نوشابہ کی ڈائری: ”نو گو ایریا“ ختم․․․ مہاجر ”اردو بولنے والے سندھی“ ہو گئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


16 جولائی 2003

سال اور قد بچے کی عمر بتاتے ہیں لیکن بچوں کے شعور کی اٹھان کا پتا ان کے سوال دیتے ہیں۔ وہ سوال جو ہمیں پریشان یا سوچنے پر مجبور کردیں۔ کچھ دنوں پہلے سارنگ نے جب پوچھا، ”ماما! آپ ڈائری کیوں لکھتی ہیں، کوئی پڑھتا نہیں تو فائدہ؟“ تو مجھے خبر ہوئی کہ میرا بیٹا تیزی سے بڑا ہو رہا ہے۔ اس کا پہلا سوال میرے ہاتھ میں پکڑی ڈائری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تھا، ”آپ یہ کیا لکھتی ہیں۔“ جب اسے معلوم ہوگیا کہ یہ ڈائری ہے اور یہ کیا ہوتی ہے تو جھٹ اگلا سوال داغ دیا۔

”بیٹا! ہم بہت سی باتیں سوچتے ہیں، لیکن کسی سے کہتے نہیں، کیوں کہ ان کا کسی سے کہنا بے کار ہوتا ہے، اس لیے کہ وہ سمجھ نہیں سکتا یا ہمارے لیے خطرناک ہو سکتا ہے، کیوں کہ وہ ہمارے خیالات برداشت نہیں کر سکتا۔ ایسی ساری سوچیں خیالات میں لکھ لیتی ہوں۔“ اس نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے بھی بس ”اچھا“ کہا، نیند کے غلبے نے مزید کسی سوال کی اجازت نہیں دی۔ میں ڈائری کھول کر بیٹھی ہی تھی کہ وہ باپ کی طرح کچی نیند سے اٹھا اور استفسار کرنے لگا، پھر بے خبر سوگیا، مگر میں اس سوال میں الجھ گئی۔

سال سال بھر ڈائری کو ہاتھ بھی نہیں لگاتی، اندر لکھنے کی کوئی تحریک نہیں ہوتی، اور پھر اچانک کوئی واقعہ ایسے احساسات جگاتا ہے کہ قلم اٹھائے بنا نہیں رہا جاتا، بس اس واقعے اور اس سے وابستہ احساسات اور تاثرات لکھنے بیٹھتی ہوں تو ذہن ٹائم مشین پر سوار ہوکر ماضی میں نکل جاتا ہے، ایک خیال سے کتنے ہی خیال جنم لیتے ہیں، واقعات ایک دوسرے سے جڑنے اور ایک دوسرے میں کھلنے لگتے ہیں۔ جیسے آج گھر کا دروازہ کھولتے ہی ہوا۔

جب بھی دروازہ کھلتا سامنے دیوار پر لکھے ”جیے آفاق بھائی“ پر نظر جاتی تھی، آج دیکھا تو یہ الفاظ بے ڈھنگے پن سے پھیری گئی سیاہی کے نیچے کچلے جاچکے تھے اور ساتھ کی خالی جگہ پر بڑا بڑا ”جیے الطاف حسین“ ، ”جیے متحدہ“ لکھا تھا۔ اب راتوں کو گلی کے نکڑ پر کھڑے گٹکا بھرے منہ سے باتیں کرتے اور ہر طرف نظر رکھتے لڑکے بھی نظر نہیں آرہے۔ کھوکھراپار کے محاصرے اور حقیقی کے کارکنوں کی گرفتاری کے بعد ہم سارے محلے والے خود کو کتنا ہلکا پھلکا اور آزاد محسوس کر رہے ہیں۔

”نوگوایریا“ ختم نہیں ہوئے خوف کی طویل رات کا خاتمہ ہوا ہے۔ بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے، آپریشن کے ذریعے آنے والے آپریشن کے ذریعے چلے گئے۔ ایم کیوایم بہت عرصے سے نوگوایریاز کے خاتمے کا مطالبہ کر رہی تھی، جس کا مطلب تھا حقیقی گروپ کا خاتمہ۔ آخر انتخابات کے بعد مسلم لیگ (ن) کے حقیقی گروپ ”مسلم لیگ (قائداعظم)“ کے امیدوار میرظفراللہ جمالی کو وزیراعظم بنوانے کی خاطر ایم کیوایم کی حمایت کی ضرورت پڑی تو سودا طے پاگیا اور ملک کے باوردی حکم راں پرویزمشرف کا حکم آ گیا کہ ”نوے کے عشرے میں بے گھر ہونے والے خاندانوں کی بحالی یقینی بنائی جائے“ بس پھر کیا تھا، لائنزایریا، لانڈھی، کورنگی، ملیر اور شاہ فیصل کالونی میں حقیقی گروپ کے خلاف کارروائی شروع ہوگئی، محاصرے ہوئے، گرفتاریاں ہوئیں، اور حقیقی کا راج چند دن میں ختم کر دیا گیا۔

رینجرز نے حقیقی گروپ کے مرکز بیت الحمزہ پر دھاوا بول کر اس کا کنٹرول حاصل کر لیا اور اب یہ عمارت مسمار کی جاچکی ہے۔ حقیقی گروپ کا زمیں بوس کیا جانے والا مرکز اسی علاقے میں واقع ہے جہاں پچھلے ماہ حقیقی گروپ کے واحد رکن قومی اسمبلی محمود قریشی کے انتقال کے باؑعث خالی ہونے والی نشست پر ضمنی انتخاب ہوا تھا۔ اس ضمنی الیکشن میں ڈاکٹرفاروق ستار نے مجلس عمل کے اسلم مجاہد کو ہرا دیا۔ پولیس نے سندھ اسمبلی کی عمارت کا گھیراؤ کر کے حقیقی گروپ کے واحد رکن سندھ اسمبلی یونس خان کو حراست میں لے لیا۔

انھیں اسمبلی کی رکنیت کا حلف بھی نہیں اٹھانے دیا گیا اور پولیس اہل کار انھیں بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے لے گئے۔ حقیقی گروپ الطاف گروپ کے متحدہ قومی موومنٹ ہوجانے کے بعد واحد مہاجرقومی موومنٹ ہے، اس کے جنرل سیکریٹری عامرخان کو بھی کچھ دنوں پہلے گرفتار کر لیا گیا، وہ حقیقی گروپ کے خلاف آپریشن کے بعد روپوش ہوگئے تھے۔

متحدہ قومی موومنٹ کا جلوس اپنے پرچم لہراتا اور نعرے مارتا لانڈھی میں داخل ہوا، متحدہ کے کارکنوں اور راہ نماؤں نے کوئی دس سال بعد لانڈھی، کورنگی، لائنزایریا، ملیر، شاہ فیصل کالونی اور لیاقت آباد کے ان علاقوں میں فاتح کی طرح قدم رکھا جہاں کل تک الطاف حسین کا نام بھی نہیں لیا جاسکتا تھا۔ حقیقی گروپ نے بڑی بے دلی سے تھوڑی بہت مزاحمت کی، حقیقی کے ہاتھ سے نکلتے بعض علاقوں میں ہوائی فائرنگ ہوئی، کچھ گاڑیاں جلادی گئیں، سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔

لانڈھی میں متحدہ کے داخلے پر فریقین میں معمولی سی جھڑپ ہوئی، پھر سب ٹھیک ہوگیا۔ ہماری گلی کے دو ادھ جلے گھروں پر تالا پڑا تھا، جہاں سے ایم کیوایم کے کارکنوں کے خاندان حقیقی گروپ کے آنے کے بعد ہجرت کرگئے تھے، اور اب ساتھ والی گلی کے تین تالا لگے گھر اپنی ویرانی کا ماتم کر رہے ہیں، یہاں بستے حقیقی کے کارکنوں کے اہل خانہ نقل مکانی کرگئے ہیں۔

انتخابات نہ ہوتے اور پرویزمشرف کو اپنا وزیراعظم لانے کے لیے ایم کیوایم کی ضرورت نہ پڑتی تو حقیقی گروپ آج بھی اپنی جگہ ہوتا۔

پچھلے سال کے انتخابات بڑے دل چسپ تھے، کراچی میں متحدہ بالمقابل متحدہ، پہلی بار ایم کیوایم کو ایک مشکل انتخابی لڑائی لڑنی پڑی۔ سات نشستیں ہاتھ سے نکل گئیں، گلشن اقبال والی پکی سیٹ پر متحدہ مجلس عمل کے اسد اللہ بھٹو جیت گئے، نسرین جلیل ایم ایم اے کے عبدالستارافغانی سے ہارگئیں، مجلس عمل کے محمد حسین محنتی، لئیق خان اور قاری گل رحمٰن بھی کام یاب قرار پائے اور حیدرآباد کی ایک نشست پر آفتاب شیخ ایم ایم اے کے امیدوار صاحب زادہ ابوالخیر سے ہار گئے، یہاں تک کہ حقیقی گروپ بھی ایک قومی اور ایک صوبائی اسمبلی کی نشست لے اڑا۔

کچھ تو امریکا مخالف لہر تھی اور کچھ ایم کیوایم کے مہاجر سیاست کے بجائے سندھ اور وفاق کی سیاست کا اثر جس کی وجہ سے اسے نقصان اٹھانا پڑا۔ ان دنوں امریکا سے نفرت عروج پر تھی، نفرت ہی نہیں یہ فخر بھی اعتماد کی اٹھتی لہر بن گیا تھا کہ مسلمان نوجوانوں نے امریکا میں گھس کر اس کے غرور سی اونچی عمارتوں کو مٹی کا ڈھیر بنادیا تھا، پھر بڑی بڑی دمکتی آنکھوں والے اسامہ بن لادن کا اساطیری کردار، جو آج سے بہت پہلے امریکا کا مطلوب ترین مجرم بن چکا تھا اور امریکا اسے نشان عبرت بنانے کے لیے بے تاب تھا۔

نائن الیون کے بعد غصے سے بھرا امریکا ”کروسیڈ“ کا نعرہ لگاکر طالبان کے افغانستان پر ٹوٹ پڑا تھا اور ہمارے ہر دم اکڑے جنرل پرویزمشرف ”سب سے پہلے پاکستان“ کا ڈھنڈورا پیٹتے گھٹنوں تک جھک گئے تھے۔ طالبان کے سفیر سمیت سیکڑوں لوگوں کو پکڑ پکڑ کر امریکا کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ اس وقت سے پاکستان کی سرزمین امریکی اڈا بنی ہوئی ہے۔ اس صورت حال میں ایک طرف پورا ملک امریکا کے خلاف جہاد کے نعروں سے گونج اٹھا دوسری طرف مذہب کی علم بردار سیاسی جماعتیں کمر کس کر میدان میں نکلیں اور جلسوں، جلوسوں اور مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

اسی فضا میں مذہبی جماعتوں کا انتخابی اتحاد ”متحدہ مجلس عمل“ وجود میں آیا جسے مخالفین نے ”ملا، ملٹری الائنس“ کا نام دیا۔ مجلس عمل نے صوبہ سرحد میں زبردست کام یابی حاصل کی ساتھ کراچی سمیت ملک بھر سے کئی نشستیں جیتیں۔ ”سب کچھ طے شدہ تھا۔ عوام کا غصہ بھی سڑکوں پر نکلوانا تھا اور امریکا کو بھی پیغام دینا تھا کہ فوجی حکومت کتنی مشکلات کے باوجود اس کا ساتھ دے رہی ہے۔ متحدہ مجلس عمل کے مظاہروں اور جلسے جلوسوں میں حدود متعین ہوتی تھیں کہ اس جگہ سے آگے ایک قدم بھی نہیں بڑھنا۔

مجلس عمل کو انتخابی کام یابی دلاکر ایک تو پرویز مشرف نے امریکا کو ڈراوا دیا کہ میں تمھارے لیے ناگزیر ہوں، میں نہ ہوا تو مولوی اقتدار میں آ جائیں گے، دوسری طرف مذہبی جماعتوں کے کارکنوں کا رخ احتجاج اور عسکریت کے راستوں سے موڑ کر انتخابی سیاست کی طرف کر دیا گیا۔“ نوشادچچا کا تجزیہ سن کر میں سوچنے لگی ہمارے ملک میں کیا سب کچھ طے شدہ ہوتا ہے، احتجاج سے انتخابی نتائج تک؟ جیسے نئے بلدیاتی نظام کے تحت ہونے والے انتخابات، جن کا ایم کیوایم نے یہ کہہ کر بائیکاٹ کیا تھا کہ ”یہ کراچی کو لسانی بنیاد پر تقسیم کرنے کی سازش ہے، فوجی حکومت شہری و ضلعی حکومتوں کے نظام کی آڑ میں کراچی اور سندھ کے تمام شہروں کو کنٹونمنٹ میں تبدیل کررہی ہے، تاکہ وہاں مستقل فوج کا کنٹرول رہے اور فوجی حکومت کو قطعی غیرآئینی اور غیرقانونی ہے جسے اس بات کا کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ ملک کے عوام پر اپنی مرضی کا بلدیاتی نظام مسلط کرے۔“ لیکن جب اسی فوجی حکم راں نے عام انتخابات کرائے تو ایم کیوایم نے پورے جوش وخروش سے حصہ لیا، اور اب اس فوجی آمر کے وزارت عظمیٰ کے امیدوار کی حمایت بھی کرچکی ہے۔

خیر، ایم کیوایم کے بائیکاٹ کا نتیجہ یہ ہوا کہ جماعت اسلامی نے میدان مارلیا اور نعمت اللہ خان ناظم کراچی منتخب ہوگئے۔ ”نعمت اللہ سے ق لیگ کے طارق حسن کا تعارف کراتے ہوئے کہا گیا تھا کہ یہ آپ کے نائب ناظم ہوں گے اور ایم کیوایم سے بھی بائیکاٹ اس وعدے پر کرایا گیا کہ اگلی بار بلدیاتی انتخابات وہی جیتے گی۔ بہ اختیار بلدیہ کراچی کا ایم کیوایم کے ہاتھ میں ہونا کراچی صوبے کا تاثر دیتا اس لیے یہ ڈھونگ رچایا گیا“ نوشادچچا کی رسائی انھیں کتنا باخبر رکھتی ہے۔

الطاف حسین اس سارے عرصے میں فوج اور فوجی حکومت پر تنقید کرتے رہے لیکن طالبان کی مخالفت اور امریکا کی حمایت میں وہ حکومت کے شانہ بشانہ بلکہ دو قدم آگے ہیں۔ نائن الیون کے بعد انھوں نے جارج بش کو غیرمشروط تعاون کی پیش کش کردی تھی۔ ایم کیوایم نے ورلڈٹریڈ سینٹر پر حملے میں مارے جانے والے امریکیوں کے سوگ میں جلسہ کیا تھا اور ریلی نکالی تھی۔ مجھے تعجب تھا کہ جب پوری ریاست امریکا کی سپاہی بنی ہوئی ہے تو الطاف حسین کی اس پیشکش کی کیا اہمیت رہ جاتی ہے۔ ”اہمیت ہے، ایک مقبول سیاست داں رائے عامہ ہموار کرتا ہے“ نوشاد چچا نے ٹھیک کہا، میں نے لوگوں کو دنوں میں امریکا کو برا بھلا کہنے کے باوجود اس کا موقف کا حامی ہوتے دیکھا کیوں کہ ”قائدتحریک“ اور ملک کے مہاجر صدر کا یہی موقف تھا۔

عام آدمی کی رائے کیا اور موقف کیا، کوئی ایک واقعہ، حادثہ، خوشی یا غم منٹوں میں اس کی سوچ بدل دیتا ہے، محبوب راہ نما اور مقدس پیشوا کا بس ایک خطاب اس کے لیے سیاہ کو سفید کردیتا ہے، عوام کی رائے تو پانی جیسی ہے، ایک کنکر ہلچل مچادے، جو رنگ گھلے اسی میں رنگ جائے۔ حیرت تو خواص کی گرگٹ جیسی سوچ پر ہے۔ کل جس ایم کیوایم پر الگ ریاست بنانے کی سازش اور دہشت گردی کا الزام تھا آج اس کے ناز اٹھائے جا رہے ہیں۔ وہ الطاف حسین جو پاجامے کرتے والی مہاجر قومیت لے کر نمودار ہوئے تھے اب سندھی ٹوپی پہنے اجرک اوڑھے ”جیے سندھ“ کی سیاست کر رہے ہیں۔

مہاجر قومیت راتوں رات ”اردو بولنے والے سندھی“ کر دی گئی۔ مگر ان کے اشاروں پر چلتی مہاجر رابطہ کونسل برقرار ہے، آل پاکستان مہاجر اسٹوڈینٹس آرگنائزیشن کا نام بھی نہیں بدلا گیا۔ یعنی مہاجرکارڈ سنبھال کر رکھا ہوا ہے کبھی بھی نکال کر بازی کھیلنے کے لیے۔ الطاف حسین اب شہری سندھ کے مسائل کے بجائے صوبائی خودمختاری کا مطالبہ تسلسل سے کر رہے ہیں۔ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر وہ 1940 کی قرارداد کے مطابق صوبوں کو حقوق دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ایم کیو ایم نے اے آر ڈی میں شمولیت کے لیے بھی شرط رکھی تھی کہ وہ اپنے منشور میں 1940 کی قرارداد کے مطابق صوبائی خودمختاری دینے کا مطالبہ کرے۔ ایم کیو ایم اے آرڈی میں شامل ہوئی اور نکل بھی گئی۔ مہاجروں کی اکثریت پرویز مشرف کی حامی ہے، جو بانوے کے آپریشن کے بعد فوج کو برا بھلا کہہ رہے تھے، وہ بھی فوجی حکومت کے گن گارہے ہیں۔ سو ایم کیوایم حزب اختلاف کا حصہ بنی بھی تو لوگوں کو پرویزمشرف کے خلاف سڑکوں پر نہیں لاسکتی۔

الطاف حسین نے فوجی حکومت کے خلاف بیانات بھی دیے مگر شاید یہ سب بھی طے شدہ تھا۔ پرویزمشرف پنجابی لہجے میں اردو بول کر ہی نہیں اپنی حکومت کے مستحکم ہونے تک ایم کیوایم کو اپنا مخالف باور کرواکر خود پر لگی مہاجر کی چھاپ کو مٹانا چاہتے ہیں۔ جب انھوں نے اقتدار چھینا تو امی نے کتنی خوشی خوشی کہا تھا ”ارے یہ تو ہماری دلی کا ہے“ ، مگر جب مشرف کی اردو سنی تو بڑے افسوس کے ساتھ کہا تھا، ”ائے لو، یہ کیسا دلی والا ہے۔“

ایم کیوایم نے نیا چلن اپنانے کے بعد جیے سندھ قومی محاذ سے خود کو ایسا نتھی کر لیا کہ دونوں ایک جان دو قالب ہوگئے ہیں۔ ایک ساتھ دھرنے، ایک ساتھ گرفتاری، مشترکہ ہڑتال کی، الطاف حسین نے سندھیوں سے بہ قول خود ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی۔ یہاں تک کہ سندھیوں مہاجروں کو ایک کرنے کے لگن میں انھوں نے ڈھونڈڈھانڈ کر ایک ”بلوچ“ خاتون فائزہ گبول سے شادی کرلی۔ بعد میں انکشاف ہوا کہ ان خاتون کی والدہ گبول بلوچ اور والد نیازی پنجابی ہیں۔

اپنی شادی کی خوشی میں نائن زیرو پر ہونے والے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے الطاف حسین نے نوید سنائی کہ یہ شادی پنجابی اسٹیبلشمنٹ سے نجات دلانے میں معاون ثابت ہوگی۔ کوئی شادی اتنے دوررس اور وسیع پیمانے پر نتائج مرتب کر سکتی ہے؟ ․․․․دیکھتے ہیں ․․․۔ اس اجتماع میں ”جیسا بھائی ویسی بھابھی، انقلابی انقلابی“ کے نعرے لگائے گئے۔ شادی کے بعد کئی دنوں تک اخبار میں یہ بحث جاری رہی کہ فائزہ گبول، بلوچ ہیں یا پنجابی۔

کتنا اچھا ہوتا کہ الطاف حسین شادی کے بہانے ہی بارات لے کر پاکستان آجاتے، بارات عزیزآباد سے لیاری جاتی، مدت سے دکھ اٹھاتے شہر کے باسیوں کی خوشی کا کچھ سامان ہوجاتا، لیکن انھوں نے تو اتنے چھپ چھپا کے بیاہ رچایا کہ شادی کے اگلے دن اخبارات سے اس کا علم ہوا۔ انھیں برطانیہ کی شہریت بھی مل گئی ہے، پاسپورٹ بھی جاری ہوگیا، اب واپس کیا آئیں گے، کارکنوں کو بتاکر اور پوچھ کر گئے تو نہیں تھے، لیکن آنے کے لیے ٹیلی فونک تقریروں میں پوچھتے رہتے ہیں، ”کیا میں آجاؤں“ اور کارکن ”نہیں بھائی“ نہیں کہہ کر انھیں آنے سے منع کردیتے ہیں۔

کچھ دنوں پہلے ہی خبر پڑھی تھی کہ کارکنوں کے بے حد اصرار پر انھوں نے آنے کا ارادہ ملتوی کر دیا۔ سوچتی ہوں کاش الطاف حسین امریکا سے نہ آتے، جہاں وہ تلاش معاش کے لیے گئے تھے۔ حقیقی گروپ کے راہ نما عامرخان نے کا تو کہنا ہے کہ جب ایم کیوایم بنی تو الطاف حسین امریکا میں مقیم تھے، اگر یہ صحیح ہے تو وہ ایم کیوایم کے بانی کیسے ہوگئے؟ جب آکر قائد اور بانی کا اعزاز پالیا، اب زندگی کی خاطر نہیں آرہے، وہ تو نہیں آئے لیکن ان کے نام زد گورنر ڈاکٹرعشرت العباد پوری شان سے وارد ہوچکے اور گورنر کا عہدہ سنبھال چکے ہیں۔

ان پر قائم سارے مقدمات پلک جھپکتے میں ختم کردیے گئے۔ مقدمات بھی کیسے کیسے، میجر کلیم کے اغوا کا مقدمہ، جو بانوے کے آپریشن کا سبب بنا، بلوے اور اقدام قتل کے مقدمات۔ گورنر بنتے ہی انھوں نے پہلا آرڈیننس جاری کرتے ہوئے جبری چندے اور بھتے پر مکمل پابندی عاید کردی․․․یہ خبر پڑھ کر مجھے کتنی ہنسی آئی تھی۔ گورنر بننے سے پہلے تک عشرت العباد ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے قائم مقام کنوینر تھے، جب الطاف حسین نے ڈاکٹر عمران فاروق کی بنیادی رکنیت معطل کرکے انھیں کنوینر کے عہدے سے ہٹادیا تھا، ان پر کیا الزام تھا․․․ پتا نہیں، پھر آفتاب شیخ کو بھی ڈپٹی کنوینر کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا، بعد میں انھیں بحال کر دیا گیا۔

ایک معطلی اور بحالی ہمارے گھر میں بھی ہوئی۔ پاکستان میں نجی ٹی وی چینلوں کے آغاز کے بعد جب ”جیو“ چینل شروع ہوا تو ابو نے فیصلہ کیا اب ساری خبری صبح شام مل جاتی ہیں، سو اخبار بند کردیتے ہیں، سارنگ کے اسکول کے خرچے، ابو امی کا دوا علاج․․․ اخراجات اتنے بڑھ گئے ہیں کہ ابو کی پینشن، بچوں کو ٹیوشن پڑھا کر مجھے حاصل ہونے والی فیس اور مرکز قومی بچت سے ملنے والے پیسے بھی کم لگنے لگے ہیں، اس لیے بچت کے راستے ڈھونڈنا پڑتے ہیں۔ خرچے گھٹانے کی خاطر اخبار بند کیا، لیکن کچھ دن بعد ہی ابو کہہ اٹھے ”بھئی یہ اخبار کی لت چھٹنا بہت مشکل ہے“ اور اگلے دن سے معطل ”جنگ“ بحال ہوگیا۔

ہر معطلی بحال ہوجاتی ہے اس شہر کے امن کے سوا۔ 2001 کے اختتام پر وزیرداخلہ معین الدین حیدر کے بھائی احتشام الدین حیدر کی جان لے لی گئی تھی، پچھلے برس ایم کیوایم کے سابق رکن قومی اسمبلی ڈاکٹرنشاط ملک اور سابق سینیٹر مصطفیٰ کمال رضوی کو قتل کر دیا گیا۔ امریکی صحافی ڈینل پرل اغوا ہوا اور پھر اس کا سر قلم کر دیا گیا۔ اس سال کی ابتدا متحدہ قومی موومنٹ کے سابق رکن سندھ اسمبلی خالد بن ولید کے قتل سے ہوئی، اور اس ماہ الطاف حسین کا ساتھ چھوڑ کر مسلم لیگ (ق) میں شامل ہوجانے والے سابق اسپیکر سندھ اسمبلی عبدالرازق خان کو بھی مار دیا گیا۔

دہشت گردی کا دو سال قبل شروع ہونے والا سلسلہ بڑھتا اور پھیلتا جا رہا ہے۔ محکمۂ داخلہ، ڈی آئی جی اور سی آئی ڈی کے دفاتر میں پارسل کے ذریعے بھیجا گیا دھماکا خیزمواد پھٹ پڑا۔ 2001 میں چلتی منی بسوں میں دھماکے ہوئے تھے۔ اس سال سنی تحریک کے سربراہ سلیم قادری کی جان لے لی گئی تھی، اور اس سے پچھلے سال مولانا یوسف لدھیانوی، تحریک اسلامی سندھ اور بلوچستان کے امیر ڈاکٹر اطہر قریشی اور طیارہ سازش کیس میں نواز شریف کے وکیل اقبال رعد قتل کردیے گئے۔

سلیم قادری کے قتل پر ان کی جماعت نے ”احتجاجی کرفیو“ لگانے کا اعلان کیا تھا، اور شہریوں کو متنبہ کر دیا تھا کہ وہ اپنی ذمے داری پر گھر سے نکلیں۔ دنیا میں پہلی بار کسی عوامی تنظیم نے کرفیو لگایا، سہمے ہوئے کراچی والوں کے لیے تو نرم سی دھمکی بھی کافی ہوتی ہے، اس دھمکی کا بھی اثر ہوا اور شہر میں اچھا خاصا سناٹا رہا۔ پچھلے سال شیرٹن ہوٹل کے باہر فائرنگ کرکے تیرہ افراد کو مار دیا گیا تھا جن میں گیارہ فرانسیسی انجنیئر تھے۔

اس برس دہشت گردی مزید بڑھ گئی ہے، لیکن اس بار آگ اور خون کا کھیل پورے ملک میں کھیلا جا رہا ہے۔ کلفٹن گیلریا شاپنگ مال کی پارکنگ میں دھماکے نے دو افراد کی جان لے لی، رفاہ عام سوسائٹی امام بارگاہ کے باہر کھڑے افراد پر فائرنگ کرکے 9 زندگیوں کے چراغ گل کردیے گئے، امریکا اور برطانیہ سے تعلق رکھنے والی کمپنیوں کے 21 پیٹرول پمپوں پر ٹائم بم پھٹے، جس سے شکر ہے صرف ایک شخص معمولی زخمی ہوا۔ شیعوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، سپاہ صحابہ کے کئی کارکن قتل ہوچکے ہیں۔

اس مرتبہ لگنے والی آگ میں لسانیت کی جگہ مذہب ایندھن ہے۔ اس شہر میں کبھی زبان، کبھی سیاست اور کبھی مذہب خوں ریزی کا سبب بنتا ہے۔ ”ٹارگٹ کلنگ“ کی تیزی سے رائج ہونے والی مبہم اصطلاح کی طرح اکثر قتل بھی ابہام لیے ہوتے ہیں۔ مرنے والا کیوں مارا گیا۔ ”میرے درویش صفت بابا سیدھے سادے صحافی اور شاعر تھے، اپنی دنیا میں مگن، نہ کسی سیاست سے تعلق نہ فرقے اور زبان کی منافرت سے۔ انھیں کیوں ماردیا گیا؟“ یہ سوال کرتے ہوئے فہمیدہ کی آنکھوں میں نمی تھی۔

اس شہر کے معروف شاعر اور صحافی منظرامکانی کی بیٹی کو بہت کم عمری میں یتیمی کا گھاؤ سہنا پڑا۔ منظرامکانی نوشاد چچا کے دوست تھے وہ کبھی کبھی ان سے ملنے آجاتی تھی، وہیں میری اس سے ملاقات ہوئی۔ منظرامکانی جس مکان میں رہائش پذیر تھے اس کے نچلے حصے میں ایم کیوایم حقیقی کے راہ نما کامران رضوی رہتے تھے۔ ایک چھت تلے بسنے کا تعلق دوستی میں بدل گیا۔ اس رات بھی وہ کامران رضوی کے ساتھ بیٹھے تھے۔ نہ جانے قاتل کا نشانہ کامران رضوی تھے یا منظرامکانی․․․․․کامران موت کے سامنے کامران رہے، لیکن زندگی کا کوئی امکان منظر امکانی کی مدد کو نہ آیا۔ ایک شاعر کا قتل ہر آنکھ نم کر گیا تھا۔ آنکھیں خشک ہوگئیں، خون کے دھبے مٹ گئے، مگر نہ قاتل پکڑے گئے نہ قتل کی وجہ سامنے آئی۔

اب اس شہر کو خون کے ایک اور دریا کا سامنا ہے۔ پرویزمشرف کی امریکا نواز پالیسی اور پاکستان میں جہاد سے وابستہ تنظیموں اور افراد کے خلاف کارروائی کے نتیجے میں سر اٹھانے والی قتل وغارت گری اور دہشت گردی کی نئی لہر جانے کتنی جانوں کو بہا لے جائے گی۔ جنھیں پہلے فخر سے مجاہد کہا جاتا تھا اب انھیں حقارت کے ساتھ ”جہادی“ کہا جانے لگا ہے۔ زینت پھپھو اپنے جہادی بیٹے کے لیے پریشان ہیں، ان کے گھر پر دو بار عرفان کے لیے چھاپا پڑچکا ہے۔ وہ نہ جانے کہاں غائب ہے، سرکاری اہل کار بھی اسے ڈھونڈ رہے ہیں اور ماں کی آنکھیں بھی تلاش کررہی ہیں۔

کراچی کو بین الاقوامی شہر کہا جاتا ہے، اب یہ واقعی عالمی شہر لگ رہا ہے۔ ایف بی آئی والے یہاں القاعدہ کے کارکنان کی بوسونگھتے پھر رہے ہیں۔ عرب، افغان، انڈونیشی، ملائیشیائی عسکریت پسند کراچی کی مختلف بستیوں سے گرفتار کیے جا رہے ہیں۔ پاکستان کے سرکاری اہل کار ”حاضر ہوں مدد کو جان و دل سے“ کہتے ایف بی آئی کے ساتھ ہیں۔ مدارس اور مختلف جگہوں پر چھاپے پڑ رہے ہیں اور القاعدہ اور طالبان سے منسلک پاکستانی اور غیرملکی دھڑادھڑ دھرے جا رہے ہیں۔

گلشن معمار میں جماعت اسلامی کی راہ نما صبیحہ شاہد کے گھر چھاپا پڑا اور 9 افراد کو حراست میں لے لیا گیا جن میں سے دو پر القاعدہ سے تعلق کا شبہ ہے۔ سب سے زیادہ حیرت مجھے ایک خاتون عافیہ صدیقی کی گرفتاری پر ہوئی۔ امریکا کے Massachusetts Institute of Technologyجیسے شان دار تعلیمی ادارے سے نیورولوجیکل سائنسز میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری لینے والی اور امریکی شہر بوسٹن میں اپنے بچوں کے ساتھ مقیم اس خاتون کو کیا پڑی تھی کہ القاعدہ سے وابستہ ہو کر خود کو مشکل میں ڈالا بلکہ شاید تباہ کر لیا؟

اسے گلشن اقبال سے گرفتار کیا گیا لیکن حکومت یہ گرفتاری ظاہر نہیں کر رہی۔ نوشادچچا نے جب اس بارے میں بتایا تو میں سوچنے لگی کہ اتنے تعلیم یافتہ اور کام یاب زندگی گزارے والے لوگ بھی القاعدہ کا حصہ ہوسکتے ہیں؟ کیا مذہب، امت اور جہاد کے تصور میں اتنی کشش ہے؟ نہ جانے عافیہ صدیقی کی کہانی میں صداقت ہے یا نہیں، اگر یہ سچ ہے تو میں ششدر ہوں۔

جب سے امریکا نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کا اعلان کیا ہے پاکستان میں ”دہشت گرد“ اور ”ملک دشمن“ کے الفاظ معنی بدلتے محسوس ہورہے ہیں۔ اب تک یہ اصطلاحات قوم پرستوں، کمیونسٹوں، سیکولر اور لبرل جماعتوں اور افراد پر چسپاں کی جاتی تھیں، اب مذہبی تنظیمیں اور اسلام پسند لوگ یہ اسناد پارہے ہیں۔ نئے حالات میں روشن خیال اور لبرل ہونا ہی مغربی ممالک اور امریکا کسی کو قابل اعتباروعزت بناسکتا ہے، شاید اسی لیے الطاف حسین جو چند سال قبل لوگوں کے مذہبی جذبات سے کھیلنے کے لیے پتھروں اور پتوں پر لائی جانے والی شبیہ کے ذریعے ”پیرصاحب“ بنے تھے، اب روشن خیالی اور لبرل ازم کے علم بردار ہوگئے ہیں۔

جب کراچی میں بریلوی مسلک کی تبلیغی واصلاحی تحریک دعوت اسلامی کی سرگرمیاں بڑھیں اور بریلوی سیاسی تنظیم سنی تحریک کا ظہور ہوا تو ایم کیوایم کے زیراہمتام بریلوی مہاجروں اور کارکنوں کی وابستگی برقرار رکھنے کے لیے ”ذکر مصطفیٰ ﷺ“ کی محافل کا انعقاد ہونے لگا۔ اب زمانے کے انداز بدلے گئے ہیں تو الطاف حسین نے اپنا چلن بھی بدلا ہے۔ انھوں نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کراچی لبرل لوگوں کا شہر ہے۔ ایم کیوایم برطانیہ کے زیراہتمام جلسے میں قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا گیا کہ قرارداد لاہور کی اصل روح کے مطابق پاکستان کا جمہوری اور لبرل آئین تشکیل دیا جائے۔

الطاف حسین ”جہادی“ کی نئی متعارف شدہ اصطلاح استعمال کرتے ہوئے مذہبی شدت پسندوں پر برس رہے ہیں اور تواتر سے کراچی میں ”طالبنائزیشن“ کی سازش کی بات کر رہے ہیں۔ ”طالبنائزیشن“ انھی کی ایجاد کردہ اصطلاح ہے۔ نہ جانے اس بات میں کتنی صداقت ہے، لیکن افغانستان کے جہاد پر عرفان کی طرح کراچی کے کتنے ہی نوجوان گئے تھے، جو اب مختلف تنظیموں اور گروہوں کی صورت میں متحرک ہوچکے ہیں۔ کیا کراچی میں سیکولر، لبرل ایم کیوایم اور مذہبی عناصر میں ٹکراؤ ہوگا؟

یہ خیال بھی کس قدر خوف ناک ہے۔ بہرحال، موجودہ حالات میں الطاف حسین، نظریاتی طور پر پرویزمشرف کی حکومت کے پرجوش ترجمان بن کر سامنے آئے ہیں۔ شاید اس طرح فوج اور ایم کیوایم میں قربت ہو جائے، ورنہ کچھ عرصہ پہلے تک الطاف حسین کی تقریریں اور بیانات تو یہ بتارہے تھے کہ وہ اس فاصلے کو مزید بڑھانا چاہتے ہیں۔ کبھی کہا برصغیر کی تقسیم انسانی تاریخ کی سب سے بڑی غلطی تھی، کبھی فرمایا کشمیری غلامی چاہتے ہیں تو پاکستان میں شامل ہوجائیں، مہاجروں کے بزرگوں کی ہجرت کو تاریخ کی سب سے بڑی غلطی قرار دیا، اپنے بھائی اور بھتیجے کے قتل کا الزام براہ راست فوج پر لگایا۔

اتنے سخت بیانات کے بعد لگتا تھا کہ ایم کیوایم اور فوج میں عناد بڑھے گا، یہ ساری تقاریر اور بیانات اسی فوجی حکومت کے دور میں شایع اور نشر ہوتے رہے، لیکن دوسری طرف ”گالیاں کھا کے بے مزہ نہ ہوا“ والا معاملہ رہا، بلکہ اب تو ایم کیوایم حکومت کا حصہ بن چکی ہے۔ وفاقی کابینہ میں اس کے تین وزیر ہیں اور سندھ میں تو وزیروں کی تعداد دیکھ کر لگتا ہے کہ ایم کیوایم کی حکومت آ گئی ہے۔ صوبائی کابینہ کی حلف برداری کی خبر پڑھی تھی، پندرہ رکنی کابینہ میں سات ایم کیوایم کے، اور وزارت داخلہ کا منصب ایم کیوایم کے حوالے۔ کیا وہ کوئی اور ایم کیوایم تھی جس پر دہشت گردی اور ملک دشمنی کے الزامات تھے؟

میں نے ہوش سنبھالا تو جنرل ضیاء الحق کی حکومت تھی، اور میرا بیٹا جنرل پرویزمشرف کے اقتدار کے سائے میں بڑا ہورہا ہے۔ سارنگ کے سوال مجھے لاجواب کردیتے ہیں۔ اسکول کے ٹیبلو میں فوجی بنا تھا، تب سے اسے فوجی وردی کی پہچان ہوگئی ہے۔ ایک دن جارج بش کو ٹی وی پر دیکھ کر پوچھا، ”ماما! یہ کون ہے“ میں نے جواب دیا، ”امریکا کا صدر جارج ڈبلیو بش“ حیران ہوکر بولا، ”یہ صدر ہے تو اس نے وردی کیوں نہیں پہنی۔“ اب اس سے کیا کہتی کہ بیٹا! سوال تو یہ ہے کہ کسی صدر نے وردی کیوں پہنی ہے؟

اس سیریز کے دیگر حصےنوشابہ کی ڈائری: حکیم سعید شہید․․․سندھ میں گورنر راج․․․ ”مہاجر“ لفظ ”متحدہ“ سے تبدیل -قسط 22۔نوشابہ کی ڈائری: بارہ مئی 2007ء
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •