چند روز اور میری جاں فقط چند ہی روز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ملک کی معاشی بدحالی، بدنظمی، لاقانونیت اور افراتفری کی حالیہ صورتحال کے پس پشت کار فرما عوامل کو سمجھنے کے لیے سینیئر صحافی مطیع اللہ جان کے 22 جولائی کے سوچے سمجھے اغوا کے واقعے سے آغاز کرتے ہیں، دارالحکومت اسلام آباد جسے سیف سٹی کا نام دیا گیا ہے مطیع اللہ جان کے اغوا میں ملوث افراد تک پولیس کا پہنچنا ناممکن تھا۔ اغواکاروں کی طاقت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ مطیع اللہ جان کی اہلیہ کے اسکول کی سی سی ٹی وی فوٹیج کے علاوہ اسلام آباد کے کسی سی سی ٹی وی نے اغواکاروں کی ویڈیو نہیں لی، بعد ازاں مطیع اللہ جان کے اغواکاروں نے ہراساں کرنے، تشدد کا نشانہ بنانے اور اپنا پیغام ذہن نشین کرانے کے بعد مطیع اللہ جان کو رہا کر دیا۔

مطیع اللہ جان کے اغوا کے چند روز بعد ایس ای سی پی کے جوائنٹ ڈائریکٹر ساجد گوندل 04 ستمبر کو اغوا کیے گئے، پانچ روز تک محبوس رکھنے اور شمالی علاقہ جات کی سیر کرانے کے بعد انہیں بھی چھوڑ دیا گیا۔

12 ستمبر کو ایکسپریس ٹریبیون کے بلال فاروقی کو کراچی سے اٹھا لیا گیا جنہیں چند گھنٹے ہراساں کر کے چھوڑ دیا گیا۔

09 ستمبر کو لاہور۔ سیالکوٹ موٹروے ایم۔ 11 پر فرانس سے اپنے بچوں کو پاکستانی اقدار سے روشناس کروانے کے لیے آئی خاتون کے ساتھ بچوں کے سامنے زیادتی، 11 ستمبر کراچی کی عیسی نگری سے معصوم بچی کا اغوا اور جنسی زیادتی کے بعد قتل۔

13 ستمبر کو ایک ہی دن میں فیصل آباد سے تین بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی رپورٹ اسی روز جہلم میں امام مسجد کی قرآن پڑھنے آنے والی بچی کے ساتھ جنسی درندگی کی کوشش، 13 ستمبر کو ہی احمد پور شرقیہ میں 12 برس کی بچی کے ساتھ ایک با اثر شخص کا گھر میں گھس کر جنسی زیادتی کرنا۔

یہ چند گھناونے جرائم ہیں تمام نہیں، جو پچھلے چند دنوں میں پہ در پہ پیش آئے ہیں، یہ جرائم معمول کے واقعات بھی نہیں ہیں اور نہ ہی تیزرفتار الیکٹرانک میڈیا کا ذرائع ابلاغ پر بڑھ جانے والے اثرات کا نتیجہ ہیں۔

تواتر سے پیش آنے والے ان واقعات کا اصل منبع پچھلے ساٹھ سے زائد برسوں پر محیط پالیسی سازوں کا ریاست کے سیاسی اور انتظامی معاملات پر کلی اختیار ہے جس کے مضمرات معاشرے میں سیاسی، معاشی، اخلاقی گھٹن کی صورت میں تیز رفتاری سے ظاہر ہونا شروع ہو چکے ہیں۔

کشمیر سے لے کر خیبر خصوصاً وزیرستان، بلوچستان سے لے کر سندھ اور پنجاب تک جس جانب بھی نظر اٹھا کر دیکھیں نظم و ضبط کا بحران اور ناکامیوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر موجزن ملے گا۔

داخلی اور خارجہ امور میں بربادی اور اس سے پیدا شدہ بحران کی نشاندہی کرنے والا یا اس پر سوال اٹھانے والا مجرم ٹھہرایا جا رہا ہے اور اس جرم کی پاداش میں اغوا کیا جا رہا ہے۔

حق کی خاطر آواز اٹھانے والا ریاست پر بالا دست حکمرانوں کا مجرم ٹھہرتا ہے اور اپنے جرم کی سزا حفیظ اللہ حسینی کی طرح سینے میں پیوست گولیوں کی صورت میں وصول کرتا ہے۔

کسی خاتون کا رات میں سفر کرنا اس خونخوار ریاست میں سی سی پی او کی زبانی گویا ایک جرم قرار دیا چکا ہے۔ یہ مان لیا گیا ہے کہ رات کے وقت ملک پر سے ریاست کی رٹ ختم ہو جاتی ہے سفر کے دوران بچوں کے سامنے ماں کی عزت لٹ سکتی ہے۔

مسجد سے مدرسے تک اور پڑوس کے گھر سے سڑک اور گلی، بچے بچیوں کے لیے محفوظ نہیں رہے کیونکہ ریاست کے ایک محکمے کا آہنی ہاتھ اپنا معمول کا کام چھوڑ حکومتی معاملات میں مسلسل دخل اندازی سے ریاست کی رٹ کو موت کی نیند سلا چکا ہے۔

ایک لمحے کو تصور کیجیے کہ احمد پور شرقیہ کے ایک گھر میں علاقے کا جانا پہچانا با اثر شخص زبردستی گھر میں گھس کر معصوم بچی کو اپنی ہوس کا نشانہ بنا ڈالے۔

وہ منصف فیصلے سنانے لگیں جو خفیہ طور پر بلیک میل ہو کر سزا لکھتے ہوں۔ جرائم میں ریاست کے محکمے ملوث ہوجائیں، آئین و قانون کی پاسداری صرف کمزور اور بے اختیار کے لیے رہ جائے تو سمجھ لیں کہ طاقت ور ترین عناصر ریاست کے ڈھانچے کو مفلوج کر چکے ہیں۔

معیشت کا جنازہ منفی ترقی کی صورت میں اٹھ چکا، معاشرتی، سماجی اور اخلاقی قدریں ڈھائی جا چکیں اور گنتی کے چند ترقی مخالف عناصر وسائل پر قبضہ جاری رکھنے کی خاطر تمام حدیں پار کر چکے۔ سماج جان کنی کے عالم سے نکل کر ایک بار پھر سے زندگی میں واپس آنے کو بے قرار ہے۔ یہ عمل کسی بھی وقت کسی بھی لمحے شروع ہوا چاہتا ہے، کچھ اور انتظار کر لیجیے۔
چند روز اور میری جاں فقط چند ہی روز

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •