ناول، ادھ ادھورے لوگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ناول نگار محمد حفیظ خان
تبصرہ۔ محمد وسیم شاہد

انسان تو کیا پرندے درخت اور پودے بھی اگر اپنی جڑیں کسی انجانی زمین میں پائیں تو آپ ان کے مزاج، گیت سنگیت اور پھلوں کو بد مزا ہی پائیں گے۔

فارس کے لوگ کہتے ہیں کہ ”وطن شیراز است“ انسان کے دل سے اس کے وطن کی محبت نکالنا ناممکن ہے، کون نہیں جانتا کہ ظہیر الدین بابر کے ساتھ سمر قند و بخارا سے آئے لوگوں نے اپنے وطن کی خاطر فتح کی سرزمین ہندوستان کے تخت و تاج کو ٹھوکر ماری اور واپس اپنے پہاڑوں پر جا آباد ہوئے تھے۔ تاریخ آج ان کا نام و نشان نہیں جانتی مگر مجھے یقین ہے کہ وہ اپنے وطن کی خاک میں خاک ہو کر سو سال حکومت کرنے والے بابر کے بیٹے بہادر شاہ ظفر کی رنگون میں تڑپتی روح پر مسکراتے ہوں گے۔

انسان اپنی زمین سے ایسے جڑا ہوتا ہے جیسے ماں کی کوکھ میں بچہ ناف کی نالی سے۔ اسی سے انسان کو سانس ملتی ہے اور اسی سے خوراک۔ اس سے جدا ہو کر انسان زندہ تو رہ سکتا ہے مگر مانند لاش۔

انسان اپنا وطن چھوڑ کر کہیں اور بسنا چاہیے تو اپنے وطن جیسے ہی کسی خطے میں آباد ہونے کو ترجیح دیتا ہے۔ عرب کے صحراؤں سے ہجرت کرنے والے بلوچوں کو موجودہ بلوچستان کے کھجوروں کے چند پیڑوں والی ریگستانی اور بنجر زمین پر پہنچتے ہی اپنے وطن کی خوشبو نے ایسا جکڑا کہ ان کے قدم آگے سندھ اور پنجاب کی سرسبز مرغزاروں کی جانب نہ بڑھ سکے۔

تاریخ دان بتاتے ہیں کہ مدینہ جیسے سرسبز علاقے کے رہائشی اور قلعہ خیبر کے باسیوں کے قدم جب بہ وجہ مجبوری اپنی زمین سے اکھڑے تو پھر ویسے ہی بلند و بالا پہاڑوں اور سرسبز وادیوں میں آ کر ہمیشہ کے پیوست ہو گئے پھر انھوں نے وطن کا نام بھی خیبر رکھ لیا تا کہ اپنی شناخت تا قیامت برقرار رکھ سکیں۔

وطن چھوڑ کر انسان جیسے تیسے زندگی کی گاڑی کو گھسیٹتا رہتا ہے مگر جب وطن کے اندر رہتے ہوئے اس کی پہچان اور شناخت چھین لی جائے تو اس کا شمار نہ زندوں میں ہوتا ہے نہ مردوں میں۔

پاکستان بننے کے بعد سے اب تک کئی اقوام اپنی شناخت کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ اس جنگ کرب اور محرومی کو محمد حفیظ خان نے اپنے ناول ”ادھ ادھورے لوگ“ میں کیا خوب بیان کیا ہے، یہ ناول پہلے سرائیکی زبان میں شائع ہوا پھر بے پناہ شہرت اور پسندیدگی نے ناول نگار کو اسے اردو زبان میں شائع کرنے پر مجبور کر دیا تا کہ وہ لوگ بھی اس کرب کو محسوس کر سکیں جو سرائیکی زبان نہیں پڑھ سکتے اور یہ تجربہ بے حد کامیاب رہا۔

یہ ناول قارئین کو ریاست بہاول پور کے مکینوں کی، قیام پاکستان کے بعد بنی ادھ ادھوری شناخت سے روشناس کرواتا ہے۔

کہانی احمد پور شہر میں بسے کردار دھچر، وادھو اور ہندو حکیم رام لعل سے شروع ہوتی ہے۔ پھر اس میں تلسی اور لاشاری بلوچ فیاض کی آمد سے کہانی رومانی رنگ میں رنگی جاتی ہے۔ تلسی کے کردار کو اس خوبصورت انداز میں متعارف کروایا گیا ہے کہ قاری ناول کی ہر سطر کے ساتھ اپنا آپ قرطاس میں جذب ہوتا محسوس کرتا ہے ذرا آپ بھی اس لذت کو محسوس کریں۔

” تلسی حکیم صاحب کی اکلوتی بیٹی، ہو گی کوئی بیس اکیس برس کی، غضب کی نرم و نازک اور بھرواں بھرواں سی، قامت کشیدہ، رنگت صاف، آگا پیچھا بھرا بھرا اور چال میں لچکیلی شاخ کی طرح لوچ اور مستی۔“

ناول نگار کو منظر نگاری اور کردار سازی پر کمال حاصل ہے انھوں نے ریاست بہاول پور میں سڑک کنارے لگے لکڑی کے لمبوں پر جلتی لالٹینوں سے محل کی عمارت تک جزئیات نگاری کو بڑی خوبصورتی سے تراشا ہے۔ وشنو داس، مہراں، فیاض اور بیگم سلمٰی بدر الدین کے کردار تخلیق کیے کہ ان پر حقیقی ہونے کا کمال ہوتا ہے۔

ناول کا موضوع ریاست بہاول پور ہے، جس کے الحاق کو لے کر عام لوگوں سے امرا تک سب پریشان ہیں۔ پھر ملکوں کی تقسیم کے بعد پیش آئے مسائل، جانے والوں کی زمینوں پر قبضے، خونی رشتوں کا سفید ہونا اور صاحب کردار لوگوں کی موجودگی کو عمدگی سے بیان کیا گیا ہے۔

ناول نگار طبیعتاً شریف نفس انسان لگتے ہیں جب ہی فیاض کو حسینوں کی جانب سے کھلی دعوت کے باوجود آخری وقت پر مکھن سے بال کی طرح نکال لے جاتے رہے ان لمحات میں رنگین مزاج قارئین کی آنکھوں میں ایک دوسرے میں مدغم ہوئے جسم دکھنے لگتے ہیں مگر اگلے ہی لمحے ان کی امیدوں پر ڈھیروں پانی پڑ جاتا ہے جب فیاض سینے سے لگی نازک اندام آگے پیچھے سے بھری نوجوان لڑکی کو جھٹک کر موقع سے فرار ہو جاتا ہے۔

ناول کے ادھ ادھورے لوگ ایک دوسرے کے سنگ دوڑتے دوڑتے قلعہ ڈیر سے چند میل آگے ریت کے ٹیلوں پر پہنچ کر ایک دوسرے میں مدغم ہو کر کہانی مکمل کر دیتے ہیں جو ایک بہترین اختتام ہے۔

میں کلاسک ادب پڑھنے والے دوستوں کو مشورہ دینا چاہتا ہوں کہ وہ اس ناول کا لازماً مطالعہ کریں، اس میں آپ کو عمدہ بیانیے کے ساتھ ساتھ سرائیکی جیسی میٹھی زبان کی چاشنی محسوس ہوگی اور مجھ جیسے انسان، جنہوں نے ریاست بہاولپور کے ریتلے میدان نہیں دیکھے یا اس کی تاریخ اور وہاں آباد لوگوں کے ادھورے پن سے واقفیت نہیں، انھیں ایسا محسوس ہو گا جیسے وہ پریوں کے دیس کے کوئی پکھی پکھیرو ہیں جو بکر وال بادلوں سے برسے مینہ سے چولستان کے ریگستانوں میں بنے کسی جھیل پر اترے ہیں اور اس میں سحر میں مبتلا ہو کر ساری زندگی یہیں کے ہو کے رہ گئے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •