ٹرمپ کی چین پر چڑھائی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جی ہاں امریکی صدارتی انتخاب تک پہنچنے میں فقط پانچ ہفتوں کا فاصلہ رہ گیاہے۔ اسے ذہن میں رکھیں تو ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے افتتاحی اجلاس سے پیر کی شام جو خطاب کیا اسے انتخابی مہم کا حصہ قرار دے کر نظرانداز کیا جاسکتا ہے۔امریکی اشرافیہ کی سوچ اور ترجیحات سے تھوڑی آگہی کے سبب اگرچہ میں اس تقریر کو نہایت سنجیدگی سے لینے کو مجبور ہوں۔

میری دانست میں اس تقریر کے ذریعے امریکی صدر نے ہمارے یار چین کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کی کوشش کی ہے۔واضح اور غیر سفارتی زبان میں عالمی فورم کے روبرو الزام لگایا کہ چین نے دنیا بھر میں ’’طاعون‘‘ پھیلایا ہے۔ ’’طاعون‘‘ اس نے کرونا کو پکارا ہے۔اصرار کیا کہ جب وہ اس برس کے آغاز میں چین میں نمودار ہوا تو وہاں کے شہروں میں کڑا لاک ڈائون لگاکر اس پر قابو پانے کی کوشش ہوئی۔غیر ملکی پروازیں مگرجاری رہیں۔ دنیا بھر کے بیشتر ممالک کے باسی ان کی بدولت اپنے ممالک میں ’’طاعون‘‘ پھیلانے کا باعث ہوئے۔لاکھوں اموات کے علاوہ طویل لاک ڈائون اور سماجی دوری کی وجہ سے عالمی معیشت بھی اس کے نتیجے میں تباہ وبرباد ہوگئی۔

امریکی صدر کا اب یہ تقاضا ہے کہ اقوام متحدہ یکسو ہوکر کوئی ایسی راہ ڈھونڈے جسے اختیار کرتے ہوئے چین کو ’’دنیا بھر میں طاعون‘‘ پھیلانے کا ذمہ دار قرار دیا جائے۔وہ اس ’’جرم‘‘کی قیمت ادا کرے۔ اقوام متحدہ کو ’’مدعی اور منصف‘‘ کا کردار ادا کرنے پر اُکساتے ہوئے ٹرمپ نے اگرچہ اس ادارے کی ’’بے بسی‘‘ کو بھی تضحیک کا نشانہ بنایا۔ اس کی نگرانی میں چلائے WHO یعنی عالمی ادارئہ صحت کو ’’طاعون کے پھیلائو‘‘ میں چین کا ’’سہولت کار‘‘ ٹھہرایا۔

منگل کے دن ہوئی تقریر مگر چین کے خلاف ہی ’’فردجرم‘‘ عائد کرتی نظر نہیں آئی۔وسیع تر تناظر میں یہ اقوام متحدہ کو غیر مؤثر بنانے کی ٹھوس کاوش بھی ہے۔یہ کامیاب ہوگئی تو اقوام متحدہ کا حشر بھی ماضی کی لیگ آف نیشنزجیسا ہوگا جس کے ہوتے ہوئے دوسری جنگ عظیم برپا ہوئی تھی۔اس جنگ کے ہولناک نتائج نے اقوام متحدہ کے قیام کی راہ ہموار کی۔ فیصلہ ہوا کہ پانچ بڑے اور طاقت ور ملکوں کی قیادت میں یہ ادارہ دنیا بھر میں امن وسلامتی کویقینی بنائے گا۔

عوامی جمہوریہ چین بھی ان پانچ ممالک میں شامل ہے۔امریکہ اگر برطانیہ اور فرانس کے ساتھ مل کر اسے دنیا بھر میں ’’طاعون‘‘ پھیلانے کا ذمہ دار ٹھہرائے گا۔ اقوام متحدہ سے مطالبہ ہوگا کہ وہ چین کو مبینہ جرم کی بنیاد پر کٹہرے میں کھڑا کرے تو یہ ادارہ اپنا وجود برقرار رکھ نہیں پائے گا۔تیسری عالمی جنگ کے تدارک کی امید باقی نہیں رہے گی۔ٹرمپ کی منگل کے روز ہوئی تقریر کو ’’انتخابی مہم‘‘ کا حصہ قرار دیتے ہوئے نظرانداز کرنا میرے لئے اس وجہ سے بھی ممکن نہیں کہ آج سے چند ماہ قبل کسی زمانے میں اس کا پالیسی ساز شمار ہوتا Steve Bannon ایک بھارتی ٹی وی پر نمودار ہوا تھا۔

ایک طویل انٹرویو کے ذریعے اس نے بھارتی عوام کو یقین دلایا تھا کہ ’’کرونا پر قابو پانے کے بعد‘‘ امریکی صدر اور بھارتی وزیراعظم یکسوہوکر دنیا کے دیگر ممالک کو اس امر پر قائل کردیں گے کہ دنیا بھر میں مبینہ طورپر کرونا کے ذریعے تباہی اور بربادی پھیلانے کے سبب چینی قیادت پر ویسے ہی مقدمات چلائے جائیں جو ہٹلر کے قریبی ساتھیوں اور جرنیلوں کے خلاف نورمبرگ ٹرائل کے نام پر چلائے گئے تھے۔

بینن عرصہ ہواوائٹ ہائوس سے فارغ ہوچکا ہے۔اس کے خلاف اب ٹرمپ کے نام پر چندہ بٹورنے کا مقدمہ بھی قائم ہوچکا ہے۔چینی قیادت کے خلاف بھارتی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے اس نے جو الفاظ استعمال کئے تھے ذرا مختلف انداز میں لیکن اب امریکی وزیر خارجہ بھی گزشتہ چند ہفتوں سے مسلسل استعمال کئے چلے جارہا ہے۔چین یا اس کے عوام کو نشانہ بنانے کے بجائے ’’کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ‘‘اور اس کی قیادت کومستقل تنقید کی زد میں رکھا جارہا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ کی زبان اور رویہ یہ بتاتا ہے کہ چین کے خلاف ’’سردجنگ‘‘ محض ٹرمپ یا اس کی جماعت کی سوچ ہی نہیں ہے۔امریکہ کی نام نہاد Deep State یا خلافتِ عثمانیہ کے دور سے متعارف ہوئی ’’دریں دولت‘‘ خود کو چین کے خلاف سرد ہی نہیں بلکہ ’’گرم‘‘ جنگ کے لئے بھی تیار کررہی ہے۔ٹرمپ نومبر کے پہلے ہفتے میں ہونے والا انتخاب ہار بھی گیا تو جوبائیڈن اور اس کی ڈیموکریٹ پارٹی بھی یہ پالیسی جاری رکھے گی۔

جوبائیڈن کی کامیابی بلکہ امریکہ کو یہ آسانی فراہم کرے گی کہ چین کے خلاف یورپ کو بھی بھرپور انداز میں متحرک کیا جائے۔ٹرمپ نے America First کی رعونت میں فرانس اور جرمنی کو ناراض کردیا۔ حتیٰ کہ برطانیہ بھی Anglo Saxon رشتوں کی بنیاد پر ابھرے Special Status کا لطف نہیں اٹھا پا رہا ۔بائیڈن سے امید باندھی جارہی ہے کہ وہ ٹوٹے ہوئے رشتوں کو بحال کرے گا۔

ہمارے میڈیا نے پاکستانیوں کی اکثریت کو واضح انداز میں ابھرتی اس صف بندی سے غافل رکھا ہوا ہے۔یہ غفلت شترمرغ کی طرح ریت میں سرچھپانے کی مانند ہے۔سوویت یونین کے خلاف امریکہ کی سردجنگ جب افغانستان میں Hot ہوئی تو پاکستان اس سے لاتعلق نہیں رہا تھا۔جنرل ضیاء الحق کی قیادت میں بلکہ ہم نے سوویت یونین کو پاش پاش کرتی اس جنگ میں کلیدی کردارادا کیا تھا۔ چین کے خلاف ایسی ہی جنگ چھڑی تو پاکستان سے ایک بار Friend or Foe یعنی دشمن یا دوست والے سوالات اٹھائے جائیں گے۔

نہایت سنجیدگی سے ہمیں ممکنہ طورپر ابھرتے ان سوالات کو ذہن میں رکھتے ہوئے کوئی حکمتِ عملی اختیار کرنا ہوگی۔نومبر تین کے روز ہونے والے صدارتی انتخاب کے تناظر میں نیویارک ٹائمز جیسا تگڑا اور بااثراخبار مسلسل October Surprise کا ذکر کرنا بھی شروع ہوگیا ہے۔تاثر یہ پھیلایا جارہا ے کہ اپنی فتح کو یقینی بنانے کے لئے ٹرمپ اکتوبر کے مہینے میں ایران کے خلاف فوجی اعتبار سے کوئی حیران کن جارحانہ قدم بھی اٹھاسکتا ہے۔

دلیل یہ بھی گھڑی جارہی ہے کہ سعودی عرب کے محمد بن سلمان اسرائیل کے ساتھ ویسے تعلقات بنانے میں دشواری محسوس کررہے ہیں جو متحدہ عرب امارات اور بحرین نے قائم کرلئے ہیں۔وجہ اس کی یہ بتائی جارہی ہے کہ ان کے والد شاہ سلیمان اسرائیل کی بابت سعودی عرب کے تاریخی مؤقف کو برقرار رکھنے کو بضد ہیں۔ان کے خیالات بدلنے کے لئے بھی ضروری ے کہ ٹرمپ اکتوبر کے مہینے میں ایران کیخلاف کوئی بڑی کارروائی کرے۔ یہ کارروائی شاہ سلمان کو بھی ایران کے خلاف ایک طاقت ور عالمی اتحاد میں اسرائیل کی شمولیت تسلیم کرنے کو آمادہ کرسکتی ہے۔ ایران کے خلاف جارحانہ قدم اٹھانے اور سعودی عرب سے اسرائیل کو تسلیم کروانے کے بعد 3 نومبر 2020 ڈونلڈٹرمپ کے لئے خوش خبری کو یقینی بنائے گا۔

چین کی طرح ایران بھی ہمارا قریب ترین ہمسایہ ہے۔اس کے خلاف نام نہاد October Surprise کے سنگین اثرات ہمارے ہاں بھی بہت شدت سے نظر آئیں گے۔ اس امکان سے قطع نظر ہمیں یہ حقیقت بھی نگاہ میں رکھنا ہوگی کہ اس برس کے مئی سے چینی افواج لداخ کے محاذ پر انتہائی مہارت کے ساتھ بغیر کوئی بڑھک لگائے مسلسل ان علاقوں میں داخل ہورہی ہیں جنہیں بھارت اپنا حصہ قرار دیتا رہا ہے۔اس محاذ پر بھارتی ذلت ٹھوس اور تاریخی بنیادوں پر ہماری خوشی اور تسکین کا باعث ہوئی۔ اگست کے آخری ہفتے سے لیکن بھارت نے مزاحمتی پیش بندی کے نام پر اپنی افواج کو حالت جنگ کے لئے تعینات کرنا شروع کردیا۔

13گھنٹوں تک پھیلے طویل مذاکرات کے بعد چین اور بھارت کی جانب سے منگل کی شام یہ اعلان ہوا ہے کہ لداخ کے محاذ پر ’’انہونی‘‘کے تدارک کے لئے کوئی ’’سمجھوتہ‘‘ ہوگیا ہے۔اس کے باوجود بھارت کے کئی ’’بردبار‘‘ تصور ہوئے لکھاری بھی یہ دہائی مچانا شروع ہوگئے ہیں کہ اکتوبر کے وسط میں چینی کمیونسٹ پارٹی کے اعلیٰ ترین اجلاس سے قبل چینی افواج لداخ کے محاذ پر کوئی ’’انتہائی قدم‘‘ اٹھاسکتی ہیں۔اکتوبر2020 کا مہینہ لہذا پاکستان کے لئے عالمی اور علاقائی تناظر میں تاریخی اہمیت کا حامل ہوسکتا ہے۔اس حوالے سے جو کھچڑی پک رہی ہے اس پر لیکن ہماری توجہ ہی مبذول نہیں ہوپارہی۔

بشکریہ روزنامہ نوائے وقت

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •