ہیلو ریپسٹ! سنو اے گھٹیا انسان!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خط لکھنے کے آداب میں ہمیں یہ سکھایا جاتا ہے کہ خط شروع کرنے سے پہلے میری پیارے /پیاری یا کوئی بھی محبت کا اظہار کرتا لفظ لکھنا چاہیے۔ تا کہ خط پڑھنے والے کو ایک خوشی کا احساس ملے۔ مگر ایک ریپسٹ کو پیارے ریپسٹ لکھنا بہت عجیب سی بات ہو گی۔ ویسے بھی میرا ضمیر یہ گوارا نہیں کرتا کہ میں تمہارے لیے کوئی ایسا لفظ کہوں۔ جسے سن کے تم خوشی محسوس کرو۔ میں تمہارے لیے وہ لکھنا چاہوں گی۔ جسے پڑھ کے کم سے کم تم شرمندگی تو محسوس کرو۔ یہ بھی نہیں تو تمہیں یہ اندازہ تو ہو کہ لوگ تمہاری حرکتوں کی وجہ سے تم سے نفرت کرتے ہیں۔ یہ نفرت کا احساس تمہیں محسوس ہونا چاہیے۔

ریپ سے متعلق میری پہلی واقفیت ہندوستانی و پاکستانی فلمز سے شروع ہوئی۔ ریپ کے سینز میں ہیروئن کی ساڑھی کھلتے ہی ہمیں کمرے سے نکال دیا جاتا۔ یا پھر فلم فارورڈ کر دی جاتی۔ پاکستانی فلموں میں ولن ہیروئن کی بہن کو اٹھا لے جاتا۔ اور ہوا میں ایک دوپٹہ سا لہرا کے دکھایا جاتا۔ اور پھر پھٹے کپڑے اور زخمی چہرے کے ساتھ ایک لڑکی سکرین پہ نظر آتی۔ تب سے دماغ میں یہ بیٹھ گیا۔ کہ لڑکی کو ہمیشہ مرد سے بچ کے رہنا چاہیے۔ عمر بڑھی تو بہت سی چیزوں کے شعور کے ساتھ ساتھ یہ بھی پتہ چلا کہ ریپ کیا ہوتا ہے۔ اور ریپسٹ کون ہوتا ہے۔

مجھے نہیں علم کہ وہ کون سی ایسی چیز ہے جو تمہیں ایک عورت، ایک لڑکی، ایک بچی/بچے یا ایک قبر میں پڑی عورت کے ساتھ سیکس کرنے پہ آمادہ کرتی ہے۔ کیونکہ میرے علم کے مطابق تو سیکس باہمی رضامندی سے ہونے والا عمل ہے۔ تو جب دوسرا فریق اس کے لیے تیار ہی نہیں تو کیسے اس کے ساتھ جنسی عمل کیا جا سکتا ہے۔ ایسی کون سی چیز ہے۔ جو تمہیں راہ چلتے عورت کی چھاتیوں یا اس کے کولہے پہ ہاتھ مار کے لذت محسوس کراتی ہے۔ کیوں ہر عورت چاہے وہ جس بھی حلیے میں ہے۔ اسے دیکھ کر تمہاری رال ٹپک پڑتی ہے۔

مجھے ان لوگوں پہ بھی حیرت ہے۔ جو یہ کہتے ہیں کہ عورت کا لباس مرد کو جنسی زیادتی پہ اکساتا ہے۔ کیا کفن بھی سیڈیوس کرتا ہے؟ منوں مٹی تلے پڑی عورت جس کی نہ نبض چل رہی ہوتی ہے۔ نہ اس کے ہونٹوں پہ لالی نہ گالوں پہ غازہ ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ زیادتی کو کیسے جسٹیفائی کر سکتے ہیں۔ کیا قبرستان کے ماحول میں ریپ کرتے اپنی موت یاد نہیں اتی۔ اس کی بھی کوئی تاویل نکال لائیے۔

ہمارے بڑے نامور عالم فرماتے ہیں۔ کہ عورت کھیل کود کرتے ہوئے مرد کو جنسی طور پہ اکساتی ہے۔ ہمارے ایک اور چہیتے عالم فرماتے ہیں۔ میرے دیس کی بیٹیوں کو کون نچوا رہا ہے۔ میرے دیس میں بے حیائی پھیلی ہے۔ ان کے منہ سے یہ سننے کی حسرت رہی کہ خدا نے مردوں کو نظریں نیچی رکھنے کا بھی حکم دیا ہے۔ اس عورت کے متعلق بھی ان کی زبانیں خاموش ہیں۔ جو پردے کا پورا انتظام کرتی ہے۔ پھر بھی ہراس بھی ہوتی ہے۔ اور ریپ بھی ہو جاتی ہے۔

مدارس میں، سکولز میں کالج اور یونیورسٹی میں۔ ہر جگہ ہر عمر کی عورت بچیاں بچے ریپ ہو جاتے ہیں۔ اب بچوں کے پیمپر بھی اکساتے ہیں کیا۔ کیونکہ مملکت خداداد میں تین ماہ کی بچی سے لے کر ستر سال تک کی عورت ریپ ہو چکی ہے۔ اب چھوٹے بچے تو پیمپر ہی لگاتے ہیں۔ پیمپر کے لیے بھی کوئی فتوی لے آئیے۔ جیسے جینز کے لیے ہے۔ اصل میں ایسے تمام لوگ تمہاری طاقت ہیں۔ ان کی سرپرستی میں تم جسے چاہے جب چاہے اپنی ہوس کا نشانہ بنا لیتے ہو۔

ہمارے لباس تمہارے اندر کی بھوک جگاتے ہیں۔ تم کہتے ہو۔ میرا کوئی قصور نہیں۔ مجھے تو شیطان نے بہکا دیا مجھے یقین ہے شیطان بھی تمہاری حرکتوں سے شرماتا ہو گا۔ اگر کبھی مجھے شیطان ملا تو میں اسے ضرور پوچھوں گی، کہ ایک ریپسٹ کے کرتوتوں سے اس نے کیا محسوس کیا۔ اتنے سارے واقعات نظروں کے سامنے گھومنے لگتے ہیں۔ جب بھی کسی نئے واقعے کا علم ہوتا ہے۔ پرانے واقعات بھی اسی تسلسل سے آنکھوں کے آگے ناچنے لگتے ہیں۔ ریپ کی اذیت کے بعد ان معصوموں کو تمہارے مزید ظلم سہنے پڑتے ہیں۔

کسی کو کرنٹ لگا دیتے ہو۔ کسی کو پتھر مار مار کے مار دیتے ہو۔ کسی کا گلا دبا دیتے ہو۔ کسی کو تیزاب میں ڈال دیتے ہو۔ کسی پہ گرم پانی ڈالتے ہو۔ کہ لاش پہچانی نہ جائے۔ جن کے جگر گوشے ہوتے ہیں۔ کیا ممکن ہے کہ وہ اپنے جگر کے ٹکڑوں کو نہ پہچان سکیں۔ کیا گزرتی ہے اپنے پھولوں کو مسلا ہوا دیکھ کر ان کے دلوں پہ۔ تم کیا جانو۔

ریپسٹ کا کوئی نام نہیں ہوتا۔ تمہارا کوئی نام نہیں ہے۔ تم کوئی بھی ہو سکتے ہو۔ ایک ماموں، چاچو، خالو، پھپھے، تائے، بھائی اور اپنے ہی نطفے سے پیدا کرنے والے باپ بھی۔ تمہارے لیے کسی رشتے کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ تمہیں بس اپنے کھڑے سانپ کو کسی بل میں گھسانا ہے۔ وہ بل اب کس نام سے تمہارے ارد گرد ہے۔ تمہیں کچھ پرواہ نہیں۔ تم ایک بے شرم انسان ہو۔ تمہاری وجہ سے تمہاری صنف کے وہ لوگ بھی شرمندہ ہوتے ہیں۔ جن میں انسانیت موجود ہے۔ جو کم سے کم رشتوں کا تقدس تو برقرار رکھتے ہیں۔

ہماری جینز پہ اور دوپٹے پہ اعتراض کرنے والے بھی بے شرم ہی ہیں۔ جو ایک مرد کو کسی عورت کی عزت کرنا تو سکھاتے نہیں۔ مگر عورت کو نصیحت کرتے ہیں کہ اکیلی گھر سے باہر نہ نکلے۔ بھئی آپ باہر کا ماحول اس قابل کیوں نہیں بناتے کہ کوئی بھی بچی، لڑکی عورت اکیلے باہر نکلتے ہوئے خوفزدہ نہ ہو۔ تم تو اب بچوں کا بھی لحاظ نہیں کرتے۔ کل تم نے ایک عورت کو بچوں کے سامنے ریپ کر دیا۔ تم نے ایک ریپ نہیں کیا۔ تم نے تین ریپ کیے۔

ایک اس عورت کا۔ دو اس کے بچوں کے۔ ساری عمر وہ بچے اس واقعے کے اثر سے نہیں نکل سکیں گے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ کل کو وہ زمانے سے باغی ہو جائیں۔ اذیت پسند بن جائیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ عمر بھر سہمے رہیں۔ وہ عورت عمر بھر اپنے آپ کو کوستے گزار دے کہ وہ کیوں گھر سے نکلی۔ اس نے پٹرول کیوں نہیں چیک کیا۔ کیونکہ پٹرول ختم ہونے پہ ہی تو تمہیں اس تک پہنچنے کا موقع ملا۔

تم جانتے ہو یہ سماج وکٹم بلیمنگ میں ماہر ہے۔ بھانت بھانت کی بولیاں بولے گا۔ اور تمہارے لیے بچ نکلنے کا موقع بن جائے گا۔ ایسے تمام لوگ بھی تمہارے ساتھی ہیں۔

ریاست کو دوسرے کاموں سے فرصت نہیں۔ ریپ تو عام بات ہے۔ دو چار سو عورتیں بچے بچیاں اگر کسی کی تسکین کا سامان بن جاتی ہیں۔ تو ریاست کو کیا فکر۔ ان کے تو نصیب ہی ماڑے (خراب) تھے۔ ریاست کی ترجیحات میں انصاف، صحت، تعلیم کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ریاست نے خود بھی بھنگ چڑھا رکھی ہے۔ ساڈے لئی وی جائز ہو گئی اے (ہمارے لیے بھی جائز ہو گئی ہے)۔ ہر ظلم زیادتی پہ بھنگ گھوٹیے۔ پی کے لمبی تان کے سو جائیے۔ سب اچھا اچھا نظر آئے گا۔ ریاست کے لیے ایک فقرہ ہے کہ عوام مر رہے ہیں اور ان کو ہری ہری سوجھ رہی ہے۔ سوچ و شعور کو بھنگ کا گھوٹا لگائیے۔ بس اللہ خیر اور بیڑے پار۔ تمہاری ساتھی ریاست بھی تو ہے۔ قانون بھی ہے۔ جس میں دفعات لکھی تو ہیں۔ سزائیں موجود تو ہیں۔ مگر عمل درآمد کون کرائے۔ تبھی تو تم گردن اکڑائے سرعام یہ گھٹیا عمل کرتے پھرتے ہو۔

سنو اے گھٹیا انسان! تم قابل نفرت انسان ہو۔ تم کچھ بھی اچھا کر لو۔ مگر تمہارا یہ گھٹیا عمل کسی طور معاف ہونے کے قابل نہیں۔ تم سے ہمیں گھن آتی ہے۔ تم سمجھتے ہو کہ تم نے اپنی مردانگی دکھائی۔ مگر اصل میں تم نامرد ہو۔ تم اپنی نامردی کو چھپانے کے لیے ایسا کرتے ہو۔ مگر تم یاد رکھو کہ تم مرتے دم تک ہم جیسی عورتوں سے لعنت کھاتے رہو گے۔ ہم نے جینز بھی پہننی ہے۔ اور ہم نے اپنے حقوق کے لیے آواز بھی اٹھانی ہے۔

ہم نے یہ نعرے بھی لگانے ہیں کہ میرا جسم میری مرضی۔ میرا جسم میری مرضی ہی ہو گا۔ تم میرے جسم کو پنجنگ پیڈ سمجھ کے اس میں پنچ نہیں لگا سکتے۔ ہمارے جسموں کو ہماری مرضی کے بنا چھونے والے نامرد انسان تم جتنے مرضی ریپ کر لو۔ تم گالیوں کے حقدار رہو گے۔ ہمارے نزدیک تم نامرد تھے۔ ہو اور ہمیشہ نامرد ہی رہو گے۔ بے شرم انسان تم پہ اور تمہارے لیے گنجائشیں نکالنے والوں پہ بے شمار لعنت ہو۔ قیامت کے دن تک تم لعنت کے مستحق ہی رہو گے۔
فقط ایک عام عورت

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •