کفر کا نظام چل سکتا ہے، ظلم کا نہیں
اس دنیا میں روزانہ ہر عورت کے ساتھ ریپ ہوتا ہے، تین سال کی بچی سی لے کے پچھتر برس کی بڑھیا تک۔ رنگ، نسل، مذہب، قومیت اور لباس کی کوئی قید نہیں۔ ساڑھی، برقع، نیکر، عبایہ، جینز، حجاب، فراک، اسکرٹ، شلوار، کچھ بھی پہنا ہو، کوئی فرق نہیں پڑتا۔ عورت رات کو دو بجے اکیلی سڑک پر ہو یا بس میں اپنے دوست کے ساتھ، کسی بھرے، پرے دفتر میں ہو یا نائٹ کلب میں، پنج وقتہ نمازی ہو یا کسی مرد کی طرح ڈرنک کرتی ہو، میرا جسم میری مرضی کے نعرے لگاتی ہو یا یتیم بچیوں کی پناہ گاہ کی محافظ ہو، ڈومنی ہو یا پردہ دار، چہرہ بغیر میک اپ کے رکھتی ہو یا غازے کی تہیں سجاتی ہو، قائداعظم کے مزار کے احاطے میں ہو یا اپنی قبر میں، ریپ کرنے والا اس کی لاش نکال کر بھی ریپ کرے گا اور مردوں کے اس معاشرے میں کچھ لوگ ہوں گے جو کہیں گے کہ کفن میں چہرہ ڈھانپا نہیں گیا تھا اس لیے ریپ ہوا۔
گزشتہ ہفتے 9 ستمبر کو لاہور کے علاقے گجر پورہ میں موٹروے پر خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا واقعہ پیش آیا۔ دو افراد نے موٹروے پر کھڑی گاڑی کا شیشہ توڑ کر خاتون اور اس کے بچوں کو نکالا اور سب کو قریبی جھاڑیوں میں لے گئے اور پھر خاتون کو بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنایا۔ تاہم ایسے موقع پر سی سی پی لاہور عمر شیخ حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے بولے کہ ان کو جی ٹی روڈ سے جانا چاہیے تھا، گاڑی کا تیل پانی بھی پورا کر کے چلنا ان کی ذمہ داری تھی۔
Read more
