہوں وغیرہ کو نام دینا ہے۔ انسان کی پیدائش پر والدین اس کا نام رکھتے ہیں جس سے وہ پکارا جاتا ہے۔ کچھ لوگ تاہم اپنے اصلی نام کی بجائے کچھ اور کہلوانا پسند کرتے ہیں جیسے کچھ آرٹسٹ، لکھاری اور شعراء اپنے لیے بالترتیب اسٹیج نیم، قلمی نام اور تخلص کو اختیار کر لیتے ہیں۔ اور کبھی کبھار یوں بھی ہوتا ہے کہ لوگ اپنی محبت یا ناپسندیدگی کا اظہار کرنے کے لیے کوئی نک نیم یا عرف تجویز کر لیتے ہیں۔
محترم قارئین، یہ رام کتھا تو آپ کو ویسے ہی سنا دی اب اصل مدعا کی جانب آتے ہیں۔ ہم سب بخوبی آگاہ ہیں کہ نام کسی بھی انسان، جگہ یا ادارہ کی پہچان ہوا کرتا ہے مگر کیا کیجیے ہمارے ساتھ تو انتہائی نا انصافی برتی گئی ہے۔ جس کا جو دل کرتا ہے کہہ دیتا ہے۔ جس کے منہ میں جو نام آئے جڑ دیتا ہے۔ یہ کہاں کا اصول ہے؟
دیکھیے ناں مرحومہ عاصمہ جہانگیر اپنے ٹی وی انٹرویوز میں اکثر ہمارے لیے ’بوائز‘ کا نام استعمال کرتی رہتی تھیں۔ ہم کیا چھوٹے بچے (لڑکے ) ہیں؟ ہم تو بڑے ہیں، باپ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مگر اس سے مراد وزیراعلیٰ بلوچستان کی بلوچستان عوامی پارٹی (BAP) والا ’باپ‘ نہیں ہے۔ بات یہاں تک رہتی تو بھی ٹھیک تھا مگر مولانا فضل الرحمٰن نے تو حد ہی کر دی۔ سیدھا ہی ہمیں ’نکے دا ابا‘ (منے کے ابا) کہہ ڈالا۔ یہ تو ہمارا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔ یہ قطعی نامنظور ہے۔
اب ذرا نواز شریف کو لے لیجیے۔ جی ٹی روڈ پر سب سے پوچھتے پھر رہے تھے کہ مجھے کیوں نکالا۔ پھر نجانے کیا ہوا کہ یکایک ہمیں ’خلائی مخلوق‘ (Aliens) کا نام دے ڈالا۔ اب اگرچہ نون لیگ خود بھی اس نام سے تائب ہو چکی مگر آپ ہی بتائیں کہ اب نام تو پڑ گیا ناں۔ یہ اب کیسے واپس ہو؟ پھر بات یہیں رکی نہیں۔ وہ تو صدائیں لگاتے تھے کہ ہمارا بیانیہ ’ووٹ کو عزت دو‘ ہے۔ حالانکہ اپنے سگے بھائی تک کو یہ بیانیہ نہ سمجھا سکے۔ بلکہ الٹا ان کو یہ کہا جانے لگا کہ یہ درحقیقت ’بوٹ کو عزت دو‘ کا بیانیہ ہے۔ اب یہ ’بوٹ‘ کہاں سے آ گیا بھئی؟ یہ ہماری طرف نہیں تو فیفا کے گولڈن بوٹ کی طرف اشارہ ہے کیا؟
ابھی پچھلے انتخابات میں ملتان سے ایک لیگی امیدوار کو کچھ ’نامعلوم افراد‘ نے زدو کوب کیا کہ انتخاب آزاد لڑو تو موصوف نے آؤ دیکھا نہ تاؤ سیدھا ہمارا نام لے دیا۔ حضرت نے بعد ازاں انہیں ’محکمہ زراعت‘ والے کہہ کر اپنی جان تو چھڑا لی اور وہ معلوم نہیں کون تھے مگر جگ ہنسائی تو ہماری ہوئی ناں۔
ادھر بلاول بھٹو کی بھی سن لیں۔ عمران خان چونکہ کرکٹ کا پس منظر رکھتے ہیں اسی لیے انہیں ’سلیکٹڈ‘ اور ان کو سلیکٹ کرنے والوں کے لیے بلاول نے ’سلیکٹرز‘ کا نام متعارف کروا دیا۔ سبھی نے آنکھیں ہماری طرف کر لیں۔ فی الواقع تو یہ عوام کا فیصلہ ہوتا ہے۔ لہٰذا آپ خود ہی انصاف کریں کہ ہم کوئی چیف سلیکٹر ہیں جو کپتان اور اس کی ٹیم کو سلیکٹ کریں گے؟
پنجاب اور سندھ کے بعد بلوچستان کا رخ کرتے ہیں۔ سینیٹ کے چیئرمین کے گزشتہ انتخابات کے موقع پر بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینیٹر میر حاصل بزنجو مرحوم نے ایوان میں اپنی تقریر کے دوران کندھوں پر ہاتھ لگا کر اشارے سے بتایا کہ یہ لوگ اصل کرتا دھرتا ہیں۔ اب کسی کو شک ہے کہ یوں کس کا نام لینا مقصود تھا؟ تو جناب، ہمارے کندھوں پر ہی اسٹارز لگے ہوتے ہیں۔ ’ستاروں والے‘ کہہ کر ہمیں ہی رسوا کیا جا رہا تھا۔
خیبر پختونخوا کی تو بات ہی نہ کریں۔ وہاں پشتونوں کے تحفظ کے لیے ایک تحریک چل رہی ہے جو نہ تو صاف ہے نہ شفاف ہے۔ ان کے دو ایم این ایز بھی ہیں۔ یہ لوگ اپنے جلسوں میں ’یونیفارم‘ کی رٹ لگائے ہوتے ہیں۔ گو یہ نام پہلے بھی مستعمل تھا مگر انہوں نے تو ملک بھر میں ہمیں شرمندہ کیا ہے۔ یہ کسی صورت برداشت نہیں۔
سبھی درکنار، ہمیں تو اسلام آباد میں موجود اپنے وزیراعظم سے بھی گلہ ہے۔ انہوں نے 2014 ء میں اپنے دھرنے کے دوران خواہ مخواہ یہ کہہ دیا کہ عنقریب ’امپائر‘ کی انگلی اٹھنے والی ہے اور دھاندلی کے الزامات پر نواز شریف کو گھر جانا ہو گا۔ اب یار دوستوں نے بغیر کسی حیل و حجت کے امپائر کا نام ہم پہ چپکا دیا۔ حالات یہ تھے کہ خان صاحب وزیراعظم بھی نہیں بنے تھے اور ہم ان کی کرکٹ کی اصطلاحات کا شکار ہو گئے۔
اب میڈیا کو ہی دیکھ لیں۔ اردو صحافت میں ہمیں اسٹیبلشمنٹ کا نام دیا جاتا ہے۔ کچھ صحافی مقتدر قوتیں یا ریاستی ادارے بول لیتے ہیں۔ کچھ صحافی اپنی حدوں کو پھلانگ کر ہمیں پس پردہ قوتیں، فرشتے، چھڑی والے اور پنڈی والے جیسے ناموں سے بھی تعبیر کرتے ہیں اور کچھ تو بالکل ہی آپے سے باہر ہو کر ہمیں خلائی مخلوق، نکے دا ابا، سلیکٹرز اور بوٹوں والے پکارتے ہیں۔ یہ سرا سرا زیادتی ہے۔ دوسری جانب انگریزی صحافت میں ہمیں ’ڈیپ اسٹیٹ‘ کا نام دے رکھا ہے جس کی ہمیں کوئی خاص سمجھ تو نہیں مگر کوئی برا نام ہی ہو گا۔ اسی طرح ایک صحافی نجم سیٹھی نے ہمارے لیے ’ملٹیبلشمنٹ‘ (Miltablishment) کا نام تواتر کے ساتھ استعمال کیا ہے۔ اس کے ذریعہ غالباً ہمیں براہ راست بدنام کیا جا رہا ہے۔
حقیقت حال مگر یہ کہ ہم ملکی آئین و قانون کی پاسداری کرتے ہیں اور اپنے حلف سے وفاداری نبھاتے ہوئے صرف اور صرف اپنے کام پہ توجہ دیتے ہیں۔ ہمیں نام بنانے کا کوئی شوق نہیں، ہمارا تو کام بولتا ہے۔ اور یہ جو ہمیں مختلف ناموں سے پکارتے ہیں یہ لوگ ڈرپوک ہیں اور کھل کر ہمارا نام نہیں لے سکتے۔ یہ دراصل وہ جمہوری عناصر ہیں جو کہ وسیع تر ملکی مفاد، نظریہ ضرورت، تزویراتی گہرائی اور ففتھ جنریشن وار فیئر جیسے بیانیوں اور ڈاکٹرائنز سے قطعی نابلد ہیں اور ہمہ وقت ہمارے کردار کو شک کی نگاہ سے دیکھتے رہتے ہیں۔


