پاکستان میں صحافتی کتب کا سرمایہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس سلسلے کے پہلے حصے کا عنوان تھا ”پاکستان میں صحافتی کتب کا المیہ“ جو جولائی میں پیش کیا گیا تھا۔ اس میں ہم نے چند ایسی کتب کا جائزہ لیا تھا جو پاکستان میں جامعات کی سطح پر پڑھائی جارہی ہیں۔ پاکستان میں صحافت کے طلبا و طالبات کو جو کتابیں اردو میں پڑھائی جارہی ہیں ان کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ ان میں صرف ایک ہی نقطہ نظر کو بیان کیا جاتا ہے اور مطالعہ پاکستان کی کتابوں کی طرح یک طرفہ تاریخ پڑھائی جاتی ہے۔ اسے ہم روزنامہ نوائے وقت کا مکتب فکر بھی کہہ سکتے ہیں۔

پاکستان میں اردو کی صحافتی کتابیں درجنوں کی تعداد میں لکھنے والے دو بڑے نام ہیں۔ ایک عبدالسلام خورشید اور دوسرے مسکین حجازی۔ یہ دونوں حضرت دائیں بازو کے قوم پرست تھے اور ان پر مذہبی اور دو قومی نظریہ شدت سے حاوی تھا۔ انہوں نے پاکستانی صحافت اور خاص طور پر اردو صحافت کو ایک خاص رخ پر ڈالا جو بڑی حد تک جنرل ضیا الحق کا دیا گیا رخ تھا جس میں صحافت کاکام یہ نہیں کہ تنقیدی صلاحتیوں والے صحافی پیدا کیے جائیں بلکہ یہ کہ ریاستی بیانیے کو نہ للکارا جائے اور اظہار رائے کی آزادی سے صرف نظر کر لیا جائے۔ ان صحافی مجاہدوں کا ذکر نہ کیا جائے جو فوجی آمریتوں کے خلاف لڑتے رہے، جیل جاتے رہے، کوڑے کھاتے رہے مگر آزادی اظہار رائے کے حقوق کے لیے سودے بازی نہیں کی۔ خورشید اور حجازی کی زیر نگرانی جو صحافت کے استاد بنے وہ بھی اسی قبیل کے تھے اور جو تحقیق کرائی گئی وہ بھی یک طرفہ ہی نکلی۔

اب ہم چند ایسی کتابوں کا جائزہ لیں گے جو پاکستانی صحافت کا اصل سرمایہ ہیں اور جنہیں پڑھ کر آج کے صحافتی طالب علم اس قابل ہوسکتے ہیں کہ خود میں تنقیدی صلاحیتیں بیدار کریں۔

حال ہی میں پروفیسر توصیف احمد خان کی کتاب ”پاکستان میں صحافت کی متبادل تاریخ“ آئی ہے مگر اس کتاب پر گفت گو کرنے سے پہلے پاکستان میں صحافت کی کچھ دیگر کتابوں پر بات کرلی جائے جو پاکستان میں صحافیوں، صحافت کے طلبا و طالبات اور عام قارئین کے لیے مفید ہوں گی۔

مثال کے طور پر اختر علی شاہ کی تالیف کردہ ایک کتاب ہے ”انتخابات اور اخبارات“ یہ اختر علی شاہ صاحب روزنامہ ”پاسبان“ حیدرآباد کے مدیر تھے جو 1960 کے عشرے میں شائع ہوتا تھا۔ اس کتاب سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح جنرل ایوب خان اور اس کی ریاستی مشینری نے اخبارات کو استعمال کرتے ہوئے براہ راست انتخابات کی مخالفت کی اور بالواسطہ انتخابات کی حمایت میں تحریریں لکھوائیں۔

اختر علی شاہ کی کتاب ”انتخابات اور اخبارات“ میں وہ مضامین، اداریے اور اخبارات کے مدیروں کے نام خطوط یک جا کردیے گئے ہیں جو 1964 کے اوائل سے براہ راست انتخابات کی مخالفت میں چھپنا شروع ہوئے۔ جنرل ایوب خان اپنی فوجی آمریت کے پانچ سال مکمل کرچکے تھے اور انہیں خطرہ تھا کہ اگر براہ راست انتخابات کرائے گئے تو لوگ انہیں بری طرح شکست دیں گے۔ اس کتاب سے اندازہ ہوتا ہے کہ جنرل ایوب خان نے بڑی بے شرمی سے اخبارات کو اپنے حق میں استعمال کیا لیکن پھر بھی انہیں محترمہ فاطمہ جناح کو ہرانے کے لیے کھلی دھاندلی کا سہارا لینا پڑا تھا۔

گوکہ وہ انتخابات براہ راست نہیں بلکہ بالواسطہ کرائے گئے تھے۔ اس وقت براہ راست انتخابات کے خلاف سب سے بڑی دلیل یہ دی جارہی تھی کہ ان پر اخراجات بہت ہوتے ہیں اور پاکستان جیسا غریب ملک ان کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اس کتاب میں ہم دیکھتے ہیں کہ درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں اخباری مضامین اور اداریے بالواسطہ انتخابات کا مطالبہ کر رہے تھے۔

ڈاکٹر مہدی حسن (ساہیوال جیل 1962)

اس کتاب کے علاوہ ایک اور بہت اچھی کتاب پروفیسر مہدی حسن صاحب کی ہے جو خود صحافی، استاد اور انسانی حقوق کے علم بردار رہے ہیں۔ ان کی کتاب کا موضوع ہے مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں میڈیا کا کردار۔

”مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور ذرائع ابلاغ کا کردار“ 1975 میں مکمل ہوگئی تھی مگر اسے 1977 میں پنجاب یونیورسٹی کے جنوبی ایشیا انسٹی ٹیوٹ نے شائع کیا۔ یہ غالباً پہلی کوشش تھی جس میں پاکستان کی چوبیس سالہ زندگی میں میڈیا کے کردار پر تحقیق کی گئی۔ مہدی حسن صاحب نے ثابت کیا کہ میڈیا جو زیادہ تر ریاست کے قابو میں تھا دراصل قومی سالمیت کے خلاف کام کر رہا تھا جب کہ بظاہر یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ قومی سالمیت کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ مشرقی اور مغربی پاکستان کے لوگ ایک ہی ملک کے شہری تھے مگر ان کے صرف مشترک مذہب کا نعرہ انہیں متحد رکھنے کے لیے ناکافی تھا۔ مہدی حسن صاحب نے اپنی عمیق تحقیق میں ملک کے دونوں حصوں کے اخبارات کی فائلیں کھنگالیں اور ریڈیو اور ٹی وی کی پروگرام شیٹ کا بھی جائزہ لیا جو انہوں نے محکمہ اطلاعات سے حاصل کیں۔ اس کتاب کے دس ابواب ہیں جن میں نہ صرف اخبارات اور ان پر لگنے والی پابندیوں کا جائزہ لیا گیا ہے بلکہ ریڈیو، ٹی وی، فلم اور محکمہ اطلاعات کے کردار کا بھی تجزیہ کیا گیا ہے کہ کس طرح یہ اپنے پروپیگنڈے میں ناکام ہوا۔

بعد میں ضمیر نیازی صاحب نے اخبارات پر پابندیوں اور قدغنوں کا تفصیلی جائزہ لیا اور انگریزی میں اپنی پہلی کتاب پریس ان چینز (Press in Chains) کے نام سے 1986 ءمیں شائع کی۔ اس کتاب کا اردو ترجمہ بڑی خوبصورتی کے ساتھ اجمل کمال نے ”صحافت پابندی سلاسل“ کے نام سے کیا۔ جسے 1994 میں شائع کیا اور پھر 2004 میں پاکستان اسٹڈی سینٹر نے بھی چھاپا۔

”صحافت پابند سلاسل“ ایک شاندار کتاب ہے جسے ہر صحافی کو ضرور پڑھنا چاہیے۔ اس شاندار کتاب کے بارے میں خود ضمیر نیازی صاحب اپنے پیش لفظ میں لکھتے ہیں۔

”سن انیس سو پینسٹھ میں اس کام کی ابتدا کاغذ کے ٹکڑوں پر پریس ایڈوائسوں کو نقل کرنے سے ہوئی۔ یہ ایڈوائیس نیوز روم میں محکمہ اطلاعات کی جانب سے ٹیلی فون پر موصول ہوتی تھیں۔ چند مہینوں میں کاغذ کے ٹکڑوں کے اس انبارکو سنبھالنا مشکل ہوگیا۔ تب ایک رجسٹر بنایاگیا اور تمام ایڈوائس تاریخ وار اس میں درج کی جانے لگیں۔ یہ وہ دن تھے جب الطاف گوہر مرکزی سیکرٹری اطلاعات کی حیثیت سے ایک ہزار پانچ سو ستانوے روزناموں، ہفتہ واروں، دو ہفتہ واروں، ماہ ناموں اور دیگر رسالوں کے عملاً ایڈیٹر ان چیف ہوا کرتے تھے اور علاقائی افسران اطلاعات اپنی حدود میں آنے والے اخباروں کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر سمجھے جاتے تھے جو طے کرتے تھے کہ اس خبر کو کتنی کوریج ملے گی۔ ”

صرف اس اقتباس سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ضمیر نیازی صاحب نے کس جانفشانی سے یہ تمام مواد اکٹھا کیا ہوگا۔ اس کتاب میں صحافت کی وہ روایتی تاریخ نہیں ہے جو عبدالسلام خورشید اور مسکین حجازی کی کتابوں میں ملتی ہے اور جسے قیام پاکستان کے بعد صحافت پر فوجی آمریتوں کے ظلم کا ذکرخال خال ہی ملتا ہے۔ خود ضمیر صاحب کے الفاظ میں ”اس کتاب کا مرکزی خیال اخباروں پر لگائی جانے والی پابندیوں اور اختلاف کی جرات کرنے والے صحافیوں کے خلاف کی جانے والی تادیبی کارروائیوں پر مبنی ہے۔“ (صفحہ 8 )

اس کتاب کا آغاز آزادی سے پہلے برطانوی حکومت کے اخبارات و رسائل پر ظلم و جبر کی داستان سے ہوتا ہے اور پھر پاکستان کے مختلف ادوار میں صحافت کو پابند کرنے کی کوششوں کا تفصیلی ذکر اور ان کے تحریری ثبوت دیے گئے ہیں۔ ضمیر نیازی ان حقیقی قوتوں کو بے نقاب کرتے ہیں جنہوں نے اس ملک میں جمہوریت کو بھی کچلا اور صحافت کو بھی، اور ایسا بار بار کیا گیا۔

ضمیر نیازی صاحب کی دوسری کتاب کا عنوان ہے ”پریس انڈر سیج (Press Under Siege) جو 1992 ءمیں کراچی پریس کلب نے شائع کی۔ اس کے بعد تیسری کتاب ”دی ویب آف سنسر شپ“ شائع ہوئی۔ آج پچیس سال بعد بھی اس موضوع پر یہ سب سے اچھی کتابیں ہیں۔ ان کے ابواب پر ہی ایک نظر ڈالیے مثلاً ”ایک خطرناک پیشہ“ ، ”گلیوں میں سنسر شپ“ ، ”خوف کی بیڑیاں“ اور ”ختم نہ ہونے والا محاصرہ“

اگر ”صحافت پابند سلاسل“ سنسر کی قینچیوں کے بارے میں تھی تو ان کی دیگر کتابیں تشدد کا احاطہ کرتی ہیں جن میں ہجوم کی طرف سے صحافیوں اور اخبارات کے دفاتر پر حملے اور نقاب پوش حملہ آوروں کی فائرنگ کے واقعات شامل ہیں۔ ضمیر نیازی کے مطابق 1965 سے 1991 تک انیس صحافیوں اور اخبارات کے کارکنوں کو قتل کیا گیا۔ اگر وہ آج حیات ہوتے تو دیکھتے اکیسویں صدی میں صحافیوں کے خلاف تشدد نے کیا رخ اختیار کیا ہے۔

ضمیر نیازی کی اردو کی کتابیں مرتب کرنے والوں میں راحت سعید کا بڑا نام ہے جنہوں نے 1997 میں ”حکایات خونچکاں“ مرتب کی جن میں تین مضامین، تین انٹرویو اور ضمیر نیازی کے بارے میں پانچ مضامین شامل ہیں خلیق ابراہیم خلیق، ڈاکٹر محمد علی صدیقی، وغیرہ نے لکھے ہیں۔ اس کتاب کو ”حکایات خونچکاں“ نام کی ایک اور کتاب سے گڈ مڈ نہیں کرنا چاہیے جو فیض احمد فیض کے بارے میں ”نئے افق“ نے گورنمنٹ کالج لاہور سے شائع کی تھی۔

راحت سعید کی مرتب کردہ ضمیر نیازی کی دوسری اردو کتاب کا نام ہے“ انگلیاں فگار اپنی ”سن 2000 میں شائع تھی۔ اس میں ضمیر نیازی صاحب کے انگریزی مضامین اور مقالوں کے اردو تراجم شامل ہیں۔ تیسری کتاب ضمیر نیازی صاحب کے انٹرویوز پر مشمل ہے جو انہوں نے پاکستان میں جرنلزم کی صورت حال کے بارے میں دیے۔ اس کتاب کا نام ہے“ باغبانی صحرا ”جو 2003 میں شائع ہوئی۔ یاد رہے کہ“ حکایات خوں چکاں ”فضلی سنز کراچی نے،“ انگلیاں فگار اپنی ”کو“ آج ”نے اور“ باغبانی صحرا ”کو“ شہرزاد ”نے شائع کیا تھا۔

ضمیر نیازی صاحب ادب کا بھی اعلیٰ ذوق رکھتے تھے اور ان کے ادبی مضامین کا مجموعہ ”مرحلہ شوق“ کے عنوان سے آصف فرخی نے مرتب کیا جو ڈاکٹر جعفر احمد نے پاکستان اسٹڈی سینٹر سے 2009 میں شائع کیا۔ اس میں آپ کو امیر خسرو اور اساتذہ غالب سے لے کر خواجہ احمد عباس، جاں نثار اختر کے علاوہ کرشن چندر، فراق اور فیض تک پر مضامین مل جائیں گے۔

انگریزی میں ضمیر نیازی صاحب کی غالباً اخری کتاب ”فیٹرڈ فریڈم (Fettered Freedom) ہے جو ان کے اٹھارہ مضامین کا مجموعہ ہے جنہیں ڈاکٹر جعفر احمد نے 2005 میں جمع کرکے شائع کیا۔

آخر یہ ضمیر نیازی صاحب تھے کون جن کی اتنی شاندار کتابوں کو پاکستانی صحافت کا سرمایہ ہی قرار دیا جاسکتا ہے۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ ضمیر نیازی صاحب کا تعلق میانوالی سے تھا جہاں کے دیگر نیازیوں سے ان کے تعلقات یا رشتے داری تھی۔ مگر آپ یقین کیجیے ایسا کچھ نہیں تھا۔ ان کا اصل نام ابراہیم درویش تھا اور وہ ادب اور سماجی علوم کے بڑے سنجیدہ قاری تھے۔ انہوں نے کلاسیکی اور روشن خیال پر مبنی ادب کا گہرا مطالعہ کیا تھا اور ترقی پسند تحریک سے بہت متاثر تھے۔ انہوں نے اپنے صحافتی سفر کا آغاز بمبئی کے روزنامے ”انقلاب“ سے کیا تھا۔

انہوں نے اپنا نیا نام دو، وجوہ سے اختیار کیا۔ ایک تو ان کے خیال میں صحافت باضمیر لوگوں کا پیشہ ہونا چاہیے اس لیے انہوں نے اپنا نام ضمیر رکھ لیا اور پھر وہ نیاز فتح پوری سے بہت متاثر تھے اس لیے انہوں نے خود کو ضمیر نیازی کہلوانا پسند کیا۔ ضمیر نیازی صاحب بمبئی سے پاکستان تقسیم کے فوراً بعد نہیں آئے بل کہ آزادی کے چھ سال بعد 1953 میں ایسا کیا۔ پہلے انہوں نے کراچی کے اردو روزنامے ”نئی روشنی“ میں ایک سال کام کیا اور پھر 1954 میں ڈان سے وابستہ ہوکر آٹھ سال وہاں رہے۔ پھر ”ڈیلی نیوز“ اور ”بزنس ریکارڈر“ سے وابستگی رہی جہاں وہ 1992 ءمیں ریٹائر ہوئے۔ انہوں نے ”زمین کا نوحہ“ کے عنوان سے اردو ادب اور شاعری کا ایک انتخاب بھی مرتب کیا۔

یہاں اس بات کا ذکر دل چسپی سے خالی نہ ہوگا کہ ضمیر نیازی کی کتاب ”پریس انڈر سیج“ کے شائع ہونے سے دو سال قبل اسی عنوان سے ایک کتاب، آئی اے رحمان صاحب کی منظر نام پر آچکی تھی۔ یہ ان کے کالموں کا مجموعہ تھا جو 1990 میں شائع ہوا۔ یہ آئی اے رحمان صاحب کے بہترین کالموں کا مجموعہ ہے جس میں 1980 کے عشرے کی صحافتی تاریخ کا ہمیں پتا چلتا ہے۔ خاص طور پر اس کتاب کا آٹھواں باب جس کا عنوان ”دی اسٹرگل فار ڈیموکریسی“ یا جمہوریت کے لیے جدوجہد ہے جو بہت معلوماتی ہے اور ہمیں سکھاتا ہے کہ کس طرح ایک آزادی صحافی پاکستان میں آمرانہ حکومت ے خلاف لکھ سکتا ہے اور جدوجہد کر سکتا ہے۔ انہوں نے اپنے کالموں میں جنرل ضیا الحق کے اسلامی نظام لانے کے نعروں کی خوب پول پٹی کھول کر رکھ دی ہے۔

1980 کے عشرے میں میڈیا کی متبادل تاریخ ہمیں ایک اور کتاب سے ملتی ہے جس کا نام ”من گھڑت عورت“ ہے جو 1997 میں شائع ہوئی۔ لاہور میں ”سمیرغ کلیکٹیو“ نے اس بات کا جائزہ لیا کہ جنرل ضیا الحق کی فوجی آمریت کے دوران میڈیا نے عورتوں کو کس طرح پیش کیا۔ یہ تحقیق نیلم حسین، نسرین شاہ، فریدہ شیر اور دیگر نے کی جب کہ اس کا اردو ترجمہ روبینہ سہگل نے کیا۔ سمیرغ نے اس تحقیق کا آغاز 1985 میں کیا تھا۔ جب اسلامی نظام کے نعرے لگاتے ہوئے جنرل ضیا الحق کو آٹھ برس ہو چکے تھے اور معاشرے پر فرسودہ خیالات کو مسلط کرنے کے لیے میڈیا کو بھی استعمال کیا جا رہا تھا اور قانون سازی بھی عوام پر اور معاشرے پر ایسی مسلط کی جارہی تھی جو بنیادی طور پر عوام دشمن اور معاشرے میں جمہوری اقدار کے خلاف تھیں۔

ڈاکٹر مہدی حسن کا ایک مضمون ”اخبارات اور پاکستانی معاشرہ“ 1996 میں کراچی سے نکلنے والے کتابی سلسلے ”ارتقا“ کے اٹھارہویں شمارے میں شائع ہوا۔ گو کہ یہ صرف دس صفحات کا مضمون ہے اس میں مہدی حسن نے بڑی خوبصورتی سے کوزے میں دریا بند کر دیا ہے۔ وہ ہمیں سمجھاتے ہیں کہ پاکستان میں اخباروں کا کردار خاصا متنازع ہے اور اس میں چار فریق ہیں۔ اول تو اخبار کے مالکان جو منافع کے پیچھے دوڑتے ہیں۔ دوسرے فریق کارکن صحافی ہیں جنہوں نے اصولوں اور آدرشوں کے لیے سر دھڑ کی بازی لگائی۔ ڈاکٹر مہدی حسن کے مطابق تیس برس پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس جو 1953 میں قائع ہوئی کی اولین ترجیح آزادی صحافت رہی اور پی ایف یو جے یہ جنگ تنہا لڑتی رہی۔ اس جدوجہد میں مالکان یا سیاسی جماعتیں شامل نہیں تھیں۔

البتہ 1977 میں جنرل ضیا الحق کی مارشل لا حکومت نے چند غیر اہم صحافیوں کو مراعات دے کر متوازی پی ایف یو جے بنوائی جسے مارشل لاحکام کی مکمل سرپرستی حاصل تھی۔ اس نام نہاد یونین نے مارشل لا کے تمام اقدامات کی حمایت کی لیکن اصل کارکن صحافی ضیا مارشل لا کے دوران بھی اخبارات کی بندش اور آزادی اظہار پر پابندیوں کے خلاف برسر پیکار رہے اور بعض لیبر یونینوں کے ساتھ مل کر تقریباً تین سو مزدور کارکنوں اور صحافیوں نے مارشل لا کے تحت سزاؤں کا سامنا کیا جن میں چار صحافیوں کو کوڑے مارنے کی تاریخ ساز سزا بھی شامل ہے۔

ڈاکٹر مہدی حسن کہتے ہیں کہ اس سلسلے میں تیسری فریق خود حکومت ہوتی ہے جو اخبارات کے خلاف کیا، سویلین اور کیا فوجی تقریباً یکساں پالیسی رکھتی ہے۔ پھر پریس کی کارکردگی کے حوالے سے چوتھے فریق خود عوام ہیں جو سب سے زیادہ اہم ہونے چاہیے مگر باقی تین فریق خود کو عوام سے زیادہ با اختیار، عقل مند اور قابل سمجھتے ہیں۔ مہدی حسن کی اپنی تحقیق کے مطابق 1992 میں پی ٹی وی پر خبروں میں روزنامہ اوسطاً پچاس سے زیادہ مرتبہ وزیر اعظم کا نام یا عہدہ دہرایا گیا پھر 1995 میں یہ تناسب کم ہو کر تیس مرتبہ تک ہوگیا۔

مہدی حسن اپنے اس مضمون کا اختتام اس شکایت پر کرتے ہیں کہ اخبارات عوام کے اصل مسائل یعنی صحت، تعلیم وغیرہ کو نظر انداز کرکے بیانات کی صحافت کر رہے ہیں کیوں کہ ایسا کرنا نام نہاد صحافیوں کے لیے آسان ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •