کیا آپ اپنے جنسی جذبات سے پریشان رہتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ساری دنیا کے بچے اور بچیاں جب سن بلوٖغت تک پہنچتے ہیں تو ان کے جسموں میں جنسی غدود فعال ہو جاتے ہیں اور وہ ایسے جنسی و رومانی جذبات محسوس کرنے لگتے ہیں جو انہوں نے پہلے محسوس نہ کیے تھے۔ ان جذباتی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ ان کے جسموں میں بھی تبدیلیاں آنی شروع ہو جاتی ہیں۔ لڑکیوں کے پستان بڑھنے لگتے ہیں اور انہیں حیض آنا شروع ہو جاتا ہے۔ لڑکوں کی مسیں بھیگنے لگتی ہیں اور انہیں شہوانی خواب آنے لگتے ہیں۔

یہ دور نوجوانی کا دور ہوتا ہے جس میں جنس مخالف میں دلچسپی بڑھ جاتی ہے۔ اس دور میں کچھ لوگ محبت میں گرفتار ہو جاتے ہیں اور کچھ نفسیاتی مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کچھ شاعری کرنے لگتے ہیں اور کچھ کی راتوں کی نیندیں اڑ جاتی ہیں۔

جو لڑکے اور لڑکیاں روایتی خاندانوں اور تنگ نظر معاشروں میں پلتے بڑھتے ہیں انہیں بہت سی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ جنسی تعلیم سے محروم رہتے ہیں اور اپنے فطری جنسی جذبات کو گناہ و ثواب سے جوڑ لیتے ہیں۔ جب جنسی جذبات کو قبول نہیں کیا جاتا اور انہیں صحتمند اظہار کا موقع نہیں ملتا تو انسانی ذہن ان جذبات کو لاشعور میں دھکیل دیتا ہے، فرائڈ ایسے نفسیاتی عمل کو ریپریشن REPRESSION کا نام دیتے تھے۔ ایسے جذبات لاشعور میں جا کر ایک ہلچل، ایک تہلکہ مچاتے ہیں اور انسان بہت سے نفسیاتی مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں۔

فرائڈ نے آج سے ایک صدی پیشتر یورپ کی لڑکیوں اور عورتوں کے نفسیاتی مسائل کی تشخیص کر کے بتایا کہ وہ ہسٹیریا کے نفسیاتی مرض کا شکار تھیں اور ہسٹیریا کی بیماری کا تعلق ناآسودہ جنسی جذبات سے تھا۔ اگرچہ پچھلی ایک صدی میں ہسٹیریا اور جنس کے بارے میں بہت سے نظریات بدل چکے ہیں لیکن فرائڈ وہ پہلے ماہر نفسیات تھے جنہوں نے جنسیات کی نفسیات پر سیرحاصل گفتگو کی۔

وہ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں جو روشن خیال خاندانوں سکولوں اور معاشروں میں پلتے بڑھتے ہیں انہیں نہ صرف جنسی تعلیم دی جاتی ہے بلکہ جنسی جذبات کے صحتمند اظہار کے طریقے بھی بتائے جاتے ہیں تا کہ وہ اپنے جسموں اور ذہنوں میں ہونے والی فطری تبدیلیوں کا خیر مقدم کر سکیں۔

میرے ایک کینیڈین مریض نے اپنی بیوی سے کہا کہ ہمیں اپنی بیٹی کو جسے پہلی بار حیض آیا ہے ڈنر پر لے جانا چاہیے تا کہ وہ لڑکی سے عورت بننے کا مرحلہ خوشگوار یادوں سے وابستہ کر سکے۔ اس کی بیوی نے اس کے مشورے پر عمل کیا اور بیٹی کو نہ صرف پرتکلف ڈنر کھلایا بلکہ اسے ایک اچھا سا تحفہ بھی دیا۔

دنیا میں کئی کلچر ایسے بھی ہیں جہاں لڑکی کے عورت بننے اور پہلی دفعہ حیض آنے کا جشن منایا جاتا ہے تاکہ وہ اپنی نسوانیت پر شرمندہ ہونے کی بجائے اس پر فخر کر سکے۔

جنسی جذبات عمر کے مختلف ادوار میں اپنا رنگ بدلتے ہیں۔ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جنہیں محبت کرنے والا ایسا شریک سفر بن جائے جو ان کا رومانوی زندگی کا بھی ساتھی ہو۔ ایسا شریک سفر جو دوست بھی ہو اور محبوب بھی۔ میری نگاہ میں محبت بھرے رشتے میں

FRIENDSHIP IS THE CAKE, ROMANCE IS THE ICING

اگر کسی انسان کو رومانوی ہمسفر نہیں ملتا تو اسے اپنے جنسی و رومانوی جذبات کے صحتمند اظہار کے طریقے سیکھنے ہوں گے۔ ان میں سے ایک طریقہ خود لذتی ہے۔ ہمارے ہاں اس موضوع پر کھل کر بات نہیں ہو پاتی اور مشرقی شرم و حیا آڑے آتی ہے۔ مغرب میں بھی ایک وہ دور تھا جب ماسٹربیشن کو خود اذیتی سمجھا جاتا تھا لیکن دھیرے دھیرے اس کے بارے میں رویہ بدلا ہے اب وہ خود لذتی سمجھا جاتا ہے۔

MASTURBATION USED TO BE CALLED SELF ABUSE NOW IT IS ACCEPTED AS SELF PLEASURING

میں نے مشرق کے کئی ادیبوں کے بہت سے مضامین پڑھے ہیں جو خود وصلی، جلق اور مشت زنی پر سخت تنقید کرتے ہیں اور اس کا تعلق جسمانی اور ذہنی بیماریوں سے جوڑتے ہیں۔ میری نگاہ میں ایسی معلومات کی کوئی طبی یا سائنسی اساس نہیں۔ ایک زمانہ تھا جب پاکستان کی سڑکوں اور دیواروں پر حکیموں کے اشتہار لگے ہوتے تھے جن میں لوگوں کو بچپن کی غلط کاریوں سے ڈرایا جاتا تھا۔ اب ہم سوشل میڈیا کے اس دور میں داخل ہو گئے ہیں جہاں ہم رومانی اور جنسی موضوعات پر کھل کر بات کر سکتے ہیں تا کہ ان موضوعات پر ہونے والی جدید طبی اور نفسیاتی تحقیق سے استفادہ کر سکیں۔

ماہرین نفسیات ہمیں بتاتے ہیں کہ جنسی جذبات بھی انسانی توانائی کا مخصوص اظہار ہیں۔ اگر ہم ان جذبات کو قبول کر لیں تو پھر ہم ان کے اظہار کے مختلف طریقے سیکھ سکتے ہیں۔ جنسی بھوک کھانے کی بھوک سے کافی مختلف ہے۔ عام لوگ ناآسودہ جنسی جذبات سے پریشان ہو جاتے ہیں جبکہ ذہنی طور پر صحتمند انسان اپنے جنسی جذبات کو ایک خاص رخ دینا سیکھ جاتے ہیں۔ بعض ان جذبات کا کھیلوں sportsمیں بعض فنون لطیفہfine arts میں اظہار کرتے ہیں۔ جنسی جذبات کا صحتمند مشغلوں اور کاموں میں اظہار ارتفاع اور سبلیمیشن SUBLIMATION کہلاتا ہے۔

جب والدین اور اساتذہ بچوں کو جنسی تعلیم نہیں دیتے اور ان سے تبادلہ خیال نہیں کرتے تو بچے نوجوانی میں نفسیاتی مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں ان مسائل سے معاشروں میں سماجی مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں۔

میں بہت سے ایسے جوڑوں سے مل چکا ہوں جن کی شادیاں اس لیے رومانوی اور جنسی مسائل کا شکار تھیں کیونکہ وہ اس موضوع پر تبادلہ خیال نہیں کر سکتے تھے اور ایک دوسرے کو اپنی پسند اور ناپسند نہیں بتا سکتے تھے۔ ہم ابھی اس حقیقت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ جنسی جذبات کا غصے اور جارحیت سے گہرا تعلق ہے۔ بعض لوگ جب جنسی طور پو ناآسودہ ہوتے ہیں تو ان کے مزاج میں چڑچرا پن پیدا ہو جاتا ہے جو دھیرے دھیرے غصے نفرت اور تلخی میں بدل سکتا ہے۔

بہت سے مشرقی مردوں نے یہ نہیں سیکھا کہ اپنی بیوی سے پیار بھری باتیں کرنا ’اس کا خیال رکھنا اور اسے خوش رکھنا رومانوی زندگی کے لیے کتنا اہم ہے۔ میں اپنے شادی شدہ مریضون کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ ہفتے میں ایک شام ڈیٹ پر جائیں اور محبت بھری باتیں کریں‘ لنچ کھائیں ’ڈنر کھائیں‘ موسیقی سنیں اور لطیفے سنائیں۔ ایسا کرنے سے ان کے ہفتے کے باقی چھ دن بھی خوشگوار گزریں گے۔

مشرقی مرد نہیں جانتے کہ محبت میں فور پلے FOREPLAY اور آفٹر پلے AFTERPLAY بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ پلے PLAY۔ جب تک ہم ایک دوسرے سے محبت ’پیار‘ جنس اور رومانس کے موضوعات پر کھل کر مکالمہ نہیں کریں گے ہم اپنے رومانوی ’جنسی اور ازدواجی مسائل حل کرنا کیسے سیکھیں گے کیونکہ جنس۔۔۔ محبت اور پیار اور دوستی اور خلوص کا فطری اظہار ہے۔ بدقسمتی سے ہم نے اسے حد سے زیادہ نیکی، بدی اور گناہ و ثواب میں الجھا دیا ہے۔

لوگوں کی رومانوی زندگی میں حکومت اور سیاست کا کیا کردار ہونا چاہیے؟ یہ ایک اہم سوال ہے۔ کینیڈا کی پارلیمنٹ میں ایک دفعہ موجودہ وزیر اعظم جسٹن ٹرودو کے مرحوم والد پیر ٹروڈو نے کہا تھا کہ دو انسانوں کا محبت کا رشتہ ان کا ذاتی فعل ہے حکومت کو اپنے شہریوں کی خواب گاہوں میں نہیں گھسنا چاہیے۔

ہمیں ساری دنیا میں ایسے معاشرے قائم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے جہاں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اپنے والدین ’اساتذہ اور بزرگوں سے ان موضوعات پر کھل کر بات کر سکیں اور ان کے تجربے اور رومانوی دانائی سے استفادہ کر سکیں۔

میرا بھانجا ذیشان جب ایک ٹین ایجر تھا تو اس نے مجھے پاکستان سے کینیڈا ایک ای میل بھیجی تھی جس کا عنوان تھا LOVE, SEX AND MARRIAGE۔ اس ای میل کے بعد ہمارا ان موضوعات پر تفصیلی مکالمہ ہوا۔ بعد میں میں نے اسی موضوع پر ایک کتاب بھی لکھی اور اس کا نام بھی یہی رکھا جو اس ای میل کا تھا۔ یہ کتاب نوجوانوں کے لیے ہے۔

(نوٹ : جو نوجوان وہ کتاب پڑھنا چاہتے ہیں وہ مجھے ای میل کر سکتے ہیں میں اس کتاب کی پی ڈی ایف فائل انہیں بطور تحفہ بھیج سکتا ہوں میرا ای میل پتہ ہے۔۔۔

[email protected])

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 370 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail